donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shahid Jameel
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* سرگذشت لمحۂ موجود *
سرگذشت لمحۂ موجود

ابھی خوابوں کی وادی میں اُمیدوںکا اجالا ہے
ابھی چہروں کے گلشن کا ہر اک غنچہ مہکتا ہے
ابھی میرے تجسس کا چلن کچھ اور کہتا ہے
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

ابھی آنکھوں کے روزن میں وفا کی جگمگاہٹ ہے
ابھی ہر ہونٹ پر ہلکی سہی اِک مسکراہٹ ہے
ابھی سے نااُمیدی کیا، ابھی کانوں میں آہٹ ہے
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

ابھی بحرِ انا سے کتنے ہی طوفان اٹھیں گے
وفا کی قسمیں کھا کھاکر بتِ بے جان اٹھیں گے
رگوں میں گونجتا ہے شور، ابھی ہیجان اٹھیں گے
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

توانائی ابھی انگڑائیاں لیتی ہے نس نس میں
سراپا تیرا میرا ہے ابھی تیرے مرے بس میں
ابھی کرنے ہیں کچھ وعدے، ابھی کھانی ہیں کچھ قسمیں
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

وقارِ شیشۂ جذبات دردِ دید باقی ہے
مکمل ہو گئی ہے داستاں، تمہید باقی ہے
تِرے میرے حقائق کی ابھی تائید باقی ہے
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

ہماری آرزوئوں میں اگر اک عزم زندہ ہے
شکستہ، ٹوٹا پھوٹا سا مگر اک عزم زندہ ہے
ابھی قدموں کو ہے شوقِ سفر، اک عزم زندہ ہے
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

مراحل زندگی کے زندگی محسوس کرتے ہیں
قدمِ راہ ِ وفا میں روشنی محسوس کرتے ہیں
ابھی تو داغِ دل تابندگی محسوس کرتے ہیں
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

ہمارے عکس پاکر فاصلوں کی جھیل روشن ہے
یہیں پر ہے کہیں منزل، وہ سنگِ میل روشن ہے
ابھی تو تیرے میرے خوابوں کی قندیل روشن ہے
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

بدن میں گنگناتے ہے ترانے تیرے ہاتھوں کے
مری تقدیر بنتے ہیں فسانے تیرے ہاتھوں کے
ابھی روشن رہیں گے یہ زمانے تیرے ہاتھوں کے
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

ؒتِرے میرے تعلق سایہ اُجلا ، دودھیا سا دن
کہیں پر چھوڑ آیا ہے ہزاروں سانحے گن گن
چلو مانا دھواں بن کر کبھی ڈس جائے گا لیکن
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

کہانی ڈسنے والی رات کی ہم کو نہیں سننی
حقیقت منجمد لمحات کی ہم کو نہیں سننی
اندھیری بے وفا برسات کی ہم کو نہیں سننی
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

من و تو سے پرے کوئی تعلق اور ہے ہوگا
گھنی شاخوں میں اپنا حال زیرِ غور ہے ، ہوگا
دھندلکے لوٹ آئیں گے، یہی کچھ طور ہے ، ہوگا
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

شبِ تار آشنا وعدوں کی پروا کون کرتا ہے؟
بکھرتے ٹوٹتے چہروں کی پروا کون کرتا ہے؟
سلگتی ریت پہ قطروں کی پروا کون کرتا ہے؟
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

شبِ تاریک کی تنہائیوں کی فکر کس کو ہے؟
سمندر ہے تو کیا گہرائیوں کی فکر کس کو ہے؟
دلِ مضطر ! خیال آرائیوں کی فکر کس کو ہے؟
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

تری آنکھوں میں میری آرزو اکتا رہی کیوںہے؟
تمنا دھڑکنوں کی ڈور کو الجھا رہی کیوں ہے؟
ابھی سے خوابوں کی تابندگی کجلا رہی کیوں ہے؟
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

نہیں ہے الف لیلہ تو، ترا غم داستانی کیوں؟
شبِ آوارہ کی محتاج ہے تیری کہانی کیوں؟
دھواں سا عکس دکھلائے بھلا شفّاف پانی کیوں؟
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

مرے ہمدم! تجھے میری طرح فکرِ جہاں کیوں ہو؟
کسی کا گھر جلے، تیرے کلیجے میں دھواں کیوں ہو؟
تِری میری سفیدی پر اندھیرا مہرباں کیوں ہو؟
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

گھٹن ہے دردِ لا محدود کی تجھ میں، کہیں مجھ میں
دعاء ہے منزلِ مقصود کی تجھ میں، کہیں مجھ میں
چمک ہے لمحۂ موجود کی تجھ میں، کہیں مجھ میں
ابھی ۔ سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

مِرے خوابوں نے تجھ کو زندگی کاشہر بخشا ہے
تِرے وعدوں نے مجھ کو بے بسی کا زہر بخشا ہے
مِرے اور تیرے دکھ نے دوپہر کو قہر بخشا ہے
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

مِرے اور تیرے دکھ کی دوپہر کی داستاں سورج
 شبِ تار آشنا وعدوں میں لپٹا بے زباں سورج
کبھی ہے مہر باں سورج، کبھی نا مہر باں سورج
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

زباں جامد نہ ہو جائے کہیں، الفاظ لے کر آ
کسی پیکر میں ڈھل کے آ مگر آواز لے کر آ
مرے ہمدم ذرا پھر سے وہی انداز لے کر آ
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

مناظر کی جبیں لکھتی ہے کیا روشنی پڑھ لے
مِرے چہرے پہ میرے یار اپنی آگہی پڑھ لے
ابھی اوراقِ روشن ہیں ، کتاب زندگی پڑھ لے
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

خزانے دھوپ چھائوں کے ، لئے جائیں، دئیے جائیں
گریبانِ تمنا چک کرکے سئیے جائیں
ہزاروں بار دل کے آئینے صیقل کئے جائیں
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے

ہماری خواہشوں سے پھول کے پیکر کہاں نکلے؟
سمندر اور گھٹ جائے ابھی گوہر کہاں نکلے؟
ابھی ہم آسماں کے سحر سے باہر کہاں نکلے؟
ابھی سورج چمکتا ہے، ابھی سورج چمکتا ہے
٭٭٭
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 423