donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Adil Hayat
Title :
   Unwan Chishty Ka Range Taghazul


ڈاکٹر عادل حیات
 
    Department of Urdu
Jamia Millia Islamia
Jamia Nagar, New Delhi-110055
Mobile No. 09313055400
 
 
عنوان چشتی کا رنگِ تغزل
 
ادبی دنیا سے میری آشنائی اس وقت ہوئی، جب دو ادبی شخصیتوں نے اپنی آواز کے جادو سے سامعین کو مسحور و مبہوت کر رکھا تھا۔ ان میں ایک نام گوپی چند نارنگ اور دوسرا عنوان چشتی کا ہے۔ گوپی چند نارنگ کے اسٹیج پر آتے ہی تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے کان پڑی آواز سننا مشکل ہوجاتی اور ان کی تقریر کے دوران ایسا سنّاٹا چھاتا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنائی دے جائے۔ عنوان چشتی کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا ، لیکن ان کی تقریر کے دوران کبھی فکری سنجیدگی اور کبھی خوش کن مسکراہٹیں بھی سامنے آئیں۔ بظاہر دونوں متضاد شخصیتوں کے مالک تھے، مگر دونوں کی تقریروں میں کشش بھی تھی اور گہرائی بھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھاکہ علم کا دریا اپنی موج میں بہتا ہوا سامعین کو سیراب کئے جا رہا ہے۔ بہت سے دوسرے قدردانوں کی طرح میں بھی ان کا گرویدہ ہوگیا۔ گوپی چند نارنگ سے میری شناسائی رسمی ہی رہی لیکن عنوان چشتی سے نسبتاً زیادہ قربت حاصل ہوئی۔
 
عنوان چشتی اچھے مقرر ہی نہیں بلکہ شفیق استاد بھی تھے۔ ادبی دنیا میں ان کی پہچان منفرد شاعر اور ایک منجھے ہوئے تنقید نگار کی تھی۔ ان کے ادبی سفر کا آغاز اس وقت ہوا جب ترقی پسند تحریک کا جادو دم توڑ رہا تھا اور اس کی جگہ جدیدیت ایک رجحان کی شکل میں دبے پاؤں آرہی تھی۔ اس وقت عنوان چشتی کی آواز غزل کے پیرائے میں سنائی دی۔ بعد ازاں انہوں نے ادب کی دوسری شعری اصناف کو بھی اظہار کا وسیلہ بنایا لیکن ان کا شعری رویہ ترقی پسند تحریک کے تصورات اور جدیدیت کے رجحان دونوں میں سے کسی سے میل نہیں کھاتا۔ وہ کلاسیکی شاعر ہیں اور اپنی شعری نگارشات میں انہوں نے کلاسیکیت سے جدیدیت تک کے بیشتر مثبت رویوں سے اکتساب کیا ہے۔ چنانچہ ان کے اشعار میں جذبہ و احساس کا اظہار سیدھے طور پر نہیں بلکہ رمز و ایما کے پردے میں ہوا ہے۔
 
اردو شاعری میں عشق اور اس کے متعلقات کی بازگشت دیگر موضوعات کی طرح شروع ہی سے سنائی دیتی رہی ہے۔یہ ایک وسیع موضوع ہے، جسے دو دائروں میں بانٹ کر دیکھا جاسکتا ہے، یعنی عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی۔ عشقِ مجازی ارضیت،مادیّت اور جنس و جمال اور عشقِ حقیقی ماورائیت، روحانیت اور مرئی بنیادوں پر استوار ہے۔ چنانچہ عشقِ مجازی میں وصال اور عشقِ حقیقی میں فراق حاوی رویے ہیں۔ اردو کے بیشتر شعرا نے اپنی شاعری میں عشق کی ان دونوں جہتوں کی عکاسی کی ہے لیکن عشقِ مجازی کے ذیل میں ایسے غچّے کھائے ہیں کہ ان کی شاعری ہوسناکی کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ عنوان چشتی کی شاعری بھی عشق کی کیفیات و تجربات اورنفسیاتی پیچیدگیوں سے مرصّع و مزیّن ہے۔ عشق، عنوان چشتی کی غزلوں میں تصوراتی نہیں بلکہ تجرباتی ہے۔ اس لیے عشق کے وہ سارے رنگ ان کی غزلوں کا حصہ بن گئے ہیں جو ایک عاشق کے تجربات و مشاہدات میں آتے ہیں لیکن بیان میں لجلجی انفعالیت نہیں بلکہ کلاسیکی ٹچ کے ساتھ ایک طرح کے ٹھہراؤ کا احساس ہوتا ہے۔ قاضی عبید الرحمن ہاشمی کے لفظوں میں کہیں تو عنوان چشتی کی غزل جس کا بنیادی مرکز و محور و محبوب کی ذات ہے، اس لحاظ سے بڑی معنی خیز ہے کہ یہ محض زندگی کا ایک موہوم رمز بن کر ابھرنے کے بجائے ایک ایسی پناہ گاہ اور ایک ایسی ڈھال بن کرزندگی کے ساتھ رہتی ہے، جس پر شاعر زمانے کی بڑی سے بڑی یلغار کو جھیل سکتا ہے۔) پیمانۂ صفات، ص:(91عشق کی سرمستیوں میں شرابور ان کے اشعار انسانی ذہن پر کچھ اس طرح کا نقش چھوڑتے ہیں :
 
