donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Aasi Ghazipuri
Poet/Writer
--: Biography of Aasi Ghazipuri :--

Aasi Ghazipuri

 

علامہ حضرت آسی غازی پوری
 
تاریخ ولادت ووفات
 
؍۱۹شعبان المعظم ۱۲۵۰ء تاریخی نام ظہورالحق، تاریخ وفات ۲؍جمادی الاولیٰ ۱۳۳۵ھ مطابق ۲؍فروری۱۹۱۷ء  نام محمدعبد العلیم صاحب المتخلص بہ آسیؔ ،آپ کے والد ماجد قطبُ العارفین حضرت شیخ قنبرحسین قدس سرہٗ نسباً سلسلہ جدی سے انصاری تھے، جدمادری آپ کے اجدادکے بندگی شیخ مبارک قدس سرہٗ تھے جوحضرت مولانامظفربلخی کی اولاد میں تھے اورعدن سے سکندرپورتشریف لائے تھے جن کامزارمبارک سکندرپورمیں حضرت پیرومرشد کے مکان سے قریب زیارت گاہ خلائق ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ قاضی پورہ ضلع آرہ کی تھیں جوحضرت مفتی احسان علی صاحب قدس سرہ کی پوتی تھیں حضرت مفتی احسان علی صاحب قدس سرہٗ حضرت شاہ غلام حیدرصاحب بلیاوی قدس سرہٗ کے اجل خلفاء میں تھے بارہ برس کی عمر سے تاوفات مفتی صاحب قدس سرہٗ کی نمازِتہجد کبھی قضانہیں ہوئی تھی مفتی صاحب کی اہلیہ صاحبہ کوحضرت خاتون جنت رضی اللہ عنہاکی حضوری اس طرح حاصل رہتی تھی کہ ادنیٰ ادنیٰ سی بات میں بغیرخاتونِ جنت سے دریافت کئے ہوئے کوئی کام نہیں کرتی تھیں کسی نے کوئی بات پوچھی آپ نے فرمایا کہ حضرت بی بی سے دریافت کرلوں توجواب دوں، آنکھیں بند کرتیں اورفوراًپوچھ کے جواب دے دیتیں۔
 
حضرت کی والدہ ماجدہ کاانتقال حضرت کی صغرسنی میں ہوگیا تھا، نانی صاحبہ نے پرورش کی والد ماجد کی بیعت اورحضرت کے پیرومرشد قطب الہندابوالخیرحضرت شاہ غلام معین الدین قدس سرہٗ کی بیعت قطب العالمین قیام الحق محی الدین حضرت شاہ امیرالدین حیدری رشیدی قدس سرہٗ کے دستِ مبارک پرایک ساتھ ہوئی تھی اورتعلیم ظاہری وباطنی بھی ساتھ ساتھ ہوئی خلافت بھی دونوں بزرگوںکوایک ساتھ عطاہوئی حضرت فرماتے تھے کہ میرے پیرومرشد اوروالد ماجد کے مراتب میں صرف اس قدرفرق تھاکہ والد ماجد سے ایک رازوقتِ وصال فاش ہوااور پیرومرشد وقتِ وصال بھی ضبط کرلے گئے واقعہ یہ تھاکہ شب عاشورۂ محرم میں جب آپ کی حالت ردی ہوئی اوراعزپریشان تھے آپ نے فرمایاکہ میری حالت کی وجہ سے تم لوگ رسم تعزیہ داری میں کوئی تاخیرنہ کرواورجس طرح تمام رسومات اداہوتی تھیں اداکرواورمجھ کو چھوڑکے جائوشب کے اخیرحصہ میںجب وقتِ وصال قریب آیاتوآپ نے فرمایاکہ حضرت سیدالکرنین علیہ السلام مع کل صحابہ اورسیدالشہدأاورجملہ پیرانِ کرام کے مجھ کواپنے ساتھ لے جانے کیلئے تشریف لائے ہیںاب میںان لوگوںکے ساتھ جاتاہوںسب سے رخصت ہوئے کلمہ طیبہ پڑھا اورروح پروازکرگئی چہرۂ مبارک کے سامنے دیوارپرسفیددائرہ روشنی کااندھیری رات میں اس طرح سے نمودارتھا کہ جیسے آفتاب کاعکس پڑتاہوجب صبح ہوئی اورروشنی بڑھتی گئی تووہ عکس مٹتاگیا۔
 
حضرت کی شادی غازی پورمحلہ نورالدین پورہ میں منشی راحت علی صاحب کی بڑی صاحبزادی سے ہوئی تھی،منشی راحت علی صاحب امامیہ مذہب کے تھے، ان کی صاحبزادی بھی امامیہ مذہب کی تھیں،حضرت نے کبھی اپنی اہلیہ سے تبدیل مذہب کا ذکرنہ کیا، مگرانہوں نے خود ہی کچھ د نوں کے بعد حضرت کا مذہب اختیارکرنے کی درخواست کی منشی راحت علی صاحب نے اپنی وفات کے قریب شاہ محمد معصوم صاحب کوجوشاہ مراد عالم صاحب گورکھپوری کے اکمل خلیفہ تھے آپ کاسلسلہ بیعت حضرت شاہ سلیمان صاحب طوسوی رحمتہ اللہ علیہ سے ملتا تھا اپنے پاس بلایااور کہاکہ آپ درویش ہیں اورمجھ کوآپ سے عقیدت ہے آپ کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے آپ یہ فرمایئے کہ آپ کامذہب حق پرہے یامیرا شاہ محمد معصوم صاحب نے فرمایاکہ ہمارا مذہب حق ہے منشی راحت علی صاحب نے حضرت شاہ محمد معصوم صاحب سے اورحضرت صاحب قدس سرہ سے فرمایاکہ آپ لوگ گواہ رہیئے میں آپ کا مذہب اختیارکرتاہوں اس کے بعد وفات پائی۔
 
حضرت صاحب کی اولادیں بہت تھیں مگرسن بلوغ کوبڑی صاحبزادی پہنچیں جن کا اسمِ مبارک جنت بی بی تھا،ان کی شادی غازی پورکے محلہ شجادل پورمیں مولوی عبدالرشید صاحب سے ہوئی تھی مگرافسوس کہ عین شباب میں چھ سال کی ایک لڑکی چھوڑکردارالبقاکی راہ لی۔صاحبزادی صاحبہ کانام عزت بی بی ہے۔ 
عزت بی بی کی شادی حضرت نے اپنے ماموں زاد بھائی جناب مفتی وحید صاحب قدس سرہٗ ساکن قاضی پورہ ضلع آرہ کے صاحبزادہ مولوی غلام قادرمرحوم سے کی تھی تاریخ عقد ۱۱؍ ذی القعدہ ۱۳۲۳ھ تھی خداکی مشیت کہ شادی کے چندہی دنوں بعد مولوی غلام قادرمرحوم کاانتقال ۲۳؍محرم ۱۳۲۴ھ؁ کوبہمن برہ شریف کے آستانہ پربعارضہ طاعون ہوگیا حضرت بھی اسی آستانہ پرتشریف فرماتھے، جوں ہی خبرملی کہ روح پروازکرگئی فوراًنمازکیلئے کھڑے ہوگئے فرمایا کہ اللہ تیراشکرہے یااللہ تیراشکرہے اورنمازکی نیت باندھ لی حضرت نے یہ بھی فرمایا تھا کہ آج مجھ کومیرے پیرنے اپنا سا بنا لیا مولوی غلام قادرمرحوم کی بیعت ہنوزہونے نہ پائی تھی مگران کی تعلیم وتلقین حضرت سے ہوتی تھی، حضرت ان کے بارے میں فرما تے تھے کہ جوترقی باطنی دوسروں کوبرسوں میں ہوتی ہے ان کوایک دن میں ہوتی تھی، حضرت اپنی والدہ ماجدہ سے اکیلے تھے، البتہ دوبھائی اورایک بہن سوتیلی تھیں جن کانام عبدالاحد اورعبدالواحد صاحب تھا مولوی عبدالاحد مرحوم کے ایک صاحبزادے تھے جن کانام عبدالصمد تھا،مولوی عبدالصمد صاحب حاذق طبیب اوربہت ہی بے نفس آدمی تھے ان کے دوصاحبزادے ہیں مولوی محموداورمولوی حامد۔
مولوی عبدالاحد مرحوم جب بعارضۂ موت مبتلا ہوئے تواخیرمیں ان پرکئی روزتک نزع کی کیفیت طاری رہی مگرکلمہ طیبہ منہ سے نہیں نکلتا تھا،حضرت فرماتے تھے کہ میں سرہانے بیٹھ کرسورۂ یٰسین پڑھ رہاتھا ان کے منھ سے کلمۂ طیبہ جاری نہ ہونے کی وجہ سے بہت پریشان تھا، سورۂ یٰسین پڑھتے پڑھتے غنودگی طاری ہوئی اور اپنے پیرومرشد حضرت شاہ غلام معین الدین صاحب قدس سرہٗ کوخواب میں دیکھاکہ فرماتے ہیں،حلیم ،تم کیوں پریشان ہووہ مریدمیراہے کہ تمہارا؟اس کے بعد آنکھ کھل گئی اورمولوی عبدالاحدصاحب کوکھانسی بڑے زورکی آئی اورایک بلغم کابہت بڑاٹکڑاخارج ہوا جس سے ان کی تکلیف بالکل رفع ہوگئی اورکلمہ منہ سے جاری ہوا،تین روزحیات رہے اورسوائے کلمہ ٔ طیبہ کے کوئی لفظ منہ سے نہیں نکلا۔حضرت کے تین چچاتھے جن کانام قلندرحسین، قنبرحسین ،الطاف حسین تھا، ایک کے صاحبزادگان مولوی ولی الحسنین، مولوی وصی الحسنین، محمد خلیل احمد، محمدوحید،محمد اسعد، محمد سلیم،محمد عبدالقدوس، وکیل احمدمرحومین تھے، مولوی ولی الحسنین کے صاحبزادے مولوی محمداحمد صاحب اورمولوی وصی الحسنین کے صاحبزادے مولوی نورالعینین صاحب مرحوم اور مولوی عبدالقدوس کے ایک صاحبزادے اوردوصاحبزادیاں تھیں صاحبزادے کانام مولوی عبدالسلام مرحوم تھا،ایک صاحبزادی سلیم پورمنجھولی ضلع گورکھپورمیں قاضی عبدالرب صاحب سے بیاہی تھیں۔
 
