donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Iftekhar Rahmani
Title :
   Insaniat Ke Pujari Dahshat Gard

انسانیت کے پجاری دہشت گرد


ایک روداد


 افتخاررحمانی


چند دہشت گرد میرے دروازے پر دستک دیتے ہیں "کھٹ کھٹ"میں چونک گئی اور بہت خوش ہوئی کہ چلو اس بلا کی شدید بارش میں کوئی تو ہماری خبر گیری کیلئے آیا، میرا علاقہ مکمل طور سے سیلاب کے تنگ گھیرے میں چار دنوں سے تھا اور بچوں اور اھل خانہ کیلیے خوراک و رسد کی تمام چیزیں جو گھر میں ذخیرہ کی گئی تھیں ختم ہو گئیں جی ہی جی مسرور ہوئی لیکن دروازہ کھولتے ہی دفعتا ًدھک سے رہ گئی آواز لگانے والا کوئی دہشت گرد نما انسان تھا جو ٹوپی پہنے ہلکی ہلکی داڑھی رکھے ہوا تھا کچھ خوف اور کچھ غصہ کی ملی جلی کیفیت میں اس شدید بارش میں بھی میرے اعصاب گرم ہوگئے اور ستم یہ کہ وہ اکیلا نہ تھا؛ بلکہ اس کے ساتھ مکمل ایک نفری ساتھ تھی گویا وہ ایک گروہ کیساتھ دہشت گردی کیلیے آیا تھا "ھاں!  تو کیا ھے "
میں رعونت سے بولی

" مائی جی یہ کھانے کے پیکٹس ہیںاور یہ پانی کی بوتلیں انھیں رکھ لیں اور اپنے بچوں کو کھلائیں "

اس گروہ کا ایک فرد جو مکمل بھیگا ہوا تھا میری طرف ھاتھ بڑھا کر بولا  
"نن نہیں …!شکریہ اسے آپ رکھ لیں"

میں کچھ اور خشونت سے گرجی  پھر وہ منت گذاری کیساتھ بول پڑا "مائی جی! لے لیں چاردنوں سے مسلسل آپ اور آپ کے چھوٹے چھوٹے بچے پانی میں گھرے ہیںاور گھر میں کھانے پینے کی چیزیں بھی ختم ھو چکی ھونگی "

"میں لے کر تمھاری احسان مند نہیں ھونا چاھتی میں بھوکی ہی سہی ہوںبھگوان کیلیے تم یہاں سے چلے جاؤ"میں پھٹ پڑی …!

اس بحث و تکرار میں اونچی ھوتی آواز سن کر میرا چھوٹا لڑکا نکل کر سامنے آگیا اور میرے قدموں میں کھیلنے لگا وہ آپس میں گفتگو کر رھے ھیں "شاید مائی جی ہم سے خفا ھوگئیں ہمیں اس وقت دروازے پر دستک دینا مناسب نہیں تھا اور اس کا الزام ایک دوسرے پر تھوپ رہے تھے۔
"مائی جی شکریہ اس وقت نہ لیں ہم آگے چلتے ہیں واپسی میں پھر آپ سے ملاقات ہوگی"
اتنا کہہ کر وہ دہشت گرد نما گروہ آگے بڑھ گیا…!میں انھیں آگے جاتے ہوئے اس وقت تک دیکھتی رھی جب تک وہ نظروں سے اوجھل ھوکر دوسری گلی میں مڑ نہ گیا… گلی میں کہیں چھاتی بھر پانی تھا تو کہیں کمر بھر …میں سکون کیساتھ دروازہ بند کرکے اپنے روم میں آگئی … اور دیوار سے سر لگا کر سوچوں میں ڈوب گئی گرچہ میرا پورا علاقہ مسلسل زور دار بارش کی وجہ سے چار دنوں سے پانی میں گھرا تھا ۔

