donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Islamic Articles -->> Islamiyat
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abdul Aziz
Title :
   Allah Ka Deen Sarnagoo Hone Ke Liye Nahi Aaya Hai


اللہ کا دین سرنگوں ہونے کیلئے نہیں آیا ہے 
 
اسے کفر و الحاد کبھی ختم نہیں کرسکتا 
 
ترتیب:  عبدالعزیز 
 
’’جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر اور انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا ’’کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہوتا ہے۔  حواریوں نے جواب دیا ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لائے۔ گواہ رہو کہ ہم مسلم (اللہ کے آگے سرِ اطاعت جھکا دینے والے ہیں) مالک! جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم اسے مان لیا اور رسول کی پیروی قبول کی۔ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے‘‘۔
(آل عمران:51-52)
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے قوم کے قابل ذکر اور با اثر لوگوں سے مایوس ہوکر عام لوگوں کی طرف رخ فرمایا۔ اس سے ہمیں پیغمبروں کی سنت سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے اور حکمت تبلیغ کو جاننے کی بھی۔ پیغمبروں کی سنت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ دعوت تو سب کے سامنے پیش کرتے ہیں لیکن اپنا خصوصی ہدف ان لوگوں کو بناتے ہیں، جن کے بارے میں یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر یہ لوگ راہِ راست پر آجائیں تو ان کے زیر اثر لوگ ان کی اس نئی تبدیلی کی پیروی کریں گے کیونکہ لوگوں میں ہمیشہ یہ کمزوری رہی ہے کہ ’الناس علیٰ دین ملوکہم‘ (لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں) کسی بھی قوم کا فیڈ کرنے والا طبقہ بالعموم وہی لیڈ بھی کرتا ہے۔ جن باتوں کو وہ قبول کرلیتے ہیں وہی باتیں عام لوگون کا معمول بن جاتی ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو پیغمبروں کی دعوت میں ہمیشہ پیش نظر رہی ہے۔ مدینہ طیبہ میں حضرت اسعد بن زرارہؓ نے، حضرت مصعب بن عمیرؓ کو اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی؛ چنانچہ ان کی کششون نے عام لوگوں سے پہلے اسید بن حضیر اور سعد بن معاذ کو اپنا ہدف بنایا اور ان کے واسطے سے چند ہی دنوں میں ان کے قبیلوں کے بیشتر لوگوں کو مسلمان کر دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی حکمت کے پیش نظر اشرافِ قریش کو اپنی توجہات کا مرکز بنانا چاہتے تھے، لیکن سورۂ عبس و تولیٰ اور بعض دوسری آیات میں آپ کو توجہ دلائی گئی کہ ان تلوں میں تیل نظر نہیں آتا، آپ عام لوگوں کو اپنی توجہات کا مرکز بنائیے۔ 
 
