donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shahid Jameel
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* ماضی کہیں نہیں ہے *
ماضی کہیں نہیں ہے

وہ دور ہے تو کیا ہے
غم پاس ہے تو کیا ہے
احساس ہے تو کیا ہے
میں پھر بھی جی رہا ہوں

وہ کھو گیا تو کیا ہے
گم ہو گیا تو کیا ہے
منظر کے پار اُس کو
میں پھر بھی دیکھتا ہوں

میں پھر بھی ڈھونڈتا ہوں
وہ کانچ کی چٹانیں
میں جن کے رقص میں ہوں
میں جن کے لمس میں ہوں
میں جن میں عکس بھر کے
خود کانچ ہو گیا ہوں

اس کانچ کے حوالے
جو میری روح میں ہے
یادوں کی برچھیاں ہیں
خوابو ں کی کشتیاں ہیں
اشکوں کی وادیاں ہیں
میں پھر جی رہا ہوں

اب جب کہ جی رہا ہوں
اور پار کر چکا ہوں
وہ پل صراط غم کا
بس ایک ہی دعاء ہے
کوئی کہیں سے آئے
اور آکے یہ خبر دے
کچھ بھی نہیں ہوا ہے
میں یخ زدہ نہیں ہوں
میں غم زدہ نہیں ہوں
میں بے صدا نہیں ہوں
ماضی کہیں نہیں ہے
میں آج بھی وہی ہوں
میں آج بھی وہی ہوں
میں آج بھی وہی ہوں
٭٭٭
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 396