donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : K. Ashraf
Title :
   Takhleeq Aur Maqsadiat


 

تخلیق اور مقصدیت

 

کے اشرف

 

چند لمحوں کے لئے اگر ہم خدا کے ہونے یا نہ ہونے کی بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئےصرف  اس بات پر غور کریں کہ کیا اربوں سالوں  اور کھربوں میلوں پر محیط اس کائناتی عمل کے پیچھے آیا کوئی مقصد پنہاں ہے تو انسان کو قدرے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔میں بطور انسان  سوچتا ہوں  کہ میرے ہونے سے اربوں سال قبل یہ کائنات اور کھربوں میل پر پھیلا یہ کائناتی عمل موجود تھا۔ چونکہ میں بھی انرجی کی ایک شکل ہوں اس لئے میں بآسانی یہ تصور کر سکتا ہوں کہ میں کسی نہ کسی شکل میں اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر پھیلے اس کائناتی عمل کا حصہ تھا۔ تاہم یہ میری شعوری حالت نہیں تھی۔ جب میں نے اس وسیع و عریض سلسلے میں محدود اور مختصر سا شعور ی سفر شروع کیا تو مجھے اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر پھیلے سلسے کا علم حاصل ہوا۔اس کے ساتھ ہی مجھے روز مرہ کے مشاہدے اور فطری تاریخی عمل سے یہ علم  بھی حاصل ہوا کہ میرا یہ شعوری سفر بہت مختصر ہے ۔میرا یہ نتیجہ  میرے اس مشاہدے  پر  مبنی ہے کہ مجھ سے پہلے بھی  کروڑوں اربوں انسان اس شعور  کی اقلیم  میں  پیدائش کی صورت میں داخل اور موت کی صورت میں خارج  ہو چکے ہیں۔اس شعوری اقلیم میں پیدائش کے ذریعے  دخول  اور  موت کے ذریعے خروج  میں زندگی کی ہر طرح کی انواع شامل ہیں لیکن میں اپنی توجہ صرف انسانوں پر مرکوز رکھوں گا۔مجھ سے پہلے جو کروڑوں اور اربوں انسان اس شعور کی اقلیم میں پیدائش کے ذریعے داخل اور موت کےذریعے خارج ہوئے ان میں  اور مجھ میں مشترکہ قدر ہمارا انسان ہونا تھا۔ تاہم علمی اعتبار سے ان میں ہر نوع کے لوگ شامل تھے۔  کئی ایک  تو محض بنیادی انسانی زندہ رہنے کے لئے ضروری علم  کے شعور کے ساتھ اس شعوری اقلیم میں زندہ رہے اور پھر موت کے بعد اس سے خارج ہو گئے اور کچھ اس بنیادی علم سے اوپر اٹھے اور انہوں نے علم کے کئی ایک شعبوں میں نہائت اہم کردار ادا کیا اور بعد میں اس شعوری اقلیم میں پیدائش کے ذریعے داخل ہونے و الوں کے لئے غور و فکر کا بہت سا سامان چھوڑ گئے۔ اُن میں کئی ایک  بڑے بڑے حکمران تھے جنہوں نے بڑی بڑی سلطنتوں کی بنیاد رکھی۔ بڑے بڑے فلسفی تھے جنہوں نے کائناتی مظاہر کی تشریح و تعبیر کرنے کی کوشش کی اور انسانوں کو اجتماعی طور پر  شعوری طور پر مالا مال کیا۔ بڑے بڑے سائنس دان تھے جنہوں نے سائنسی تھیوریاں پیش کئیں۔  کئی ایک پیغمبر تھے جنہوں نے اپنے ارد گرد پھیلی کائنات کے ایک خالق  کا پیغام رساں ہونے کا دعویٰ کیا اور دوسرے انسانوں کو اس پر ایمان لانے اور اس کے اُن کے ذریعے  بھجوائے گئے اصولوں کی پیروی کا درس دیا۔  لیکن یہ سب انسان ، جو محض بنیادی علمی و شعوری سطح پر زندہ رہے یا  جو اس بنیادی سطح سے بہت اوپر اٹھے آخر کار موت کے ذریعے اس شعوری اقلیم سے خارج ہو کر دوبارہ  اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر پھیلے کائناتی عمل کا حصہ بن گئے۔

روز مرہ کے اس مشاہدے اور تاریخی عمل سے مجھے اندازہ ہوا  کہ میں بطور انسان انہی انسانوں کی طرح اس شعور کی  اقلیم سے موت کے ذریعے خارج ہو کر  اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر محیط سلسلے  کا حصہ بن جاؤ ں گا۔  اسی مشاہدے سے مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر محیط یہ سلسلہ اربوں سالوں اورکھربوں میلوں پر   ابھی کچھ نامعلوم اور شاید لا محدود وقت تک اسی طرح  چلتا رہے گا۔اس ابتدائیے کے بعد میں آتا ہوں اس سوال کی طرف جو اس تحریر کا موضوع ہے ۔ کیا اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر محیط سلسلے کے پیچھے کوئی مقصدیت ہے؟ اگر مقصدیت ہے تو وہ کیا ہے؟ کس نے اس مقصدیت کا تعین کیا ہے ؟ اگر کوئی مقصدیت ہے اور کسی نے اس مقصدیت کا تعین کیا ہے  تو کیا اس مقصدیت اور مقصدیت کا تعین کرنے والے   کے بارے میں سوال اٹھائے جا سکتے ہیں؟


