donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Arif Aziz, Bhopal
Title :
   Allama Iqbal Ka Tasawwure Insaniyat

 

علامہ اقبال کا تصور انسانیت


عارف عزیز، بھوپال


     علامہ اقبالؔ کے نادان پرستاروں اور دانا دشمنوں نے انہیں ایک متنازعہ شخصیت کا درجہ دے دیا ہے۔ کسی کے نزدیک وہ شاعر کم اور مسلمان زیادہ تھے ، کوئی انہیں پاکستان کا بانی اور تقسیم ہند کا ذمہ داری قرار دیتا ہے، حالانکہ اقبال کی فکر و نظر کا تجزیہ ان حالات کے پس منظر میں ہونا چاہیے، جس میں ان کی حیات کا بیشتر حصہ گزرا، اقبال کے ’’تصوران نیت‘‘ پر روشنی ڈالنے سے قبل یہ بتا دینا مناسب ہوگا کہ شاعرِ مشرق قومیت کے لحاظ سے ہندستانی ، مذہباً مسلمان اور خود کو عالمگیر انسانی برادری کا ایک فرد مانتے تھے ۔ ان کے عہد کا ہندستان برطانوی استعمار کے زیر نگیں تھا ان کا عہد 1877 ء سے1938ء تک کوئی 61سال پر مشتمل ہے، یہی وہ زمانہ ہے جس میں ہندو اورمسلمانوں کے درمیان انگریزوں کی طرف سے بوئے گئے تفریق کے بیچ برگ و بار لا رہے تھے اور بعض سیاست دانوں کے طفیل دونوں فرقوں میں شدت پسندی بڑھ رہی تھی، مسلمان جہاں اپنی نشاۃ ثانیہ کے لئے سرگرم عمل تھے ، وہیں ہندو بھی تنگ نظری کا شکار بن گئے تھے ، اس ماحول و فضا میں جب انسان کو بحیثیت انسان نہیں بلکہ مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کرکے دیکھا جا رہا تھا ، اقبال نے یہ کہہ کر مساواتِ انسانی کا درس دیا۔

ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے نوعِ انسانی کو
اخوت کی زباں ہوجا، محبت کی زباں ہوجا

     اقبال نے فلسفہ کے ہندستانی ذخائر کو خود چھانا اور دوسروں کو بھی اس سے فیضیاب کیا، انہوں نے محسوس کیا کہ اس ملک میں صدیوں سے دوسری قوموں کی آمد جاری ہے ہون آئے، کشان آئے ، دراوڑ آئے ، آرین آئے لیکن اس سرزمین نے سب کو اپنالیا بعد میں منو واد نے ہندستانی سماج میں اثر و رسوخ حاصل کرکے تنگ نظری کو ہوا دی تو معاشرہ نے دوسروں کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت کھودی،گوتم بودھ نے جو ہندستان میں پیدا ہوئے، اس تنگ نظری کو توڑنا چاہا، لیکن برہمن ازم نے گوتم کی رواداری کو پنپنے نہیں دیا، یہاں تک کہ اس مذہب کا دیس نکالا ہوگیا۔ اقبال اس عمل کو انسانیت کے خلاف قرار دے کر شکایت کرتے ہیں۔


قوم نے پیغام گوتم کی ، ذرا پرواہ نہ کی 
قدر پہچانی نہ، اپنے گوہر یک دانہ کی
برہمن سرشار ہے، اب تک لیے پندار میں
شمع گوتم جل رہی ہے ، محفل اغیار میں

    اقبال کی وفات کو نصف صدی سے کہیں زیادہ مدت گزر چکی ہے ، اس عرصہ میں دنیا کے حالات میں کیا تبدیلی آئی اور یہ اقبال کے تصورات کے مطابق تھی یا برعکس ، اس کا جائزہ کلام اقبال کو عہدِ حاضر کی روشنی میں سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ دوسری طرف یہ اندازہ لگانے میں بھی کہ اقبال انسانی جذبات و احساس کے کتنے بڑے ترجمان ہیں۔ اقبال کے زمانہ میں نیو کلیر اسلحہ نہیں تھا، پھر بھی انہوں نے افرنگ کو مشینوں کے دھوئیں سے سیہ پوش دیکھ لیا اور اس کے نتائج انسانی زندگی پر جس طرح نمودار ہو رہے تھے ، اس سے لوگوں کو خبردار بھی کیا   ؎


