donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Shabbir Naqid
Title :
   Shayerat Arze Pak -Muntakhib Kalam

 

(شاعراتِ ارض پاک(منتخب کلام 

 

 

شبیر ناقِدؔ


انتساب


اُن شاعرات کے نام جن کے احساسات کی مہک سے گلشنِ شعر معطر و معنبر ہے

بسؔمل صابری


اب عرضِ ہُنر کرنے کا امکاں نہیں ہوتا

کیوں درد کے ماروں کا بھی درماں نہیں ہوتا؟

اک بزم سجائی تھی ترے پیار کی خاطر

گھر دل کی زمیں پر کوئی آساں نہیں ہوتا

احساسِ تغافل ہی سے میں شعلہ نوا ہوں

ہر شعرِ سخن تو مری پہچاں نہیں ہوتا

غم ہائے زمانہ تو ملے چاروں طرف سے

یہ درد چھپانا کوئی آساں نہیں ہوتا

کھنڈرات کی عظمت کا تو اندازہ ہے مجھ کو

آئینہ مجھے دیکھ کے حیراں نہیں ہوتا

آنگن میں تو گھر کے کبھی اگتی نہیں فصلیں

رستے میں کہیں کوئی بیاباں نہیں ہوتا

کر دیتا ہے جو جان فدا پیار کی خاطر

اک بھوک کی خاطر کوئی ناداں نہیں ہوتا

کر لیتا ہے نفرت میں کبھی پیار کا سودا

محبوب تو ہوتا ہے مری جاں نہیں ہوتا

شاید کوئی منظر ہو نہاں خانۂ دل میں

ہر نخلِ بہاراں تو گلستاں نہیں ہوتا

اب رونقِ بازار کہاں میرے نگر میں ؟

دل جس سے بہل جائے وہ ساماں نہیں ہوتا

آغازِ سفر صرف ارادے میں ہے پنہاں

بسملؔ کوئی رستہ کبھی آساں نہیں ہوتا

تزئین آرا زیدی


وقت کی گردش تھمی سب ہی سکندر ہو گئے

ہم اسیرانِ وفا، نذرِ مقدر ہو گئے

روزنِ زنداں سے پہنچی روشنی کی اک کرن

اور پھر ایسا ہوا دیوار میں در ہو گئے

آگہی کا کیف جب سے ہو گیا حاصل مجھے

دیدہ و دل کے لیے بے کیف منظر ہو گئے

دَور پتھر کا نہیں لیکن ہمارے عہد میں

دل جو سینوں میں دھڑکتے تھے وہ پتھر ہو گئے

شکوۂ حالات کی مجھ میں سکت باقی نہیں

اور وہ سمجھے مرے حالات بہتر ہو گئے

جن کو مہر و ماہ و انجم سے نہیں نسبت کوئی

آسمانِ زندگی کے ماہ و اختر ہو گئے

بے ضمیروں کے لیے ہیں بام و در کی راحتیں

ہاں مگر تزئینؔ ہم جیسے تو بے در ہو گئے

ثروت ظفر

شکست و ریخت کے مرحلے میں کاش کوئی

مرے جنوں کو مری وحشتوں کو کم کر دے

ترس رہی ہوں کوئی ماں سا مہربان وجود

دعائے نور پڑھے اور مجھ پر دم کر دے

مرے خدا تری دنیا میں ایک نام حسینؑ

سکون قلب کو دے اور آنکھ نم کر دے

ازل سے تابہ ابد ہجرتیں مقدر ہیں

مرے خدا مرا تھوڑا سفر تو کم کر دے

٭٭٭ 

سوال کرتے ہیں چہرے تمہاری ماؤں کے

کہاں گئے جو محافظ تھے ان رداؤں کے؟

میں اب کے سال بڑی آفتوں کی زد پر ہوں

حصار ٹوٹ رہے ہیں مری دعاؤں کے

وہ جاتے جاتے بھی رستہ ہمیں بتا کے گیا

ہیں سنگِ میل کی صورت نشان پاؤں کے

حویلیاں انہیں زنداں سے کم نہیں لگتیں

جنہیں پسند ہیں کچے مکان گاؤں کے

ہنسی لبوں پہ مگر دل میں آبلے رکھنا

یہ حوصلے ہیں فقط درد آشناؤں کے

کبھی دعا تو کبھی آس ٹوٹ جاتی ہے

