donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Urdu Shayari Me Hindu Falsafa Aur Eteqad Ka Rang


اردو شاعری میں ہندوفلسفہ و اعتقاد کا رنگ

 

تحریر: غوث سیوانی،نئی دہلی 


اردو کا جنم ہی مختلف تہذیبوں اور زبانوں کے ملاپ سے ہوا ہے، لہٰذایہاں سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا کہ ایک کثیر جہاتی معاشرے میں جنم لینے والی زبان میں ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کو قرآن کی فضیلت پر نظمیں ملتی ہیں تو دوسری طرف آپ کو وید،پران اور گیتا کی عظمت پر بھی نظمیں مل جائینگی۔ جس طرح غیرمسلم شعراء نے بارگاہ رسالت میں نعتوں کا نذرانہ پیش کیا، اسی طرح مسلمان شعراء نے بھی ہندو اساطیری عناصر کو اپنے کلام کا حصہ بنایا اور ان شخصیات کوخراج د ادوتحسین پیش کیاجن کا احترام ہندو روایات میں ملتا ہے۔ اردو کی یہی خوبی اسے مذہب ومشرب سے بلند کرتی ہے۔ گائتری منتر کو اردو کے بہت سے شاعروں نے اس کی اہمیت کے پیش نظر نظم کیا ہے۔

گایتری منتر،ویدوں کا ایک اہم منتر ہے جس کی اہمیت تقریبا ’اوم‘ کے برابر مانی جاتی ہے۔ یہ یجروید اور رگ وید کی دوآیات کے میل سے بنا ہے۔ اس منتر میں سوتر دیو (خدائے واحد)سے دعا ہے اس لئے اسے ساویتری بھی کہا جاتا ہے۔’گایتری‘ ایک چھند بھی ہے جو رگ وید کے سات مشہور چھندوں میں ایک ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اس منتر کے تلفظ اور اسے سمجھنے سے خدا کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی جاتی ہے اور اس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس میں توحید کا بیان ہے۔ ویدانت کے علماء مانتے ہیں کہ وید میں توحید کا بیان ہے اور خد کو ایک مانا گیا ہے۔ گائتری منتر میں یہ بیان زیادہ واضح انداز میں ملتا ہے۔

گائتری منتر ہندووں کی مذہبی اساس مانا جاتا ہے جس میں خدا کی تعریف وتوصیف کے بعد اس سے یہ التجا کی جاتی ہے کہ وہ صراط مستقیم کی رہنمائی فرمائے۔ اس میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ وہ حق کے آفتاب کی روشنی دل ودماغ تک پہنچائے تاکہ صحیح راستے کی انسان پہچان کرسکے۔ اس کا مفہوم قرآن کے سورہ فاتحہ کے مضمون کے قریب ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جس طرح کے دعائیہ الفاظ سورہ فاتحہ میں ہیں اس سے ملتے جلتے الفاظ گائتری منتر میں بھی ہیں۔ حالانکہ مختلف شاعروں نے اسے اپنے اپنے کلام میں الگ الگ طریقے سے نظم کیا ہے مگر مفہوم قریب تر ہے۔منتر کا ترجمہ اس طرح ہے:
’’شہ رگ سے بھی قریب رہنے والے، دکھوں کو دور کرنے والے اور سکھ فراہم کرنے والے، سب سے اعلیٰ وارفع خداکو ہم اپنے دل ودماغ میں بسائیں، وہ ہمارے عقل وشعور کی صراط مستقیم کی جانب رہنمائی کرے۔‘‘

اردو کے سب سے معروف شاعروں میں سے ایک علامہ اقبالؔ نے بھی گائتری منتر کو نظم کیا ہے جس کا عنوان ہے ’’آفتاب‘‘۔اقبالؔؔ عموماً اسلام کی عظمت اور آفاقیت کو اپنی شاعری میں پیش کرتے ہیں مگر وہ تنگ نظر نہیں تھے لہٰذا انھیں دوسرے مذاہب کی جو باتیں پسند آئیں انھیں بھی انھوں نے اپنی شاعری میں جگہ دی۔ اقبالؔ کی اسی نظم کا پہلا شعر ملاحظہ ہو۔ 