دوسرے چچاکے دوصاحبزادے تھے، مولوی عبدالعزیزاورمولوی محمدظہورمرحومین مولوی عبدالعزیزصاحب کے ایک صاحبزادے اورایک صاحبزادی تھیں، صاحبزادے کانام مولوی عبدالحمیدمرحوم تھا،صاحبزادی حکیم مولوی عبدالصمدصاحب سے بیاہی تھیں،محمدظہورصاحب کے ایک صاحبزادے ہیں جن کانام ملانظام الدین صاحب ہے، حضرت کے چچازادبھائیوں میں املاک خاندانی تقسیم ہوچکی تھیں مگرمولوی محمدظہوراورمولوی عبدالعزیزمرحومین حضرت کے شریک رہے حضرت کی نواسی عزت بی بی صاحبہ جوبہنی صاحبہ کے نام سے مشہورہیں بفضلہ حی اورقائم ہیں،اورحضرت کے آستانہ پاک اورزائرین کی باوجودتوکل کے حتی الامکان خدمت اورخاطرمدارات میں ذرہ برابرکمی نہیں کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی ذات بابرکات کوتادیرقائم رکھے اورآفاتِ ارضی وسمادی سے محفوظ رکھے ،آمین۔
 
ہم لوگوں کے حضرت پیرومرشدکی یہی ایک نشانی ہیں، حضرت کی ایک صاحبزادی جنہوںنے بلوغ کے قریب وصال فرمایاتھاان کے بارے میں حضرت فرماتے تھے کہ بچپن سے لے کروفات تک کبھی کھیل میں بھی جھوٹ نہیں بولی تھیں۔
 
حضرت کی تعلیم: ابتدائی کتابیں توحضرت نے دوسروںکوپڑھتے ہوئے سن کریادکرلی تھیں،سترہ،اٹھارہ برس کی عمر سے پچاس برس کی عمرتک آپ اپنے پیرومرشدکے ہمراہ رہے، درسیات فرنگی محل کے مشہورعلامہ حضرت مولاناعبدالحلیم صاحب قدس سرہٗ سے پڑھی تھیں،حضرت فرماتے تھے کہ میں نے کوئی کتاب نصف صفحہ اورایک صفحہ سے زیادہ استاد سے نہیں پڑھی نصف سطریاایک سطرکامطالعہ فرمایاکرتے تھے اس میںرات کی رات گزرجاتی تھی، ایک بارمحلہ میں کسی حلوائی کی دوکان پرمطالعہ کیلئے کتاب لے کربیٹھ گئے اس سڑک سے ایک دھوم دھام کی برات گزرگئی اورخبرنہ ہوئی فجرکی اذان پرچونکے کہ صبح ہوگئی نصف سطراورایک سطر کے سبق میں چھ سات گھنٹے صرف ہوتے تھے، استادشاگرددونوںپسینہ پسینہ ہوجاتے تھے نصف صفحہ ایک صفحہ کے بعد مولوی عبدالحلیم صاحب قدس سرہٗ کتاب بندکرادیتے اور فرماتے کہ اب کتاب ختم ہوگئی دوسروںکو پڑھائو مگر حضرت خودکتاب کامطالعہ کرکے ختم کرلیتے۔
 
مولوی وکیل احمد صاحب سکندرپوری بھی جوحضرت کے چچازادبھائی تھے اورحیدرآباد دکن میں جج تھے مولوی عبدالحلیم صاحب سے پڑھتے تھے وہ جب کوئی اعتراض کیاکرتے تھے تو مولوی عبدالحلیم صاحب غوروفکرکے بعداس کاشانی جواب دے دیتے تھے،مگرحضرت جب ڈوب کرکوئی اعتراض کرتے تھے تومولوی عبدالحلیم صاحب دودوہفتہ غوروفکرکے بعد کوئی کمزورساجواب دیتے توحضرت فرماتے کہ حضرت آپ استاد ہیں کہئے مان لوں مگرمیرے اعتراض کاجواب نہیں ہوا،مولوی عبدالحلیم صاحب فرماتے کہ کہتے توصحیح ہوجواب تونہیں ہوا، اب تم خوداپنے اعتراض کاجواب دو،اس کے بعدحضرت خوداپنے اعتراض کاجواب دیتے تومولوی عبدالحلیم صاحب خوشی سے پھولے نہ سماتے،
 
حضرت فرماتے تھے کہ جب میں شرح مسُلم ّ پڑھتا تھا تومطالعہ میں ملا بحرالعلوم کاحاشیہ نہیں دیکھتا تھا، مطالعہ کے بعد جب حاشیہ دیکھتاتواکثریہی ہوتاتھا کہ ملابحرالعلوم سے زیادہ اعتراضات وجوابات دیتا،اگرکبھی ایسا ہوتاکہ میں نے اعتراض پیداکرنے کوتوپیداکرلیا اورجواب نہ دے سکااورملا بحرالعلوم کاجواب حاشیہ میں موجودہوتاتوجب تک ان کے جواب کوردنہ کرلیتاکھانانہ کھاتا،جب مدرسہ حنفیہ جون پورسے مولوی عبدالحلیم صاحب لکھنؤچلے گئے اوران کی جگہ پرحضرت مولانا مفتی محمد یوسف صاحب تشریف لائے توحضرت ہدایہ پڑھنے کیلئے مفتی صاحب کے پاس تشریف لے گئے مفتی صاحب نے فرمایاکہ فقیرکامعمول شمس بازغہ کے بعدہدایہ پڑھانے کاہے، حضرت نے فرمایاکہ میں شمس بازغہ پڑھ چکاہوں،مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مثل عامی شاگردوں کے پڑھاناچاہاحضرت نے فرمایاکہ میں تین سطروں کامطالعہ کرکے آیاہوں،میں نے جوباتیں ان تین سطروں میں پیداکی ہیں اس کوسن لیجئے حضرت نے تین گھنٹے تک ان تین سطروں پرتقریرکی مفتی صاحب دم بخودسنتے رہے جب حضرت تقریرختم کرچکے تومفتی صاحب نے فرمایاکہ صاحبزادے میں آپ کی ذہانت کی تعریف مولوی عبدالحلیم صاحب سے سن چکاہوں،جب مجھے ایسے شاگردکی تلاش تھی توکوئی ملانہیں،اب ضعیف ہوچکاہوں آپ کے پڑھانے کے لائق نہیں رہااورآپ کواس کی حاجت بھی نہیں ہے خودکتاب دیکھ جایئے اوردوسروں کوپڑھایئے اگرکہیں کوئی شبہ واقع ہوتوپوچھ لیجئے گا۔
 
حضرت کی قوتِ حافظہ کایہ عالم تھاکہ جوکتاب ایک مرتبہ پڑھ جاتے حفظ ہوجاتی اس بڑھاپے میں وصال سے قبل جب اکثراوقات استغراق کاغلبہ رہتاتھاجب بھی بعض اوقات اپنے بچپن کے حالات اورواقعات اس طرح بیان فرماتے کہ سب باتیں پیش نظر معلوم ہوتیں،ایک باربچپن میں کسی کی شادی کا ذکرفرمارہے تھے توضمن میں شادی کے اخراجات کاذکرآگیاتواس طرح آنے آنے اورپائی پائی کاحساب بیان فرمانے لگے جیسے کوئی فرد حساب دیکھ کرپڑھ رہاہو۔
 
