donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Hindustan
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abdul Aziz
Title :
   Sri Devi - Pakistan Ki Amma


’سری دیوی- پاکستان کی اماں‘
 
 عبدالعزیز 
 
پاکستان میں ایک نئی تحریک دین کے نام پر شروع ہوئی ہے مگر اس کا رنگ سیاسی اور اس کا مقصد بھی سیاسی ہے۔ قائد تحریک اور اس کے پیروکار سب کے سب اپنے مخالفین پر جارحانہ حملے کرتے ہیں۔ نرمی ان کے اندر نام کی نہیں ہے جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’جس میں نرمی نہیں ہوتی وہ تمام خوبیوں سے محروم کر دیا جاتا ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجتے وقت یہ ہدایت کی تھی کہ ’’اس سے نرم لب و لہجہ میں بات کرنا‘‘۔ 
 
’’اے موسیٰ! ،میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنالیا۔ جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ۔ اور دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا۔ جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے‘‘ (سورہ طٰہٰ:41-44)
قائد تحریک نے ہندستان کی ایک فلمی ہیروئن سری دیوی کی موت کی خبر اور اس کی زندگی کے حالات کی تفصیل پاکستانی ٹی وی چینلوں پر پیش کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’سری دیوی کی موت اور اس کی زندگی کی خبریں جس پیمانے پر پاکستانی میڈیا میں دی جارہی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کی اماں تھیں‘‘۔ بات سخت ہے مگر سچائی سے خالی نہیں ہے۔ پاکستان کی فلمی دنیا کی بے حیائی، فحاشی اور بیہودگی کی وجہ سے پاکستان فلمستان نظر آتا ہے۔ عورتیں اپنی برہنگی اور بے لباسی کا ایسا مظاہرہ کرتی ہیں جو یورپ جیسے ممالک میں ہوتا ہے۔ رقص و سرود کی مجلسیں، شادی بیاہ کی تقریبات میں عام ہے۔ عورتیں بے حیائی اور بے شرمی کے ساتھ ناچتی گاتی ہیں اور بے حیا مرد اور لڑکے ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ پھر اسے شوسل میڈیا کے ذریعہ عام کیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہندستان کی فلموں کو پاکستانی زیادہ پسند کرتے ہیں اور یہاں کے ہیرو، ہیروئن کے بھی فدائی (fan)ہوتے ہیں۔ 
 
راقم کو ایک واقعہ ’خطباتِ اسلم دین پوری‘ نامی کتاب میں پڑھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ پاکستان کے معاشرہ اور لوگوں کا کیا حال ہے۔ ’’لاہور میں ایک شادی ہوئی۔ مجھے اطلاع ملی کہ چار دن تک شادی کی رسم چلتی رہی۔ خوب زردے، پلاؤ، بریانی کا دور چلتا رہا۔ خوب مرغ، قورمے، بکرے، نان پکتے رہے۔ گیت، سنگیت کا دور ہوتا رہا۔ رقص و سرود کی مجلسیں ہوتی رہیں۔ اس ہنگامہ اور شور شرابہ میں لوگ اتنے غافل ہوئے کہ اصل چیز یعنی نکاح ہی بھول گئے۔ آمد و رفت ختم ہوئی۔ گیت کی پُر ترنم آوازیں بند ہوئیں تو شادی ختم اور لڑکی رخصت ہوگئی۔ رات ہوئی تو دولھا صاحب نے کنڈی کھٹکھٹائی۔ لڑکی سمجھدار تھی، دین سے واقف تھی، اسے اللہ کا کچھ ڈر اور خوف تھا۔ اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ مجھے تو تم سے پردہ ہے اور خبردار اگر اندر آیا اور میرے ساتھ بات بھی کی۔ شوہر محترم یہ جملے سن کر غرائے اور اکڑ کر کہنے لگے جانتی ہو ہمارے لاکھوں روپئے یہاں تک پہنچنے میں خرچ ہوئے ہیں۔ لڑکی نے کہا ہاں سب کچھ ہوا مگر نکاح نہیں ہوا۔ دولھا الٹے پاؤں باپ کے پاس گیا اور کہنے لگا ابا جان میری دلہن بگڑی ہوئی ہے کہ مجھے ہاتھ نہیں لگانا۔ نکاح نہیں ہوا ہے۔ باپ نے کہا اوہو! نکاح تو پڑھا ہی نہیں گیا‘‘۔ 
 
بہت دنوں پہلے غالباً پندرہ بیس سال پہلے پاکستان سے ایک عالم دین کلکتہ تشریف لائے تھے۔ مسلم انسٹیٹیوٹ کلکتہ میں اپنی تقریر کے دوران حسرت بھرے لفظوں میں پاکستان کے حالِ زار پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اسلام بہت دنوں تک پاکستان کے دروازے پر کھڑا رہا۔ جب اسے کسی نے اندر نہیں بلایا اور نہ ہی دل کا دروازہ کھولا تو واپس چلا گیا۔ اسلام تو غیرت مند ہے۔ آخر کب تک ذلت و رسوائی کے ساتھ کھڑا رہتا‘‘۔ 
 