اک اضطرار بھی شامل ہے دل کے رشتوں میں
جو اس کو اپنا کہا بھی تو بے ارادہ کہا
یہ ایک دوست نے لکھا ہے خط میں اے عنواں
تری جگہ مری پلکوں کے سائبان میں ہے
 
ان اشعار میں بے ارادہ کسی کو اپنا کہنا اور خط کے ذریعے اپنے عشق میں گرفتار ہونے کا مژدہ سننا در اصل تجاہلِ عارِ فانہ کی عمدہ مثال ہے۔ عنوان چشتی کی ادبی زندگی کا آغاز و ارتقا جدیدیت کے آغاز و ارتقا کے ساتھ ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مادیت پرستی نے انسانی تہذیب و ثقافت کے ساتھ رشتے ناتوں کو بھی پامال کردیا تھا۔ شعرا کھلے عام مخالف صنف سے متعلق اپنے تجربہ و خیال کو شعر میں ڈھال رہے تھے، جس میں ایک طرح کی ہوس ناکی بھی شامل تھی۔ ایسے میں عنوان چشتی کا عشق کی بے پردگی، ہوسناکی اور برہنگی سے اجنبیت کا اظہار انہیں کاسیکی شعرا کی صف میں کھڑا ہی نہیں کرتا بلکہ اپنے قارئین کو عشق کی کلاسیکی تہذیب سے آشنا بھی کراتا ہے۔چنانچہ غزل ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے، عنوان چشتی کی شعری بساط پر عشق کے کلاسیکی تصورات کے تمام رنگوں کو بکھیرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ چند اشعار دیکھیں، جن میں عشق کی آگہی کے بعد کی کیفیت کو آئینہ کیا گیا ہے:
 
غلط ہے یہ کہ تو شبنم ہے یا شرارہ ہے
ترا جمال محبت کا استعارہ ہے
آنکھوں کے دریچے سے در آیا تھا جو ا ک شام
اب دل سے اس آسیب کا سایہ نہیں جاتا
 
شبنم اور شرارہ جیسے الفاظ شعر میں تلذذ (Pleasure) کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے کافی تھے،لیکن شاعر کا کمال ہے کہ اس نے دوسرے مصرعے میں محبوب کے جمال کو محبت کا استعارہ کہہ کر متلذذ شائستگی کی کیفیت پیدا کردی۔ اسی طرح دوسرے شعر میں محبوب کی پہلی جھلک کو آسیب کے سائے سے تشبیہ دے کر خود کو اس کا اسیر کہنا بھی ایک ایسا عمل ہے جو شعر میں عشق کی سچائی اور گہرائی کا مظہر بن جاتا ہے۔ یہ عنوان چشتی کا کمال ہے کہ انہوں نے اپنے یہاں شاعری کے کلاسیکی اسلوب کے چراغ جلائے رکھا۔ غزل کی عشقیہ تہذیب ان مراحل کا آئینہ ہے، جن سے ایک عاشق دوچار ہوتا ہوا دکھائی پڑتا ہے۔ عنوان چشتی کی غزل میں جستہ جستہ ان مراحل کی عکاسی کی گئی ہے۔ کسی کے عشق میں گرفتار ہونے اورایک عرصے تک اس کے حسن و جمال کی تعریف نیز طرح طرح کی قسمیں کھانے کے بعد جب ہجر و فراق کا مرحلہ آتا ہے تو شاعر اپنے جذبات کی عکاسی کچھ اس طرح سے کرنے لگتا ہے:
 
