donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Teeshae Fikr
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Musalmano Ko Taleem Me Peechhe Rakhne Ka Seyasi Khel


مسلمانوں کو تعلیم میں پیچھے رکھنے کا سیاسی کھیل
 
مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کاا قلیتی کردارخطرے میں 
 
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
 
گزشتہ دنوں ایک کرشچین مشنری ہائرسکنڈری اسکول کے سالانہ پروگرام میں جانے کا اتفاق ہوا، جہاں تعلیم پانے والوں میں عیسائی،ہندو اور مسلم اسٹوڈنٹس شامل ہیں۔اس پروگرام میں سبھی کلاسیز کے دو ٹاپرس کوانعام سے نوازا گیا اور ان اسٹوڈنٹس کو بھی، جنھوں نے سوفیصد حاضری کی تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ کلاس ٹاپرس میں مسلمان طلبہ وطالبات کی اکثریت تھی۔ اسی کے ساتھ سو فیصد حاضری والے اسٹوڈنٹس میں بھی کافی مسلمان بچے تھے۔ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی تعلیم میں دلچسپی کے تعلق سے جو ہم لوگوں کا ذہن بنا ہوا ہے،اس کے برخلاف یہاں منظر دیکھ کر میرا حیرت واستعجاب میں پڑنا فطری تھا۔ میرا ماننا ہے کہ مسلمان بھی حالات کو سمجھنے لگے ہیں اور انھیں احساس ہونے لگا ہے کہ تعلیم کے بغیر وہ عہد حاضر کی مسابقتی دوڑ میں آگے نہیں نکل سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں مسلمان طلبہ وطالبات کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے ۔ جنوبی ہند کے مسلمان، شمال کے مسلمانوں کے مقابلے پہلے سے تعلیم یافتہ اور خوشحال تھے مگر اب شمالی ہند میں بھی مسلمانوں میں تعلیم کی للک جگی ہے۔پٹنہ سے بنگلورتک اور دہلی و لکھنو سے حیدرآباد تک تعلیمی اداروں میں شمالی ہند کے مسلم طلبہ خوب ملتے ہیں۔ یہ یقینا خوش آئند بات ہے مگر اسی کے ساتھ ایک افسوسناک بات یہ ہے کہ مرکز کی نریندرمودی سرکار نے پہلے سپریم کورٹ میں کہا کہ علی مسلم یونیورسٹی، مسلم اقلیتی ادارہ نہیں اور اب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔سوال یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے مسلم اداروں پر سے مسلمانوں کا حق ختم کرنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے؟  جامعہ ملیہ اسلامیہ آخر کیوں کھٹک رہا ہے مودی سرکار کی نظر میں؟ آخر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اورجامعہ ملیہ اسلامیہ ہی کیوں حکومتوں کی نظر میں کھٹکتے رہے ہیں؟کیا وجہ ہے کہ پہلے کانگریس کی سرکاروں نے ان اداروں سے مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی کوششیں کیں اور اب بی جے پی کی سرکار کر رہی ہے؟  بھارت میں ہزاروں اقلیتی ادارے ہیں جنھیں عیسائی، سکھ،بدھسٹ اور جین اقلیتوں نے قائم کیا ہے مگر ان میں سے کسی کے اقلیتی کردار پر حملہ نہیں کیا جاتا،صرف مسلم ادارے ہی کیوں نشانے پر رہتے ہیں؟ کیا ہندوستان کے مسلمانوں کو جاہل رکھنا یہاں کی سرکاروں کے ایجنڈے میں شامل ہے؟ اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی درجہ پر عدالت میں اپنے پرانے اسٹینڈ کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب مودی حکومت کورٹ میں حلف نامہ دے گی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔وزرات برائے فروغ انسانی وسائل، دہلی ہائی کورٹ کے پاس زیر التواء درخواستوں میں ایک نیا حلف نامہ دے گی۔اس سے پہلے کانگریس کے دور حکومت میں بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اورجامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی کردار سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر مسلمانوں کی طرف سے احتجاج کے بعد حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا اور  22 فروری، 2011 کو قومی اقلیتی تعلیمی کمیشن کے حکم کی حمایت کرتے ہوئے جامعہ کو ایک مذہبی اقلیتی انسٹی ٹیوٹ تسلیم کرلیا تھا مگر اب مودی سرکار نے اس اسٹینڈ سے ’Uٹرن ‘لینے کا فیصلہ لیا ہے۔
 