حضرت کی شاعری: حضرت پہلے عاصیؔ تخلص فرماتے تھے پھربعد کوآسیؔ کردیاشاعری میں حضرت شاہ غلام اعظم صاحب افضل الہ آبادی کے شاگردتھے،جوحضرت ناسخؔ لکھنوی کے ارشدترین تلامذہ میں سے تھے ناسخؔ کاشعرہے  ؎
 
ہرپھرکے دائرہ ہی میںرکھتاہوں میں قدم آئی کہاںسے گردش پرکارپائوںمیں
 
یہ دہی’’دائرہ شاہ اجمل‘‘ ہے جہاںکے سجادہ نشین حضرت شاہ غلام اعظم صاحب افضلؔ تھے اورناسخؔ شاہ صاحب موصوف ہی کے وہاں تشریف فرمارہتے تھے شاہ صاحب کی شاگردی کاواقعہ ناسخ کے ساتھ حضرت یہ بیان فرماتے تھے کہ جب حضرت ناسخؔ الہ آبادتشریف لائے توحضرت افضلؔ کی ذہانت پرعاشق ہوگئے شاہ صاحب موصوف پیشتر ایک میاں جی کے شاگر دتھے جوہجوگوئی میں اپنانظیرنہیں رکھتے تھے،ہاجیؔ صاحب کے خوف سے ناسخؔ کی ہمت نہ پڑی کہ شاہ صاحب موصوف کواپناشاگرد بنائیں ،چنانچہ ایک روز حضرت ناسخؔ پانچ روپے کی مٹھائی اوردوسوروپئے نقدلے کرمیاں جی کے پاس حاضرہوئے عرض کی کہ میں شاگردہونے آیاہوںمیاں جی آدمی بہت مفلس تھے دوسوروپئے کی کثیررقم پاکربہت خوش ہوئے جب وہ نذرانہ قبول کرچکے تو ناسخؔ نے دست بستہ عرض کی کہ افضل کومجھے دے دیجئے میاں جی نے فرمایاکہ’بڑادھوکادیا‘وہی تومجھے ایک لڑکاملاہے قہردرویش برجانِ درویش افضلؔ کوناسخؔ کے حوالہ کیا۔
 
حضرت افضلؔ کی ذہانت کایہ عالم تھاکہ کبھی مشاعرہ میں پہلے سے غزل نہیں کہتے تھے عین مشاعرہ کے وقت اٹھ کر کھڑے ہوجاتے اورخانقاہ اجملیہ میں دوکاتب دونوں سرے پربیٹھ جاتے شاہ صاحب ٹہلتے جاتے اورایک سرے پرپہنچ کرایک کوشعرلکھاتے دوسرے سرے پردوسرے کواس قدرجلد شعرفرماتے تھے کہ دونوں کاتب بدقت شعرلکھ پاتے بارہامشاعرہ میں بے غزل کہے ہوئے چلے گئے اورجب باری آئی برجستہ شعرکہناشروع کردیا، شاہ صاحب کبھی غورکرکے شعرنہیں کہتے تھے ایک مرتبہ ناسخؔ نے ایک مصرعہ دیا اورفرمایاکہ اس پرغورکرکے مصرعہ لگائیے شاہ صاحب نے دوتین مصرعے غورکرکے لگائے جواچھے نہیں تھے ،شاہ صاحب نے فرمایاکہ یہ پابندی مجھ سے نہیں ہوسکتی اوربرجستہ پندرہ سولہ مصرعے کہہ گئے جس میں کئی مصرعے لاجواب تھے، اس واقعہ کے بعد سے کبھی حضرت ناسخؔ نے غورکرکے کہنے کی فرمائش نہیں کی۔
 
حضرت ناسخؔ کے دورانِ قیام الہ آبادمیں کچھ اساتذہ لکھنؤسے تشریف لائے تھے شاہ صاحب کے یہاں مشاعرہ ہواطرح کی زمین پتھرچاندنی خنجرچاندنی تھی لکھنوی حضرات میں سے کسی کے شعرمیں ’’عین‘‘تقطیع سے گرگئی تھی شاہ صاحب نے ان سے آنکھ ملا کریہ شعرپڑھاعین ۔
 
؎  عین برقع سے نکالے گروہ شوخِ نازنین
 
حسن پرنازاںہوپھرکیاخاک پتھرچاندنی
 
ایک مرتبہ جب شاہ صاحب لکھنؤتشریف لے گئے توناسخؔ سے اجازت مانگی کہ اگرآپ فرمائیں توحضرت آتشؔ سے بھی مل آئوں ناسخؔ نے اجازت دی اوریہ الفاظ فرمائے کہ دیکھووہ بڈھاکامل الفن ہے اس کے کسی شعرپراعتراض نہ کرنا،چانچہ شاہ صاحب حضرت آتشؔ مغفورکے پاس تشریف لے گئے رسمِ تعارف کے بعد شاہ صاحب نے غزل سنانے کی فرمائش کی آتشؔ نے یہ مطلع پڑھا۔؎
 
حسن سے قدرت خداکی رُونظرآیامجھے
ریشِ پیغمبرتراگیسونظرآیامجھے
 
شاہ صاحب نے لاحول پڑھا آتشؔ خاموش ہوگئے پھرکوئی شعرنہیں سنایا،جب واپس آئے توناسخؔ سے قصہ سنایاناسخؔ نے کہاکہ میں نے تم سے پہلے ہی کہہ دیاتھاکہ وہ بڈھاکامل الفن ہے اس پرکوئی اعتراض نہ کرنا،حضرت فرماتے تھے کہ شاہ صاحب نے آتشؔ کے شعرکومعشوقانِ مجازی کی تعریف میں سمجھا اس وجہ سے ریش پیغمبرکی تشبیہ پربرافروختہ ہوگئے حالانکہ آتش نے امام حسین علیہ السلام کی منقبت میں فرمایاہے اورریش پیغمبرسے ان کے گیسوکی مشابہت دی ہے بلاغت کے قاعدہ سے مشبہ سے مشبہ بہٰ افضل ہے اس لیے ریش پیغمبرؐکی فضیلت امام حسین علیہ السلام کے گیسوپرباقی رہی شعراپنی جگہ پربے مثل ہے۔
 
حضرت جب شاہ غلام اعظم صاحب کے شاگرد ہوئے توابتدا میں چندغزلوں پراصلاح پڑی جب شاہ صاحب کے کل اصول وقواعد حضرت کومعلوم ہوگئے توپھراصلاح نہیں پڑتی تھی مگرحضرت ادباً اپنی غزلیں شاہ صاحب کے پاس بھیجتے رہے شاہ صاحب یہی لکھ کرواپس کردیتے کہ کہیں اصلاح کی گنجائش نہیں ہے۔شاہ صاحب موصوف صفائے دلی کی وجہ سے بہت زودرنج بھی تھے مگرفوراًہی دل صاف بھی ہوجاتاتھا ایک مرتبہ حضرت نے طرح بھیجی تھی جس کا قافیہ ردیف’مکان پرامتحان پر‘تھا شاہ صاحب سے کسی نے یہ کہا کہ حضرت آسی نے یہ طرح آپ کے پاس امتحان کیلئے بھیج دی ہے چنانچہ جب حضرت نے اپنی غزل اصلاح کیلئے بھیجی توشاہ صاحب نے بغیرکچھ لکھے ہوئے واپس کردی حضرت صاحب سمجھ گئے کہ کسی دراندازکچھ لگا دیا ہے اورشاہ صاحب خفا ہوگئے ہیں چنانچہ جب ملاقات ہوئی توشاہ صاحب کادل صاف ہوگیا،اسی واقعہ کااشارہ شاہ صاحب کے ایک مطلع میں موجود ہے۔  
 
احباب مستعدہیں مرے امتحان پر
پہنچے گی اس غزل کی زمین آسمان پر
اسی میںشاہ صاحب کاشعرہے        
پہنچاہے عرش پرتنِ خاکی مصطفیٰ
کس شان سے زمین گئی آسمان پر
 
حضرت فرماتے تھے کہ اب اس سے بہترکوئی زمین آسمان پرنہیں جاسکتی۔
شاہ صاحب کی ذہانت کے متعلق ایک واقعہ بیان فرماتے تھے کہ گرمیوں کا زمانہ تھا شدت کی دھوپ،لوزوروں سے چل رہی تھی دوپہر کا وقت،شاہ صاحب گرمی سے بدحواس خانقاہ ِرشیدیہ جون پور،میں تشریف لائے حضرت سے فرمایا پانی لائوپنکھا لائو پانی لائوپنکھالائو،حضرت نے فرمایا،ایک انملی کہہ دیجئے،شاہ صاحب نے فرمایایہ کون ساوقت ہے گرمی سے بدحواس ہوں،پانی لائو،پنکھالائو،حضرت نے فرمایا،یہی توامتحان کاوقت ہے،شاہ صاحب نے کہااچھاکہوکہوجلدی کہو،حضرت نے فرمایاچیونٹی حقہ،علیل چونا،حضرت کے منہ سے جونہی الفاظ ختم ہوئے تھے کہ شاہ صاحب نے برجستہ فرمایا۔؎
 
