donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abdul Sattar
Title :
   Kitab Ki Kahani Kitab Ki Zabani


 ( کتاب کی کہانی  کتاب کی زبانی   ( انشائیہ 


عبد الستار

ولی مینشن  ۔ سعدپورہ قلعہ۔مظفّرپور۔۲

 

             پچھلے زمانے میں کتابوں کی بڑی قدریں ہوتی تھیں۔اگر کوئی کتاب غلطی سے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر جاتی تو طالب علم فوراًاٹھا کر اس پر لگے گرد و غبار کو جھاڑ تا، پھر آنکھوں سے لگا تااور چومتا کہ اس سے بہت بڑی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ ہمارے بڑے بزرگ،استاد محترم کتاب کی عزت و احترام کرنے کی ہمیشہ تلقین کرتے۔ وہ ہمیں ہر قدم پر اِس کی عزّت کرنا سکھاتے رہتے۔ ہمیشہ کہتے  اگرکتاب کی عزّت کروگے تو اعلیٰ مقام پائوگے۔ اگر کتاب کی بے عزّتی کی تو تمہیں کبھی عزّت نہ ملے گی۔بچپن کی یہ باتیں اور تاکید زندگی بھر طالب علم کبھی نہیں بھولتا۔ بزرگوں کا کہنا کوئی یوں ہی نہ تھا۔ ان کا تجربہ بھی یہی تھا کہ اگر کسی کو استاد سے سیکھنا ہے تو دو زانوں ہو نا ہی پڑیگا۔علم کے سیکھنے میں بڑی مشقّت اور عرق ریزی کر نی پڑتی ہے۔کسی بھی بڑے انسان کا نام جیسے ہی ذہن میں آئے گا تو آپ دیکھیں گے    کہ انہوں نے کتنی محنت و کاوش سے علم حاصل کیا ہے۔

        زمانہ بد لتا گیا اور علم سیکھنے اور سکھانے کا طریقہ بھی بدلنے لگا۔ پہلے مکتب اور اسکولوں میں جتنی پڑھائی ہوتی تھی وہ کافی تھی۔الگ سے پڑھنے کی کوئی ضرورت تھی نہ کوئی پڑھتا تھا۔اس کے بعد الگ سے ٹیوشن کی ضرورت پڑنے لگی ۔شروع میں تو یہ ٹیوشن صرف ان بچوں کے لئے شروع کیا گیا جو ذرا کم ذہن کے مالک تھے جنہیں تھوڑی بہت تراش خراش کی ضرورت تھی۔ اس کے بعد تو باضابطہ پورے وقت کا ٹیوشن ہونے لگا۔دِھیرے دِھیرے متوازی اسکول یعنی  full  time  ٹیوشن ہی تمام شہروں میں چلنے لگا۔کچھ معاملے میں تو گیس  (Guess) کی کتابیں نکلنے لگیں۔ اب لڑکے اسے ہی پڑھتے اور امتحان بھی اچھے نمبروں سے پاس کر جا تے۔ لہٰذاطلبا کی دلچسپی اور رغبت کتابوں سے کم ہو نے لگی۔ دِھیرے دھیرے بے نیازی بھی بڑھنے لگی۔

        ان حالات کو دیکھتے  ہوئے طلبا کے لئے آسان کتابیں تیار کروائی گئیں ۔ اسکے لئے بڑے بڑے اسکالرس کی خدمات حاصل کی گئیں۔یہاں تک کہ طلبا کو کیسے پڑھایا جائے اسکے لئے ہر ایک کتاب میں ٹیچروں کے لئے ایک پیج سبق کا الگ سے ہوتا۔جسے ٹیچرخود پہلے پڑھ کر بچوں کو پڑھا تا۔ مگراسکا حال یہ ہے کہ ا س کا معیار اتنا نیچے کا ہوتا ہے کہ ٹیچر اسے درگذر کر دیتے ہیں لہٰذا  وہ اپنے سبق کوپڑھے بغیر کلاس میں پڑھا تے ہیں۔ اس لئے اِن کتابوں سے افادیت حاصل کرنے کا مقصد ہی فو ت ہو گیا۔

        دوسرے حالات میں حکومت کی طرف سے جو کتابیں ا سٹوڈینٹس کومہیا کرائی جاتی ہیں اس کا حال بہت بر ا ہے ۔

    کتابوں کی کتابوں سے گفتگو کا مکالمہ سنئے۔    

        کافی دنوںسے کئی بوروں میں کئی سبجیکٹس کی کتابیں بندپڑی تھیں جسے اب تک کھولا نہیں گیا تھا۔ بورے میں سب سے نیچے علم الحساب کی ایک کتاب بڑی کس مپر سی کی حالت میںپڑی تھی۔گھٹن سے اسے سانس بھی نہیں لیا جا رہا تھا۔ بیچاری ہل ڈول بھی نہیں سکتی تھی۔ جب ایک لمبا عرصہ گذر گیا اور اسکی تلاش کسی نے نہیں کی تو وہ  سِسکنے لگی کہ لگتا ہے اسی بورے میں دبے دبے جان چلی جائے گی۔اسکے سسکنے کی آ واز تایخ کے کان میںپڑی جو خود بھی رو رہی تھی۔ اس نے علم الحساب سے پو چھا کہ