بہت دیکھے ہیں میں نے ، مشرق و مغرب کے میخانے
یہاں ساتھی نہیں پیدا وہاں بے ذوق ہے صہبا
لبالب شیشۂ تہذیب حاضر ہے، مئے لاسے
مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانہ الا


    اقبال مادی ترقیات کے خلاف نہیں تھے لیکن ان کو یہ تشویش ضرور تھی کہ تہذیب عصر، بالخصوص مغربیت ایک خود رو جنگل کی طرح پھیل رہی ہے جس کا کوئی مرکزِ ثقل نہیں ہے، اگر یہ ترقی انسانیت کی سربلندی کے لئے ہوتی تو منشائے فطرت کے عین مطابق تھی، لیکن یہ انسانیت کے زوال کو ظاہر کرتی ہے ،ا وپر کی طرف دیکھنے کی ترغیب نہیں دیتی بلکہ اس میں روک بنتی ہے ، جس کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ انسان کی بے تعلقی، خلقی رشتوں کی سرد مہری اور ایک قسم کی بے کیفی کی زندگی کا مظہر بن چکی ہے :


تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خودکشی کریگی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گاناپائیدار ہوگا


    اقبال کے زمانے میں مغربی دنیا کی نمائندگی سلطنت برطانیہ کرتی تھی، مغرب کے تعلق سے اقبال کے تمام افکار و نظریات اس ملک کی تہذیب کا مرکز ثقل امریکہ بن گیا ہے، جہاں کی روز افزوں صنعتی و زرعی پیداوار کے باوجود ، امریکی سیاہ فام آج زندگی کی آرام و آسائش سے محروم ہیں، اس کے برخلاف سفید فام امریکی ، زندگی کی لایعنیت اور عدم تحفظ کے احساس سے مختلف تنائو میں گرفتار ہیں  امریکہ کی معیشت کا انحصار اسلحہ سازی پر ہے ، اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ جو اسلحہ تیار ہو، وہ فروخت بھی ہوجائے ، اس غرض سے دنیا کے مختلف علاقوں میں سرد جنگ اور کبھی کبھی گرم جنگ کا ماحول پیدا کیاجاتا ہے، بالفاظ دیگر انسان اور انسان کے درمیان نفرت، حقارت اور دشمنی کو پروان چڑھاکر ، قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے رہنا امریکی ڈپلومیسی کی بنیاد ہے ۔ اس کے بغیر وہاں کی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوسکتی، اقبال جب کہتے ہیں   ؎


ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کیلئے مرگِ مفاجات


     تو وہ مغرب کی اس مہلک حکمتِ عملی کو ہدف بناتے ہیں جس کی نمائندگی آج امریکہ کے ذریعہ ہو رہی ہے اور اس کی سب سے زیادہ زد پر تیسری دنیا کے عام انسان اورپوری انسانیت پر پڑ رہی ہے۔


    شعرِ اقبال میں آزادی کو انسانی زندگی کی فلاح و ترقی کے لئے لازم قرار دیاگیا ہے۔ اقبال کے خیال میں جہاں آزادی نہیں، وہاں زندگی کی قوت برقرار نہیں رہ سکتی، غلامی انسان کی متعدد خوبیوں کو فنا کردیتی ہے اور آزادی سے محرومی گویا انسانیت سے محرومی ہے، اسی طرح اقبال محبت کو، جو انسانیت، اخوت اور رواداری کی روح ہے ، دنیا کے فتح کرنے کا وسیلہ قرار دیتے ہیں، انہوں نے افراد اور اقوام کی زندگی میں ترقی و کامیابی کے ضامن تین اصولوں کو نشاندہی کی ہے اول یقین محکم ، دوم عمل پیہم اور سوم محبت جو فاتح عالم ہے اقبال کے الفاظ میں   ؎