ہیں میرے ساتھ بہت سلسلے بلاؤں کے

وہ چل پڑا ہے مگر راستے میں ثروتؔ

پیام آنے لگے ہیں مجھے ہواؤں کے


جہاں آراء تبسمؔ

میں بے چراغ رہ گئی ہوں ، لازوال روشنی

مری طرف بھی اک نظر کبھی اُچھال روشنی

بجھے دنوں کے اجر میں ، شبِ سیاہِ صبر میں

مرے لیے بھی وقت لائے بھر کے تھال روشنی

کوئی سراب دیکھ لوں ، کوئی تو خواب دیکھ لوں

بس ایک بار کاسۂ نظر میں ڈال روشنی

میں شہرِ بے بصر کو یہ بتا بتا کے تھک گئی

ہے زخمِ شب کا صرف ایک اندمال روشنی

ہوا نے میری آنکھ میں جلے چراغ کھا لیے

لبوں پہ آ کے مر گیا، ترا سوال روشنی

ملامتوں کی سب ہوائیں مری سمت چل پڑیں

میں بن گئی تھی شہر میں تری مثال روشنی

میں اشک پی کے رہ گئی، تبسمِؔ سیاہ پر

بہت ہوا ترے لیے، مجھے ملال روشنی

٭٭٭

وہ مجھے اتنی سہولت تو نہیں دے سکتا

کم سے کم اپنی محبت تو نہیں دے سکتا

اختیارات مجھے سارے عطا کر دے گا

ہاں مگر دل پہ حکومت تو نہیں دے سکتا

سوچ سکتی ہوں کسی اور کے بارے لیکن

دل مجھے اتنی رعایت تو نہیں دے سکتا

میں نے روتے ہوئے یہ بات بہت سوچی ہے

وہ مجھے اشکِ ندامت تو نہیں دے سکتا

اپنا کہہ کر وہ مجھے ذہن میں رکھ سکتا ہے

وادیِ دل میں سکونت تو نہیں دے سکتا

چند سانیں مجھے جینے کے لیے دے دے گا

عمر بھر جینے کی مہلت تو نہیں دے سکتا

میں تبسمؔ ہوں مگر وہ مجھے محفل میں کبھی

مسکرانے کی اجازت تو نہیں دے سکتا

٭٭٭

رخشندؔہ نوید


ستم گروں سے عداوتیں کیا؟

انہی سے ان کی شکایتیں کیا؟

سفر کی دیکھیں تمازتیں کیا؟

نکل پڑیں تو نزاکتیں کیا؟

دلوں میں پچھلی کدورتیں ہیں

لبوں پہ ان کے حلاوتیں کیا؟

غمِ جہاں کو سمیٹ کے رکھ

سخن میں ہوں گی ریاضتیں کیا؟

جب عقل پر پڑا ہے پردہ

بصیرتیں کیا، سماعتیں کیا؟

رموز جیون کے کھل نہ پائے

یہ روز و شب ہیں بجھارتیں کیا؟

٭٭٭

سلسلوں کی ابتدا کو انتہا کرنا پڑا

چاہتوں میں ایک بت کو بھی خدا کرنا پڑا

بے رخی حد سے بڑھی لیکن یقیں آتا نہ تھا

دل کو سمجھانے کی خاطر حوصلہ کرنا پڑا

چند گھڑیاں باعثِ مرگِ محبت ہو گئیں

آخری ہچکی کو بھی حرفِ دعا کرنا پڑا

کیا سلیقے ڈھونڈتی اس سے بچھڑنے کی گھڑی؟

مجھ کو اپنے ہاتھ سے ناخن جدا کرنا پڑا

میرے جذبوں کی اُڑانیں دیکھ کر وہ ڈر گیا

تنگ آ کر صید کو اک دن رہا کرنا پڑا

ریحانہ روحیؔ


کائنات اور آسمان کے درمیان ہوتا ہے کیا؟

کچھ نہیں ہوتا جہاں آخر وہاں ہوتا ہے کیا؟

جب چراغِ آرزو جلتا ہو دل کے طاق میں

کوئی کیا جانے کہ وہ روشن سماں ہوتا ہے کیا؟

فیصلہ پہلے ہی لکھا جا چکا جب لوح پر

پھر ہماری قسمتوں کا امتحان ہوتا ہے کیا؟

شہر والو! تم نے دیکھی ہیں مری بربادیاں

سچ بتاؤ کوئی یوں بے خانماں ہوتا ہے کیا؟

ایک ہی تو شخص ہوتا ہے بھرے سنسار میں

