donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Lamhaye Fikr
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abdul Aziz
Title :
   Adliya Aur Jamhuriat Par Fastayi Saye


عدلیہ اور جمہوریت پر فسطائی سائے 


ترتیب: عبدالعزیز 

 

 
بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جہاں کانگریس اور مسلم لیگ جیسی سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے طور پر آزادی کی جنگ میں مصروف تھیں وہی ملک کے سیاسی افق پر کچھ ایسی طاقتیں بھی نمودار ہونے لگیں جن کی بدولت فسطائی رجحانات کو تقویت ملی۔ آزادی کی قومی تحریک کے دوران جب مسلم اور دلت قیادت نے انگریزوں سے اپنے جائز آئینی حقوق کی ضمانت کا مطالبہ کیا تو سناتن دھرم کے مبلغوں اور ’’ہندو راشٹر‘‘ کے دانشوروں کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اگر مسلمانوں، دلتوں، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی گئی تو اعلیٰ ذات کے طبقہ کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی۔ لہٰذا ہندستان میں نصف سے زائد آبادی کی آواز کو دبانے اور ’’ہندوتو‘‘ کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے 1925ء میں ڈاکٹر ہیڈ گوار نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں 1925ء میں ویر ساورکر نے اپنی کتاب ’’ہندوتو‘‘ شائع کی جسے فرقہ پرست طبقے کے پانچویں وید کی حیثیت دے دی۔ ہیڈ گوار، ساورکر، گولوالکر اور ان کے جانشینوں کا خیال ہے کہ ہندوؤں کو دوسرے مذاہب کی یلغار سے محفوظ رکھنے کیلئے خود کو طاقتور بنانا ضروری ہے۔ان لوگوں نے قومیت کو ثقافت (سنسکرتی) اور مذہب (دھرم) سے جوڑ کر ہندو راشٹر کے قیام کیلئے عسکری تربیت کو لازم قرار دیا۔ پروفیسر کے این پانیکر کے بقول آزادی کی لڑائی میں سنگھ کا کوئی کردار نہیں ملتا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ساورکر نے وائس رائے کو کانگریسی عدم تعاون کے برخلاف ہندو مہا سبھا کی شمولیت کو یقین دلایا۔ وہ اس موقع کا استعمال ہندؤں کی فوجی ٹریننگ کیلئے کرنا چاہتے تھے جس کے بغیر ہندو راشٹر کا ہدف پورا نہ ہوتا۔ بہر حال اس مہم کو گاندھی جی کے قتل کے بعد زبردست دھچکا لگا۔ (راشٹریہ سہارا: 13فروری2000ئ
 
آر ایس ایس کے فسطائی مشن، اس کے ارتقاء اور عروج میں 1930-40ء کے دوران جرمن اور اطالوی سیاست کے اثرات نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ ہندو مہا سبھا کا مشہور لیڈر بی ایس مونجے اٹلی کے ڈکٹیٹر، مسولینی سے ملا تھا اور اس سے اطالوی طرز پر ہندو تنظیم کی تشکیل کیلئے مشورے کئے تھے۔ اس حقیقت کا انکشاف اطالوی اسکالر Marzia Casolariنے انگریزی جریدہ ’’معاشی و سیاسی ہفتہ وار‘‘ (جنوری 2000) میں بخوبی کیا ہے۔ اس کے بقول آر ایس ایس اور بی جے پی دونوں ہندستانی سماج کو ’’ہندو سماج‘‘ سمجھتے ہیں۔ ہندو مہا سبھا لیڈر ساورکر اپنی تمام تقاریر میں کہا کرتا تھا کہ ’’تمام سیاست کو ہندو رنگ دے دو اور ہندوؤں کو جنگی تربیت دو‘‘۔ 
 
سنگھی شاکھاؤں کا قیام اسی مقصد کی تکمیل ہے Casolariنے گرو گولوالکر کی کتاب ’’ہم اور ہماری قومیت‘‘ (We, Or Our Nationhood Difined)  میں ہٹلر کی یہودی مخالف سرگرمیوں کی تعریف کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے: 
 
’’گروجی کے نزدیک جرمن قوم کیلئے یہودیوں کی نسل کشی قابل فخر کارنامہ تھاجس سے ہندو قوم بھی استفادہ کرسکتی ہے۔ آر ایس ایس نے اسی نظریے کے تحت مسلمانوں کو دشمن نمبر ایک اورعیسائیوں کو دشمن نمبر دو قرار دیا‘‘۔ (بھارت بھوشن: ’سنگھ کا اطالوی تعلق‘‘ہندستان ٹائمز،19فروری2000ئ) 
جرمنی میں ہٹلر نے یہودیوں کے خلاف یہ پرپیگنڈہ کیا تھا کہ انھوں نے جرمنی میں حبشی اقوام کو لاکر آریائی نسل کو دوغلا بنانے کی سازش کی تھی۔بابری مسجد کے خلاف تحریک میں ’بابر کی نسل‘ کو مٹا دینے کے پس پشت بھی یہی جارحانہ جذبہ کار فرما تھا۔ 
 
