donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shahid Jameel
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* اُداس جنگل کے زرد پتّے *
اُداس جنگل کے زرد پتّے

اُداس جنگل کے زر د پتے
تمہیں پتہ میری حسرتوں کا ضرور دیں گے
تمہیں کہ مجھ کو
خبر نہیں ہو
انہیں خبر ہے کہ کس نے میرے وِشال ہاتھوں کو ہتھیلی بنا کے چھوڑا
اُداس جنگل کے زرد پتے محاذ سے لوٹتے ہوئے غم سے با خبر ہیں
یہ جانتے ہیں کہ کب اچانک ہمارے قدموں سے چرخیاں سی لپٹ پڑی تھیں
وہ چرخیاںننھے منّے بچوں کا کھیل کب تھیں؟
وہ چرخیاںسبز سبز شاخوں کی بیل کب تھیں؟
وہ چرخیاںسائرن کی چیخوں پرمسکراتی بلائے جاں تھیں
وہ چرخیاں!
درحقیقت اپنے سُلگتے پیروں کی بیڑیاں تھیں!
اے کاش!!
اُس روز
زرد پتوں کی ایک
ادنیٰ سی کھڑکھڑاہٹ بھی
ہم پہ تھوڑی سی ہوش مندی
اُچھال دیتی
تو چرخیوں کی دعا ہماری سزا نہ بنتی
مگر صدا فسوس !
ہم میں کوئی بھی ایسا باقی نہیں بچا تھا
جو اپنا چہرہ چراغ لے کر بھی
ہائے!
اُس روز ڈھونڈ سکتا!!

اُداس جنگل کے زرد پتّے یہ جانتے ہیں
اُجاڑ، بنجر، لٹی لٹائی سی زندگی کا نیا تصور
مجھے بھی ہر اک کے ساتھ جنگل میں کھینچ لایا
(پرائی دھرتی کی قید سے تو یہ زرد جنگل بُرا نہیں تھا؟)
مگر
یہاں اب مرے علاوہ کوئی نہیں ہے
یہاں ہر اک غم، ہر ایک جذبہ، ہر ایک رشتہ مجھی تلک ہے
یہاں نہیں ہے لہو لہو آسماں کا کوئی طویل وعدہ
یہاں نہ مہندی کے ہاتھ پھیکے
یہاں نہ ممتا کی گود خالی
یہاں نہ پیاروں کا پیار سا
یہاں نہ یاروں کا غم ذرا سا
یہاں کی میٹی پر قضہ کچھ بھی نہیں ہے ایسا
یہاں کی مٹی میں صرف میرے شکستہ زخموں کی خوشبوئیں ہیں
یہاں کی مٹی میں میرے ہاتھوں کی بے ہتھیلی حقیقت ہیں
اُدا س جنگل کے زرد پتّے ہیں یا
کہ میں ہوں
کہ سبز موسم کا ہر سُہانا شباب منظر
مری نگاہوں سے آگے اور آگے
کافی آگے نکل چکا ہے
کوئی بتائے!
مرا خدا کیا بدل چکا ہے!!
٭٭٭
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 376