ہر چہرہ ترا چہرہ ہے ہر آنکھ مری آنکھ
یہ تجھ سے جدا ہوکے نئی بات ہوئی ہے
 
محبوب سے جدائی یعنی فراق کی حالت میں ہر آنکھ کو اپنی آنکھ اور ہر چہرے کو محبوب کا چہرہ کہہ کر قاری کے بصری حواس کو متحرک کیا گیا ہے، جس سے جذبۂ عشق کی وسعت اور بلندی کا اندازہ ہوتا ہے۔ عنوان چشتی ہجر و فراق کے جانکاہ دور میں بھی اپنا حوصلہ نہیں کھوتے بلکہ غمِ محبوب کے چراغ سے اپنے باطن کو کچھ اس طرح روشن کرتے ہیں:
 
تمام جسم ہے ڈوبا ہوا اندھیروں میں
 مگر یہ دل کہ ترے غم کی روشنی ہے یہاں
بجھا بجھا سا ہے کیوں آج شعلۂ احساس
ابھی تو دل میں غموں کے چراغ جلتے ہیں
 
ان اشعار میں ایک ہی بات یعنی جسم کے اندھیرے میں ڈوبے ہونے یا شعلۂ احساس کے بجھے ہونے کے باوجود محبوب کے غموں کے چراغ سے دل کی دنیا کو روشن دکھایا گیا ہے۔ یہ عنوان چشتی کی فنی کمال ہے کہ دونوںا شعار میں معنوی تکرار ہونے کے باوجود شعر کی اثر انگیزی میں کوئی فرق واقع نہیں پڑتا۔ فکر کی پائمال کیفیتوں کو بھی انہوں نے اپنی فنی خوبیوں کے ذریعے چھپا دیا ہے۔ ہجر و فراق کے عالم میں محبوب کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں:
 
کوئی غرض نہیں اس سے خوشی ملے نہ ملے
اسے تو ضد ہے کہ بس دل دکھانا ہے میرا
وہ چاند چہرہ، گلاب آنکھیں، غزل سراپا
مگر اسے میرا دل دکھانے کی ضد عجب تھی
 
ان اشعار میں محبوب کے ہرجائی پن کو چند لفظوں میں اس خوبصورتی کے ساتھ پینٹ کیا گیا ہے کہ عاشق کی حالتِ زار کے ساتھ معشوق کی محبوبانہ ستم ظریفی بھی عیاں ہوگئی ہے۔ پہلے شعر میں بغیر کسی غرض کہ عاشق کا دل دکھانے کی ضد ہونا اور دوسرے شعر میں بقول شاعر ’’خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے‘‘ کے مصداق طرزِ معصوقانہ میں اپنا جلوہ دکھا رہا ہے۔ ان اشعار سے محض محبوب کی ستم ظریفی ہی عیاں نہیں ہوتی بلکہ اس امرِ واقعی کا پتہ بھی چلتا ہے کہ ہے آگ دونوں جانب برابر لگی ہوئی ہے۔ عنوان چشتی کی غزل کی بساط پر عشقیہ اشعار کا اجتماع در اصل ان کی عاشق مزاجی کو بیاں کرتا ہے، اس کے باوجود انفعالیت کا وہ پہلو اجاگر نہیں ہونے پاتا، جس سے بہت سے شعرا اپنی شعوری کوششوں کے بعد بھی دامن بچا نہیں سکے۔ عنوان چشتی نے جنسی تجربات کا اظہار بدن کے استعارے میں کیا ہے۔ اس نوع کے اشعار کو پڑھ کر بدن کو چھونے کا احساس گہرا ضرور ہوتا ہے، لیکن ہوس ناکی یا سستی لذتیت کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ چند اشعار دیکھیں، جن میں بدن کے لمس کو خوبصورتی کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے:
 