"یہ کون ھیں؟ کس قبیلے کے ھیں؟ ان کا مذھب کیا ھے؟ اور اتنی شدید بارش میں اتنے سفاک اور بزدل ٹھہرے کہ انسان کو لوٹنے اور کھسوٹنے کیلیے ھمارے علاقہ میں کھانوں کے پیکیٹس اور پانی کی بوتلوں کیساتھ گشت کر رھے ھیں"  اس سوچ کے ساتھ میں لزر اٹھی کہ وہ بڑی واردات کرسکتے ھیں میں فون کی طرف بھاگی ریسیور اٹھاکر نمبر ملایا مگر نمبر نہ لگا پھر محسوس ھواکہ فون سروس سخت بارش کی وجہ سے بحال نہیں ھے …میں موبائل لیکر رابطہ کرنا چاھی ایمرجنسی کال کی اور اس متوقع بڑی واردات کی اطلاع دینا چاھی کال ایک بھاری آواز کے ایک شخص نے اٹینڈ کیا اسے خوف زدہ  اورہکلاتی ھوئی زبان  میں کہنے لگی۔

"سسس سر ھمارے یہاں دددد ممم معاف کیجیے دہشت گرد آگیے جو کوئی بڑی کاروائی انجام دے سکتے ھیں"

"جی کون ھیں اور کہاں سے بول رہی ہیں؟ " بھاری بھرکم آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
"میں محلہ کیلاش جی 67/25 درگا بھون سے بول رہی ہوں" میں نے عمدگی سے جواب دیا۔  
"جی بس چند منٹوں میں پولس اہلکار آپ کے پاس پہنچ رھے ھیں"

یہ کہہ کر فون رکھ دیا … میں مطمئن ھوگئی کہ چلو پولس والے پہنچتے ہی ھونگے سائرن کی آواز گونجنے لگی لیکن یہ سائرن نہیں؛ بلکہ میرے دماغ کی تصوراتی آواز تھی جسے شعور نے پولس وین کی سائرن سمجھ لیا تھا دس سے بیس اور پچیس سے آدھ گھنٹہ ھوگیا لیکن پولس نہ آ سکی اور آدھ گھنٹے میں میرے اس پیارے ملک کی پولیس کیسے آتی اور پھر اس قدر شدید بارش میں آنا تو اور بھی چیلنج بھرا تھا کہ دروازے پر دستک ھوئی " جی مائی جی!  یہ لیں آپ کے حصہ کا کھانا لیکر حاضر ہواہوں " میں چونک گئی کہ لو پھر وہی دھشت گرد گروہ پھر آگیا؟ میں بڑبڑانے لگی۔

"یہ کتنے بے حس اور سخت جان ہیں کہ پولس کو خود سپردگی کیلیے پھر دستک دے رہے ہیں "
تبھی بوٹوں کی گونج سے گلی گونج اٹھی وہ دروازے پر دستک دیتے اس سے پہلے میں خود دروازہ کی طرف لپکی دروازہ کھولا اور پولس کی طرف بھاگی ۔

"جی داروغہ صاحب! یہی لوگ ہیں جو اس سیلاب زدہ علاقہ میں دہشت پھیلانا چاھتے ھیں "
میں ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا …  داروغہ اپنے پوری بٹالین کیساتھ موجود تھا آگے بڑھ کرمیرا ہاتھ روک لیا "میڈم آپ مطمئن رہیں یہ دہشت گرد نہیں؛  بلکہ سیلاب متاثرین کیلیے امدادی کارروائی کے رضا کار افراد ہیں اور انسانی حقوق کیلئے یہ کام کرتے ہیں آپ بلا وجہ گھبراہٹ کے شکار ہو رہی ہیں " داروغہ نے تسلی دی ۔

"لیکن یہ تو شکل سے دہشت گرد لگتے ہیں "

میں نے خوف ظاھر کی… تبھی وہی شخص جو بھیگا تھا اور گندے کپڑے جو گلیوں اور گھروں تک امدادپہنچاتے ہوئے میلے ہوگیے تھے، پہن رکھے تھے، نے میری طرف کھانے کی پیکیٹس اور پانی کی بوتلیں بڑھادی "لیں مائی جی ہمیں دوسرے علاقہ میں بھی متاثرین کو کھانا پانی اور دیگر چیزیں پہنچانی ہے "

میرے ہاتھ میں یہ تھما کر آگے بڑھ گیا اور میں شرمندہ اپنے روم میں آگئی …پولس کی مسلح نفری بھی جا چکی تھی میں اسی سوچ میں ادھیڑ بن ہوتی رہی کہ "یہ مسلمان دہشت گرد فرشتہ ہیں یا فرشتہ صفت دہشت گرد؟"

(یو این این)


***************************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 670