donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Teeshae Fikr
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Aurangzeb Ki Ghaltiyon Ko Na Dohrayen Aaj Ke Hukmaran


لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی
 
اورنگ زیب کی غلطیوں کونہ دہرائیں، آج کے حکمراں
 
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
 
کسی بھی حکمراں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ملک کے عوام کے ساتھ یکساں اور منصفانہ برتائو کرے۔ اس کی نظر میں تمام طبقات برابر ہوں۔ اگر وہ کسی کے ساتھ مذہب، زبان، رنگ ونسل کی بنیاد پر بھید بھائو کرتا ہے تو اس کا زوال یقینی ہے۔اس حقیقت کو تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے۔ اس لئے آج جو لوگ تخت وتاج کے مالک ہیں ،انھیں بھی اپنی حدوں میں رہنا چاہئے اور تاریخ سے سبق لینا چاہئے۔ ایک طویل مدت تک بھارت پر راج کرنے والے مغلوں کا زوال کیوں ہوا؟اس سلسلے میں بہت کچھ لکھا جاتا رہا ہے اور بہت سی وجوہات گنوائی جاتی رہی ہیں مگر بیشترمحققین اور تجزیہ کاروں نے اس کے لئے اورنگ زیب عالمگیرکی مذہبی پالیسی کو بھی ذمہ دار مانا ہے۔ اورنگ زیب ایک اسلام پسند بادشاہ تھاجس نے بھارت کو ایک سنی اسلامی اسٹیٹ بنانے کی کوشش کی تھی۔ وہ اگرچہ سادگی پسند تھا اور بعض مورخین کے مطابق ٹوپی سل کر اور قرآن کی کتابت کرکے روزگار حاصل کرتا تھا مگر اسی کے ساتھ اس نے نہ صرف غیرمسلم رعایابلکہ شیعہ مسلمانوں کے ساتھ بھی متعصبانہ رویہ روا رکھا تھا۔حالانکہ وہ خود ایک شیعہ ماں کا بیٹا تھا۔اورنگ زیب کے اس رویے نے جہاں علماء اور سنی مسلمانوں کو اس سے قریب کیا ،وہیں عام ہندو شہریوں کے ساتھ ساتھ شیعہ مسلمانوں کو بھی اس سے دور کرنے کا کام کیا۔
 
اورنگ زیب کے عہد میں غیرمسلم
 
شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے عہدِ حکومت کے بارے میں مورخین نے لکھا ہے کہ اس عہد میںہندووں پر جزیہ عائد کیا گیا تھا ، جس سے بچنے کے لئے بعض ہندو مسلمان ہوجاتے تھے،نیز کاروباری ٹیکس بھی مسلمانوں کے مقابلے ہندووں کو دوگنا ادا کرنا پڑتا تھا۔اعلیٰ سرکاری عہدوں سے ہندووں کو برخواست کروہاں سنی مسلمانوں کو فائز کیا جاتا تھا۔راجپوتوں کے علاوہ تمام ہندووں کو پالکی کی سواری کی ممانعت تھی۔ اسی طرح وہ ہاتھی کی سواری بھی نہیں کرسکتے تھے۔ راجستھان کے بعض رجواڑوں کو تحلیل کردیا گیا تھا، جہاں پہلے سے ہندو راجہ حکمراں تھے۔اس قسم کی پالیسیوں کے سبب ملک کا اکثریتی طبقہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرنے لگا اور نتیجہ کے طور پر حکومت ،اس کی ہمدردی سے محروم ہوگئی۔
 