وہ نہیں ہوتا تو جانے پھر کہاں ہوتا ہے کیا؟

گھونسلہ جس کا اُٹھا کر لے گئے بچے شریر

کوئی اس چڑیا سے پوچھے آشیاں ہوتا ہے کیا؟

آج جو کچھ سامنے ہے بس حقیقت ہے یہی

ورنہ روحیؔ کون جانے کل یہاں ہوتا ہے کیا؟

٭٭٭

عجب حادثہ تھا قیامت گھڑی تھی

بچھڑنا کڑے امتحاں کی کڑی تھی

وہ عورت بھی آخر کو گھر دار نکلی

میں جس کے لیے سارے گھر سے لڑی تھی

وہ جب آسماں میرے شانوں سے پھسلا

زمیں اپنے محور پر ساکت کھڑی تھی

میں جس وقت بیٹی سے ماں بن رہی تھی

میں اس وقت سارے جہاں سے بڑی تھی

ابھی جس کو جی بھر کے دیکھا نہیں تھا

اُسے دور جانے کی جلدی پڑی تھی

وہ خائف تھا مختار ہوتے ہوئے بھی

میں محکوم ہو کر بھی ضد پر اڑی تھی

مرا دل محبت کا مندر تھا روحیؔ

سو محلوں سے برتر مری جھونپڑی تھی

ریحانہ قمرؔ


انگلیاں پھیر رہا تھا وہ خیالوں میں کہیں

لمس محسوس ہوا ہے میرے بالوں میں کہیں

اب میرا ساتھ نہیں دیتا پیادہ دل کا

ہار جاؤں نہ میں آ کر تری چالوں میں کہیں

اس تشخص پر بھی رہتا ہے یہ دھڑکا دل کا

کھو نہ جاؤں میں تیرے چاہنے والوں میں کہیں

ایک سورج نے مجھے چاند کا رتبہ بخشا

ورنہ ہوتی میں کتابوں کے حوالوں میں کہیں

مجھ کو لگتا تو ہیں وہ متزلزل لیکن

اس کو وحشت ہی نہ لے جائے غزالوں میں کہیں

٭٭٭

خدا کی ذات پہ ہے اس قدر یقین مجھے

کبھی مٹا نہ سکیں گے مخالفین مجھے

سب اپنی اپنی غلط فہمیوں میں زندہ رہیں

خدا کرے نہ سمجھ پائیں حاسدین مجھے

وطن سے آتے ہوئے میں نے یہ نہ سوچا تھا

کہ تہمتوں سے نوازے گی یہ زمین مجھے

کبھی کبھی تو مجھے اس طرح سے ملتا ہے

ترے خلوص پہ آتا نہیں یقین مجھے

میں تلخ ہوں تو مجھے تلخ رہنے دیں وہ قمرؔ

نہ اپنی سطح پر لائیں منافقین مجھے


آئرین فرحتؔ

میں پتے ہاتھ سے تھاموں تو شاخیں ٹوٹ جاتی ہیں

جو تم سے بات کرتی ہوں تو باتیں ٹوٹ جاتی ہیں

محبت کے یہ رشتے دھڑکنوں کے ساتھ ہوتے ہیں

کہ دل کا روگ لگنے سے یہ سانسیں ٹوٹ جاتی ہیں

جو دن بھر کی مسافت بعد یہ چاہا کہ سو جاؤں

ذرا سی آنکھ کیا لگتی ہے راتیں ٹوٹ جاتی ہیں ؟

زمین و آسماں کا فرق تو حدِ نظر کا ہے

کہاں تک باندھ پاؤ گے یہ ذاتیں ٹوٹ جاتی ہیں ؟

مری سوچوں پہ پہرے کیا بٹھائیں گے جہاں والے؟

کہ فرحتؔ قید کرتے ہی سلاخیں ٹوٹ جاتی ہیں

٭٭٭

سوچتی ہوں بھنور میں رہتی ہوں

یا میں پانی کے گھر میں رہتی ہوں

ان ستاروں کی چال ہے کوئی

جو انہی کے اثر میں رہتی ہوں

بات بھی مختصر سی کرتی ہوں

پھر بھی ہر اک خبر میں رہتی ہوں

چھپتی پھرتی ہوں اپنے آپ سے میں

اور ہر اک نظر میں رہتی ہوں

پاؤں سے دائرے نہیں جاتے

ہر قدم پر سفر میں رہتی ہوں

With Thanks : Abida Rahmani

 

******************************

Comments


Login

You are Visitor Number : 590