ہڈی پِس چونابھیوچل گیوایسوگلیل
کہہ دوہکاباج سے چیونٹی اوردلیل
 
ایک مرتبہ شاہ صاحب موصوف جون پورتشریف فرماتے حضرت کامعمول تھا کہ عصرکے بعد شہرکے باہر مع اپنے چند ہم سبق احباب کے تشریف لے جایا کرتے تھے ایک روز شاہ غلام اعظم صاحب اورمرزارحمت اللہ بیگ جوبنارس کے مشہوروکیل گزرے ہیں اس زمانہ میں وہ بھی حضرت کے ہم سبق تھے اورشاہ صاحب موصوف کے ایک عزیزجورشتے میں شاہ صاحب کے سالے ہوتے تھے اوربھی دوایک آدمی ہمراہ تھے، جب پل کے قریب پہنچے توکھٹکنیںامرودبیچ رہی تھیں،شاہ صاحب کی شاعری وہیں سے شروع ہوگئی امرود کی گولی نمرودکی گولی، یہ زمین تھی کئی میل تشریف لے  گئے اورواپس آئے شاہ صاحب اس طرح برجستہ اشعار پڑھتے جاتے تھے جیسے کسی کوحفظ ہوں، ردیف یہی باقی رہی قافیہ البتہ بدلتے جاتے تھے ،ہرشعرمیں جورشتہ میں شاہ صاحب کے سالے ہوتے تھے ان پرکوئی نہ کوئی چوٹ ضرور ہوتی تھی واپسی میں جب خانقاہ کے دروازے پرپہنچے ہیں تواس شعرپر جس کا مصرعہ یہ ہے شاعری ختم ہوئی۔ 
 
’’چھاتی میںلگی ہے تری ہمشیرکی گولی‘‘
 
شاہ صاحب موصوف کوعلاوہ اورکمالاتِ ظاہری وباطنی کے اشیائے گم شدہ یا مسروقہ کے انکشاف میں بھی ید طولیٰ تھا، ان کے ایک دوست کی خاک شفاکی تسبیح گم ہوگئی تھی چند احباب بیٹھے ہوئے تھے، تسبیح کے گم ہونے پرذکرچلا انہوں نے شاہ صاحب سے دریافت کیاکہ میری تسبیح کون چرالے گیا،شاہ صاحب نے فرمایاکہ اگلے واقعات بھی بیان کروں یاگزشتہ ’’پھرفرمایاکہ‘‘اگلے کی تصدیق کیلئے وقت درکارہوگا،گزشتہ سنوتم کوایک ایسے شخص کاعشق ہوگیا تھاکہ اگریہ رازفاش ہوتا توتمہاری جان کے لالے پڑجاتے تم کوچین نہ تھا ایک روزجوشِ وحشت میں صحراکی طرف تم چل کھڑے ہوئے شام کاوقت تھا فلاں بنسواڑی کے پاس تم کوکچھ ہیبت سی محسوس ہوئی وہاں سے گھبراکرتم نے گھرکاراستہ لیا، فلاں مقام پرتم کوپیشاب کی حاجت ہوئی تم نے پیشاب کیا تسبیح اسی جگہ گرپڑی تھی اس کے بعد ہی فوراً آندھی آئی اورخس وخاشاک اس تسبیح پرجم گئی تم اس بد حواسی میں جب مکان پرپہنچے چوکھٹ سے ٹھوکرلگی اورتمہارے پائوں کی نلی میں سخت چوٹ آئی اورزخم ہوگیااس کا نشان اب تک موجودہے یہ کہہ کرشاہ صاحب نے ان کے پائوںکی طرف ہاتھ بڑھایا کہ دیکھ لواس کا نشان اب تک موجودہے انہوں نے گھبراکراپنا پائوں چھپا لیا، تمہاری تسبیح اب تک اسی جگہ موجودہے جاکر لے آئو،وہ گئے اورجاکرلے آئے سب لوگ دنگ رہ گئے۔
 
حضرت شاہ غلام اعظم صاحب افضل قدس سرہ کے وصال کے بعد حضرت نے ان کوخواب میں دیکھاکہ مجھ کواپناقلم دان عطافرمایاحضرت نے یہ خواب شاہ صاحب موصوف کے صاحب سجادہ برادرنسبتی حضرت شاہ سید محمدبشیرقدس سرہٗ سے بیان فرمایا جناب شاہ سید محمد بشیرصاحب نے فرمایا کہ بھائی صاحب نے اپناقلم دان آپ کوعطافرمایاہے تواب میرے لیے بجائے بھائی صاحب کے آپ میں اوراپناکلام حضرت کودکھاتے رہے حضرت شاہ محمدبشیرصاحب خودکامل الفن اوردرویش کامل تھے اصلاح کی ضرورت نہیں رہتی تھی مگر محض اپنی بے نفسی اورحضرت صاحب کی دوستی اورمحبت سے ایساکرتے تھے۔
 
حضرت کے تلامذہ حضرت مولانا آسیؔ رحمتہ اللہ علیہ کے تلامذہ کی تعداد کثیرتھی جن میں مولوی عبدالاحد صاحب شمشاد لکھنوی،مولوی عبدالصمد صاحب رئیس وکیل غازی پوری، حکیم مولوی سید محمدغازی پوری مولوی احمد حسین لبیب سکندرپوری بہت ممتازتھے حضرت شمشاد کے بارے میں حضرت فرمایاکرتے تھے کہ اگران کوناسخؔ سے افضل نہ سمجھوتوان سے کم بھی نہ سمجھولبیب سکندرپوری کے بارے میں فرماتے تھے کہ واقعی اسم بامسمی تھے ایک مرتبہ لوگوں نے زبردستی منبرپر بٹھلا دیا اورمجبورکیا کہ مرثیہ پڑھو،لبیب نے حضرت کی ایک غزل میں ایک ایک دودولفظ کی تبدیلی کرکے برجستہ سلام پڑھ دیا۔غزل کامطلع یہ تھا۔ 
 
قصرِدل میں جب کسی دن آپ کاآناہوا
یہ ہوئی رفعت کہ بامِ عرش تہ خانہ ہوا
 
لبیبؔ نے یوں پڑھا  
مجرئی جب قصرِدل میںشاہ کاآناہو
یہ ہوی رفعت کہ بامِ عرش تہ خانہ ہوا
 
ایک مرتبہ لوگوں نے تعزیہ کے جلوس کے ساتھ لبیبؔ کومجبورکیاکہ مرثیہ پڑھو،لبیبؔ نے فی البدیہہ حضرت کی غزل پرمخمس کے طورپرمصرعہ لگاکے مرثیہ پڑھ دیا۔
حکیم سیدجعفرحسین کاشفؔ لکھنوی جوحضرت رشکؔ مرحوم کے ارشدتلامذہ میںسے تھے اورحکیم محمداسحق صاحب حاذق موہانی حضرت کے خاص احباب میںسے تھے حکیم محمد اسحق موہانی کایہ شعراکثرکیفیت میںپڑھاکرتے تھے۔؎
 
جمالِ شاہد خلوت گہِ غیب
چوبرزدپردہ سرزدروئے احمدؐ
 
ان کے دیوان مدینہ نعمت کے بارے میں فرماتے تھے کہ حضرت شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی رحمتہ اللہ وبرکات علیہ اپنی آنکھوں سے لگاتے تھے اورفرماتے تھے کہ یہ دیوان دربار رسالت میں مقبول ہوچکاہے، حکیم محمداسحق صاحب کے بارے میں فرماتے تھے کہ ہندوستان میں اول نمبرکانسخہ آپ کاہوتاہے اس کے بعدمیرا حضرت کی طبابت کایہ حال تھا کہ بارہ سوپندرہ سوآدمیوں کامجمع مطب میں ہواکرتاتھا ۔اشراق کے بعد مطب میں بیٹھا کرتے تھے اورظہرکے وقت فرصت ملتی تھی۔دونوں ہاتھوں سے نبض دیکھتے جاتے تھے اور چارچارکاتب نسخہ لکھتے جاتے تھے ہندوستان بھرسے جومریض مایوس ہوکرحضرت کے پاس آتے تھے چندروزمیں شفایاب ہوکے خوشی خوشی واپس جاتے تھے ،یہ بھی خصوصیت تھی کہ حضرت فیس نہیں لیتے تھے ایک مریض آیاجس کے بائیں شانہ اوربازومیں دردرہاکرتاتھادہلی میں حکیم عبدالمجیدخاں اورحکیم محمودخاں وغیرہ اورلکھنؤمیں بھی مشاہیراطباء کاعلاج کرچکاتھا کوئی افاقہ کی صورت ظاہرنہیں ہوئی، حضرت فرماتے تھے کہ میں نے نسخے دیکھے تودردکے جتنے اسباب تھے سب پرنسخے موجودتھے،میں غور میں ہوااورمیرے ذہن میں یہ بات آئی کہ مثانہ میںریگ ہے جس کے ابخرے وہاں دردپیداکررہے ہیں،میں نے اخراجِ رمل کاچارپانچ پیسوں کانسخہ لکھاورکہاکہ پی کرچینی کے پیالہ میں پیشاب لائو صبح کووہ پیشاب لائے توریگ کافی مقدارمیں نکلی تھی، ایک ہی خوراک میں دردجاتارہا، اخراج ِرمل کے بعدتقویت گردہ کی دوائیں دیں اوروہ بالکل اچھے ہوگئے، اسی طرح ایک اورمریض آیا جوہرجگہ سے مایوس ہوچکاتھا، اس کے دست کسی طرح بندنہیں ہوتے تھے، انسباب نزلہ معدہ پرتشخیص کیااورپشتِ گردن پرضماد کانسخہ لکھ دیا ضماد لگانے کے بعد دست بندہوگئے پھراس کے دماغ کاعلاج کیا وہ اچھا ہوگیا۔
 