حکومت کا بدلتا موقف
 
  وزارت برائے فروغ انسانی وسائل، دہلی ہائی کورٹ کو یہ بتانے جارہی ہے کہ جامعہ اقلیتی ادارہ نہیں ہے اور اس کا مقصد قیام کبھی بھی اقلیتوں کی تعلیم نہیں تھا، کیونکہ اسے پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعے قائم کیا گیا تھا اور اسے مرکزی حکومت کی طرف سے مالی امداد ملتی رہی ہے۔حالانکہ دوسری طرف جسٹس سہیل احمد صدیقی سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسا کس قانون میں لکھاہے کہ اقلیتی ادارے سرکار سے امداد نہیں لے سکتے؟کیا یہ کہیں لکھا ہے کہ اگر مرکز سے فنڈ لیا جائے گا تو وہ انسٹی ٹیوشن مائنارٹی نہیں رہے گا؟ واضح ہوکہ گزشتہ سال جب اسمرتی ایرانی ایچ آرڈی کی منسٹربنی تھیں، تب اٹارنی جنرل نے عدالت میں اپنا خیال تبدیل کرنے کی صلاح دی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ تب کے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا تھا کہ یہ کیس 1968 کے عزیز بعشا بمقابلہ یونین آف انڈیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے جیساہے۔اس کیس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اے ایم یو ایک اقلیتی یونیورسٹی نہیں ہے کیونکہ یہ برطانوی مقننہ کی طرف سے قائم کیا گیا تھا، اسے مسلم کمیونٹی نے قائم نہیں کیا تھا،جب اسمرتی ایرانی فروغ انسانی وسائل کی وزیر تھیں ،تب اٹارنی جنرل کے مشورہ کو قبول کر لیا گیاتھا۔ اب یہی بات کورٹ کے سامنے حکومت رکھنے جارہی ہے۔ غور طلب ہے کہ جامعہ کو یونیورسٹی کا درجے دلانے کے لئے بھی اسی پروسیز کو اپنایا گیا تھا،جسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے اپنایا گیا۔ حالانکہ جامعہ پر درخواستوں کی سماعت کی تاریخ ابھی نہیں آئی ہے، جب درخواستوں کی سماعت ہو گی تب مرکزی حکومت ایک نیا حلف نامہ داخل کرے گی۔فی الحال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اب  جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ہائی کورٹ میں جارہا ہے۔حالانکہ جامعہ کے وائس چانسلر اس معاملے پر خاموش ہیں۔ البتہ قانونی سیل کا کہنا ہے کہ ، یہ حیرت انگیز نہیں تھا کیونکہ یہ یوپی اے 2 کے وقت سے چل رہا ہے۔جب کہ این سی ایم ای آئی کے مطابق مسلمانوں کے فائدے کے لئے جامعہ کو مسلمانوں کی طرف سے قائم کیا گیا تھا۔ اسے اپنی مسلم اقلیتی تعلیمی ادارے کی شناخت کبھی نہیں کھوناچاہئے۔ واضح ہوکہ 2011 کے این سی ایم ای آئی کے حکم پر یونیورسٹی نے ایس سی/ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات کے طلباء کے لیے ریزرویشن ختم کر دیا تھا اورجامعہ میں مسلم اسٹوڈنٹس کے لئے آدھی نشستیں ریزرو کر دی گئی تھیں۔
 
جامعہ اور اے ایم یو نشانے پر کیوں؟
 
یہ بات اول دن سے صاف ہے کہ اے ایم یو اور جامعہ کا قیام مسلمانوں نے کیا تھا اور مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے کیا تھا۔ صحافی سیما چشتی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کچھ مماثلت ہے۔ یہ دونوں ادارے مسلمانوں کی تعلیم کے لئے بنائے گئے ہیں۔ اے ایم یو کو سرسید احمد خاں نے 1875ء میں مدرسۃ العلوم کے طور پر قائم کیا تھا جو بعد میں محمڈن اینگلواورینٹل کالج بن گیا۔ وہ اپنے مضمون میںمزید لکھتی ہیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بیج علی گڑھ میں ہی پڑی جسے قوم پرست طلباء اور اساتذہ نے قائم کیا اور پھر اسے دہلی لائے۔ ڈاکٹر مختار احمد انصاری، ڈاکٹر ذاکر حسین اور مہاتما گاندھی نے اسے قوم پرستی کے خطوط پر چلانے کے لئے مہمیز کیا۔ سیما چشتی کی طرح دوسرے لوگ بھی مانتے ہیں کہ ان اداروں کو مسلمانوں نے ،مسلمانوں کی تعلیم کے لئے قائم کیا تھا مگر ایک دوسری سچائی یہ ہے کہ ان اداروں کو سنٹرل یونیورسٹی کا درجہ دلانے کے چکر میں ان اداروں کے ذمہ داران نے ان کے اقلیتی کردار سے سمجھوتہ کیا تھا۔انھیں لگتا تھا کہ سنٹرل یونیورسٹی کا درجہ ملنے سے ان کی تنخواہیں بڑھ جائینگی۔ دہلی میں ہی حکیم عبدالحمید کا قائم کردہ اقلیتی ادارہ ہمدردیونیورسٹی کے نام سے موجود ہے،جسے ڈیمڈ یونیورسٹی کا درجہ ملا ہوا ہے مگر اسے سنٹرل یونیورسٹی نہیں بنایا گیا کیونکہ اس سے اس کی اقلیتی حیثیت مجروح ہوسکتی تھی۔ حالانکہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس ‘‘ کی بات کرنے والی سرکار اگر مسلمانوں کی تعلیم کے تئیں ذرا بھی سنجیدہ ہوتی تو کورٹ میں پرانے موقف کو بدلنے کی بات نہیں کہتی۔ یہ سرکار کا دوہرا رویہ ہے کہ ایک طرف تو وہ وزارت اقلیتی امور کی طرف سے مسلمانوں کے لئے اسکولوں، کالجوں اور تعلیمی انسٹی ٹیوشنس قائم کرنے کی بات کر رہی ہے تو دوسری طرف دو پرانے اداروں کے اقلیتی کردار کے خلاف اقدام کر رہی ہے۔
 
