donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Mukhlis
Title :
   Almia

 

المیہ
 
مخلص
 
مغربی دنیا میں المیہ یا Tragedy ادب کی بڑی اور مقبول صنف ہے۔ مغرب میں المیے کی روایت یونان سے آئی، جہاں اس کی سب سے بڑی علامت ہومر کی ’’اوڈیسی‘‘ ہے۔ تاہم جدید مغرب میں المیے کی سب سے مقبول علامت رومیو جولیٹ ہے۔ رومیو جولیٹ ایک 
عشقیہ داستان ہے، اور اس داستان کا ’’المیہ‘‘ یہ ہے کہ رومیو اور جولیٹ کی شادی نہیں ہوپاتی اور ڈرامے کے اختتام پر دونوں ناگہانی ’’کہلانے والی‘‘ موت سے ہمکنار ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود بلکہ اس ’’المیہ انجام‘‘ ہی کی وجہ سے رومیو اور جولیٹ مغرب میں محبت کی سب سے بڑی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ مغرب میں ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر سال ہزاروں مقامات پر اسٹیج ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود ’’پرانے‘‘ محسوس نہیں ہوتے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مغرب میں المیے کا تصور کیا ہے؟
اس سلسلے میں ارسطو کی مشہورِ زمانہ تصنیف ’’بوطیقا‘‘ کا مطالعہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ارسطو کے مطابق المیہ انسانوں کی نقل نہیں ہے بلکہ عمل اور زندگی اور خوشی وغم کی نقل ہے۔ اس لیے کہ خوشی اور غم کا تعلق عمل سے ہے۔ ارسطو کے بقول چونکہ المیہ عمل کی نقل ہے اس لیے وہ اشخاص کا بھی نمائندہ ہے لیکن عمل کے وسیلے سے۔ ارسطو کے یہاں المیے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ المیہ ایسے عوامل کو پیش کرتا ہے جو انسان میں خوف اور ترس کے جذبات پیدا کرتے یا انہیں ابھارتے ہیں، لیکن ارسطو کا خیال ہے کہ خوف اور ترس کے جذبات ابھارنے کے لیے اچھے لوگوں کو خوشحالی سے بدحالی میں مبتلا ہوتے نہ دکھایا جائے، کیونکہ ایسا کرنے سے خوف اور ترس کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ ارسطو کے مطابق ایسے میں برے لوگوں کو بدحالی سے خوشحالی کی جانب آتے ہوئے بھی نہیں دکھانا چاہیے کیونکہ اس طرح کے پلاٹ سے المیے کا کوئی تقاضا پورا نہ ہوگا۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے اندر خوف اور ترس کے جذبات کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ اس سوال کا ارسطو نے بہت واضح اور ٹھوس جواب دیا ہے، اس نے کہا ہے کہ ہمارے اندر ترس کے جذبات ’’بے جا بدقسمتی‘‘ سے پیدا ہوتے ہیں، اور خوف کے جذبات ایک ایسے شخص کی بدقسمتی سے پیدا ہوتے ہیں جو ہم جیسا ہو۔ ارسطو کے مطابق ان دونوں حالتوں کے درمیان ایک ایسی حالت بھی ہے جو اس شخص کو پیش آتی ہے جو اپنی نیکی اور انصاف کی وجہ سے ممتاز نہیں ہوتا، البتہ اس کی پریشانی یا اس کا المیہ اس کی ’’بدی‘‘ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی کسی ’’غلطی‘‘ کی وجہ سے رونما ہوتا ہے۔ ارسطو نے المیہ کہانی کے ’’انجام‘‘ کے بارے میں بھی ایک بنیادی بات کہی ہے، اس نے کہا ہے کہ المیہ کہانی کا انجام دراصل کہانی میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا ’’حل‘‘ ہوتا ہے۔ ارسطو کے اس اصول کا اطلاق لیلیٰ اور مجنوں کے قصے کے انجام پر کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ چونکہ لیلیٰ اور مجنوں کا ملاپ ممکن ہی نہیں تھا لہٰذا مجنوں کا مرجانا ہی مسئلے یا پیچیدگی کا حل تھا۔
 
المیے سے متعلق مغربی دنیا کے اس تصور کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ المیے کا یہ تصور مغرب کے ناقص تصورِ المیہ کا حاصل ہے۔ ارسطو کے یہاں خدا کا تصور Un-moved Mover کی صورت میں موجود ہے، مگر اس کے پاس خدا کی ذات اور صفات کی وہ تفصیل نہیں ہے جو خدا اور بندے کے حقیقی تعلق کی نشاندہی کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ مغرب میں المیے کا تصور یہ ہے کہ المیہ ’’بے جا بدقسمتی‘‘ سے رونما ہوتا ہے۔ ’’بے جا بدقسمتی‘‘ کا مطلب ایسی قسمت ہے جس کی توجیہہ نہ کی جاسکتی ہو۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو المیہ اس لیے رونما ہوتا ہے کہ انسان کی تقدیر انسان کو اپنا ’’شکار‘‘ بنالیتی ہے اور اسی لیے وہ بیچارہ ترس کھائے جانے کے قابل بن جاتا ہے، یا پھر اس المیے سے وہ خوف پیدا ہوتا ہے جس سے ہر انسان پناہ مانگتا ہے۔ اس تصور کا مزید تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ انسان اور اس کی تقدیر کے درمیان ایک مغائرت اور ایک کشمکش برپا ہے۔ انسان تقدیر پر فتح حاصل کرنا چاہتا ہے اور تقدیر انسان کو زیر کرنا چاہتی 
ہے، اور جب تقدیر انسان کو زیر کرلیتی ہے تو یہ انسان کی شکست ہوتی ہے، اور یہی المیہ ہے۔
اسلامی تہذیب شاعری اور داستان کی روایت کے حوالے سے مغربی تہذیب سے کہیں زیادہ باثروت ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اسلامی تہذیب کے کسی بھی عہد میں المیے کا وہ تصور پیدا نہ ہوسکا جو مغرب میں پایا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا تصورِ المیہ واضح ہے اور مسلمان آدابِ بندگی اور ان کے تقاضوں سے دور ضرور ہوتے ہوں گے مگر انہوں نے کبھی آدابِ بندگی اور ان کے تقاضوں کو فراموش نہیں کیا۔
 