نشۂ جذب و جنوں اور بھی گہرا ہوجائے
میں جو چھو لوں تو ترا رنگ سنہرا ہوجائے
مر مریں نرم، خنک اس کا بدن
ریت کی گرم ہوا ہوجاؤں
نگاہ سے نہیں ہونٹوں سے اس کو پڑھتا ہوں
کتاب چہرہ تمنا کا گوشوارہ ہے
بلندیوں سے اترنے میں دیر ہو شاید
ہوس کا شوخ پرندہ بہت اڑان میں ہے
ہر رات کو سپنوں میں اک چاند تو آتا ہے
دل ہی اسے چھونے کی حسرت میں نہ مر جائے
رنگ پہ ہوتی ہے خوشبوئے بدن رات گئے
پھول کھلتا ہے سرِ شاخِ چمن رات گئے
 
ان شعروں میں محبوب کو چھُو کر اس کے رنگ کو سنہرا کرنے اور اپنے جذبہ وجنوں کے گہرا ہونے کی باتیں ، محبوب کے مرمریں نرم اور خنک بدن کو دیکھ کر ریت کی گرم ہوا ہوجانے کی تمنا، ہوس کے شوخ پرندے کو اڑان میں دیکھ کر اس تشویش میں مبتلا ہونا کہ کہیں بلندیوں سے اترنے میں دیر نہ ہوجائے، کتاب چہرہ کو تمنا کا گوشوارہ کہہ کر ہونٹوں سے پڑھنے کی باتیں کرنا، چاند کو سپنے میں چھونے کی حسرت اور خوشبوئے بدن کو رات گئے اپنے رنگ پر دکھانا اور اس کی مثال رات کی تاریکی میں شاخ پر پھولوںکے کھلنے سے دینا انسانی ذہن پر لمس کے احساس کو نقش کردیتا ہے۔ یہ ایسے مضامین ہیں، جو شعرا کی تھوڑی سی بے احتیاتی کی وجہ سے عمومیت کا شکار ہوکر سستی لذّتیت ہوا دیتے ہیں لیکن عنوان چشتی کی فنی پختگی نے ایسا نہیں ہونے دیا ۔ ان اشعار کی قرأت سے قاری بیک وقت رمزیت و جنسیت کے لطیف احساس سے محظوظ ہوسکتا ہے۔ ان میں جنسیت نے اپنی مہذب حدود کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ 
 
عنوان چشتی کی غزل کے رنگوں میں یادوں کی اہمیت زیادہ ہے۔ یادیں ماضی کی لطیف حقیقتیں بھی ہوسکتی ہیں اور تلخ تجربات بھی۔ عنوان چشتی کی یادوں کا سیدھا تعلق حسن اور عشق کی مختلف کیفیتوں سے ہے۔ یہ کیفیتیں چوں کہ شاعر کے تجربہ و احساس سے متعلق ہیں اس لیے اشعار میں داخلیت کا احساس ہوتا ہے لیکن ابہام کی وہ کیفیت پیدا نہیں ہونے پاتی جو کہ جدیدیت کے شعرا کی غزلوں کا خاصہ کہلاتی ہے:
 
نہ جانے کون سے عالم میں خود سے بچھڑا تھا
پلٹ کے دیکھ رہی تھی مری انا مجھ کو
دل میں پھر اک حشر برپا ہوگیا
پھر تری یادو کے لشکر آگئے
یادوں کے یہ امیں ہیں انہیں مت بھلائیو
آنکھوں میں جو چراغ ابھی رَت جگوں کے ہیں
کسی کا نام لکھا دیکھ کر خیال آیا
حسین یادیں ہیں وابستہ اس کتاب کے ساتھ
ذہن میں پھر اک تار بندھا ہے بھولی بسری یادوں کا
تصویریں سی ناچ رہی ہیں، آنکھوں کی ویرانی میں
 
