donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shahid Jameel
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* آوارہ سمندر *
آوارہ سمندر

سمندر کی زر خیز آوارگی نے مقدس زمینوں پہ
دست آمائے ہونے سے قبل
سوچا نہیں تھا
کہ نازک ادا کھیتیاں
شوخ چنچل ہوائوں کی دہلیز پر
بے سبب، ہی نہیں رقص کرتی رہی ہیں
سمندر بپھرتی ہوئی کھیتیوں سے کبھی آشنا ہی نہیں تھا
سمندر کبھی شوخ چنچل ہوائوں کو طوفان کا ہم پیالہ سمجھتا نہیں تھا
سمندر تو خوش تھا ( کہ آوارہ پھرنے سے آسان و بہتر نشہ اور کیا تھا)
سمندر کی آوارگی یوں زمینوں کی عصمت دری سے سبکدوش ہوتی رہی
برس آتے جاتے رہ
صدی پر صدی کی تہیں دُھول بن بن کے جمتی رہیں
اور پھر ایک دن اس طرح بھی ہوا
سمندر۔ اِدھر سے اُدھر، اس جگہ، اُس جگہ
سب مقدس زمینوں کا خول چاٹتے چاٹتے
در بدریوں بھٹکتا ہوا
اپنے مرکزسے ہٹتا ہوا۔ دور اور دور ہوتا گیا
ریزہ ریزہ حسابوں میں بٹتا ہوا
کھیتوں، کھلیانوں ، باغوں میں محصور ہوتا گیا
اب یہ عالم ہے
ساری مقدس زمینوں کی نازک ادا کھیتیاں
انتقام آزما ہو چکی ہیں
حسیں، شوخ ، چنچل ہوائیں
کہ طوفان کی ہم نوا ہو چکی ہیں
سمند ر کی زر خیز آوارگی
کھیتیوں سے لپٹ کر۔ کہ اب اُن کے پائوں تلے بہہ رہی ہے
سبھی جانتے ہیں!
بہائو کا یہ راستہ
شہر ہی کی طرف گامزن ہے
جہاں ڈھیر ساری بچاری ہوا کو ترستی ہوئی نالیاں ہیں
سمندر کا جو حشر ہوگا
خدا جانتا ہے!!
٭٭٭
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 341