شعوری اقلیم میں موجود انسان ان سوالات کے بارے میں مختلف نقطہ نظر رکتے ہیں۔ سائنس دان  عام طور پر اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر پھیلے اس سلسلے کے پچھے کسی مقصدیت  کی تلاش کے عمل کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ان کے لئے اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر محیط سلسلے کے پیچھے کسی خالق کی موجودگی یا عدم موجودگی  سرے سے ان کا مسئلہ  ہی نہیں ہے۔فلسفیوں میں سے جو خالص مادی بنیادوںپر اس  وسیع  و عریض سلسلے کی تعبیر و توجیح کی کوشش کرتے ہیں  وہ بھی  خالق، مخلوق اور تخلیق کے  تصورات پر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے ۔ وہ فلسفی جو زندگی اور اخلاقیات میں باہمی روابط کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ خالق، مخلوق اور تخلیق  کے تصورات پر اپنے فلسفے کی بنیاد رکھتے ہیں اور ایسے اصول وضع کرتے ہیں  جن سے اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر پھیلے سلسلے  میں مقصد یت تلاش  کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔بانیان ادیان اس مقصدیت کو ہی اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر محیط  سلسلے  کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن میں خاص طور پر تین الہامی مذاہب یہودیت، عیسائت اور اسلام تو اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر محیط  اس سلسلے  کا  مرکزی نقطہ انسان  ہی کو قرا ر دیتے ہیں۔ان کے نزدیک یہ سارا سلسہ ایک خالق نے شروع ہی اس لئے کیا تھا کہ اس  اربوں سالوں اور کھربوں میلوں  پر پھیلے بڑے اسٹیج پر انسان پیدائش کے ذریعے داخل ہوں کچھ اس خالق کے دشمن اور کچھ دوست کا کردار ادا کریں۔  اس کے بعد اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر محیط عمل کو لپیٹا جائے۔  تا کہ وہ جو اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر پھیلے سلسلے کے خالق کے دوست کا کردار ادا کریں انہیں انعام واکرام کے طور پر ابدی باغات میں زندہ رکھا جائے اور جواس کے دشمن کا کردار ادا کریں انہیں یہ کردار ادا کرنے کے لئے ہمیشہ کے لئے  آگ میں جلایا جائے۔اگر اس مقصدیت کو اس  اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر پھیلے سارے سلسے کی بنیاد مانا جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس  مختصر شعوری  عرصے کے لئے جس میں انسان اس زمین پر پیدائش کے ذریعے داخل اور موت کے ذریعے خارج ہوتے ہیں  اس کی کیا ضرورت تھی؟کیا چند ہزار سالوں کے اس شعور ی انسانی عرصے کے لئے اربوں سال قبل  کسی خالق نے یہ کھربوں میلوں پر پھیلا سلسلہ شروع کیا تھا؟کیا وہ خالق اربوں سالوں اور کھربوں میلوں  پر یہ محیط سلسلہ محض اس لئے لپیٹ دے گا کہ اسے چند ہزار سالوں کے لئے اس اسٹیج پر نمودار ہونے والی  ایک مخلوق جسے انسان کہا جاتا ہے ان میں سے کچھ کو انعام و اکرام سے نواز تے  ہوئے ہمیشہ کے لئے باغات میں زندہ رکھنا ہے اور کچھ کو ہمیشہ کے لئے آگ میں جلانا ہے؟  یہ سب  سوالات ہیں جو اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر پھیلے کائناتی سلسلے  میں مقصدیت کا عنصر داخل کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔  ان کا تشفی بخش جواب کون دے گا؟سائنسی نقطہ نظر سے  انرجی نہ پیدا کی جا سکتی ہے نہ تباہ کی جا سکتی ہے۔ یہ محض اپنی شکل تبدیل کرلیتی ہے۔ میں جو کہ پیدائیشی عمل کے ذریعے شعور کی اس اقلیم میں سانس لے رہا ہوں انرجی کی ایک شکل ہوں۔  پیدائشی عمل کے ذریعے شعور کی اس اقلیم میں داخل ہونے سےپہلے  میں انرجی کی کسی اور شکل میں اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر محیط سلسے کا حصہ تھا۔  موت کے ذریعے میں  شعور کی اس اقلیم سے خارج ہو کرانرجی  کی کسی اور شکل میں  دوبارہ اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر محیط سلسلے  کا  حصہ بن جاؤں گا۔ 

میرے بعد شعور کی اس اقلیم  میں پیدائش کے عمل سے داخل ہونے والے اسی طرح اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر پھیلے کائناتی  سلسلے میں مقصدیت تلاش کر رہے  ہوں گے۔شاید وہ اس میں کوئی  حتمی اور تشفی بخش مقصدیت ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں۔ تب تک ہم انرجی کی کسی دوسری شکل میں اس اربوں سالوں اور کھربوں میلوں پر محیط سلسلے کے ساتھ  اس وسیع و عریض کائنات میں سرگرداں رہیں  گے۔ 


کے اشرف


++++++

Comments


Login

You are Visitor Number : 584