            
اے آفتاب!روح و روانِ جہاں ہے تو
شیرازہ بندِ دفترِ کون ومکاں ہے تو

گائتری منتر چونکہ ہندووں عوام میں بے حد مشہور ہے اور اہل علم اس کی فضیلت بیان کرتے ہیں لہٰذا بہت سے شاعروں نے اسے نظم کیا ہے۔یہاں تک کہ اسے فلموں میں بھی انتہائی خوبصورتی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ گائتری منتر کے مفہوم کو نظم کرنے والے اقبالؔتنہا نہیں ہیں بلکہ دوسرے شاعروں نے بھی اسے اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ انھیں میں ایک بالمکند عرشؔ ملسیانی بھی ہیں۔ عرش اردو کے معروف شاعر ہیں۔ انھوں نے بڑی تعداد میں نظمیں کہی ہیں جو مختلف موضوعات پر ہیں۔ یہاں ہم عرشؔ کے ذریعے نظم کردہ گائتری منتر کے دو شعر آپ کی نذر کررہے ہیں:

اوم جس کاسب سے پیارا نام ہے

روحِ عالم قاطعِ آلام ہے
جو چلاتا ہے نظام کائنات
مایۂ رحمت ہے جس کی نیک ذات

خدا کی قدرت کا جلوہ

    دنیا کے بیشتر مذاہب میں کسی نہ کسی شکل میں خدا کا تصور پایا جاتا ہے۔ الفاظ الگ الگ ہوسکتے ہیں مگر ان کی تعبیر ایک جیسی ہوتی ہے۔ مذہب کا مقصد ہی حقیقت ابدی کو انسان کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس مقصد کے تحت آسمانی کتابیں بھی نازل ہوئی ہیں اور سبھی مذاہب میں اس قسم کی کتابوں کا تصور پایا جاتا ہے۔جیسے اسلام میں قران، یہودیت میں توریت اور عیسائیوں کے مذہب میں انجیل کا تصور ہے۔اسی طرح ہندووں میں بھی وید کو تقدس کا مقام حاصل ہے۔ یہ بھارت کی قدیم ترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں توحید اور معرفت کا بیان خاص طور پر ملتا ہے۔ وید میں حمدیہ نظمیں اور گیت ہیں جو ہزاروں سال قبل گائے جاتے تھے۔ ہندوعلماء کے ایک طبقے کا ماننا ہے کہ وید میں شرک کا تصور نہیں ہے بلکہ توحید کا بیان ہے لہٰذا یہ طبقہ مورتی پوجا کی بھی مخالفت کرتا ہے۔ سکھوں میں توحید کا تصور وید اور اسلامی تعلیمات کا ہی اثر ہے۔ ویدوں کا زمانہ پوری طرح سے متعین نہیں کیا جاسکتا مگر اندازہ ہے کہ چار،پانچ ہزار سال قبل ان کی ترتیب عمل میں آئی تھی۔ایک طبقہ انھیں الہامی کتب بھی مانتا ہے۔ یہ آریوں کی کتابیں تھیں۔ وید کے اشلوک ہزاروں سال سے سینہ بسینہ چلے آرہے تھے، جنھیں انگریزی عہد حکومت میں کتابی شکل دیا گیا۔وید کی تعلیمات میں جہاںایک خدا کا تصور پایا جاتا ہے وہیں زندگی کے دیگر مسائل کے بارے میںبھی رہنمائی ملتی ہے۔ اردو کے معروف شاعر پنڈت برج نارائن چکبستؔ نے اپنی نظم ’’جلوۂ معرفت‘‘ میں وید کا فلسفہ بیان کیا ہے۔ اس نظم میں وحدت الوجود کا مضمون بھی ملتا ہے جو صوفیہ کے حلقے میں خاص طور پر رائج تھا۔اسی کے دو شعر ملاحظہ ہوں۔