 ’’مسلم تشتی کرن ‘‘کا افسانہ اور اقلیتی تعلیمی ادارے
 
بھارت میںجب بھی اقلیتوں کی بات ہوتی ہے تو مسلمانوں کی ہی تصویر سامنے آتی ہے جبکہ مسلمانوں کے علاوہ عیسائی، بودھ ، سکھ، پارسی اور جین یعنی کل چھ گروہوں کو اقلیت کا درجہ دیا گیا ہے۔یہاں کبھی سکھوں کی نظر سے، جین سماج کی نظر سے یا بدھ مت والوں کے پہلو سے اقلیت کو دیکھا ہی نہیں جاتا ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بھارت کی آبادی میں اقلیتوں کا حصہ 19 فیصد ہے اور اس میں سب سے بڑا گروپ مسلمانوں کا ہی ہے۔ جس طرح اقلیتی بہبود کی وزارت کا نام آتے ہی اسے ’’مسلم تشٹیکرن‘‘ کے چشمہ سے دیکھا جانے لگتا ہے، اسی طرح ان تعلیمی اداروں کا نام لیتے ہی لوگ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ ہی کو دیکھنے لگتے ہیں ، یہ بھول جاتے ہیں کہ اس ملک میں مختلف مذہبی اور لسانی کمیونیٹیز کے 13 ہزار سے زیادہ اقلیتی تعلیمی ادارے ہیں۔پنجاب میں ہی جین سماج کے، آریہ سماج کے اور سکھ سماج کے اقلیتی ادارے ہیں۔ جین اور عیسائی سماج کے بھی بڑے بڑے کالج ہیں۔ ان اداروں میں بھی وہی اصول ہیں جو جامعہ یا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے ہیں۔نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل کے اولین چیئرمین جسٹس سہیل صدیقی نے کہا کہ ان کی نظر میں پورے ملک میں مسلمانوں کے لئے یہی دو لائق یونیورسٹیاں ہیں۔ کچھ اور ہوں گی لیکن نام بھر کی ہیں۔ پتہ نہیں کیوں بار بار یہی ادارے تنازعات کے گھیرے میں آ جاتے ہیں۔ اگر حکومت کو دقت ہے تو دو نہیں دس کالج، یونیورسٹی کھول دے۔ بار بار اے ایم یو اور جامعہ ملیہ کو لے کر یہ تنازعہ کیوں پیدا کیا جاتا ہے، جیسے ان کے اقلیتی ہونے سے بڑا بھاری نقصان ہو رہا ہے، تشٹیکرن ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حال ہی میں کچھ جگہوں پر چھپا ہے کہ حکومت جامعہ ملیہ کااقلیتی درجہ واپس لینے جا رہی ہے جبکہ حکومت نے اپنی طرف سے کچھ بھی ایسا نہیں کہا ہے۔ اس سے پہلے 2016 میں بھی ایسی خبریں شائع ہوئی تھیں اور اس بار بھی، 7 اگست کو خبر شائع ہوئی کہ مرکزی حکومت، کورٹ سے اپنا حلف نامہ واپس لینے جا رہی ہے۔وزارت، عدالت سے کہنے جا رہی ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کبھی اقلیتی ادارہ تھا ہی نہیں، کیونکہ اسے پارلیمنٹ کے ایکٹ سے قائم کیا گیا ہے، مرکزی حکومت اسے فنڈ کرتی ہے۔ اصل میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اقلیتی تعلیمی ادارے قائم کرنے کے پیچھے مقصد کیا ہوتا ہے اور کون لوگ ہوتے ہیں ، اگر ’’ون نیشن، ون ٹیکس‘‘ والے ملک میں مائنارٹی ادارے ختم کرنے کی دلیل ، واٹس ایپ پر چلائی جا رہی ہے تو کیا انہیں معلوم ہے کہ یہی دلیل جین، بدھ اور سکھ اداروں پر بھی لاگو ہوگی۔ بہتر ہے کہ ہم آئین میں مائنارٹی کی تعریف اور ان کی بہبود کے لئے قائم اداروں کی پوزیشن کو مناسب طریقے سے سمجھ لیں،کیونکہ بات صرف جامعہ کی نہیں ہے ، بلکہ بات کئی ہزار مائنارٹی اداروں کی بھی ہے۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 218