محبت ہی سے پائی ہے ، شفا بیمار قوموں نے

    شاعر مشرق کے نزدیک انسان کسی بھی نسل، فرقے یا جماعت سے تعلق رکھتا ہو، اس سے امتیاز برتنا جرم ہے کیونکہ اس انسان کو وجود بخشنے والا ایک ہے ، جب اس نے بنی نوع انسان کے لئے ہوا، پانی ، غذا اورروشنی کے انتظام میں کوئی تفریق نہیں برتی اور یکساں طورپر سب کے لئے اس کو مہیا کیا تو انسانوں کے لئے یہ کیوں کر مناسب ہے کہ وہ باہم تفرقہ اندازی سے کام لیں ، اس کاپیغام ، پیغمبروں ، اوتاروں ، مصلحوں اور بزرگوں نے بھی دیا ہے:


 شکتی بھی شانتی بھی، بھگتوں کے گیت میں ہے
ہم دیش واسیوں کی مکتی، پریت میں ہے

    اقبال اپنے اشعار کے ذریعہ جس خودی کی تعلیم دیتے ہیں، وہ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں، تماما نسانوں کے لئے ہے ، ان کے نزدیک انسان کی خودی کی تکمیل مذہب کی اعلیٰ قدروں میں مضمر ہے ، اسی لئے اقبال نے اپنی شاعری کا موضوع انسان کو بنایا ہے اور انسانیت کے مسائل کو حل وہ اپنی شاعری کا مقصد قرار دیتے ہیں، ایک ایسے عہد میں، جب قومی و وطنی عصبیت کا بول بالا ہے، ایک ملک کا انسان، دوسرے ملک کے انسان کو گوارہ نہیں کرتا اور ایک فرقہ ، دوسرے فرقہ کے خون کا پیاسا نظر آتا ہے، اقبال نے پوری جرأت مندی کا مظاہرہ کرکے اس رویہ

کو ننگ انسانیت قرار دیا ہے   ؎

یہی آدم ہے سلطان، بحر و بر کا
کہوں کیا ماجرا، اس بے بصر کا
نہ خود بیںہے نہ یہ خوابین جہاں بیں
یہی شہ کار ہے ، تیرے ہنر کا


     ہر بلند پایہ تخلیق کار کی طرح اقبال کو بھی ترسیل و ابلاغ کی تنگ دامنی کا احساس ہے ، اس سے پہلے غالب بھی یہی گلہ کرتے نظر آتے ہیں، اسی میں ان دونوں شاعروں کی عظمت کا راز پنہاں ہے ، لیکن اقبال کا یہ امتیاز ہے کہ وہ اپنے فکر و فن کے ذریعہ ماضی کو حال میں پیوست کردینا چاہتے ہیں تاکہ انسانی زندگی کی وحدت میں قوت و تاثیر پیدا ہو اور شرفِ انسانی کی جڑیں زیادہ گہری و مستحکم ہوجائیں ، اس کوشش کو وہ کھوئے ہوئے کی جستجو سے تعبیر کرتے ہیں، ان کے خیال میں ماضی کے واقعات و حوادث کے اسباب و علل کو سمجھنے اور ان کے باہمی ربط و تعلق کو جاننے نیز اس کی روشنی میں افراد و اقوام کے عروج و زوال کے اصول اخذ کرنے کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے ، اقبال نے دنیا میں جاری نظاموں کا بغور مطالعہ کیا ہے، ان نظاموں کی خوبیاں و خرابیاں آشکارا کرکے بتایا کہ جب فرد کا فرد کے درمیان فاصلہ باقی نہ رہے تومعاشرہ ایک خود کار مشین میں ڈھل کر ارتقا کے پورے سلسلہ کو منقطع کردیتا ہے، اسی طرح جب فرد اور فرد کے درمیان کا فاصلہ بہت زیادہ بڑھ جائے تو بکھرنے اور لخت لخت ہونے کا عمل وجود میں آتا ہے نیز ایک ایسا استحصالی نظام جنم لیتا ہے جس میں بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگل جاتی ہے ، اقبال نے انسانوں کے لئے ایک ایسے سماج کا خواب دیکھا، جس میں توازن ہو، عشق کے ساتھ عقل مل کر ارتقاء کی طرف گامزن رہے، ان کے نزدیک یہی انسانیت کی معراج ہے جس کی بازیابی وقت  کی اہم ضرورت ہے ۔


بشکریہ: مشتاق دربھنگوی

*********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 832