 کل اور آج
 
اورنگ زیب کے عہد حکومت کو ذہن میں رکھیں اور موجودہ سرکار میں اقلیتوں اور خاص طور پر سب سے بڑی اقلیت کے احساسات کو پڑھنے کی کوشش کریں ۔ بھارت کے موجودہ حالات میں مسلمان کیسا محسوس کرتے ہیں؟ کیا وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں؟ کیا وہ خود کو دوسرے نمبر کا شہری اور انصاف سے محروم طبقہ محسوس کرتے ہیں؟ کیا ملک بھر کے مسلمان عدم تحفظ کی ذہنیت کا شکار نہیںہیں؟ ان سوالوں کے جواب کی تلاش ان دنوں انصاف پسند غیرمسلموں بھائیوں،احساس ذمہ داری رکھنے والے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو بھی ہے۔ جہاں ایک طرف ٹی وی چینلوں پر دن رات مسلمانوں اور اسلام کے خلاف دوسرے طبقات کو اکسانے والے مباحثے چل رہے ہیں ،وہیں دوسری طرف اخبارات میں ایسے مضامین بھی شائع ہورہے ہیں، جن میں مسلمانوں کی دلجوئی کا احساس نظر آتا ہے۔ مشہور صحافی ویر سانگھوی کا ایک مضمون حال ہی میں شائع ہوا ہے جس میں بیف کو مسلمانوں سے جوڑ کر دیکھنے کی ذہنیت پر تنقید کرتے ہوئے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ انھوں نے آج کے حالات کا موازنہ ۸۰،۹۰ کی دہائی سے کیا ہے جب بی جے پی لیڈر لعل کرشن اڈوانی کی رتھ یاترانکلی تھی اور مسلمانوں کے خلاف ہندووں میں نفرت اور اشتعال تھا۔ اسی طرح معروف صحافی برکھا دت کا بھی ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہوتیں تو موجودہ حالات میں کیا محسوس کرتیں، جب کہ جرنلسٹ ششی شیکھر نے موجودہ حالات پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ملک میں پھیلتی تشدد کی آگ کو اگر فوری طور پر کنٹرول نہیں کیا گیا تو اس کی تپش دوسروں تک بھی پہنچے گی۔ موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرنے والوں میں صحافت ہی نہیں بلکہ سنیما، اسپورٹس، سیاست اور سماج کے لوگ بھی شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ آج مسلمان بھی ویسے ہی احساسات کے ساتھ جی رہے ہیں جیسے احساسات اورنگ زیب کے دور میں ہندووں کے ہونگے۔
 
ویر سانگھوی کیا لکھتے ہیں؟
 
ویر سانگھوی کا ایک مضمون ،انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس میں شائع ہوا تھا جس کا عنوان ہے ’’What,s making Muslim anxious?‘‘سانگھوی نے اپنے اس مضمون میں لکھا ہے کہ بھارت میں مسلمان بیف کی سب سے زیادہ رغبت رکھنے والے طبقہ نہیں ہیں،اودھی اور حیدرآبادی کوزین کا لازمی حصہ بیف نہیں ہے۔ جو لوگ بیف کھاتے ہیں، ان کا دو طبقہ ہے۔ پہلا طبقہ عیسائیوں کا ہے جو کیرل، گوا اور ناتھ ایسٹ میں رہتے ہیں اور بی جے پی نے واضح کردیا ہے کہ نارتھ ایسٹ کی گائے سے اسے پریم نہیں ہے۔ ویر سانگھوی کی نظر میں بیف کھانے والا دوسرا طبقہ دلتوں کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دلت اور مسلمان چونکہ چکن اور مٹن کو مہنگائی کے سبب نہیں خرید سکتے لہٰذا وہ بیف کو خوراک کا حصہ بناتے ہیں۔ سانگھوی نے لکھا ہے کہ باوجود اس کے تمام مسلمانوں کو بیف کو مرغوب رکھنے والا قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ صورت حال تب بھی نہیں تھی جب ۱۹۶۰ میں گوکشی کے خلاف تحریک چل رہی تھی۔ ویر سانگھوی نے اپنے مضمون میں اپنے ایک دوست کا واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میرے ایک مسلمان دوست نے بتایا کہ میرے ایک رشتہ دار نے فون کیا کہ تم آتے ہوئے مٹن لیتے آنا اور میں نے قبول کرلیا مگر جب تھوڑی دیر سوچا تو خیال آیا کہ اگر خدانخواستہ میری گاڑی کو ایکسیڈنٹ ہوگیا اور گاڑی کی تلاشی کے دوران اس میں سے گوشت نکلا تو کسی جانچ کے بغیر ہی کہہ دیا جائے گا کہ ایک مسلمان کی گاڑی سے گائے کا گوشت نکلا ہے، لہٰذا میں نے کہہ دیا کہ میں گوشت نہیں لاسکتا۔ اس واقعے کو لکھ کر مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اس قسم کا خوف تمام مسلمانوں کے دل میں بیٹھا ہوا ہے۔ ان کے ذہن میں اندیشہ ہے کہ ان پر حملہ ہوسکتا ہے۔ مضمون میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ تین طلاق واقعی کوئی سنجیدہ ایشو ہے یا اسے محض اس لئے اٹھایا جارہا ہے تاکہ مسلمانوں کو بربر ثابت کیا جاسکے؟ اس سے پہلے ایک ٹی وی بحث کے دوران سینئر صحافی ویر سنگھوی کہہ چکے ہیں کہ بیف پر کنڑول کے مرکزی حکومت کے  فیصلے سے گوشت ایکسپورٹ اور لیدر ایکسپورٹ کو بڑا جھٹکا لگے گا۔ سانگھوی کے مطابق مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ بھارت کے وفاقی ڈھانچے کے خلاف ہے اور بی جے پی حکومت بڑے مسائل کو دبانے کے لئے ان مسائل کو طول دے رہی ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی 10 ریاستوں میں بیف قانونی طورپر جائز ہے۔ ان میں سے تین ریاستوں میں بھاجپا حکمراں ہے اور ایک ریاست میں این ڈی اے میں شامل پارٹی کی حکومت ہے۔
 
