donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shahid Jameel
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* ایک تنہا اُداس موسم *
ایک تنہا اُداس موسم

(۱)
میں ایک تنہا اُداس موسم
کہ مجھ سے میری اُداسیوں کا حساب مت لو
مِری اُداسی میں ضم ہے میری خزاں رسیدہ گلوں کی آہٹ
مری اُداسی میں ضم ہے میرے شکستہ زخموں کی مسکراہٹ
یہ مسکراہٹ کہ جس کی تہہ میں میری اُمیدوں کی ہر بشارت کو یہ خبر ہے
کہ میری تنہائی اور اُداسی کے درمیاں یہ جمود کیا ہے
نگاہ اندر نگاہ گُم صم مسرتوں میں نمود کیا ہے
کہ مجھ سے میری اُداسیوں کا حساب مت لو
نہ مجھ کو اپنی روایتوں میں کسی غبارِ سفر کا کوئی امام لکھو
کہ لکھ سکو تو مری اُداسی کے نام لکھو۔ مری جوانی
مری اُداسی کے نام لکھو مرے دھندلکوں کی داستانیں
مری اُداسی کے نام لکھو، مری صدائوں کی باز گشتوں میں گم زبانیں
کہ میں خود اپنے بیاں سے باہر
مرے لہو کے چراغ جلتے ہیں میرے ہی آسماں سے باہر
 جہاں نہ کوئی صدا، نہ خوشبو، نہ کوئی شبنم
کہ چاروں جانب
بس اک خلا، جس کو میری محرومیوں نے مل کر جنم دیا ہے
کہ جس میں موجود میرے خوابوں کا جلتا بُجھتا سا ایک ہالہ
کبھی جو روٹی
کبھی ستارہ
کبھی کوئی چاند بن کے اُبھرے
جو میرے ہونٹوں کو پھول کردے
کہ میری آنکھوں کو دھول کردے
کہ میں خدا کو صدائیں دیتا جنوں سے سرگوشیوں میں مشغول
خود کلامی کے بیکراں عالمِ فسوں میں نڈھال
بے سمت، بے جہت، بے امان آوارگی میں مقسوم
لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں
میں چاہتا ہوں
کہ تم مری نامراد آنکھوں سے میرا کوئی بھی
خواب مت لو
میں جو ہوں، جیسے ہوں، جس طرح بھی ہوں
مجھ سے کوئی حساب مت لو


(۲)
میں ایک تنہا اُداس موسم
کہ مجھ سے میری اداسیوں کا حساب لے کر بھی کیا کروگے
کہ میرے زخموں کا ہر رسالہ
مرے سرابوںکی دھند میں یوں رواں دواں ہے
شکستہ ہونٹوں کے جام جیسا
مرے دھندلکوں کی شام جیسا چمکنے والا کوئی ہیولیٰ
مرے غموں کی طویل تر رہگزر پہ بجھ بجھ کے جل رہا ہے
کہ میری آنکھوں سے عکس بن بن کے قطرہ قطرہ پگھل رہا ہے
وہ اک ہیولیٰ۔ صبیح صبحوں سا پیارا معصوم چاند کوئی
وہ اک ہیولیٰ۔کسی سے ملنے کی سب امیدوں کا جھلملاتا ہوا ستارہ
وہ اک ہیولیٰ۔گلی محلوں سے، شہر کی نا تمام سڑکوں سے جھانکتی
حسرتوں کی خاطر حسین روٹی
وہ اک ہیولیٰ مرے غموں کی طویل تر رہگزر پہ بجھ بجھ کے جل رہا ہے
کہ میری آنکھوں سے عکس بن بن کے قطرہ قطرہ
پگھل رہا ہے

(۳)
وہ اک ہیولیٰ۔کہ سات رنگوں کے ایک دریا کا اک کنارہ
اور اس کنارے کے ایک جانب کھڑا ہوا میں
گماں کی مٹھی میں دقت جیسی سنہری سبز ریت بھر کے
چٹان راتوں کے سائے سائے
یقین کی طرح ایک مدت سے جاگتا ہوں 
میں ایک موسم
اُداس تنہا شجر کی مانند
جانتا ہوں
کہ میری تنہائیوں کی وحشت
کسی بھی محفل کے قہقہوں میں اُگے ہوئے جنگلوں کے دکھ سے 
کہیں زیادہ عظیم تر ہے
مری اُداسی کی ہر حقیقت
کسی مسرت سے
معتبر ہے
٭٭٭
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 395