ان شعروں کو ایک مرتبہ پھر سے پڑھ جائیے، پہلے شعر میں خود سے بچھڑنے کا عمل دراصل محبوب کے ہرجائی پن کی طرف اشارہ ہے، لیکن شاعر نے اسے اپنی انا سے موسوم کر کے شعر کے تاثر کو دوگنا کردیا ہے۔ اسی طرح دوسرے اشعار میں دل میں حشر بپا ہونے کا سبب محبوب کی یادوں کے لشکر کو بتانا، یادوں کے امین کہہ کر رتجگوں کے چراغوں کو بجھانے سے منع کرنا، کسی کا نام ورق پر لکھا دیکھ کر کتاب کو حسیں یادوں سے وابستہ کرنا اور بھولی بسری یادوں کا ذہن کے تاروں کے ذریعے آنکھوں کی ویرانی میں آکر رقص کرنا مخلوط پیکروں کو جنم دیتے ہیں۔ جن سے ایک طرف انسانی بصارت متحرک ہو تی ہے، تو دوسری طرف یادیں انسان کو ماضی کا آئینہ دکھاکر حقیقت سے روبرو کراتی ہیں۔ 
 
جدید دور میں شعر کے مادی اسلوب میں تنہائی اور اس کے متعلقات کو حاوی رویے کے طور پر دیکھا گیا۔اس دور میں سائنسی اور صنعتی ترقی کی برکتوں نے زندگی کو جس تیزی کے ساتھ خوش حال بنایا، اسی تیزی کے ساتھ خود پرستی، فرار اور تنہائی کو بھی انسان کا مقدر بنا دیا۔ جدید شعرا کی غزلوں میں تنہائی کا ذکر متعدد پیرایوں میں ہوا ہے، بسا اوقات ان میں ابہام کی کیفیت بھی پیدا ہوگئی ہے۔ عنوان چشتی کی شاعری کا آغاز اسی دور میں ہوا۔ بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ ان کی غزلیں اپنے عہد کے حاوی رویے سے اچھوتی رہ جاتیں۔ ان کے یہاں بھی تنہائی اور اس کے متعلقات کا ذکر ہوا ہے ، لیکن ان پر ابہام کی وہ دبیز تہیں نہیں جو جدید شعرا کے یہاں نظر آتی ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
 
ہستی کے موہوم سفر میں کوئی کہاں تک تنہا جائے
روح کا پارا جمتا جائے، جسم کا سونا پگھلا جائے
کتنے موسم بیت گئے ہیں دکھ سکھ کی تنہائی میں 
درد کی جھیل نہیں سوکھی ہے آنکھوں کی انگنائی میں
تنہائی ہو یا سناٹا تیرے لیے
روح کا پارہ، جسم کا سونا تیرے لیے
سچ سچ کہنا اے دلِ ناداں بات ہے کیا رسوائی میں
سیکڑوں آنکھیں جھانک رہی ہیں، کیوں میری تنہائی میں
 
ان اشعار میں تنہائی مختلف انداز میں شاعر کی ذہنی و جذباتی کیفیات کو واضح کرتی ہے۔ ہستی کا موہوم سفر وہ بھی تنہا انسان کی روح کے پارے کو جمانے اور جسم کے سونے کو پگھلانے کے لیے کافی ہوتا ہے، شاعر تنہا ہستی کے موہوم سفر کا مسافر ہے۔ اس کیفیت میں کتنے ہی موسم بیت گئے ہیں لیکن اس کی آنکھوں کی انگنائی میں درد کی جھیل خشک نہیں ہوئی۔ یہ کاروبارِ زیست چوں کہ محبوب کے لیے ہے، اس لیے روح کے پارے، جسم کے سونے، تنہائی اور سناٹے کو اس کے نام منسوب کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ تجھ سے بچھڑ نے کے بعد جو رسوائی مقدر ہوگئی ہے، اس میں کوئی تو بات ہوگی کہ سیکڑوں آنکھیں میری جانب لگی ہوئی ہیں۔ عنوان چشتی کی غزلیہ شاعری میں تنہائی کے علاوہ سنّاٹا بھی رمزیہ پیرائے میں آیا ہے:
 
یہ وہ جگہ ہے جہاں بولتے ہیں سناٹے
کسی نے مجھ سے کہا تھا یہاں ٹھہر جانا
بس ایک بار سہی دور کر یہ سناٹا
اتار کوئی مسافر سرائے جاں کے لیے
اک پر اسرار خموشی سی ہے ہر جا مجھ میں 
میں خلا ہوں تو صدا بن کے بکھر جا مجھ میں
 
