donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Islamic Articles -->> Islamiyat
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Maulana Md Tariq Noman
Title :
   Manaqibe Nawasae Rasool Jigar Gosha Batool Hazrat Imam Hussain

مناقب ِ نواسہ رسول جگر گوشہ بتول حضرت امام حسین


 مولانامحمد طارق نعمان گڑنگی 


اللہ تعالی نے واقعہ کربلا کو ہمیشہ کے لئے زندہ و جاویدہ بنا دیا تاکہ انسان اور خصوصا ایمان والے اس سے سبق حاصل کرتے رہیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت مبارکہ 5 شعبان 04 ھ کو مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ نبی پاک ﷺنے آپ کے کان میں آذان دی ، منھ میں لعابِ دہن ڈالا اور آپ کے لئے دعا فرمائی پھر ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور عقیقہ کیا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد اللہ اور لقب سبط رسول وریحانئہ رسول ہے۔

 حدیث شریف میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کا نام شبیر و شبر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کا انہیں کے نام پر حسن اور حسین رکھا۔ (صواعق محرقہ، صفحہ 118) اس لئے حسنین کریمین کو شبیر اور شبر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سریانی زبان میں شبیر و شبر اور عربی زبان میں حسن و حسین دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ 
ایک حدیث پاک میں ہے کہ حسن اور حسین جنتی ناموں میں سے دو نام ہیں۔

(صواعق محرقہ، صفحہ 1186)
ابن الا عرابی حضرت مفضل سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے یہ نام مخفی (پوشیدہ)رکھے یہاںتک کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے نواسوں کا نام حسن اور حسین رکھا۔ (اشرف المئوید، صفحہ 70)
حسین مجھ سے ہے
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں

(ترمذی شریف)
یعنی حسین رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ سے اور حضور اکرم ﷺ کو حسین رضی اللہ عنہ سے انتہائی قرب ہے۔ گویا کہ دونوں ایک ہیں۔ حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر حضور ﷺ کا ذکر ہے ۔ حسین رضی اللہ عنہ سے دوستی حضور سے دوستی ہے۔ حسین رضی اللہ عنہ سے دشمنی حضور ﷺ سے دشمنی ہے اور حسین رضی اللہ عنہ سے لڑائی کرنا حضور ﷺ سے لڑائی کرنا ہے۔
اللہ ورسول اور حسین ؓسے محبت
 حضوراکرم  ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :جس نے حسین سے محبت کی اس نے اللہ تعالی سے محبت کی

(مشکوۃ شریف صفحہ 571)
حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا حضور ﷺ سے محبت کرنا ہے اور حضور ﷺ سے محبت کرنا اللہ تعالی سے محبت کرنا ہے۔(مرقا ۃشرح مشکوۃ صفحہ 605)
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا چھوٹا بچہ کہاں ہے ؟ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ دوڑے ہوئے آئے اور حضور ﷺ کی گود میں بیٹھ گئے اوراپنی انگلیاں داڑھی مبارک میں داخل کر دیں۔ حضور ﷺ نے ان کا منہ کھول کر بوسہ لیا اور فرمایا۔ 
اے اللہ!میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے بھی فرما جو اس سے محبت کرے

(نور الابصار صفحہ 114)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حضور آقائے دو عالم ﷺ نے صرف دنیا والوں ہی سے نہیںچاہا کہ وہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کریں بلکہ خدائے تعالی سے بھی عرض کیا کہ تو بھی اس سے محبت فرما ۔ اور بلکہ یہ بھی عرض کیا کہ حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما۔
جنتی جوانوں کے سردار میرے نبی کے نواسے
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا جسے پسند ہو کہ کسی جنتی جوانوں کے سردار کو دیکھے تو وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھے۔

(نور الابصار صفحہ 114)
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے لعابِ دہن کو اس طرح چوستے ہیں جیسے کہ آدمی کھجور چوستا ہے۔(نور الابصار صفحہ 114


حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما کعبہ شریف کے سایہ میںتشریف فرما تھے انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو تشریف لاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ۔ آج یہ آسمان والوں کے نزدیک تمام زمین والوں سے زیادہ محبوب ہیں
حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔حسن و حسین رضی اللہ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔

(مشکو ۃشریف صفحہ 570)
 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:حسن اور حسین دنیا کے میرے دو پھول ہیں