عوام میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو جن لوگوں کی طرف سے کسی حد تک پذیرائی ملی قرآن کریم نے انھیں حواری کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ ’’حَوَرَ‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی لغت میں ’’سفیدی‘‘ کے ہیں۔ وجہ تسمیہ کے سلسلے میں لوگوں نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ یہ لوگ دھوبی تھے۔ دھوبی کا کام چونکہ کپڑے کو سفید (صاف)کرنا ہے، اس لئے انھیں حواری کہا گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ یہ لوگ جب ایمان کی طرف بڑھے تو صفائی قلب اور اخلاص کے جوش سے بڑھے تو ان کی اسی قلبی صفائی کو دیکھتے ہوئے انھیں حواری کے نام سے یاد کیا گیا۔ مزید برآں ایک تحقیق یہ بھی ہے کہ یہ لفظ عبرانی سے عربی میں آیا اور اس کے لغوی مفہوم میں اہل لغت کا اختلاف ہے، لیکن راحج تربات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس لفظ کے معنی ’’خیر خواہ ، حامی، ناصر اور مددگار‘‘ کے ہیں۔ جس طرح اوس و خزرج کے لوگوں نے اپنے اخلاصِ قلب اور نصرت و جا نثاری سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لئے انصار کا لقب حاصل کرنے کا اعزاز پایا، اسی طرح یہ لوگ بھی اپنے پاکیزہ اطوار اور جوش فدائیت کی وجہ سے حواری یعنی انصار کے نام سے پکارے گئے؛ چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ان کے اخلاص اور جانثاری کو دیکھتے ہوئے نہایت شفقت اور دل سوزی سے شب و روز ان کی تعلیم و تربیت فرمائی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہی لوگ داعی، نقیب اور آپ کے پیغامبر بن کر بنی اسرائیل کی ایک بستی میں پہنچے۔ تاریخ اس سے متعلق کچھ زیادہ خبر نہیں دیتی کہ ان لوگوں کی کاوشوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو نفوذ کا کہاں تک موقع ملا، لیکن آپ کے رفع الی السمآء کے بعد یہی لوگ ہیں جن کی محنت کے ثمرات پھیلتے پھیلتے ملکوں کو اپنے دامن میں لینے میں کامیاب ہوگئے۔ یہاں کہنا یہ مقصود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے جب بنی اسرائیل کے بڑے بڑے لوگوں کی طرف سے یہ محسوس کرلیا کہ وہ مجھے مزید برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں تو آپ نے اپنی ساری توجہ کا رخ غریبوں کی طرف عموماً اور حواریوں کی طرف خصوصاً پھیر دیا۔ وہ مخالفتوں سے بالکل دلبرداشتہ نہیں ہوئے، حالات کے بگاڑ نے انھیں دل شکستہ نہیں کیا بلکہ انھوں نے حواریوں اور عام لوگوں کو مخاطب ہوکر فرمایا: من انصاری الی اللہ۔ اس جملے میں بعض باتیں خود بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں، مثلاً یہ کہ حالات تمہارے سامنے ہیں، فرض ہم سب کو پکار رہا ہے، یہ وقت نہیں کہ میں اس کی اہمیت اور افادیت پر بحث کروں، ایک سوالیہ نشان تمہارے سامنے ہے کہ بتاؤ اللہ کے دین کی سر بلندی اور اس کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کیلئے کون میرا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے؟ جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے بغیر کسی تامل کے اس راہ پر چلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ نتائج کچھ بھی ہوں، مجھے بہر حال ان طوفانوں سے ٹکرانا ہے۔ تم یہ بتاؤ کہ تم میرا ساتھ دینے کیلئے کہاں تک تیار ہو؟ ’’الیٰ ‘‘ کا لفظ لاکر اظہارِ حقیقت کا حق بھی ادا کر دیا کہ میں جس راستے کی دعوت دے رہا ہوں، وہ پھولوں کی سیج نہیں، اس میں قدم قدم پر بلاؤں کا ہجوم ہے۔ وہ ایک طویل مسافت ہے جس میں کانٹوں پر چلنا ہوگا۔ اس راستے میں کہکشائیں نہیں ہوتیں، بپھرے ہوئے طوفان ہوتے ہیں جس میں چاروں نہنگوں کے حملے بھی ہیں جو شخص اپنی ذات کے تحفظ کا اسیر ہے اس کیلئے اس راستے میں کوئی جگہ نہیں   ؎
 
یہ قدم قدم بلائیں یہ سوادِ کوئے جاناں … وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری 
 (عامر عثمانیؒ) 
لیکن یہ کس قدر خوشگوار حیرانی کی بات ہے کہ وہ لوگ جن کے ایمان لانے کی عمر بھی کچھ زیادہ نہیں لیکن اللہ جب کسی دل کو نورِ ایمان سے بھرنا چاہتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی قبولیت کے دروازے کھل جاتے ہیں؛ چنانچہ اس راستے کی وہ مشکلات جسے برداشت کرنے کیلئے ایک طویل ریاضت چاہئے، اللہ کو جب منظور ہوتا ہے، وہ ایک جست میں تمام ہو جاتی ہیں۔ یہاں بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے  ؎
عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام … اس زمین و آسمان کو بیکراں سمجھا تھا میں 
 (علامہ اقبالؒ)
وہ بے ساختہ پکار اٹھے ’نحن انصار اللہ‘ (ہم ہیں اللہ کے مددگار) اور آپ گواہ رہئے کہ ہم صرف دعویٰ کرنے والے لوگ نہیں بلکہ اس عظیم صداقت کو قبول کرنے کے بعد اس پر چلنے کے جو اور جیسے تقاضے ہیں، آپ ہمیں اس پر بھی ثابت قدم پائیں گے۔ 
 
غور فرمائیے! حواری جس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ ’’مسلم ہونا‘‘ ہے اور پھر اسلام کے راستے جو مشکلات پیش آتی ہیں، ان پر اپنے قول و عمل سے اور ضرورت پڑی تو قربانیوں سے شہادت کا حق ادا کرنا ہے، لیکن بعد میں حواریوں کے نام لیواؤں اور ماننے والوں نے اپنی ایمانی زندگی شہادتِ حق میں کھپا دینا چاہتے ہیں اور کتمانِ حق سے انھیں حد درجہ نفور ہے، لیکن بعد کے آنے والوں نے شہادتِ حق تو دور کی بات ہے کتمانِ حق کی ہی نہیں، انکارِ حق کی مثالیں قائم کیں۔ 
 