پہلے شعر میں سناٹے کا تلازمہ محبوب سے جڑی ہوئی یادوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شعر کی قرأت محبوب سے پہلی ملاقات اور قول و قرار سے لے کر ہجر و فراق تک کی داستان کو قاری کے ذہن پر ثبت کرنے میں کامیاب ہے۔ اس کے بعد کے اشعار میں شاعر کے ذریعے سرائے جاں میں کسی مسافر کے اترنے کی تمنا اور ذات کے خلا میں صدا بن کر بکھر جانے کی دعوت دراصل تنہائی کے کرب کو دور کرنے کی آرزو سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ عنوان چشتی کی غزلوں میں تنہائی اور اس کے متعلقات کا ذکر انفرادی طور پر اس فنی خوبیوں کے ساتھ ہوا ہے کہ اس کی کی کیفیت اجتماعی ہوگئی ہے۔ علاوہ ازیں ان پر ایمائی پرتیں اتنی مہین ہیں کہ اندرون میں معنی کا جہاں جگمگانے لگتا ہے۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو ان کی غزلوں کو جدیدیت کے عام شعری رجحان سے الگ کرتی ہیں۔ چنانچہ نشتر خانقاہی کے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ عنوان چشتی کے یہاں انفرادی زندگی کا وہ کرب، اوڑھی ہوئی تنہائی کا وہ تصور، فرد کی اعصاب زدگی، شکست و ریخت کا وہ احساس، بے یقینی کی وہ کیفیت، وہ حرماں نصیبی، وہ مریضانہ خود نگری، لاتعلقی، فرد کی وہ نا آسودگی کم سے کم اس انداز میں نہیں جس پر قاری کو نقالی کا گمان گزرے۔) پیمانۂ صفات، ص: ۱۱۱( 
عنوان چشتی کا تعلق صوفی گھرانے سے تھا بلکہ وہ سجادہ نشیں بھی تھے۔ اس لیے وہ تصوف کے نکات و کیفیات اور فلسفۂ وحدت الوجود سے بخوبی واقف تھے۔ چنانچہ ان کی غزل مجازی عشق کی دہلیز کو عبور کرتی ہوئی جب حقیقی عشق کے دروازے پر دستک دیتی ہے تو اس میں متعدد بار دہرائے ہوئے متصوفانہ مضامین میں بھی تازگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ چند اشعار پیش ہیں:
 
وہ آدمی ہوں کہ جس کو خدا سے نسبت ہے
نیا نہیں ہے پرانا گھرانا ہے میرا
جھلک رہا ہے ترا عکس میری صورت میں
دکھا رہا ہے ترا چہرہ آئینہ مجھ کو
اس بت کو سجدہ کر کے اٹھا یا جو اپنا سر
محسوس یہ ہوا کہ خدا ہوگیا ہوں میں
ایک ہی رنگ میں سو رنگ نظر آتے ہیں
دل کے آئینے میں پابند نظر ہوں کب سے
اف یہ افسانہ و افسوں کا طلسم شب و روز
زیست معدوم نہیں اور حقیقت بھی نہیں
 
پہلے شعر کو چھوڑ کر جس میں صوفی خانوادے کا ذکر شاعر نے اپنی بڑائی کے لیے کیا ہے، بقیہ اشعار میں صوفیانہ تصورات و رجحانات اور کثرت میں وحدت کے نظریے کو پیش کیا ہے۔ یہ مضامین ولی دکنی، درد دہلوی اور دوسرے شعرا کی غزلوں میں بھی ملتے ہیں لیکن عنوان چشتی نے اسلوب کی سحرکاری سے ان کی تازگی بھر دی ہے۔
 
جدید شعرا بالخصوص افتخار عارف اور عرفان صدیقی نے کربلا اور اس سے متعلق جہات و تصورات نیز ائمۂ معصومیں کی شہادتوں کو تلازمے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس سے پہلے اردو کے رثائی ادب میں کربلائی واقعات کا اظہار مذہبی فریضے کے طور پر ہوتا تھا۔ جدید مرثیے میں واقعۂ کربلا کے مقصدی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے یزیدی طاقتوں سے نبرد آزمائی کی قوت پیدا کی گئی۔ غزل کے شعرا نے بھی کربلا کے مقصدی پہلوؤں کو تلازمے کے طور پر استعمال کر کے اپنے خیالات وافکار کا اظہار کیا۔ عنوان چشتی کی غزلوں میں بھی کربلائی تلازمے بھرپور معنویت کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں:
 