میرے ایک دوست سرفراز احمد صاحب جو ریلوے سروس کمیشن کے چیئرمین رہ چکے ہیں، انھوں نے کراچی کا ایک واقعہ بتایاکہ ’’میں اپنی ایک بہن سے ملنے کراچی گیا تھا۔ ایک دن کراچی کے ایک بازار کی دن پر نظر پڑی تو دیکھا کہ ایک بورڈ پر لکھا ہوا ہے کہ ’’یہاں رونے والے دستیاب ہیں‘‘۔ یہ جملہ پڑھ کر حیرت ہوئی۔ دکان دار سے معلوم کیا کہ بھئی رونے والے دستیاب ہیں کا کیا مطلب ہے؟ اس نے بتایا کہ جن کے ماں باپ یا رشتہ دار کا انتقال ہوجاتا ہے وہ رونے کیلئے اپنی مصروفیات کی وجہ سے وقت نہیں دے پائے تو وہ فون سے رابطہ کرکے بتا دیتے ہیں کہ اتنے آدمیوں یا عورتوں کو رونے کیلئے بھیج دو۔ ہم ان کے آرڈر کے مطابق مرد یا عورتوں کو بھیج دیتے ہیں۔ یہ رونے والے لوگ کرایہ کے ہوتے ہیں‘‘۔ 
 
پاکستان کی اس وقت جو صورت حال ہے اس پر پاکستان خود رو رہا ہے۔ مسلکی جھگڑے، سیاسی جھگڑے، قبائلی جھگڑے اس قدر ہیں کہ جو تحریکیں اسلام کیلئے چلائی جارہی تھیں اس میں برگ و بار نہیں پیدا ہورہا ہے اور کوئی ایک شخص اٹھتا ہے اور زور سے نعرہ بلند کرتا ہے اسے لوگ اپنا لیڈر تسلیم کرلیتے ہیں۔ سب سے زیادہ پاکستان کو فوجی جرنیلوں اور بیوروکریٹس نے نقصان پہنچایا ہے۔ بہت دنوں تک یہی دونوں ملک پر حکمرانی کرتے رہے۔ ابھی بھی ان کا عمل دخل ختم نہیں ہوا ہے مگر عدلیہ کے Active (فعال) ہونے کی وجہ سے یقینا کچھ امید پیدا ہوئی ہے۔ جو لوگ سیاسی منظر نامے میں دکھائی دے رہے ہیں اور بلند و بانگ دعوے کر رہے ہیں ان میں سے کرپٹ سیاست داں زیادہ ہیں۔ اس قدر زیادہ ہیں کہ وہاں کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک مقدمہ کے دوران کہہ دیا کہ اگر قومی اسمبلی کے سارے ممبران پر مقدمہ چلایا جائے تو قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر مولانا سراج الحق اور ان کے رفقاء  کے سوا وہاں کوئی بھی نظر نہیں آئے گا۔ اس پر بڑی چہ میگوئیاں بھی ہوئی ہیں۔ اسلام مخالف حلقہ تو بہت چراغ پا ہوگیا۔ 
 
پاکستانی حکمرانوں نے پاکستانیوں کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ تو دنیا کے سامنے ہے مگر پاکستان سے سب سے زیادہ ہندستانی مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاکستانی جاسوس کہہ کر ہزاروں مسلمانوں کو پس زنداں کیا گیا۔ آج بھی ہندستانی مسلمانوں کو پاکستانی کہہ کر طعنہ دیا جاتا ہے۔ جناب اسدالدین اویسی نے پارلیمنٹ کے اندر تقریر کے دوران حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسا قانون بنائے کہ جو ہندستانی مسلمانوں کو پاکستانی کہے اسے پانچ یا چھ سال کی سزا دی جائے اور جرمانہ عائد کیا ہے۔ مگر جس حکومت سے مطالبہ کیا گیا وہ تو ’پاکستان، پاکستان، میاں میاں‘ کہہ کر ہندو مسلمان میں نفرت وکدورت کا بیج بوتی ہے اور ووٹوں کی ایک طرفہ یکجائی کرتی ہے۔ اسے ہندستان یا مسلمان کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ دیکھا جائے تو وہ ہندو مسلمان دونوں کی دشمن ہے۔ حکمراں پارٹی ایسی ہے جو انسانیت کی دشمن ہے۔ پاکستان کی ایک ہی خوبی کہی جاسکتی ہے کہ کوئی بھی پارٹی جو ہندستان دشمنی یا فرقہ پرستی کی بات کرتی ہے اسے پاکستانی پسند نہیں کرتے۔ یہ بات ہمارے ملک میں نہیں ہے۔ یہاں آر ایس ایس اور بی جے پی نے 31فیصد سے کہیں زائد افراد کے دلوں میں فرقہ پرستی کا زہر گھول دیا ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔
 
پاکستان اگر اسلام کے راستے پر چلتا ہوتا۔ انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتا اور ہندستان اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتا تو ہندستانی حکومتوں پر اثر پڑتا نہ پڑتا مگر ہندستانی عوام پر ضرور پڑتا ہے۔ پاکستانی عوام کی تعریف بہت سے لوگ ہندستان میں کرتے ہیں۔ اگر پاکستانی حکومتوں کا کردار بھی ایسا ہوتا تو آج آر ایس ایس یا بی جے پی بر سر اقتدار نہیں آتی۔ پاکستان کی فرقہ وارانہ سیاست اور ہمارے ملک کے اندر کچھ لوگوں کی فرقہ پرستانہ سرگرمیاں فرقہ پرستوں کو تقویت پہنچاتی رہتی ہیں۔ 
 
 موبائل: 9831439068
azizabdul03@gmail.com      

*******************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 272