فیضقدرت سے جو تقدیر کھلی عالم کی
ساحل ہند پہ وحدت کی تجلی چمکی
مٹ گئی جہل کی شب صبح کا تارا چمکا
آریہ ورت کی قسمت کا ستارا چمکا
 
فلسفہ ویدانت اور خدا کا تصور

وحدت الوجود کا مطلب یہ ہے کہ خدا ایک ہے اور اسی کا جلوہ ہر جگہ ہے۔ ذرے سے افلاک تلک بس اسی کا جلوہ ہے اور دنیا کی جتنی چیزیں ہیں اسی کے نور سے منور ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وجود بس ایک ہے، وہ ہے اللہ کا وجود۔باقی تمام اشیاء اسی وجود کا پرتو ہیں۔ اس قسم کے صوفیانہ خیالات اردو شاعری کے ڈی این اے میں شامل ہیں۔عام طور پرتصوف وعرفان کے مضامین کو اردو کے معروف وغیر معروف شعرا نے اپنے اشعار میں پیش کیا ہے۔ وید کی تعلیمات میں بھی اسی قسم کی باتیں ملتی ہیں۔ پنڈت امر ناتھ ساحرؔ دہلوی ان شاعروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنی شاعری میں ویدانت کے فلسفے کو پیش کیا۔ حالانکہ اس قسم کے بیانات کے سبب ان کی شاعری گنجلک ہوگئی ہے اور سیدھے سادے قاری کی سمجھ سے بالاتر ہوگئی ہے ۔ان کی ایک نظم ہے ’’جیو،ایشور،برہما،ترپٹی‘‘ اس میں انھوں نے اسی قسم کے مذہبی تصورات پیش کئے ہیں۔ 

حقیقت دل پہ روشن ہوچکی ہے راز پنہاں کی

کہ جاں ہے ایک تجلی جانِ جاں اور جانِ جاناں کی
دماغوں میں ہے مستی بادۂ سرجوش ِ عرفاں کی 
نگاہوںمیںمساوی منزلت ہے کفر و ایماں کی

شریمد بھاگوت گیتا 

شری کرشن کے خطبات کا مجموعہ ہے شریمد بھاگوت گیتا۔یہ دنیا کی قدیم ترین کتابوں میں سے ایک ہے اور ہندووں کا مقدس ترین گرنتھ ہے۔ مہابھارت کے مطابق کروشیتر جنگ میں سری کرشن نے گیتا کا پیغام ارجن کو سنایا تھا۔ اس میں توحید، کرم یوگ، اور لگن یوگ کی بہت خوبصورت طریقے سے بحث ہے۔ شریمدبھاگوت گیتا کے پس منظر میںمہابھارت کی جنگ ہے۔جس طرح ایک عام انسان اپنی زندگی کے مسائل میں الجھ کر ذمہ داریوں سے منہ موڑ لیتا ہے اور اس کے بعد کی زندگی سے راہ فرار اختیار کرنے کا خیال اس کے دل میں آتا ہے اسی طرح ارجن جو مہابھارت کا عظیم ہیرو ہے اپنے سامنے آنے والے مسائل سے خوفزدہ ہو کر زندگی اور چھتریہ دھرم سے مایوس ہوکر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے مگر کرشن اسے اس کی ذمہ دارایاں یاد دلانے کے لئے ایک طویل نصیحت کرتے ہیں۔ ارجن کی طرح ہی ہم تمام کبھی نہ کبھی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیںاور حالات سے مایوس ہوکر اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ بھارت کے رشیوں نے شدید غور کے بعدگیتا کو جمع کیا ہے۔خطبات کرشن کا آخری حصہ اپنشد کہلاتا ہے۔ انسانی زندگی کی خاصیت، انسان کو حاصل دانشورانہ طاقت ہے اور اپنشدوں میں موجود علم اس بات پر اکساتا ہے کہ عقل کی حدود کے باہر انسان کیا تجربہ کر سکتا ہے۔