رجز پڑھو کہ ہے نیزے پہ نور زاد کا سر
جوارِ شہر ہے آغوش کربلا کی طرح
عجیب بات کہ سہما ہوا سا لشکر ہے
دکھائی دینے لگے دور سے بہتّر کیا
جو ثمر ہو تو رجز میں بھی لطف آتا ہے
نہ ہو وہ تو کوئی جنگ کیا، شہادت کیا
ممکن ہو تو کچھ اشک ہی آنکھوں میں بچا لو
سنتے ہیں کہ اب شہر میں پانی نہ ملے گا
میں کہ سورج نہیں ہر شام کو ڈھلنے والا
ہوگیا راکھ مرے سائے سے جلنے والا
آگے بڑھنا تو غسل اپنے لہو سے کرنا
کام ماتم سے نہیں دوستو! چلنے والا
 
رجز جنگ کے میدان میں دشمنوں سے نبرد آزمائی سے قبل اپنی اور بزرگوں کی شجاعت و بہادری دکھانے کے لیے پڑھا جاتا ہے۔چنانچہ اس تصور کا فائدہ پہلے شعر میں رجز کو استعارے کے طور پر برت کر شاعر نے اپنے شہر کی کربلائی حالت کو آئینہ کیا ہے۔ دوسرے اور تیسرے شعر میں بالترتیب بہتر اور رجز جیسے الفاظ کو تلمیح کے طور پر پیش کر کے زمانے کی نارسائیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس کے بعد کے اشعار میں پانی، سورج اور لہو جیسے الفاظ تلمیح اور کنائے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں ۔ ان اشعار کو پڑھ کر ایک طرف واقعۂ کربلا کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں، دوسری طرف عہدِ جدید کی بے بسی، کربناکی اور اس سے متعلقہ تمام مسائل سے نہ صرف آگہی ہوتی ہے بلکہ کچھ کر گزرنے کا جذبہ بھی دل میں ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے۔ 
 
عنوان چشتی نے کربلائی تلازمات کی طرح شہر اور جنگل کو بھی تشبیہ، استعارہ اور کنائے کے طور پر برت کر اپنے عہد کی خرابیوں، انسانی بے بسی و بے کسی کو زبان دینے کی کوشش کی ہے۔ شہر اور جنگل کو تلازمے کے طور پر جدیدیت کے دوسرے شعرا نے بھی اپنی غزلوں میں پیش کیا ہے، لیکن ان تلازمات کے استعمال سے معنویت کی جو تہیں عنوان چشتی کی غزلوں میں ملتی ہیں، وہ ان کے ہم عصروں کے یہاں کم کم دکھائی دیتی ہیں۔ ذرا ان اشعار کا مطالعہ کیجئے:
 
جنگل کی فضائیں بھی دلآویز ہیں، لیکن
جنگل کے لیے شہر کو چھوڑا نہیں جاتا
یہ کیسا شخص ہے، کیوں جنگلوں کی بات کرتا ہے
کہ اس سے شہر کی شائستگی دیکھی نہیں جاتی
ہمارا شہر مدینہ نہیں، مگر پھر بھی
ہر ایک گھر میں مہاجر قیام کرتے ہیں
کس احتیاط سے آیا ہے شہر میں طوفاں
مکیں بچا نہیں لیکن مکان سالم ہے
اک شور ہے اور کچھ بھی سنائی نہیں دیتا
کیا مجھ میں ہی آواز مری گونج رہی ہے
 