        ’’   بہن کیوں رو رہی ہو ۔ ‘‘ تو اس نے کہا کہ    

        ’’  یہ بورا کب کھلے گا، چھہ ماہ سے اوپر ہو نے کو آئے مگر ابھی تک درگیش جی ( جو حساب کے ٹیچر تھے ) نے ہماری طرف توجہ نہیں دیا ہے۔ششماہی امتحان بھی شروع ہوگئے ہیں۔ کل حساب کا امتحان بھی ہونے والا ہے۔ لڑکے کیسے امتحان دینگے۔ ‘‘  یہ سب اس نے ایک سانس میں کہ ڈالا۔ تاریخ کی کتاب نے روتے ہوئے کہا    

        ’’   گیتا دیوی نے تو پچھلے منگل کو تاریخ کا امتحان بھی لے لیامگر کتاب نہیں نکالا۔  ‘‘    
    ابھی دونوں کی  باتیں ہو ہی رہی تھی کہ’  ہماری اردو    ‘  نے چلّانا شروع کیا۔ کہنے لگی  
        ’’  شبراتی صاحب نے تو بچوں کو سوال اور جواب دونوں لکھوا دئے اب بھلا کتاب کون کھلوائے گا۔  ‘‘

    ابھی اسکی بات ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ انگریزی ، ہند ی نے بھی رونا شروع کرد یا ۔ 
        ’’  مجھے تو پچھلے سال سردیوں میںپھاڑپھاڑ کر جلا یا گیا اور آگ تا پ کر سردی بھگائی گئی۔  ‘‘

اب تو

    سب نے مل کر ماتم منانا شروع کیا اور لگی سبھی اپنی اپنی یادداشت کھنگالنے۔

        ایک نے کہا  ’’  پہلے ہماری کتنی عزّت ہوتی تھی اب تو حال یہ ہے کہ ہمیشہ بو ریوں میں ہی پڑی

ہتی ہوں۔ ‘‘

    ’’  کاش یہ بوری کا لی داس ہوتا تو یہ کب کا پنڈت ہو جا تا۔ کالی داس تو جتنی کتابیں صرف دیکھ لیتے تھے انہیں یاد ہو جاتا تھا۔‘‘


        دوسری نے کہا ’’  آج کل کے ٹیچر سے اگرپوچھ لو کہ علم ا لعروض آپا کو جانتے ہیں ؟  تو جانتی ہو کیا جواب دیتے ہیں   ’’ یہ کسی جانور کا نام ہے کیا ؟  ‘‘  

 ’’ ایسا نام تو میں نے کسی سے نہیں سنا۔  ‘‘    اگر ان سے پوچھ لو کہ ’’ انیس القوائد اور طرزِ نگارِش کو جانتے ہیں ؟ ‘‘  تو کہتے ہیں یہ کسی آتنک وادی کا نام ہے کیا  ؟ ‘‘  ذرا غور کرو اسی لئے تو آج کل کے ٹیچرجلیل کو ذلیل ،  مقدّر کو مکدّ ر ، مر غوب کو مرگوب یا مرگھوب کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ صحیح تلفّظ فرما ر ہے ہیں۔

         ایک نے بتایا کہ اسکولوں سے بھی برا حال کالجوں اور یونیور سیٹی پروفیسروں کاہے۔ وہ اپنے کلاس میں اسٹوڈینٹس کو     syllabus  پڑھانے کے بجائے ڈِکٹیشن لکھواتے ہیں او ر کہیں کہیں تو کتاب کی نقل کرنے کو کہتے ہیں     اس لئے کہ طالب علم کو بنیادی معلومات نہیں ہے ، ایسا وہ سوچتے ہیں۔ اکثر ماہر استادپڑھانے سے زیادہ نوٹس کی فوٹو کاپی فی پیج دس روپیہ لیکرد ینے میں کمال کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو کمال یہ ہوتاہے کہ انہیں     syllabus   کا پتہ ہی نہیں ہوتا اور سال ختم ہو جا تا ہے۔

        دوسری نے کہا تمہیں معلوم ہے میرے سبجیکٹ کے پروفیسر نے بڑے فخر سے بتایا تھا کہ جب سے میری تقرّری     ہوئی ہے میں نے آج تک کسی طاب علم کو ایک لفظ بھی نہیں پڑھایا کیونکہ کسی طالب علم نے ان کے سبجیکٹ میں داخلہ ہی نہیںلیا۔ اس پر طرّہ یہ کہ انہیں ترقّی بھی مل گئی۔ آگے وہ پروفیسر اور اِسکے بعد ہیڈ یعنی صد ارت کی کرسی پر فائز بھی ہو جائیںگے۔

