donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Personality
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Mushtaq Ahmad
Title :
   Aasmane Sahafat Ka Qutub Numa : Marhoom Alhaj Ghulam Sarwar



آسمان صحافت کا قطب نما: مرحوم الحاظ غلام سرور

 

٭ڈاکٹر مشتاق احمد 

پرنسپل ایم ایل ایس ایم کالج، دربھنگہ

موبائل: 9431414586


ہماری صحافت کی تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ اردو صحافت اپنے دور آغاز سے ہی کوئے یار تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ اس کا مقدر سوئے دار رہا ہے۔ مولوی محمد باقر نے 1837ء میں جب اپنا اخبار ’’دہلی اخبار‘‘ جاری کیا تو اس کے ساتھ ہی شمالی ہند میں اردو صحافت کا سورج طلوع ہوا ۔ 1837 سے 1857ء تک کا دور اردو صحافت کے لئے کس قدر صبر آزما تھا، وہ ہماری تاریخ صحافت میں درج ہے۔ جہاں تک بہار میں اردو صحافت کی تاریخ کا سوال ہے تو محض ایک دہائی کے بعد ہی بہار میں بھی اردو صحافت کی زمین تیار ہوچکی تھا اور بہار کا پہلا اردو اخبار ’’نورالانوار‘‘ 1853 ء میں شروع ہوا۔ اس کے بعد اخباروں کی اشاعت کا سلسلہ چل پڑا اور آزادی کے بعد تو قدرے تیز رفتاری سے اردو صحافت کا کارواں آگے بڑھنے لگا۔ بہار کے جن جیالوں نے اردو صحافت کو قومی صحافت کے مقابلے کھڑا کیا ان میں ایک اہم نام الحاظ غلام سرور مرحوم کا ہے۔ ان کا اخبار ’’سنگم‘‘ نے صرف دنیائے اردو تک محدود رہا بلکہ دوسری زبانوں کے سیاست دانوں اور سماجی کاکنوں کے لئے بھی دعوت فکر کا باعث بنا، بالخصوص 70 کی دہائی میں تو سنگم کی سنگ باری سے نہ جانے کتنے قدآوروں کے سر لہو لہان ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر طرف سے سنگم پر بھی وار ہونے لگے لیکن قربان جائیے، غلام سرور کے چٹانی حوصلے پر کہ انہوںنے تمام تیروں کو بے اثر کرڈالا اور آندھیوں کے زور پر بھی سنگم کے چراغ کو جلائے رکھا۔ 

سنگم صرف ایک اخبارہی نہیں تھا بلکہ مسلمانان ہند کے احساسات وجذبات کا آئینہ بھی تھا اور آزادی کے بعد یہاں کے مسلمانوں کے اندر جو ایک انجاناسا نفسیاتی خوف وہراس تھا اس کے لئے مشعل راہ اور حوصلہ بخش بھی۔ جن لوگوں نے سنگم کے اداریہ کو بغور پڑھا ہے وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ الحاظ غلام سرور مرحوم قوم وملت کے کتنے بڑے نباض تھے اور اپنی دانشوری سے مشکل سے مشکل حالات کو سازگار بنانے کا کتنا ہنر رکھتے تھے۔ مذہب ہو کہ سیاست انہوںنے ہر جگہ اپنی بیباکی کا لوہا منوایا۔ سیاست میں بھی رہے توحق گوئی کے پرچم کو بلند رکھا اور بڑے سے بڑے سیاست دانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بات کہنے کا حوصلہ رکھا۔ میں ذاتی طور پر ان کی بیباکی اور قوم وملت کے مسائل کو حل کرنے کی حکمت عملی سے واقف ہوں کہ کئی ایسے مواقعے کا شاہد رہا کہ انہوںنے اپنی سیاسی جماعت کیخلاف بھی آواز بلند کی اور اپنی پارٹی کے آقا کو آئینہ بھی دکھایا۔ آج جب بہار کی سیاست میں یہ سوال گردش کررہا ہے کہ آج مسلمانوں کا کوئی ترجمان نہیں ہے کہ بیشتر کو اپنے سیاسی مستقبل کی فکر ہے اور مصلحت پسندی کی چادر میں اس قدر لپٹے ہیں کہ عوام الناس میں یہ پیغام عام ہوچکا ہے کہ عصر حاضر میں ہمارا کوئی ایسا رہنما نہیں جو ہماری وکالت کرسکے۔ اس سچائی سے انکار ممکن نہیں کہ ہمارے بیشتر سیاسی رہنما اپنی پارٹی اور پارٹی کے سپریمو کے سامنے کچھ بولنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ نتیجہ ہے کہ ان کی بے زبانی نے ہمارے مسائل کو اور بھی سنگین سے سنگین تر بنادیا ہے۔ 