حکیم محمداسحق صاحب کاجونسخہ مجرب نکلتا تھا وہ اس کی نقل حضرت کے پاس بھیج دیا کرتے تھے اورحضرت کا جومجبرب نسخہ نکلت اتھا وہ حکیم صاحب کے پاس بھیج دیا کرتے تھے۔ حکیم صاحب سے جب کوئی کہتا تھا کہ حضرت آسیؔ نے نہ توکسی سے طب پڑھی نہ کسی کے مطب میں بیٹھے اورشفا کا یہ حال ہے کہ جومریض ان کے ہاتھ میں آیا وہ آناً فاناً صحت یاب ہوا،تووہ فرماتے کہ ارسطوراوربوعلی سیناکوکس نے طب پڑھائی تھی ،یہ ان دماغ کے لوگوں میں ہیں جوطب ایجاد کریں،ان کواستاد کی کیا ضرورت ہے، حضرت کا قول تھا کہ جس نے علوم عربیہ پڑھے اوراس قابل نہ ہواکہ دوسروں کوطب پڑھاسکے تواس نے خاک نہیں پڑھا،حضرت کی طبابت کاواقعہ یہ ہواکہ حکیم سیدجعفر حسین کاشفؔ لکھنوی جب کچھ دنوں کے لئے لکھنؤجانے لگے تواپنے شاگردوں کوحضرت کے سپردکرگئے کہ ان کوطب پڑھادیاکیجئے حضرت فرماتے تھے کہ میں شب کومطالعہ کیا کرتااورصبح کودرس دیا کرتا تھا جب حکیم صاحب واپس آئے تو کوئی شاگردان کے پاس جانے کوتیارنہیں ہوا، جب شاگردوں کا درس ختم ہوامیں نے مطب شروع کردیا، حضرت کاشفؔ اورحضرت آسیؔ میں اتنی محبت اوریگانگت تھی کہ مشاعرہ کے قبل ایک دوسرے کوغزل دکھادیاکرتے تھے، حضرت فرماتے تھے کہ حکیم صاحب نے کبھی میرے کسی شعرمیں ترمیم نہیں کی میں کبھی کبھی جوترمیم مناسب ہوتی تھی کردیاکرتاتھا مشاعروں میں حضرت سب کے بعدپڑھاکرتے تھے حضرت کے شعرسننے کے ساتھ جولوگ واہ واکرنے لگتے توحکیم صاحب بہت خفاہوتے فرماتے کہ کیاواہ وا کیا سمجھے،حکیم صاحب شعرسن کے چن دمنٹ غورکرتے جب فرماتے کہ اب واہ واکروحکیم صاحب موصوف پرحضرت کی صحبت کارنگ ایسا غالب آگیا تھا کہ ان دونوں بزرگوں کے کلام میں امتیازدشوارتھا افسوس کہ اہلِ لکھنؤنے ایسے سرمایہ نازاستادکی قدرنہ کی اوران کادیوان زیورطبع سے اب تک محروم ہے حکیم صاحب کا کلام مولوی سبحان اللہ صاحب رئیس گورکھپورکے پاس حکیم صاحب کے قلم کا لکھا ہوا محفوظ ہے اورنقل خاکسارکے پاس بھی ہے حضرت اورحکیم کاشف صاحب ناسخؔ اوررشک کے جملہ قواعد کے سختی سے پابن دتھے بلکہ حضرت آسیؔ کے یہاں کا کا الف بھی دبنانا جائز تھا،شاہ غلام اعظم صاحب افضل الہ آبادی نے ایک رسالہ ناسخؔ اوررشک کے قواع دکے مطابق تصنیف کیا تھا حضرت کے پاس دیکھنے کیلئے بھیجا تھا حضرت نے قواعد میں کچھ اورسختیاں بڑھادی تھیں، حضرت نے یہ رسالہ اپنے دلی دوست میرمبارک حسین عرف میر محمدجان صاحب المتخلص بہ صدق کے پاس جو حضرت کے استاد بھائی تھے بھیج دیاتھا میرصاحب موصوف کے پاس وہ رسالہ رہ گیا ان کے بڑے صاحبزادے میرسید ضامن علی صاحب سے میں نے دریافت کیاتھا ان سے معلوم ہواکہ اس کاپتہ نہیں ملتا معلوم نہیں کیوںکرضائع ہوا۔
 
حضرت کے قواع دپرمولوی شمشا دمرحوم پورے طورپرپابند تھے مگر’کا‘کے الف کے نہ دبنے میں وہ بھی نہ چل سکے ان کے پہلے دیوان کے طبع کی تاریخ میں حضرت نے ’کا‘کے الف دبنے کی طرف بہت لطیف کنایہ میں اشارہ کیاہے۔تاریخ کاایک شعرجس میں وہ کنایہ ہے یہ ہے۔   
 
بہت قیدوں میں جکڑامیں نے لیکن
وہ زورآورروش آزاددیکھی
 
مادۂ تاریخ یہ ہے:’’بہارِگلشن شمشادیکھی‘‘
 
مولوی شمشادؔ صاحب پہلے قلق لکھنوی کے شاگردتھے اورحضرت قلق مرحوم نے استادی کی سند بھی دے دی تھی، پہلے ان کا دیوان اول قلق ک ااصلاح شدہ تھا حضرت تپ دلرزہ میں مبتلا تھے مولوی شمشادؔ صاحب ایک غزل حکیم کاشف صاحب کی وساطت سے لے کرحاضرہوئے وہ غزل قلق کی اصلاح شدہ تھی حضرت نے اسی حالت علالت میں اصلاح دی مولوی شمشاد صاحب اس اصلاح سے ایسے گرویدہ ہوئے کہ فوراً شاگردی کی درخواست کی حضرت نے دیوان اول اپنے خاندان کے اصول وقواعدکے مطابق شروع سے آخرتک بنایامولوی صاحب کے خسر مولوی رحمت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ جن کے نام سے مدرسہ چشمۂ رحمت کالج غازی پورمیں اب تک باقی ہے ۔حضرت کے بہت بڑے دوست تھے مولوی شمشادصاحب کی بے نفسی کاواقعہ ملاحظہ ہو، مولوی صاحب حسبِ معمول بعد مغرب تشریف لائے اوربہت سے عمائدین غازی پورحضرت کی خدمت میں حاضرتھے،مولوی صاحب نے ایک نئی غزل حضرت کوسنائی مولوی صاحب سے چپکے سے میں نے عرض کی کہ فلاں شعرکی ردیف میں مجھ کواشتباہ ہے مولوی صاحب نے فرمایاکہ صحیح تومعلوم ہوتی ہے میں نے عرض کی میری تشفی نہیں ہوتی ،مولوی صاحب نے فرمایاکہ حضرت سے پوچھوں؟میں نے عرض کی پوچھئے مولوی صاحب نے فرمایاکہ حضرت اس شعرکی رفیف کیسی ہے حضرت نے فرمایامحاورہ سے گرگئی ہے،مولوی صاحب نے بآوازِبلندیہ اعلان کیا کہ مجھ سے چوک ہوگئی تھی میاں شاہد نے اصلاح دی میں شرم سے پانی پانی ہوگیا ایک باراورایسا ہی واقعہ ہوا پھرمولوی صاحب نے اس کا اعلان کیااس کے بعد میں نے توبہ کی کہ پھرکبھی ایسی گستاخی نہ کروںگا مگراس کے بعد مولوی شمشاد صاحب کا معمول یہ تھا کہ جتنی غزلیں کہتے اس کومحفوظ رکھتے جب میں غازی پورہوتا تو مجھ سے فرماتے تمہاری نگاہ بہت تیز ہے اس کودیکھ جائو اگر مجھ سے کوئی بھول ہوتوبتائو جب تک میں نہیں دیکھ لیتا کسی کوغزل نہیں سناتے میں مولوی صاحب مرحوم کے کم ترین شاگردوں میں تھا،مگرجوان کی شفقت اورکرم اس گنہ گارپرتھااس کومیرادل ہی جانتاہے۔
 