ہمارے ملک کی خوش قسمتی تھی کہ آزادی کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو کی قیادت میں ڈاکٹر امبیڈکر کا مرتب کردہ ’’آئین ہند‘‘ 1952ء میں نافذ ہوا اور اس کے بنیادی اصولوں… سیکولرزم، جمہوریت، سوشلزم (یکساں مواقع کی فراہمی) کی روشنی میں ہندستانی شہریوں کیلئے ترقی و خوشحالی کی ضمانت دی گئی۔ اگر چہ گاندھی جی کے قتل کے بعد ’ہندو راشٹر‘ کا خواب چکنا چور ہوگیا تھا لیکن صدی کے ربع آخر میں مہا سبھا کی شکمی تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی نے مختلف طریقوں سے ملک کے طول و عرض میں اپنا فسطائی پیغام پہنچا دیا۔ یہ کام نہایت خاموشی سے رضاکاروں، پرچارکوں، سنچالکوں، سادھوؤں، سیاسی نیتاؤں اور ہم نوا سرمایہ داروں کی مدد سے چلتا رہا۔ جولائی 1948ء میں نوجوانوں کو اپنے حلقۂ اثر لینے کیلئے ’’اکھِل بھارتیہ ودِیارتھی پریشد‘‘ (ABVP) قائم کیا گیا۔ اس سے کچھ قبل ’’بھارت پرکاشن‘‘ کے تحت پرپیگنڈہ مشنری عمل میں آئی جسے فعال بنانے کیلئے دلی سے انگریزی ہفتہ وار "Organiser" اور لکھنؤسے ہندی ’’پنچ جَنیا‘‘(Panch Janya)شائع ہوتے رہے ہیں۔ ’’وشو ہندو پریشد‘‘ ممبئی میں 23اگست 1964ء کو معرض وجود میں آئی۔ اس کے پروگراموں میں سادھو سنتوں اور دھرم آچاریوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور پھر 1984ء میں مارگ درشک ’’دھرم سنسد‘‘ بنایا۔
 
صدی کی آخری دہائیوں میں کانگریس کے زوال اور سیکولر طاقتوں کی نا اتفاقی سے بی جے پی کو بابری مسجد، یونیفارم سیول کوڈ اور کشمیر سے متعلق دفعہ 370 کو اچھالنے کا موقع مل گیا۔ بابری مسجد کا تالا کھلوانے اور رام مندر کیلئے شیلا نیاس کے اہتمام سے فسطائیت کیلئے میدان ہموار ہوگیا۔ رفتہ رفتہ ’’سودیشی جاگرن منچ‘‘ (1991)کے علاوہ ’’بجرنگ دَل‘،’ سنسکرتی سُرکشا دَل‘‘ اور ’’شیو سینا‘‘ وغیرہ ہندستان کی سیاسی فضا پر چھاتے گئے۔ کٹر ہندو فرقہ پرستی کو مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے گاؤں گاؤں، قریہ قریہ تک پھیلایا گیا۔ بالآخر کانگریسی وزیر اعظم آنجہانی نرسمہا راؤ کی منافقانہ پالیسی اور فسطائی عناصر کی مکروہ سازش سے 6دسمبر 1992ء کو قدیم بابری مسجد شہید کر دی گئی۔ جمہوریہ ہند کی پچاس سالہ تاریخ میں یہ سانحہ سنگ میل ثابت ہوا؛ کیونکہ اس سے نہ صرف پورے ملک میں قومی اتحاد کو دھچکا پہنچا بلکہ قتل و غارت گری اور بربریت کا ماحول پیدا ہوا اور مفلوج سرکاری مشنری کے سامنے فسطائیت کے بھوت ہر جگہ منڈلانے لگے۔ 
 