اگر برکھا دت مسلمان ہوتیں؟
 
مشہورصحافی برکھا دت نے انگریزی میگزین ’’دی ویک‘‘ میں ایک مضمون لکھ کر بتایا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہوتیں تو کیسا محسوس کرتیں؟  برکھا دت نے اپنے اس مضمون کو ٹویٹ بھی کیا ہے۔برکھا نے مضمون کے آغاز میں ہی واضح کیا ہے کہ وہ مکمل طورپر لامذہب ہیں۔ برکھا نے لکھا ہے کہ وہ خود کو کسی بھی مذہب سے نہیں جوڑتیں اور جہاں بھی مذہب کے بارے میں بتانا ہوتا ہے وہ اس کی جگہ خالی چھوڑ دیتی ہیں۔ برکھا نے لکھا ہے کہ ادھارمک ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی مذہب کے نقطہ نظر سے کچھ کہنے کے لئے خود کو بہت قابل نہیں پاتیں لیکن گزشتہ ہفتے ان سے پوچھا گیا تھا کہ اگر وہ مسلم ہوتیں تو کیسا لگتا؟ برکھا کے مطابق یہ سوال ان کی روح کو کریدتا رہا اور انہیں بے چین کرتا رہا۔ برکھا نے ’’اگر میں مسلمان ہوتی‘‘ سوال کا جواب دینے سے پہلے بہت سے سوالات پوچھے ہیں۔ انھوں نے پوچھا ہے، اگر ملک کی موجودہ سیاسی حیثیت میں میری آواز نہیں سنی جاتی تو مجھے کیسا لگتا کیونکہ اب میرے بغیر الیکشن جیتنا ممکن ہو گیا ہے؟یا جس پردیش میں مسلمانوں کی کثیر تعداد ہے، وہاں حکمراں پارٹی کا ایک بھی اسمبلی الیکشن کاامیدوار مسلمان نہیں تھا۔ برکھا نے لکھا ہے، جنید کی خون میں لت پت تصویر دیکھنے کے بعد کیا میں عید منا پاتی؟مویشی تاجر پہلو خان کو بھیڑ نے جس طرح فٹ پاتھ کے کنارے مار ڈالا، اسے دیکھ کر میں خود سے کیا کہتی؟کیا میں فضائیہ کے جوان محمد سرتاج کے اس جوش و خروش کو اشتراک کر پاتی، جب انہوں نے کہا تھا کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا؟ سرتاج کا ہندوستانی  نظام انصاف پر یقین تب بھی بنا رہا جب ان کے والد محمد اخلاق کی بھیڑ نے بیف کی افواہ پر قتل کر دیا تھا۔ برکھا نے اپنے مضمون میں بین الاقوامی سطح پر بنیاد پرست مسلمانوں اور دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں بھی سوال پوچھا ہے۔ برکھا نے لکھا ہے، اگر میں مسلم ہوتی تو میں خود کو کتنا بے بس محسوس کرتی جب اسلامی بنیاد پرست اور دہشت گرد میرے مذہب کا نام خراب کرتے اور مجھے ان کارروائیوں کی مذمت کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ،جیسے ان گھناؤنی کارروائیوں کے لئے میں ہی ذمہ دار ہوں ؟
 
