donateplease
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Bihar
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Mushtaq Ahmad
Title :
   Bihar : BJP Ke Qaumi Leedran Ki Aamajgah


بہار بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی لیڈران کی آماجگاہ؟


٭ڈاکٹر مشتاق احمد

موبائل: 9431414586


حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج سے بھارتیہ جنتا پارٹی کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے اور اب وہ ان ریاستوں پر قابض ہونا چاہتی ہے جہاں غیر بھاجپا کی حکومت ہے، بالخصوص بہار، مغربی بنگال، اڑیسہ اور کرناٹک پر ان کی گہری نظر ہے۔ نتیجہ ہے کہ ان ریاستوں میں آئے دن بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی لیڈروں کا درورہ ہورہا ہے اور مقامی لیڈران سے صلاح ومشورہ کے بعد آئندہ اسمبلی انتخاب کا لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے۔ جہاں تک بہار کا سوال ہے تو یہ ریاست بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے غیر معمولی سیاسی اہمیت کی حامل ہے۔ یہاں گزشتہ اسمبلی انتخاب میں نتیش کمار کی قیادت والی عظیم اتحاد کو تاریخی کامیابی ملی تھی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو شرمناک شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ واضح ہوکہ بہار اسمبلی انتخاب کو وزیراعظم نریندرمودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر امیت شاہ نے اپنے وقار کا سوال بنا لیا تھا اور سنگھ پریوار نے وہ تمام کرتب بازی کی تھی جن کے سہارے وہ بھاجپا کو جتانے کاکام کرتے ہیں مگر بہار کے عوام نے ان کے تمام منصوبوں پر پانی پھیردیا،جس کی کسک اب بھی محسوس کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب جبکہ نریندر مودی کی حکومت کے تین سال پورے ہوئے ہیں تو اس کے جشن کے بہانے بہار میں درجنوں مرکزی وزرا اور کئی ریاستوں کے وزرائے اعلی اور نائب وزرائے اعلی کا دورہ ہورہا ہے۔ اگرچہ بہار میں دوسال بعد اسمبلی انتخاب ہونا ہے اور 2019 میں پارلیمانی انتخاب ہونا ہے لیکن بھاجپا نے ابھی سے اس کی تیاری شروع کردی ہے۔ تنظیمی سطح پر بوتھ کمیٹی سے لے کر ریاستی سطح تک میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ خاص کر نئے کارکنوں کو اولیت دی گئی ہے اور ان کے ذریعے پارٹی مختلف ذات برادری اور انتخابی حلقوں میں اپنا قدم جمانا چاہتی ہے۔ ان دنوں اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور نائب وزیراعلی سری موریہ کے علاوہ ان کی وزارت کے کئی وزرا بہار کے مختلف حصوں میں عوامی جلسے کررہے ہیں اور بہار کی نتیش کمار حکومت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

گزشتہ دن نائب وزیراعلی اترپردیش سری موریہ نے نالندہ، بہار شریف میں عوامی جلسوں سے خطاب کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دینے کے ساتھ ساتھ ہندوتو کی رکشک بھی کہا۔ واضح ہوکہ سری موریہ کا تعلق بہار کے وزیراعلی نتیش کمار کی ذات کرمی برادری سے ہے اور نالندہ نتیش کمار کا آبائی ضلع ہے اور یہاں کرمی برادری کی اکثریت ہے ، اسلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے پالیسی سازوں نے سری موریہ کا جلسہ نالندہ میں رکھا تاکہ ذات کے نام پر ایک بڑی بھیڑ جمع ہوسکے۔ ظاہر ہے کہ بہار ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں ان دنوں ذات برادری کی سیاست عروج پر ہے۔ اس لئے تمام سیاسی جماعت اپنی پارٹی کے مختلف ذات کے لیڈروں کو انہیں علاقوں میں بھیجتی ہے جہاں ان کی برادری کی اکثریت ہوتی ہے۔ اسی کڑی میں اترپردیش کے کئی وزرا اور ممبران اسمبلی نے بہار کے مختلف حصوں میں دورہ کررہے ہیں۔ اگرچہ اترپریش اور بہار کی سیاست کے مزاج میں زمین وآسمان کا فرق ہے، باوجود اس کے اترپردیش کے وزرا گھوم گھوم کر بہار کی بدحالی کا رونا رو رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اترپردیش کے مقابلے میں بہار کے عوام کا سیاسی شعور قدرے بلند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھاجپا کے لئے یہاں کی زمین اس قدر زرخیز ثابت نہیں ہورہی ہے جتنا وہ چاہتی ہے۔ 