(مشکوۃ شریف صفحہ 570)
 پیارے نبی کے پیارے نواسے کندھوں پر
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ کے ایک کندھے پر حضرت حسن کو اور دوسرے کندھے پر حضرت حسین کو اٹھائے ہوئے تھے یہاں تک کہ ہمارے قریب تشریف لے آئے اور فرمایا: یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں۔ اور پھر فرمایا
 اے اللہ !میں ان دونوں کو محبوب رکھتا ہوں تو بھی ان کو محبوب رکھ اور جو ان سے محبت کرتا ہے ان کو بھی محبوب رکھ۔

(مشکو ۃشریف صفحہ 570)
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آقائے دو عالم ﷺ اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ ایک کندھے پر حضرت حسن کو اور دوسرے کندھے پر حضرت حسین کو اٹھائے ہوئے تھے یہان تک کہ ہمارے قریب تشریف لے آئے اور فرمایا : جس نے ان دونوں سے محبت کی تو اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی

(اشرف المئویہ صفحہ 71)

نواسوں کے محافظ فرشتے

ایک دن نبی کریم ﷺ اپنی بیٹی حضرت خاتون جنت رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر تشریف لائے تو سیدہ کونین نے عرض کی ابا جان آج صبح سے میرے دونوں شہزادے حسن و حسین گم ہیں اور مجھے کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ ابھی حضور ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام فوراً حاضر خدمت ہوئے اور عرض کی یا رسو ل اللہ (ﷺ)! دونوں شہزادے فلاں مقام پر لٹیے ہوئے ہیں اور خدا تعالی نے ان کی حفاظت کے لئے ایک فرشتہ مقرر کر دیا ۔حضرت زہرا ؓ سے فرما دو کہ وہ پریشان نہ ہووے۔(نزہۃالمجالس جلد 2صفحہ 233)
پس حضور علیہ السلام اس مقام پر گئے تو دونوں شہزادے آرام کر رہے تھے اور فرشتے نے ایک پر نیچے اور دوسرا اوپر رکھا ہوا تھا۔

(مشکو ۃشریف صفحہ570 ۔ ترمذی شریف جلد 2 صفحہ 228)

یتیموں اور مسکینوں سے آپ کا حسن سلوک

 حضرت حسنین کریمین رضی اللہ عنہما ایک موقع سے بیمار پڑگئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کی کنیزفضہ نے ان کی صحت کے لئے تین روزوں کی منت مانی۔
 جب اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت دی اور نذر (منت)کی وفا کا وقت آیا تو سب نے روزے رکھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک یہودی سے تین صاع جو لائے۔ حضرت خاتونِ جنت نے ایک ایک صاع تینوں دن پکایا لیکن جب افطار کا وقت آیا اور روٹیاں سامنے رکھی گئیں تو پہلے روز مسکین دوسرے روز یتیم اورتیسرے روز قیدی نے آکر سوال کر دیا تو تینوں روز ساری روٹیاں ان لوگوں کو دے دی گئیں تو پہلے روز صرف پانی سے افطار کر کے اگلا روزہ رکھ لیا گیا تو ان کا یہ عمل ربِ کائنات کی بارگاہ مقبول ہوا۔

شہادت کی شہرت اورجائے شہادت کی مٹی

سید الشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت بھی شہرتِ عام ہو گئی۔ حضرت علی ، حضرت فاطمہ زہرا اور دیگر صحابہ ِ کبار و اہلِ بیت کے جان نثار رضی اللہ عنہما سبھی لوگ آپ کے زما نہ شیر خوارگی ہی میں جان گئے کہ یہ فرزند ارجمند ظلم و ستم کے ہاتھوں شہید کیا جائے گا اور ان کا خون نہایت بے دردی کے ساتھ زمین کربلا میں بہایا جائے گا۔ جیسا کہ ان احادیث کریمہ سے ثابت ہے جو آپ کی شہادت کے بارے میں وارد ہیں۔حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا یعنی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک روز حضورﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہو کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ کی گود میں دیا پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضور ﷺ کی مبارک آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ !میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ کیا حال ہے ؟ فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے یہ خبر پہنچائی کہ میری امت میرے اس فرزند کو شہید کرے گی حضرت ام الفضلؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ !کیا اس فرزند کو شہید کرے گی؟حضور ﷺ نے فرمایا ہاں ۔پھر حضرت جبرئیل میرے پاس اس کی شہادت گاہ کی سرخ مٹی بھی لائے