شریمدبھگوت گیتا بدلتے سماجی منظرنامے میں اپنی اہمیت کو بنائے ہوئے ہے اور اسی وجہ سے تکنیکی ترقی نے اس کی دستیابی کو بڑھایا ہے، اور زیادہ قابل فہم بنانے کی کوشش کی ہے۔ دوردرشن پر نشر سیریل مہابھارت میں بھگوت گیتا خصوصی توجہ کا مرکز رہی، وہیں شری کرشن (سیریل) میں بھگوت گیتاکو تفصیل سے پیش کیا گیااور گیتا سے متعلق عام انسان کے شبہات کا ازالہ ارجن کے سوالات کے ضمن میں کرنے کی کوشش کی گئی۔

اردو میں گیتا کا گیان

مہابھارت اور رامائن کے ہندی ترجمے سے پہلے اس کے فارسی اور اردو ترجمے ہوچکے تھے۔ مغل بادشاہ اکبر کے حکم سے ان کتابوں کو سنسکرت سے فارسی میں ڈھالا گیا تھا اورخوبصورت ،رنگین تصویروں سے سجایا گیا تھا۔ مغلوں کے آخری دور میں انھیں اردو کا لباس بھی پہنادیا گیا۔کئی منظوم ترجمے بھی ان کتابوں کے ہوچکے ہیں۔اسی طرح ردو زبان میں خاص گیتا کے بھی متعدد ترجمے کئے گئے ہیں۔ ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں اس کے ترجمے اور تفاسیر اردو میں موجود ہیں۔گیتا کا گیان اردو شاعری میں بھی ہے اور جہاں اس کے مفاہیم کو شعراء نے اپنے اشعار میں پیش کیا ہے، وہیں کئی شعراء نے گیتا کا منظوم ترجمہ بھی کیا ہے۔گیتا کا اب تک کا آخری ترجمہ انورجلالپوری نے کیا ہے۔ان کا یہ ترجمہ دیکھیں ، ایسا لگتا ہے گویا قرآن کی آیت الکرسی کا منظوم ترجمہ ہے:

خدا ہے ازل سے ابد تک خدا
نہیں اس کی قدرت کی کچھ انتہا
وہ موجود ہے اور دیکھے سبھی
وہ اِک لمحے کو بھی نہ سوئے کبھی
لطافت بھی بے انتہا اس میں ہے
جو گیانی سنیں وہ صدا اس میں ہے
سبھی کچھ سنبھالے ہوئے ہے وہی
مگر وہ نہ آئے تصور میں بھی
وہ ظلمت نہیں نور ہی نور ہے
اندھیرا تو اس سے بہت دور ہے

اوپر درج مصرعوں میں جہاں سلاست وروانگی ہے وہیں زبان وہ بیان بھی بہت سادہ ہے۔ انھیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے گویا قرآن کا پیغام توحید پیش کیا جارہا ہے۔جس وحدت کا پیغام قرآن کریم میں دیا گیا ہے اسی کی تعلیم گیتا میں بھی ملتی ہے۔نورِ وحدت سے معمور ان اشعار کو ذرادیکھیں جو گیتا کا ہی ترجمہ ہیں:

فضائوں میں جیسے ہوائیں رہیں
اسی طرح سب جیو مجھ میں بسیں
مقدس ہوں، پھل دینے والا ہوں میں
مجھے جان لے سب سے اعلا ہوں میں
مرے بیج سے سب جگت جنم لے
برہمانڈ کی سلطنت جنم لے
کئی دیوتائوں میں اٹکے ہیں جو
مرے راستے سے بھی بھٹکے ہیں وہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments


Login

You are Visitor Number : 708