حضرت صغیرؔ بلگرامی جومومن کے ارشد تلامذہ میں سے تھے ڈمرائوںراج ضلع آرہ میں رہتے تھے ڈمرائوںراج غازی پورسے قریب ہے غازی پورکے مشاعروںمیں شریک ہوتے تھے حضرت سے چشمک رہاکرتی تھی ان کی طرف سے ایک طرح دی گئی جس کی زمین آتے ہیں کیوں جاتے ہیں کیوں،،تھی حضرت کے پاس مصرعہ طرح غلط بھیجاگیااورزمین،آتاہوں کیوں، جاتاہوں کیوں،،بتائی گئی،حضرت جب مشاعرہ میں پہنچے توغلط طرح پہنچنے کاعلم ہوایہ حرکت گراںگزری اورجب شمع سامنے آئی تویہ رباعی پڑھی۔
 
وہ ذکرکروںکہ خودفراموش ہوںمیں
کوئی نہ سنے پرہمہ تن گوش ہوںمیں
٭٭٭
پائی ہے زباںنورکی شمع کی طرح
اندھیرہومحفل میں جوخاموش ہوںمیں
 
اورجوغزل گھرسے غلط طرح میں کہہ کرلے گئے تھے اس کوغیرطرح کرکے پڑھ دی جس کامقطع یہ ہے ،
طرح کامصرع ہواہے جمع کے صیغے کے ساتھ
 
میں غزل مفردمیں اے آسیؔ پڑھے جاتاہوں کیوں
 
اوراسی پرچہ کوالٹ کے جس پریہ غزل درج تھی سادہ صفحہ ہاتھ میں لے کربرجستہ طرح میں غزل سنانی شروع کردی جس میں کہیں کہیں اپنے مخالفین پرچوٹ بھی کرتے جاتے تھے ایک شعرملاحظہ ہو   
 
شمع کے مانند ہے اپنابھی کیا سوزوگداز
 
صورتِ پروانہ دشمن ہم سے جل جاتے ہیں کیوں
 
غزل پڑھتے چلے جاتے حضرت کاشفؔ نے فرمایاکہ کیا دیوان آج ہی ختم کردیجئے گا ؟تو مقطع پڑھ دیا اس غزل کے کل اشعار دستیاب نہیں ہوئے جتنے مل سکے وہ دیوان میں درج ہیں، ایک بارصغیرؔبلگرامی کی طرف سے طرح دی گئی جس کی زمین تھی آتے کیوںہو، جاتے کیوں ہو، اس زمین میں مومنؔ کاایک شعرہےؔ
 
کھو ل دووعدہ کہ تم پردہ نشیںہونہ وصال
اپنی زلفوںکی طرح بات بناتے کیوںہو
 
اس شعرمیں وعدہ کھولناخلاف محاورہ ہے اوروصال کی پردہ نشینی بھی محلِ کلام ہے حضرت کی غزل کامطلع ہے ؎
 
تم نہیں کوئی توسب میں نظرآتے کیوں ہو
سب تمہیں تم ہوتوپھرمنہ کوچھپاتے کیوں ہو
 
غزل پڑھتے پڑھتے جب اس شعر پرپہنچے توصغیرؔصاحب سے آنکھ ملاکرفرمایا کہ دیکھئے محاورہ یوںنظم کرتے ہیں، اشارہ یہ تھا کہ مومنؔ محاور ہ نظم کرناچاہتے تھے ،نظم نہیں کرسکے شعریہ ہے۔
 
تم پری زادہووعدہ توپری زادنہیں
آپ اڑتے ہواڑوبات اڑاتے کیوں ہو
 
صغیرؔصاحب کے منہ پرہوائی اڑنے لگی ایک باراورصغیرؔصاحب کی طرف سے طرح دی گئی جس کی زمین تھی، خبرسے نظرسے،،سب کے آخر میں حضرت غزل پڑھاکرتے تھے صغیر صاحب غزل پڑھ چکے تھے حضرت نے جب یہ مطلع پڑھا  
 
اب حاجتِ روزن نہ غرض رخنۂ درسے
منہ اس نے نکالاہے یہاں چاکِ جگر سے
 
حضرت کاشفؔ بے تاب ہوکرکھڑے ہوگئے اورفرمایا کہ اب تک توایسا مطلع نہیں سننے میں آیا ہے صغیرؔصاحب کامنہ سوکھ گیا حضرت نے فرمایاآپ کی طرف سے کئی طرحیںہوچکیںمیری طرف سے بھی ایک طرح پیش ہوتی ہے، اس میں غزل کہیئے صغیرؔ صاحب مشاعرہ سے چند گھنٹہ قبل بلگرام روانہ ہوگئے ،مومنؔ کاشعرہے۔  
 
حسنِ روزافزوں پہ غرہّ کس لیے اے ماہ رو
یوں ہی گھٹتاحائے گاجتنا کہ بڑھتاجائے ہے
 
حضرت نے بھی اسی مضمون کوکس خوبی سے اداکیاہے  
 
اگرشورِ شباب اتناہوااس کاتکبرکیا
گجرہے دوپہرکاآفتابِ حسن ڈھلتاہے
 
ذوقؔ کاشعرہے 
 
کی فرشتوںکی راہ ابرنے بند
جوگنہ کیجئے ثواب ہے آج
 
اول توابرسے فرشتوں کی راہ بندنہیں ہوتی دوسرے گنہ کاثواب ہونا ثابت نہیں ہوتا حضرت نے کیاخوب مصرعہ لگایاہے۔ 
 
جوگنہ کیجئے ثواب ہے آج
کیسی بارش ہے ابرِرحت کی
 
حضرت کے مخلص دوست میر محمدجان صاحب صدقؔ سے ایک عرصہ کے بعد ریل میں ملاقات ہوئی توفی البدیہہ مشاعرہ شروع ہوگیا،ایک مصرعہ حضرت کہتے تھے اورایک مصرعہ حضرت صدقؔ اسی طرح ایک غزل تیار ہوگئی جس کامطلع درجِ ذیل ہے حضرت فرماتے تھے کہ ایک مصرعہ میرا ہے اورایک حضرت صدقؔ کایہ نہیں فرمایا کہ میرا مصرعہ کون سا ہے 
 
کاہے کوتھی امیدِ رہائی فراق سے
صحبت یہ ہاتھ آئی ہے آج اتفاق سے
 
یونہی کل غزل تھی صحرائے ختن کی مشک بوئی کی تعریف تمام شعراء نے کی ہے صحرا کی مشک بوئی محض خیالی ہے اس لیے کہ جب تک مشک زندہ غزال کے نافہ میں رہتاہے خوشبو باہرنہیں پھیلتی حضرت نے صحرائے سکندرپوری کی تعریف جس خوبی سے کی ہے وہ اپنی نظیرآپ ہے سکندرپورکے اطراف میں گلاب ،جوہی، چنبیلی اوربیلے کی کاشت ہوتی ہے اور دریائے گھاگھرا بھی قریب ہے حضرت کا شعر ملا خطہ ہو۔ 
 
پرتوعارض ہے دریانورکا
زلف صحراہے سکندرپورکا
 
ایک فارسی کے شعرمیں اپنا تخلص نظم کیاہے فرماتے تھے کہ اس سے بہتر تخلص پھر نظم نہ ہوسکا، شعریہ ہے 
 
نیستم فارغ ازسفربہ وطن
آسیاؔشکلِ آسیاشدہ ام
 
حضرت نے ایک قصیدہ نواب کلب علی خاں والی رام پور کی مدح میں کہاتھا حضرت بیان فرماتے تھے کہ میں تپ ولرزہ میں مبتلا تھا، شب کو جب لحاف اوڑھ کے سونے کیلئے لیٹا تھا تویہ قصیدہ کہتا تھا صبح کو جواشعاریاد رہ جاتے تھے اسے لکھ لیتا تھا جوبھول جاتے تھے وہ بھول جاتے تھے قصیدہ جب تمام ہواتو میں انے اپنے پیرومرشد کوسنایا انہوں نے فرمایا کہ کیا فضول کہا،، بات ہوگئی اور اس جملہ کامعمہ اس وقت سمجھ میں نہ آیا مولوی عبدالصمد صاحب نے حضرت سے اس کا مسودہ لیکر نہایت خوش خط اور مطلاومذہب کراکے حضرت کی طرف سے رامپور بھیج دیا اور حضرت سے بااصرر ایک خط منشی امیر احمد صاحب امیر مینائی کے نام لکھوایا وہ قصیدہ وہاں پہنچا حضرت امیر مینائی نے پیش نہ ہونے دیا اور اس کو واپس کردیا اور حضرت کے خط کے جواب میں جوخط لکھااس میں حضرت کی تعریف میں اپناقلم توڑدیا، عذریہ لکھاکہ آپ کا قصیدہ واپس ہونے کے بعد مجھے آپ کا خط ملا حالانکہ جس تاریخ میں قصیدہ وہاں سے روانہ ہواتھا اسی تاریخ کی ڈاک کی مہر حضرت امیر کے خط پر بھی تھی، ناظرین نے مکتوباتِ امیر مینائی ملاخطہ فرمائے ہونگے مگرجوعبارت کی رنگینی منشی جی کے قلم سے نکلی ہے وہ اور تحریروں میں نہ پائیں گے۔
 