آزادی سے پہلے اکثریتی فرقے کے طبقہ بالا کو یہ احساس شدت سے ستانے لگا کہ جمہوری نظام کے تحت اگر اقلیتوں اور پسماندہ قوموںنے اقتدار میں حصہ داری کی مہم شروع کی تو تا حال حکمراں ذاتوں کیلئے بڑی مصیبت کھڑی ہوجائے گی۔ دلت لیڈر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے آر ایس ایس کے ذریعے منوسمرتی پرمبنی آئین ہند کے سلسلہ میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ متوسط طبقہ ہندوؤں کے راج میں پسماندہ قوموں کو زندگی کے ہر شعبے میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس مسئلے کے حل کیلئے گاندھی جی نے پونا پیکٹ (Poona Pact) کے ذریعے درج فہرست ذاتوں اور قبائلی اقوام کیلئے الگ حلقۂ انتخاب کے بجائے ریزرویشن دلانے کا وعدہ کیا۔ اسی زمانے میں مسلم لیگ نے بھی الگ انتخابی حلقوں، مسلم آبادی کے لحاظ سے متناسب نمائندگی اور اقتدار میں حصہ کی تحریک چلائی۔ در اصل یہی وہ زمانہ ہے جب ملک میں قومی تحریک کو پس پشت ڈال کر فسطائی قوتوں نے ’ہندو راشٹر‘ کے منصوبے پر شدت سے عمل شروع کردیا۔ اگر چہ گاندھی جی کے قتل کے بعد اس تحریک کے حامیوں پر ہر طرف سے لعن و طعن ہوئی مگر پابندیوں کے باوجود اس کی پیش رفت جاری رہی۔ مرکزی میں کانگریسی حکومت کے باوجود بیشتر فرقہ وارانہ فسادات کے دوران آر ایس ایس نے مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ ثبوت کیلئے جمشید پور فسادات (اپریل 1979ئ) کے سلسلے میں جیتندر نرائن کمیشن رپورٹ، احمد آباد فسادات (ستمبر 1969ئ) کے متعلق جگ موہن ریڈی کمیشن رپورٹ، بھونڈی اور جل گاؤں میں قتل و غارت گری (مئی 1970ئ) کے سلسلے میں ڈی پی مادون کمیشن رپورٹ اور بابری مسجد انہدام کے بعد ممبئی کے فسادات پر مبنی جسٹس شری کرشن رپورٹ کا مطالعہ کافی ہے۔ ان تمام رپورٹوں میں واضح طور پر سنگھ پریوار کے سیاسی عزائم اور اشتعال انگیزیوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔ 
 
مرکز میں جب جنتا دل حکومت میں وزیر اعظم وی پی سنگھ نے درج فہرست اور پس ماندہ قوموں کو اقتدار میں حصہ داری اور سرکاری اداروں میں نمائندگی کے سوال پر منڈل کمیشن رپورٹ کونافذ کیا تو اکثریتی فرقہ کے طبقۂ اعلیٰ نے اس کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور اونچی ذات کے نوجوانوں نے خودکشی اور خود سوزی کو معیوب نہیں سمجھا۔ ’’منڈل کمیشن کے اثرات‘‘ کو زائل کرنے کیلئے ’’کمنڈل‘‘ کے ہیرو آر ایس ایس کے پروردہ بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی نے رام مندر کیلئے رتھ یاترا شروع کی۔ 1990-92ء کے دوران کانگریس کی گومگو پالیسی اور نام نہاد سیکولر قوتوں کی خاموشی سے ہندی خطہ کے چاروں بڑے صوبوں میں فسطائیت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ بالآخر کارسیوکوں نے قومی یکجہتی کمیٹی کی سفارش، سپریم کورٹ کے حکم نامے اور وزیر اعظم کی یقین دہانیوں کو نظر اندازکرتے ہوئے بابری مسجد کو شہید کر دیا۔ بعد ازاں فرقہ وارانہ فسادات کے جلو میں ’’ہندوتو‘‘ کا ایسا طوفان اٹھا کہ لوک سبھا میں بی جے پی کی نمائندگی دو ممبرانِ پارلیمنٹ سے بڑھ کر تقریباً 180ہوگئی۔ 1998ء سے سنگھ پریوار ’’قومی جمہوری اتحاد‘‘ (NDA) کے نام پر اپنے دو درجن علاقائی حلیفوں کے ساتھ مرکزی حکومت پر قابض ہے اور اپنے خفیہ اور اعلانیہ پروگراموں پر عمل کرنے کیلئے اس سنہرے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔
 
آج صورت حال یہ ہے کہ آر ایس ایس نے عام ہندوؤں کو غیر ملکیوں (پاکستانی یا بنگلہ دیشی) کی در اندازی، مسلم آبادی میں اضافہ، ہندوؤں کی حق تلفی اور ہندو کلچر پر غیر ملکی یلغار کے نعرے لگاکر سارے ماحول کو زہر آلود کردیا ہے۔ بیرون ملک بین الاقوامی سیاست اوراندرون ملک سیکولر محاذ کے انتشار سے سنگھ پریوار کو اپنے پرپیگنڈہ مہم کو تیز کرنے میں آسانی ہوئی ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے اندر اس پریوار کے اہم کارناموں میں رتھ یاترا (1990ئ)، بابری مسجد کا انہدام 1992)ئ)، ممبئی، سورت اور ملک کے دیگر علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات (1992-93ئ)، مسلمانوں کی خانہ شماری گجرات، اڑیسہ، مدھیہ پردیش ، اتر پردیش اور ہریانہ میں عیسائیوں پر مظالم (1997-2000ئ)، نصابی کتابوں کی نئی ترتیب، مذہبی مقامات پر حملے، اوقاف کی زمینوں پر غاصبانہ قبضے،تاریخ نویسی کی نئی مہم اور احیائیت کے نئے نئے پروگرام شامل ہیں۔
 
موبائل: 9831439068
azizabdul03@gmail.com      

***********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 211