اس آگ کی لپٹیں کہاں تک جائینگی؟
 
ملک کے موجودہ حالات سے سنجیدہ صحافیوں کا ایک بڑا طبقہ پریشان ہے اور اسے لگتا ہے کہ فرقہ پرستی کی جو آگ لگائی گئی ہے، اس کی تپش صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کی زد میں ہندو بھی آسکتے ہیں۔ سینئرصحافی ششی شیکھر نے ہندوستان ٹائمس میں ایک مضمون بہ عنوان ’’ The fire of violence could singe us all ‘‘ لکھا ہے۔ انھوں نے چلتی ٹرین میں ہریانہ کے محمد جنید کے قتل کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر میں ڈی ایس پی ایوب پنڈت اورجھارکھنڈ میں بیف کے شک میں علیم الدین اور دوسرے لوگوں پر حملے کا بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تشدد کے اس آگ کی لپٹیں ہم تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔ 
 
سبق لینے کی ضرورت
 
آج ملک کے سنجیدہ ہندو بھی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور میں ہندوستانی مسلمان خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔ مرکز میں بی جے پی کی سرکار ہے مگر حکمراں جماعت کا ایک بھی لوک سبھا ممبر، مسلمان نہیں ہے۔ مودی سرکار کی لمبی چوڑی کابینہ میں مسلمان تقریباً مفقود ہیں۔کچھ یہی صورت حال راجیہ سبھا میں ہے۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں بی جے پی کا ایک بھی ممبر اسمبلی مسلمان نہیں ہے اور دوسری ریاستوں میں بھی تقریباً یہی صورت حال ہے۔ اسی طرح وزیروں میں بھی شایدباید ہی مسلمان دکھ جائیں۔ نوکرشاہی میں موجود مسلمانوں کو بھی ٹھکانے لگادیا گیا ہے اور کچھ عہدوں پر اگر مسلمان باقی بھی بچ گئے ہیں تو ان کی سنگھیوں کے آگے نہیں چلتی۔ملک کے موجودہ حالات سے عام مسلمان خوف کے سایے میں جینے پر مجبور ہے کیونکہ اس کے کچن اور فریج تک میں تاک جھانک کی جارہی ہے۔ شاید موجودہ حالات میں مسلمان اس سے بھی زیادہ خود کو الگ محسوس کررہے ہیں جتنا اورنگ زیب کے عہد میں ہندو محسوس کرتے ہونگے۔ یہ صورت حال کیا ملک کے حق میں ہے؟ کیا اس کے بھی ویسے ہی نتائج سامنے نہیں آئینگے جیسا کہ اورنگ زیب کی حکمرانی کے سامنے آئے تھے؟کیا تاریخ سے سبق لینگے آج کے حکمراں؟   
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments


Login

  • Mohammed Aslam Afghani
    03-01-2018 07:52:51
    غوث سیوانی صاحب آر ایس ایس کے اس قتل و غارت گری کے دور حکومت کا اورنگ زیب کے دور حکومت سے تقابل کر نا آپ کے کم علمی یا غیر مستند معلومات کی دلیل ہے۔
You are Visitor Number : 208