بہرکیف، جس طرح اترپردیش میں وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ اپنا جلوہ بکھیر رہے ہیں جس میں ہماری قومی میڈیا کا کلیدی کردار ہے، اب وہ بہار میں پارٹی کیلئے ماحول سازگار کرنے کی جد وجہد کررہے ہیں۔ چونکہ یوگی آدتیہ ناتھ کی شبیہ ہندوئوں میں ایک سخت گیر ہندوتو کے مبلغ کی ہے اس لئے بھاجپا کی قومی لیڈران چاہتے ہیں کہ بہار وبنگال اور اڑیسہ میں یوگی آدتیہ ناتھ کے جلسوں کے ذریعے پارٹی کے حق میں ایک بڑا نیٹ ورک تیار ہوسکتا ہے۔ اس لئے پہلی کڑی میں شمالی بہار کے دربھنگہ میں یوگی کی پہلی میٹنگ 15 جون کو ہوگی جبکہ 16 جون کو پٹنہ کے گاندھی میدان میں وہ عوام الناس سے خطاب کریں گے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے ان جلسوں کی تیاری جس جوش وخروش سے چل رہی ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اب بہار میں ایک بار پھر ہندوتو کی لہر کو تیز کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ کیوں کہ یوگی آدتیہ ناتھ ایک خاص فرقے یعنی مسلمانوں کے خلاف بیان بازی میں یدطولیٰ رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ سنگھ پریوار کے چہیتے بنے ہوئے ہیں اور اب اڈوانی و اوما بھارتی کے بعد بھاجپا یوگی آدتیہ ناتھ کو اپنی پارٹی کا ایک بڑا چہرا بنانا چاہتی ہے۔ اس لئے اب جبکہ نریندر مودی حکومت کے تین سال پورے ہورہے ہیں تو جگہ بہ جگہ قومی لیڈران کے جلسے منعقد کیے جارہے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی کارکردگی اپنی ریاست میں کیا ہے اس سے لوگ باگ بخوبی واقف ہیں لیکن بہار بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایسا لگتا ہے کہ بہار میں یوگی آدتیہ ناتھ کا کرشمہ چل سکتا ہے۔ شاید اس لئے اس خصوصی مہم میں قومی لیڈران نے کسی بزرگ لیڈر کے ہاتھوں میں تنظیمی کمان دینے کی جگہ نئی نسل کے جوشیلے اور سنگھی نظریات کے حامل لیڈروں کو سونپی جارہی ہے اور چونکہ اترپردیش اسمبلی انتخاب کے بعد نئی نسل میں یوگی آدتیہ ناتھ کا کریز بڑھا ہے، شاید اس لئے بہار میں بھی یوگی کو استعمال کرکے سخت گیر ہندوتو کے حامیوں کو مشتعل کرنا چاہتی ہے۔ ان لیڈران کے جلسوں کے لئے ریاستی سطح کے لیڈران جس طرح پروپگنڈا کررہے ہیں اس سے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں شاید بہار کی سیاسی فضا بھی مکدر ہوجائے۔ کیوںکہ جس طرح اترپردیش میں نام نہاد گئو رکشکوں کے ذریعے اقلیتی فرقے کو نشانہ بنایا جارہا ہے اسی طرح بہار میں بھی اب گئو رکشکوں کی فعالیت دیکھی جارہی ہے۔ اگرچہ حکومت بہار کی جانب سے اس طرح کے فرقہ وارانہ ماحول بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے لیکن آہستہ آہستہ یہاں بھی گائے کے نام پر ایک نئی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ 

واضح ہوکہ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں بھی گائے کے نام پر سیاست خوب ہوئی تھی لیکن بہار کے عوام نے اس وقت اسے رد کردیا تھا۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ اس وقت کے ماحول میں اور اب کے ماحول میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ عوام الناس میں چہ میگوئیاںیہ بھی ہے کہ نتیش کمار پھر این ڈی اے میں شامل ہوسکتے ہیں اور اس لئے بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی لیڈروں کی فعالیت بڑھ گئی ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ بہار اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی لیڈران کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے۔ 

مختصر یہ کہ یوگی آدتیہ ناتھ ہوں کہ سری موریہ یا پھر اترپردیش کابینہ کے دیگر وزرا، ان سب کا حالیہ دورہ اس بات کا اشاریہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے بہار مرنے اور جینے کا سوال بن گیا ہے اور اس کے لئے وہ ابھی سے زمین تیار کرنے میں لگ گئی ہے۔ دراصل گزشتہ اسمبلی انتخاب میں بھاجپا کی شکست کے تعلق سے سنگھ پریوار میں جو منتھن اور چنتن ہوا تھا اس میں شکست کی ایک بڑی وجہ ریاستی سطح کے لیڈروں کے درمیان آپسی رشہ کسی تھی۔ اس لئے اب بھارتیہ جنتاپارٹی دوسری ریاستوں کے لیڈروں کے ذریعے بہار کے مقامی لیڈروں کے درمیان جو آپسی کھینچ تان ہے اس کو دور کرنا چاہتی ہے اور اس کے لئے وہ سخت گیر ہندوتو نظریے کے لیڈ روں کو فوقیت دی رہی ہے اور جیسا کہ یہ ذکر آچکا ہے کہ ان دنوں سخت گیر ہندوتو وادیوں کے درمیان یوگی آدتیہ ناتھ کی حیثیت ایک ہیرو کی ہے اس لئے بہار میں یوگی کو اپنا کرشمہ دکھانے کے لئے مامور کیا جارہا ہے جس کی پہلی کڑی میںوہ دربھنگہ اور پٹنہ میں بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کریںگے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بہار کی عظیم اتحاد یوگی کی کاٹ کس طرح کرتے ہیں کہ اگر بروقت اس کی کاٹ نہیں کی گئی تو ممکن ہے کہ بہارمیں  بھی اترپردیش کی طرح فرقہ وارانہ فضا قائم ہوجائے اور جو یہاں کی عظیم اتحاد کے لئے خصارہ عظیم ثابت ہو۔            

*********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 147