(مشکو ۃ شریف صفحہ 572)
 ابن سعد اور طبرانی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا آپ ﷺ نے فرمایا : میرا بیٹا میرے بعد ارضِ طِف میں قتل کیا جائے گا۔ اور جبرائیل میرے پاس وہاں کی مٹی بھی لائے اور مجھ سے کہا کہ یہ حسین کی خوابگاہ (متقل)کی مٹی ہے

(صواعق محرقہ، صفحہ 118)

طف قریب کوفہ اس مقام کا نام ہے جس کو کربلا کہتے ہیں
 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش کے فرشتے نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری دینے کے لئے اللہ سے اجازت طلب کی جب وہ فرشتہ اجازت ملنے پر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوا تو اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے اور حضور ﷺ کی گود میں بیٹھ گئے تو آپ ان کو چومنے اور پیار کرنے لگے۔ فرشتے نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ !کیا آپ حسین سے پیار کرتے ہیں ؟
 حضور ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا آپ کی امت حسین کو قتل کر دے گی۔ اگر آپ چاہیں تو میں ان کی قتل گاہ کی (مٹی)آپ کو دکھا دوں۔ پھر وہ فرشتہ سرخ مٹی لایا جسے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے میں لے لیا۔ 
ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اے ام سلمہ !جب یہ مٹی خون بن جائے تو سمجھ لینا کہ میرا بیٹا حسین شہید کر دیا گیا۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس مٹی کو ایک شیشی میں بند کر لیا جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن خون ہو جائے گی۔ (صواعق محرقہ، صفحہ 118


 ابن سعدحضرت شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے موقع پر کربلا سے گذر رہے تھے کہ ٹھہر گئے اور اس زمین کا نام پوچھا لوگوں نے کہا اس زمین کا نام کربلا ہے کربلا کا نام سنتے ہی آپ اس قدر روئے کہ زمین آنسوئوں سے تر ہو گئی۔ پھر فرمایا کہ میںحضور ﷺ کی خدمت میں ایک روز حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ ﷺ رو رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ !آپ کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا ابھی میرے پاس جبرائیل آئے تھے ا نہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ میرا بیٹا حسین دریائے فرات کے کنارے اس جگہ شہید کیا جائے گا جس کو کربلا کہتے ہیں۔ 

ابونعیم اصبغ بن نباتہ سے روایت کرتے ہیںانہوں نے فرمایا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قبر گاہ سے گذرے تو آپ نے فرمایا یہ شہیدوں کے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے اور اس مقام پر کجاوے رکھے جائیںگے اور یہاں ان کے خون بہائے جائیں گے۔ آلِ محمد ﷺ کے بہت سے جوان اسی میدان میں شہید کئے جائیں گے اور زمین و آسمان ان پر روئیں گے۔ (مشکوۃ شریف صفحہ 572 ۔خصائص کبری جلد 2 صفحہ 126)آپ کی فضیلت کے لئے یہ ہی کافی ہے کہ امام الانبیا حضور ﷺ نے انہیں اسی دنیا میں نہ صرف جنتی ہونے کی بشارت دی بلکہ نوجوان جنتیوں کا سردار قرار دیا۔ اور ان کی محبت کو ایمان کا حصہ بتاتے ہوئے یہ فرمایا کہ اے خدا! میں حسین سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما اور جو کوئی حسن و حسین سے محبت رکھے ان سے تو بھی محبت فرما  بے شک ہر مسلمان ان سے محبت رکھتا ہے اور محبت کی سب سے بڑی علامت (نشانی)یہی ہے کہ ہر نماز میں درود شریف میںنبی رحمت ﷺ کے ساتھ ان کے آل و اولاد پر بھی درود بھیجتا ہے۔

یہ چند مناقب نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین ؓ کے اپنی نجات کے لیے قلم بند کیے ہیں اللہ پاک ان کی برکت سے راقم و قارئین کی مغفرت فرمائے اور ہمیں صبرِ حسینی وجذبہ حسینی سے سرشار فرمائے

(آمین یارب العالمین بحرمۃ سیدالانبیاء والمرسلین)

******************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 171