اسلامی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو سیدنا حسینؓ اور خانوادۂ رسول کی شہادت اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ تکلیف دہ واقعہ ہے۔ لیکن مسلمانوں کی عظیم اکثریت کے شعور نے اس واقعے کو کبھی ’’المیے‘‘ میں نہیں ڈھالا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہادت کی موت مسلمانوں کے لیے ’’المیہ‘‘ نہیں بندگی کے اظہار کی ایک اعلیٰ سطح ہے، اور سیدنا حسینؓ صرف شہید نہیں بلکہ سیدالشہداء ہیں۔ مگر سیدنا حسینؓ سیدالشہداء کیوں ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا حسینؓ نواسۂ رسولؐ ہیں۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ سیدنا حسینؓ حق پر تھے اور یزید باطل پر کھڑا تھا، مگر اس کے باوجود سیدنا حسینؓ نے ’’تقدیر‘‘ کو کامل شعور کے ساتھ قبول کیا اور راضی بہ رضا ہوگئے۔ اس منظرنامے میں تقدیر اور بندے کے درمیان کشمکش کا کوئی وجود نہیں۔ اس منظرنامے میں سیدنا حسینؓ اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی تقدیر سے ایک ہزار فیصد ہم آہنگ ہیں، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہی حق پر ہیں۔ یہی سیدنا حسینؓ کی عظمت ہے، اسی لیے وہ سید الشہداء ہیں، اسی لیے کربلا ’’المیہ‘‘ نہیں ہے۔ جو لوگ کربلا کو المیہ سمجھتے ہیں اُن کا خیال یہ ہے کہ کربلا ’’اتفاقاً‘‘ رونما ہوجانے والا واقعہ یا ’’حادثہ‘‘ ہے۔ حالانکہ اسلام میں عام سطح پر بھی شہادت موت کا شعوری طور پر اختیار کرنے کا نام ہے۔ ایسا نہ ہو تو شہادت ’’پھر‘‘ گواہی بن ہی نہیں سکتی۔ ایک عام شہید کا معاملہ یہ ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ’’سیدالشہدائ‘‘ کا معاملہ کیا ہوگا!
ہماری شاعرانہ روایت میں فرہاد کی موت بظاہر ایک ’’المیہ‘‘ ہے، اس لیے کہ فرہاد ’’مریضِ محبت‘‘ تھا اور اس نے شیریں کے حصول کے لیے پہاڑ کھودا۔ البتہ ایک مرحلے پر حالات کی تکلیف سے گھبراکر اس نے اپنے ہی تیشے سے اپنا کام تمام کرلیا۔ لیکن ہماری شعری روایت نے فرہاد کی اس موت کا ’’ماتم‘‘ نہیں کیا، بلکہ اس نے فرہاد کو محبت کی ایک علامت بناکر پیش کیا ہے۔ تاہم مجنوں کے مقابلے پر فرہاد محبت کی چھوٹی علامت ہے، اس لیے کہ فرہاد کی محویت ’’کامل‘‘ نہیں ہے۔ اس کے مقابلے پر مجنوں کی محویت کامل ہے۔ مجنوں کے بارے میں آیا ہے کہ وہ لیلیٰ کے خیال میں محو تھا اور ایک کھوکھلے درخت کے تنے میں بیٹھا ہوا تھا۔ کچھ لوگ آئے، انہیں مجنوں کی موجودگی کا علم نہ تھا، چنانچہ انہوں نے آرے سے درخت کو ٹھیک وہاں سے کاٹ دیا جہاں مجنوں کی گردن تھی۔ درخت کے ساتھ مجنوں کا سر بھی کٹ گیا مگر مجنوں نے اُف تک نہ کی۔ مغرب کے تصور کی رو سے مجنوں کی موت رومیو سے کہیں زیادہ ’’المناک‘‘ ہے، مگر ہماری شعری روایت نے مجنوں کی موت کا ماتم کرنے کے بجائے اس کا ’’جشن‘‘ منایا ہے یا اسے Celeberate کیا ہے۔ مثلاً میر تقی میر: نے کہا ہے ؎
مرگیا مجنوں پہ عقل گم ہے میرؔ
کیا دِوانے نے موت پائی ہے
اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ مجنوں نے موت کو زندگی کے سر کا تاج بنادیا، یہاں تک کہ اس کی موت کی تفہیم کے لیے عقل ناکافی ہوگئی ہے اور وہ حیران ہوکر مجنوں کی موت کو دیکھ رہی ہے۔ عزیز حامد مدنی کا ایک شعر ہے ؎
مجنوں کے سوا کس سے اٹھی منتِ دیدار
آخر رخِ لیلیٰ تھا تماشا تو نہیں تھا
اس شعر میں مدنی صاحب نے مجنوں کی محبت اور انجام کو لیلیٰ کے دیدار سے ملا کر مجنوں کے جنازے کو گویا مجنوں کی بارات بنادیا ہے۔ ایک ایسی تہذیب جس میں زندگی موت کے تعاقب میں ہو المیہ کہاں سے رونما ہو؟
 +++++
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 730