ایک وقت تھا کہ ہمارے سیاسی رہنما ہمارے مسائل کو نہ صرف اجاگر کرتے تھے بلکہ اس کے حل کے لئے فکر مند بھی رہتے تھے۔ غلام سرور مرحوم نہ صرف اپنے قلم سے بلکہ اپنی آواز سے بھی ایوان سیاست میں ایک گونج پیدا کردیتے تھے۔ جمشیدپور، رانچی، بہار شریف اور سیتا مڑھی میں فرقہ وارانہ فسادات کے وقت غلام سرور نے کس طرح حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا تھا اس وقت کے سنگم کے اداریوں اور دیگر مضامین کے مطالعے سے واضح ہوجاتا ہے۔ غلام سرور نے نہ صرف بذات خود مسائل ملت کے تئیں بیدار رہتے تھے بلکہ انہوںنے ایک کارواں بنالیا تھا۔ لسانی مسئلہ ہو یا مذہبی، مسلمانوں کے خلاف کسی سازش ہو یا مسلمانوں کی حق تلفی ان سب پر نہ وہ صرف اداریہ لکھتے تھے بلکہ اپنے ہم عصروں سے لکھواتے بھی تھے۔ لیکن آج ہمارے رہنما تین تیرہ بنے ہوئے ہیں اور ہر کوئی اپنی راگ الاپ رہے ہیں، نتیجہ ہے کہ ان سب کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہورہی ہے۔

 اردو زبان کے تعلق سے جب گفتگو ہوتی ہے تو غلام سرور، پروفیسر عبدالمغنی، مولانا بیتاب صدیقی اور شاہ مشتاق کی خدمات کا اعتراف کیے بغیر ریاست بہار میں اردو کے فروغ کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ مرحوم غلام سرور نے اردو صحافت کو معیاری بنانے کی بھی جدوجہد کی۔ اس وقت جب کہ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں عصر حاضر کی طرح تکنیکی سہولیات فراہم نہیں تھیں، خبر نویسی کا دارو مدار چند خبررساں ایجنسیوں پر تھا یا پھر ریڈیائی خبروں کے تراجم پر۔ قومی میڈیا انگریزی اور ہندی اخبارات کے مقابلے اردو اخبار کے وسائل کم تھے۔ آفسیٹ تک ہماری رسائی مشکل تھی، اس کے باوجود انہوںنے سنگم کو ایک با اعتبار صحافت کا درجہ عطا کیا۔ میری طالب علمی کے زمابے میں سنگم کی دھوم تھی اور پڑھے لکھے طبقے کی زبان پر سنگم کے اداریے کو ایک مستند حوالے کی حیثیت حاصل تھی۔ اکثر بی بی سی اردو سروس میں سنگم کے حوالے آتے تھے۔ بالخصوص جب بنگلہ دیش کا سورج طلوع ہوا اور پاکستان کو تاریخی شکست سے دوچار ہونا پڑا اس زمانے میںبنگلہ دیشی اور بہاری مسلمانوں کے مسائل پر غلام سرور مرحوم نے جس طرح آواز بلند کی یہ بس ان ہی کا حوصلہ تھا۔

 وہ آخری وقت تک صحافی رہے اور شریعت صحافت کے پاسدار بھی۔ سچائی یہ ہے کہ بہار کی اردو صحافت کا نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر لوہا منوانے میں غلام سرور کا کلیدی کردار رہا۔ انہوںنے اپنی انقلابی فکر ونظر کا ذریعہ اپنی تحریر کو بنایا اور سنگم کے صفحات کو دعوت فکر کا آئینہ بنادیا۔ آج جب ذرائع ابلاغ کی دنیا میں انقلاب برپا ہوچکا ہے اور قومی میڈیا کے مقابلے اردو اخبارات کے صفحات بھی رنگ وروغن سے مزین نظر آتے ہیں لیکن وہ آواز جس کی داغ بیل الحاظ غلام سرور نے ڈالی تھی وہ سنائی نہیں دیتی۔ آج جب ہم الحاظ غلام سرور مرحوم کی یوم پیدائش پر انہیںیاد کررہے ہیں تو ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ان کے تئیں سب سے بڑی خراج عقیدت یہی ہوگی کہ انہوںنے جس طرح جرأت مندانہ اور دانشوارانہ کارنامے انجام دیئے اس کی پیروی کی جائے  تاکہ آج جو مسلم معاشرے میں ایک یہ اضطراب ہے کہ ہماراکوئی ترجمان نہیں ، ا س کی بازیابی کی راہ ہموار ہوسکے۔ میں اپنی بات فیض احمد فیض کے اس شعر پر ختم کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں   ؎


کرو کج جبیں کہ سر کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن، پس مرگ ہم نے بھلا دیا

*********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 152