سید مسیح علیہ السلام کے سوال اور حواریوں کے جواب دیکھتے ہوئے دو باتیں فوری طور پر ذہن میں آتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اللہ کا کوئی رسول چاہے وہ اپنی ذات میں کتنا بھی عظیم کیوں نہ ہو اور اور بے شک اس کی پشت پر عناصرِ قدرت ہی کار فرما کیوں نہ ہوں اور بے شک اس کی ہمنوائی میں عناصر فطرت اس کے ہم رکاب ہی کیوں نہیں، اللہ کا قانون یہ ہے کہ جس طرح زمین سے غذا پیداکرنا کئی ہاتھوں کے تعاون سے ممکن ہوتا ہے، جس طرح دنیا کا ہر کام اسباب کی ترتیب سے وجود میں آتا ہے۔ سورج کا کام زمین سے پانی کھینچ کر ابر کی چادریں بچھانا ہے، لیکن ابر کا برسنا سورج سے ماورا ایک کام ہے۔ ابر برستا ہے لیکن زمین میں ایک خاص مقدار تک پانی کا سرایت کرنا اور باقی ندی نالوں میں واپس چلے جانا، یہ ابر کے بس کی بات نہیں۔ کاشتکار زمین میں ہل چلاتا ہے، سہاگہ دیتا ہے، تخم ریزی کرتا ہے، نگہبانی کے فرائض انجام دیتا ہے، لیکن زمین کے سینے سے غلے کا اگانا پھر اس کو رفتہ رفتہ بڑھانا، کاشتکار کی قدرت سے باہر کی چیز ہے۔ پھر خوشۂ گندم میں دانوں کا پکانا اور پھلوں میں گداز پیدا کرنا یہ زمین کا نہیں سورج اور چاند کا کام ہے۔ مختصر یہ کہ یہاں ہر چھوٹا بڑا کام اپنے اتمام کو پہنچنے کیلئے اسباب کا محتاج ہے؛ ھالانکہ جس پروردگار نے یہ اسباب پیدا فرمائے ہیں، وہ براہ راست بھی ہر کام کو انجام دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ اسی طرح اللہ کے پیغام کا لوگوں تک پہنچنا، دلوں میں سرایت کرنا، قبولیت کی صورت اختیار کرنا، عمل کے قابل میں ڈھلنا، ایک تحریک بن جانا، پھر انقلاب کی صورت بن کر لادینیت کے خس و خاشاک کو بہا کے لے جانا اور اللہ کی زمین پر اللہ کے نام اور اس کے پیغام کا ڈنکا بجنا صرف اللہ کے نبی کا کام نہیں۔ اللہ کا نبی یقینا اس کام کا داعی، اس کی تشکیل دینے والا، اس راستے میں استقامت کی تصویر، حق کا علمبردار، مینارۂ نور، اپنی ذات میں حجت کامل اور پیغام اور معجزات کا سرچشمہ ہوتا ہے، لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود تنہا اس انقلاب کو برپا نہیں کرتا جسے اعلائے کلمۃ الحق کہتے ہیں، جو اللہ کے نبیوں کے پیش نظر ہوتا ہے۔ وہ جس طرح اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے، اللہ سے مدد مانگتا ہے، اسی طرح وہ لوگوں سے بھی مدد چاہتا ہے اور پروردگار کے حضور یہ درخواست کرتا ہے یا اللہ! اسلامی دعوت کی توانائی کیلئے عمر یا ابو جہل میں سے کسی ایک کو اسلام کی توفیق دیدے۔ وہ بار بار لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی اللہ سے التجائیں کرتا ہے۔ ایک ایک دروازے پر دستک دیتا ہے، ایک ایک کا دامن کھینچتا ہے کہ لوگو! اس کام میں میرا ساتھ دو، میں تمھیں دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہوں۔ یہ وہ سنتِ رسالت ہے جو تمام انبیاء و رسل میں برابر کار فرما دکھائی دیتی ہے۔ جیسے جیسے حالات ناموافق اور سرکش ہوجاتے ہیں، ویسے ویسے پیغمبر اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے ساتھ ساتھ بندوں کو بھی زیادہ سے زیادہ متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
 
 موبائل: 9831439068
azizabdul03@gmail.com      

*********************************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 220