مولوی عبدالصمد صاحب کوقصیدہ کا نہ پیش ہونا گراں گزرا اور انہوں نے وہ قصیدہ جنرل عظیم الدین خاں مدارالہام ریاست رام پور کے پاس جومولوی صاحب موصوف کے مخلص دوست تھے بھیجا اور ان کویہ لکھا کہ آپ اس کو موقع سے پیش کیجئے چھ مہینے کے بعد جنرل صاحب موصوف نے وہ قصیدہ مولوی عبدالصمد صاحب کے پاس واپس کیا اور لکھا کہ جب پیش کرنے کاقصد کرتا ہوں تونواب صاحب کی طبیعت ناساز ہوجاتی ہے، نواب صاحب کے ایک چچا جو بریلی میں رہتے تھے وہ بیمار ہوئے حکیم سید جعفرحسین صاحب کاشفؔ لکھنوی غازی پورسے ان کے علاج کیلئے بلائے گئے نواب صاحب اپنے چچا کود یکھنے کیلئے ہرسنیچرکوبریلی آیا کرتے تھے حکیم صاحب نے وہ قصیدہ حضرت سے با اصرارمانگ لیا اورفرمایا کہ میں خوداس قصیدہ کوجب نواب صاحب بریلی آئیںگے توپیش کروںگا اور مخالفوں سے دادلوں گاخدا کی قدرت کہ حکیم صاحب بریلی پہنچے مگر سنیچر سے پہلے ہی نواب صاحب کے چچا کاانتقال ہوگیا اور نواب صاحب بریلی نہیں تشریف لائے قصیدہ واپس آیا اس کے بعد حضرت کے پیرومرشد نے پوچھا، حلیمؔ اس قصیدہ کا کی احشر ہوا، حضرت نے کل واقعات عرض کئے فرمایا کہ مجھے اسی وقت ناگوارہواتھا کہ ان سگانِ دنیا کی تعریف میں کہا ہے حضرت فرماتے تھے کہ اس کیا فضول کہا کامطلب اس وقت سمجھ میں آیا حضرت فرماتے تھے کہ میں ایک قصیدہ نواب حیدرآباد کی تعریف میں کہہ رہا تھا اسی زمین میں سودا کا بھی قصیدہ نواب حیدرآباد کی تعریف میں کلیات سودا میں موجودہے، اس قصیدہ پرسوداکوایک لاکھ روپئے نقد اور بہت سے انعام واکرام ملے تھے میرادعویٰ یہ تھاکہ اگرمیراقصیدہ سودا کے قصیدہ سے بڑھ جائے توکم سے کم اتناانعام توملے جتنا سودا کو ملاتھا بڑے حضرت یعنی حضرت کے پیرومرشد کے اس فرمانے کے بعد میں نے اس قصیدہ کوناتمام چھوڑدیا اورپھرکبھی کسی اہل دنیا کی مدح نہ کی حیدرآبادوالے قصیدہ کے کل اشعارنہ مل سکے جس قدرملے دیوان میں شامل کئے گئے حضرت فرماتے تھے کہ ہم لوگوں کی زبان ہم لوگوں سے مرادحضرت کاشف اور د یگر استاد بھائی اورشاگردتھے، دوسروں سے الگ ہے ہم لوگ دوحرفوںکے مخارج میں ثقالت کاخاص خیال رکھتے ہیںمثال کے طورپر حضرت آتش ک ایہ شعر پڑھتے تھے۔  
 
کیا دیجئے گاعاشقِ دل گیرکاجواب
خاموشی کے سوانہیں تقصیرکاجواب
 
یہاں’’دیجئے گاعاشق‘‘میں گاف کے بعدعین کا مخرج ہمارے خاندان کے قواع دکے روسے قابلِ احترازہے اورخاموشی فارسی لفظ ہے اس کی ’’ی‘‘کاگزناجائز نہیں آتش کے خاندان میں جائز ہے میںکہتاتواس طرح کہتا ؎
 
کیا دیںگے آپ عاشقِ دل گیرکاجواب
چپ رہنے کے سوانہیںتقصیرکاجواب
 
حضرت وزیرؔ کے شعرپرجناب آتش کی اس اصلاح کے بارے میںبھی  
 
جوکہ طائرترے صدقے میں رہاہوتاہے
اے شہِ حسن وہ چھٹتے ہی ہماہوتاہے
فرماتے تھے کہ میںکہتاتویوںکہتا۔؎
جوپرندہ ترے صدقہ میں رہاہوتاہے
اے شہِ حسن وہ چھٹتے ہی ہماہوتاہے
 
میراارادہ تھا کہ حضرت کے مشکل اشعارکی شرح بھی لکھ کے اس میں شامل کروں مگر افسوس کہ وقت نے مساعدت نہیں کی کہیں کہیں تلمیح طلب اشعار بھی ہیں مثلاً
 
پل بھی ہے فخرِ جون پورآسیؔ
خواب گاہِ جناب ’’شیخو‘‘ہے
 
حضرت شاہ شیخومجذوب سلسلہ سہروردیہ کے بزرگ تھے اورقطب الاقطاب حضرت شیخ محمد رشید جون پوریؒ صاحب خانقاہ رشیدیہ ومصنف مناظر رشیدیہ کے دوست اورمعاصرتھے جون پورکا پل جواپنے استحکام کے لحاظ سے اپنی نظیرنہیں رکھتا انہی کی دعا سے بن اتھا واقعہ یہ تھا کہ اکبربادشاہ جون پوردورہ پرآیا ہواتھا شام کودریا کی سیر کی لئے کشتی پرنکلا دریائے گومتی بہت خوش پرتھا، دیکھا کہ ایک عورت دریا کے کنارے بیٹھی رورہی ہے دریافت کیاتواس عورت نے کہاکہ میںاپناشیرخواربچہ اس پارچھوڑکرشہرمیں کچھ ضرورت سے آئی تھی اب کھیوا بندہوگیا ہے میرابچہ رات بھر بغیردودھ کے تڑپ کرمرجائے گااکبرنے اپنی کشتی پراس عورت کواس پاراتاردیااور منعم خاںخانخاناں کوحکم دیاکہ اس جگہ پل بنوائومنعم خاں خانخاناںنے کاریگر وںکوبلواکے پل بنانے کا حکم دیا کاریگروں نے کہا کہ اس جگہ بہت کنڈہے یہاں پل نہیں بن سکتا کچھ ہٹ کے پل بن جائے گا خانخاناں نے کہا کہ بادشاہ نے مجھ کواس جگہ پل بنانے کا حکم دیا ہے اگریہاں نہ بنا تومیری بڑی ذلت ہوگی، کاریگروں نے کہا کہ اس کنڈ کوروپوں سے پاٹیے جب پل بنے گا مقصود یہ تھا کہ بہت کثیرروپیہ خرچ ہوگا، خانخاناں آمادہ ہوگئے پہلے کاریگروں نے خشکی میں پانچ طاق ک اایک پل بنایااوردریا کوکاٹ کراس  طرف لے گئے پھربھی اس جگد پل نہ بن سکا عاجز آکر کاریگروں نے جواب دے دیا منعم خاں خانخاناں خو دٹوپی سی کر اس کی قیمت  سے روٹیاں کھاتے تھے اس مالِ حلال میں سے دوچارروپے ان کے پاس موجود تھے انہی روپوں سے اولیاء اللہ جون پور کی دعوت کی چونکہ یہ مال طیب تھا اولیاء اللہ نے دعوت بلا عذرقبول کرلی، کھانا کھانے کے بعد خانخاناں نے دست بستہ عرض کیا کہ آپ لوگ دعا فرمائیں اس جگہ پل تیارہوجائے حضرت شاہ شیخوؔ مجذوب نے دعا کی بقیہ اولیاء اللہ نے آمین کہی اس کے بعد کاریگروں نے جواینٹ جہاں رکھی وہ ہلنے کا نام نہیں لیتی تھی،جس جگہ ان بزرگوں نے دعا کی تھی خانخاناں نے ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کرادی جس ک انام مستجاب الدعوات، ہے یہ مسج دپل کے شمالی حصہ سے پورب نیچے اترکر۴۰۔۵۰قدم کے فاصلہ پر واقع ہے اورایک مسجد عالی شان حضرت شاہ شیخومجذوب کیلئے دونوں پلوں کے درمیان تعمیر کرادی اس پل کامادۂ تاریخ صراط المستقیم ہے پل کی صورت یہ ہے کہ دربہت چھوٹے ہیں اورستون پل کے درسے چوڑے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ پانی کی کل ٹکریںپل سے آکے لگتی ہیں۱۸۷۱ئ؁ میں ایسی زبردست باڑھ آئی تھی کہ دریا کادھاراپل کے اوپر جوکوٹھریاں بنی ہوئی ہیں ان کی چھتوںکے اوپرسے بہتاتھا شاہی زمانہ کی چارکوٹھریاں وسطِ پل میں ہیں، بقیہ کوٹھریاں انگریزی زمانہ کی ہیں، اس طوفان کے سیلاب میں بھی کوٹھریوںاور پل کی ایک کنکری بھی کہیں سے نہیں نکلی انگریزی کوٹھریاں سب بہہ  گئی تھیں تین مرتبہ تومیرے سامنے بھی پل کے اوپرسے دھارابہاہے حضرت شاہ شیخومجذوب اسی مسجد میں گدڑی پہنے بیٹھے رہتے تھے اورلرزہ سے ہروقت کانپتے رہتے تھے جب کوئی ملنے کیلئے آپ کے پاس آتا توگدڑی اتارکر رکھ دیتے اورفرماتے کہ اے جاڑے سی گدڑی میں چلاجا، گدڑی کانپتی رہتی اورخودساکن بیٹھ کرباتیںکرتے جب وہ شخص چلاجاتاتوگدڑی پہن لیتے اورپھرکانپنے لگتے ان کامزاردروازہ مسجد سے متصل زیارت گاہ خلالق ہے۔
 
