donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Eucational Article -->> Muslim Moashra
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Yasmin Ayub Naik
Title :
   Insaniyat Tabahi Ke Dahane Par

 

انسانیت تباہی کے دہانے پر
 
یاسمین ایوب نائک
 
انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اس کی خطاء کو معاف کرکے دنیا میں اس کے زندگی گذارنے کے بہترین اسباب پیدا کئے 
 
۔اس دنیا میں ہر وہ چیز پیدا کی جس سے اس رب العزت کا بندہ فیض یاب ہو سکے۔لیکن وہ انسان ہی کیا جو خیر میں شر کو نہ پیدا کردے ۔یہ فطرت خداداد نہ سہی لیکن شیطان تو ہر انسان کے ساتھ لگا ہی رہتا ہے ۔اصل کسوٹی تو یہ ہے کہ انسان شیطانی فتنوں سے اپنے آپ کو مرتے دم تک بچاتا رہے ۔یہ کام ایسا مشکل بھی نہیں ہے ،کیوں کہ قرآن و احادیث مبارکہ میں شیطانی فتنوں سے بچنے کے طریقے بتائے گئے ،اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے آپ کو کس راہ پر ڈالتا ہے۔
 
انسان میں تجسس کا مادہ فطری ہے اسی تجسس نے اسے خلاء تک پہنچایا اور اسے زمین کی گہرائی میں بھی اتارا لیکن اس نے کائنات کے حدود اربع کی تلاش میں اپنی ذات کو ہی دنیا کی بھول بھلیوں میں فراموش کر بیٹھا ۔آج سائنس و ٹکنالوجی کی حد درجہ بڑھتی ہوئی ترقی نے انسان سے انسانیت کو ہی خارج کردیا اور اسے جانوروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔ذرا غور کرے تو انسان کو اپنی وحشت اور بربریت کی سینکڑوں داستانیں ہر روز اخباروں میں پڑھنے کے لئے مل جائینگی ۔کیا یہ داستانیں اس کی ترقی ،دانشمندی اور آزادی کی علامتیں ہیں؟یا پھر انسان ابلیس سے اپنے ربط و ضبط کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے ؟جو بھی ہو ترقی کے ان وسائل نے جہاں انسان کے در پر دولت کے انبار لگادیئے ہیں وہیں انسان سے اس کے اعلیٰ اقدار کو چھین لیا ہے ۔اب بے وقوف اور احمق انسان اعلیٰ قدروں سے خالی وجود لئے ترقی کے نام پر رقص ابلیس میں مصروف ہے ۔جگہ بجگہ ذرا ذ را سی ٹھوکر پر منھ کے بل گرتا ہے لیکن اس سے نکلنے کی سعی کرنے کی بجائے اسی کو منزل سمجھ کر ترجیح دینے لگا ہے ۔اس طرح وہ بربادی کے دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے ۔جب تک اللہ تعالیٰ نے چھوٹ دے رکھی تھی دیدی تب تک اس کے پاس سنبھلنے کا بہت وقت تھا لیکن وہ اپنی بڑائی تکبر اور اکڑ میں آگے ہی بڑھتا چلا گیا۔اس نے اللہ کی دی ہوئی مہلت کا غلط استعمال کیا اور اب جب کہ اللہ تعا لیٰ نے رسی کھینچی ہے تو سمجھ لیجئے کہ بربادی اس کا مقدر بن چکی ہے ۔مثل مشہور ہے اب پچھتائے کا ہوت جب چڑیا چگ گئی ساراکھیت ۔
 
سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی اس کی وہ اولاد ہے جو اپنی سنگت میں قوموں اور نسلوں کو برباد کرنے کے درپے ہے ۔سائنس اور ٹکنالوجی کے موجدین چونکہ خدا بیزار اور دنیا پرست لوگ ہیں اس لئے انہیں اقدار کی بربادی سے سروکار ہے اور نہ ہی قوموں اور نسلوں کی تباہی پر غور کرنے کی فرصت ۔وہ تو دولت اور شہرت کے نشے میں امیر بن جانے کی کوشش میں کوشاں ہیں خواہ وہ کسی بھی قیمت پر ہو۔لیکن ان ذہین و فتین سائنس دانوں کے کارناموں کا خمیازہ معاشرے کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔آج کے دور میں انٹر نیت کا فتنہ بیشک ایک دجالی فتنہ کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے ۔جس نے عالمی سطح پر وہ بربادی مچائی ہے کہ قوموں کا دین و دنیا تباہ ہونے کے کگار پر ہے۔مگر ان ترقی پسند زمانے کی ترقی پسند آنکھوں سے دیکھاجائے تو اس انٹر نیٹ کی وجہ سے انسان دنیا کے کونے کونے کی معلومات حاصل کر رہا ہے ۔خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔یہ دنیا جہاں کی معلومات حاصل کرنے کی جستجو میں انسان اپنی حقیقت سے غافل ہو چکا ہے ۔
 
اب انسان کی بہتری اس میں ہے کہ اپنی بقا کے لئے ترقی کے نام پر پیدا ہونے والے نت نئے فتنوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے،اسی میں انسان کے دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ ہر فرد کو سہی سمجھ عطا کرے اور جدیدیت کے فتنوں سے بچائے ۔آمین۔
 
یاسمین ایوب نائک
معاون ٹیچر انجمن اسلام 
بورلی مانڈلہ ۔تحصیل:مروڈ
ضلع :رائے گڑھ۔مہاراشٹر
 
+++++
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 987