    اس انکشاف پر ساری کتابیں کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔

        دوسرے نے بھی بڑا  پر لطف وا قعہ سنایا۔ بولی کہ ایک تھے حافظ صاحب جوکسی مد رسے سے عا  لم و فاضل تھے۔    طالب علمی کے زمانے سے ہی متشرّع تھے۔ چہرہ نورانی تھا اور اچھی داڑھی میں وہ مولانا لگتے تھے۔ کرتاوپائجامہ انکا ہمیشہ کا لباس تھا۔ بعد میں ایک عدد شیروانی کا انہوں نے اضافہ کر لیا تھا۔اللہ کا کرِشمہ دیکھئے کہ وہ پر وفیسر منتخب ہو گئے۔ کچھ روزتو اپنے پر انے وضع قطع میں کالج آتے رہے مگر ایک دو مہینے کے بعد جو گر می کی تعطیل ہوئی اِس میں انہوں نے اپنے کرتاپائجامہ اور شیروا نی کو طلاق دے دیا اور آگئے فل فارم میں یعنی جینس کی پینٹ اور ٹی شرٹ کے ساتھ ساتھ ووڈ لینڈ کا جوتا،بیلٹ، کلا ئی میں سوناٹا کی سنہری گھڑی اور د ھوپ کا کالا چشمہ ا ٓنکھوںپر چڑھ گیا۔ جب کالج کھلا تو لڑکے اور لڑکیاں حافظ صاحب میں اتنی زبردست تبدیلیاں دیکھ کر دم بخود رہ گئے۔ جو دیکھتا دیکھتا ہی رہ جاتا۔پرنس پل صاحب نے تو ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ کو کن سے ملناہے۔ جب انہوں نے بتایا کہ ’’  میں ہوں طفیل ،حافظ طفیل۔  ‘‘  تو پرنس پل صاحب بھی ان کے اس حلئے کو دیکھ کر اپنی ہنسی نہ روک سکے۔

        یہ سب قصّہ سنا کر سبھی خوب ہنسنے لگیں ۔ اب ساری کتابیں سر جوڑ کر سوچنے لگیں کہ آخر اِس دَور میں علم کی ایسی دُ رگت کیوں ہو رہی ہے۔ کیسے اِس خرابی کو دور کیا جائے۔آ خرپہلے وہ کون لوگ تھے جو خیابان لالہ زار،  قصّہ چہار درویش، فری انڈیا ، نیسفیلڈ گرامر ،  علم البلا غت ، اقلیدیس ،  جغرافیہ ، الجبرا  ، مدھو شالہ ، غبار خاطر، نہج البلاغہ کتابیں پڑھتے تھے، بار بار پڑھتے تھے۔ذہن تیز کرتے تھے۔ اپنے قابل استاد کے ڈ نڈے شوق سے کھاتے تھے۔ تب جا کر کمال کی صلاحیت پیدا ہوتی تھی جو آگے چل کر 

د وسروں کے لئے علم کی شمع جلا کر روشنی پھیلا تے تھے اور کارواں بنا ڈالتے تھے۔اے  پی جے عبد الکلام جیسے سائنٹسٹ ،  ایم  سی چھاگلا جیسے ماہر قانون داں، آنند نارائن ملا جیسے ماہر قانون داں، گوپی چند نارنگ جیسے ماہر ادیب وغیرہ کے استادوں کو سلام جِنہوں نے اپنے اِن شا گِرد وں کو علم کی دولت سے مالا مال کر دیا۔

        دوسری نے کہا کہ پہلے جیسے ادبی رسالے اب تو دکھائی بھی نہیں دیتے۔ بیسویں صدی، شمع ،دین دنیا ، نیا دور ریڈر ڈائیجسٹ، شبستاں وغیرہ نے تو طالب علموں کو اپنی کتابوں سے ہٹ کر علم عطا کیا۔ ان میں بالیدگی آئی۔ آج بھی چندر سالے نکلتے ہیں مگر آج اسکے پڑھنے والے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ ان رسالوں میں زبان و  ادب ، آج کل ، شاعر ، شب خوں و غیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے جو آج بھی طاب علموں کی ذہانت کی آبیاری میں مصروف ہیں۔اگر آج سے بھی ہم سبھی اس میں ایک مہم اور تحریک سمجھ کر لگ جائیں تو و ہ دن دور نہیں جب ہمارے یہاںبھی آرکیمیڈیس ، آئنس ٹائین ، جیمس واٹ ، شیکس پیر ،غالبب و میرفیض احمد فیض، آغا حشر کاشمیری  وغیرہ پیدا ہونے لگیں  ۔ اب سب نے جمہائی لینا شروع کر دیا تھا

     کیونکہ رات زیادہ ہو چکی تھی، سبھی سونا چاہتے تھے۔
    لہٰذا مجلس برخواست ہو گئی۔

        -----------------------------------------------------------

عبد الستار

ولی مینشن  ۔ سعدپورہ قلعہ۔مظفّرپور۔۲
9835666622/ 9852953733
abduss2012@gmail.com

Comments


Login

You are Visitor Number : 633