donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shahid Jameel
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* اشعار *
اشعار 
	
سانحے بن کر پرندے داستاں تک جائیں گے
آسماں خالی سہی، سب آسماں تک جائیں گے
+++
نہ وہ کمرہ تھا، نہ آنگن تھا،نہ وہ پھول کا پیڑ
لوٹ کے گھر جو گیا تو بڑی حیرانی تھی !
+++
گھٹن کے وقت سبھی دائرے کے اندر تھے
ہوا چلی تو کوئی شخص ہم مزاج نہ تھا
+++
آنے والی نسل کو مقروض یوں کرتے رہے
جانے والے کو بہت ساری دعائیں دی گئیں
+++

کدھر کو لوٹ کے جائے گی گمرہی اُس کی 
اُسی کے نام سے ہیں، انتساب جتنے ہیں
پُکارتا ہے وہ منظر، نہ دیکھو، جانے دو
اُجاڑ راتوں میں ڈستے ہیں خواب جتنے ہیں
+++
وہ تمہاری آنکھ سے ٹپکا مگر
میرے قصے کو بہا کر لے گیا
+++
تشنگی تیری کبھی مجھ میں بھی انگڑائی تو لے
میں سمندر ہوں کہ آمیری شنا سائی تو لے
میرے ہونٹوں میں ہے تیرے ہرتبسم کی ادا 
گونجتی دیواروں سے اندازِ تنہائی تو لے
دردکا رشتہ کسی بازار میں بکتا نہیں
پڑھ میرے چہرے کی تحریریں، یہ گہرائی تو لے
+++
بزم کیسی کہ کہیں ذکر تراہی نہ چلے
پتیاں ہلنے کوہوں اور ہواہی نہ چلے
وہ جو کچھ تجھ میں نظر آتا ہے اک دوری سے
آکے نزدیک سے دیکھوں تو پتہ ہی نہ چلے
+++
ہر لمحہ بکھر نے کی نئی طرز نہ بدلو
ویسے بھی یہاں آنکھوں کی بھر مار رہی ہے
+++
آئینہ سامنے ہے، پیچھے ہے دُشمن میرا
دیکھو پتھر لئے خاموش کھڑا ہوں کیسا
یاد، غم، درد، تڑپ، پیاس ، گھٹن، تنہائی
دیکھتے دیکھتے آباد ہوا ہوں کیسا
تھک گئیں چیخنے والوں کی صدائیں شاہدؔ
سُن کے آواز مگر اپنی ،مڑا ہوں کیسا
+++
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 414