ان اشعار میں جنگل کی دلآویزی کے باوجود اس کے لیے شہر کو نہ چھوڑنے کی بات کہنا، ایسے لوگوں پر طنز ہے جو شہر کی شائستگی کو جنگل میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، مدینہ کو تلمیح کے طور پر استعمال کر کے شہر کی مہاجرانہ زندگی پر سوال قائم کرنا، شہر میں طوفان آنے کے بعد بغیر مکین کے مکان کا ذکر کرنا اور شہر کی شور بھری زندگی میں اپنی آواز بھی سنائی نہ دینا در اصل اس سے شہری زندگی کے خاص منظر نامہ کا احاطہ ہوتا ہے۔ ان میں شہری زندگی کی بے چہرگیوں کے ساتھ ان کربناک حقائق کا بیان بھی شامل ہے، جن سے انسان نبرد آزما دکھائی دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں عنوان چشتی نے شہر اور جنگل کے تلازمے سے انسان کی تہذیبی زندگی کے زوال کو پیش کیا ہے۔ ان موضوعات و مواد کے علاوہ ان کی غزل کے آئینے میں زندگی کے دوسرے رنگ بھی اجاگر ہوئے ہیں، مظفر حنفی کے مطابق ان میں سماجی مقصدیت بھی ہے، فرد کی شکست و ریخت کا ماتم بھی۔ عصری آگہی بھی ہے اور نئی حسّیت بھی۔ مضامین بھی نئے ہیں اور انہیں نئے طرز میں باندھا بھی گیا ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ نئی غزل کے بہت سے نئے ناموں کی طرح ان اشعار میں ترسیل کا المیہ نہیں ہے، نہ زندگی سے فرار کی تلقین پائی جاتی ہے۔) پیمانۂ صفات، ص: (90اس نوع کے کچھ اشعار دیکھیں:
 
دل کی طرح گھر کی ویرانی پل دو پل کی بات نہیں
اب تو سبزہ بھی نہیں اگتا یاروان دیواروں پر
یہ زندگی ہے اسے ٹوٹ کر نہ کیوں چاہوں
کہ اس کے بعد بہاروں خزاں نہیں ہے کوئی
جو اپنے خون کے رشتوں کے نام پوچھتے ہوں
تو دشمنوں کو بھی اللہ ایسے بھائی نہ دے
بچوں سے محبت ہے مگر جیب ہے خالی
کس سے کہیں پردیس سے گھر کیوں نہیں جاتے
 
گھر کی ویرانی کو دل کی ویرانی سے تشبیہ دے کر دیواروں پر سبزہ نہ اگنے کی بات کہنا، زندگی کو اس لیے ٹوٹ کر چاہنا کہ اس کے بعد بہاروخزاں کا موسم نہیں آتا، دشمنوں کو بھی ایسے بھائی نہ دینے کی دعا کرنا جو اپنے خون کے رشتوں کے نام پوچھتے ہوں اور بچوں سے محبت کے باوجود پردیس سے گھر اس لیے نہیں لوٹنا کہ جیب خالی ہے ، زندگی کی مختلف کڑوی سچائیوں کا تخلیقی اظہار ہے۔ ان اشعار سے گزرتے ہوئے عنوان چشتی زندگی کے ایسے نباض دکھائی دیتے ہیں جس کی نگاہیں زیست کی تلخ حقیقتوں پر لگی رہتی ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے تجربات و مشاہدات کو فنی خصوصیات کے ساتھ غزل کے پیرائے میں اس خوبی کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ شعر کی اثر انگیزی دوگنی ہوجاتی ہے۔
 
عنوان چشتی کی غزل میں فکر کے ان سارے رنگوں کا اجتماع دیکھنے کو ملتا ہے، جن سے انسان اپنی ذاتی، سماجی اور کسی حد تک معاشی زندگی میں دوچار ہوتا ہے۔ ان میں عشقِ مجازی کی رنگینیاں ، عشقِ حقیقی کا پرتو اور زندگی کی کربناک سچائیاں بھی ہیں لیکن ان کا اظہار بہت ہنر مندی کے ساتھ کیاگیا ہے۔ عنوان چشتی نے زمانے کی روش سے ہٹ کر اپنے جذبہ و خیال کی عکاسی کے لیے غزل کے کلاسیکی لہجے کو اپنایا۔ ان کی غزلوں میں تفہیم و ترسیل کے مسائل نہیںہیں۔ ان کی غزل کے لہجے کی ایمائیت بھی ان کی تقریر کی اظہاریت کے جادو کی طرح ہی قاری کو مبہوت و مسحور کردیتی ہے۔ ان کے تیشۂ معنی سے لفظوں کی چٹانیں بھی کٹ گئی ہیں، لیکن وہ مطمئین نظر نہیں آتے۔جس کا اعتراف انہوں نے اپنے ایک شعر میں بھی کیا ہے:
 
تیشۂ معنی سے لفظوں کی چٹانیں کٹ گئیں
پھر بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ دل میں ہے
 
اور شاید نامکمل ہونے کا یہی احسااس عنوان چشتی کے رنگِ تغزل کو منفرد کرتا ہے۔
 
 
 

**********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 173