حضرت کا کلام معائبِ سخن سے بالکل پاک ہے میرابھی ارادہ تھا کہ حضرت کے اصول وقواعد جوشاعری میں تھے اسے شرح وسط کے ساتھ لکھوں مگروقت کی تنگی مجبورکررہی ہے دوچارباتیں مختصراًلکھتاہوںحضرت کے یہاں اوربروزن غورلکھنالازمی ہے اوریاں بجائے یہاں اورواں بجائے وہاں کے بالکل ناجائز ہے زمین مکان آسمان وغیرہ اعلانِ نون کے ساتھ استعمال فرماتے تھے پہ بجائے پر کے نہیں لکھتے تھے کسی لفظ میں الف کہیں نہیں دبتاخلاصہ یہ کہ جولفظ جس طرح پربھی بولا جاتاہے نظم میںبھی اسی طرح آناچاہئے، اگریہ نہیں ہے توناظم کے کمال میں کلام ہے غرض قواعداتنے سخت تھے کہ دوسرے کاچلنا مشکل ہے، حضرت کی ایک غزل ہے جس کامطلع ہے  
 
ظاہرمیںتوہیںمگرنہیں ہم 
دریائے رواںنہ ہوںکہیںہم
 
اس میں’’نازنین‘‘اورمہذبی‘‘کے قافیہ کواپنی طرف نسبت کرکے اس طرح نظم فرمایاہے کہ کہ وجدآجاتاہے ملاحظہ ہو۔
 
عاشق سے تورنگِ رخ نہ سنبھلا
ان کودعویٰ کہ نازنین ہم
دوسراشعرملاحظہ ہو۔؎
اللہ رے نورِسجدۂ شوق
مہ روتم ہوتومہ جبیںہم
 
آیۃ کریمہ ہے، سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْھِہِمْ مِنْ اَثَرِالسُّجُوْدِ،غالبؔ کی غزلوںپراکثرغزلیں کہیں ہیں،
حضرت نے اپنی چندن کالی ہوئی غزلیںمولوی عبدالصمد صاحب کودے دی تھیں،مولوی صاحب خود دہلی گئے تھے توغالبؔ سے ملے اوروہ غزلیں سنائیں ،غالبؔ دم بخود سنتے رہے اس کے بعد فرمایا کہ اللہ اللہ ایسے لکھنے والے اب بھی ہندوستان میں موجودہیں، حضرت نے بارہایہ فرمایاتھاکہ غالبؔہوتے توسننے اورسنانے کالطف ملتامگرافسوس کہ حضرت کے کلام کامجموعہ جومیرؔ کے چھ دیوان سے بھی زائد تھا سیوان ضلع سارن میں تلف ہوگیا حضرت کووقف خانقاہ کے مقدمہ کے سلسلہ میں دوبرس تک جون پورسے نکلنے کا اتفاق نہیں ہوا، دیوان سیوان میں ایک پٹارہ کے اندر رکھا ہوا تھا برسات میں اس پرپانی ٹپکا اورد یمکوں نے اسے ایسا چاٹا کہ دس پانچ غزلیں بھی مکمل نہ دستیاب ہوسکیں، یہ کلام جوشائع ہورہا ہے زیادہ تر بعد کا ہے، دوچارغزلیں جودوسروں سے مل سکیں وہ بھی درج کردی گئیں، غالبؔ کی غزل پرایک غزل کہی تھی جس میں سے صرف دوشعرملے غالبؔ کامطلع ہے  
 
سادگی پراس کی مرجانے کی حسرت دل میںہے
بس نہیں چلتاکہ پھر خنجرکف ِقاتل میںہے
 
حضرت کامطلع ملاحظہ ہو۔
 
وائے محرومی یہاں شوقِ شہادت دل میں ہے
جوشِ آبِ زندگانی خنجرِقاتل میںہے
شعرہے  
پھروہی دل کی طلب ہے ان کوشرم آتی نہیں
خاک کرڈالاجلاکردل کواب کیادل میںہے
غالبؔ کی ایک غزل اورہے جس کامطلع ہے   
آئینہ کیوںنہ دوںکہ تماشاکہیںجسے
ایساکہاںسے لائوںکہ تجھ ساکہیںجسے
 
حضرت کی غزل کے صرف چارپانچ شعردستیاب ہوئے مطلع ملاحظہ ہو
 
قطرہ وہی کہ روکشِ دریاکہیں  جسے
یعنی وہ میںہی کیوںنہ ہوںتجھ ساکہیں جسے
 
مومنؔ کاشعرہے      
آنکھیںجوڈھونڈھتی تھیںنگہ ہائے التفات
گم ہونادل کاوہ مری نظروںسے پاگیا
 
حضرت نے اسی مضمون کواس پیرایہ میںاداکیاہے         
پیمانہ ٔ  نگاہ سے آخرچھلک گیا
سرجوشِ ذوق وصلِ تمناکہیں جسے 
 
حضرت کاایک مطلع ہے جس پرکم علم مولویوںنے کفراورشرک کافتویٰ دینے سے دریغ نہیںکیا، حضرت نے جب یہ غزل کہی تھی میں خدمت میں حاضرتھامطلع یہ ہے   
 
وہی جومستویِ عرش ہے خداہوکر
اُترپڑاہے مدینہ میںمصطفیٰ ہوکر
 
جب یہ مطلع فرمایا تومیری طرف مخاطب ہوکے فرمایا کہ میاں شاہدؔ جہلاء اس شعرپراعتراض کریںگے مگران کے اعتراض کا جواب مصرعۂ اُولیٰ میں موجود ہے یعنی وہ اب بھی مستوی علی العرش ہے افسوس کہ اگرمعترضین حضرت شیخ اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فصوص الحکم وغیرہ دیکھے ہوتے تواس گستاخی کی جرأت نہ ہوتی اگرمصرعۂ اُولیٰ میں وہی جومستویِ عرش تھاخداہوکر، ہوتاتو البتہ ان کااعتراض خداکے مجسم ہونے کا صحیح ہوتا، وہ تواب بھی مستوی علی العرش ہے مدینہ میںا ترناباعتبارنزول صفات کے ہے جیسے آفتاب آئینہ میں اترتا ہے الان کماکان حضرت کے ایک شعرپر ایک صاحب نے اعتراض کیا تھا شعریہ ہے  
 
تو  ُرات جہاںجلوۂ کاشانہ ٔ دل تھا
آج اس کوجودیکھاتووہ دیوانہ ٔ دل تھا
 
معترض نے یہ کہا کہ ’’دیوانہ ٔ دل ‘‘غلط ہے ’’ویرانہ ٔ دل‘‘ہونا چاہیئے مگرایسی صورت میں ایک مصرعہ کی ردیف بیکارہوجاتی ہے میں نے عرض کی کہ یہ تمام غزل دل کے حقائق ومعارف میں ہے مطلب یہ ہے کہ تو  ُرات جس ک اکاشانہ ٔ دل میں جلوہ گرتھا وہ کوان ایسا خوش نصیب ہے اورتیری جلوہ گری کاسبب کیاہے مگریہ حیرت یوںدفع ہوئی کہ میں نے اس کودل کی طلب میں دیوانہ پایایعنی جودل کاطالب صادق ہوتاہے تومطلوب حقیقی خود بخوداس کے دل میں جلوہ گرہوجاتا ہے دل کے حقائق میں اکابرین سلف کی کتابیں بھری پڑی ہیں، حضرت کے ایک شعرمیں جحیم کالفظ مئونث نظم ہوا ہے شعریہ ہے۔  
 
نعیم کیسی جحیم کیسی کرشمے سارے یہ حسن کے ہیں
کسی کولوٹاثواب ہوکرکسی کوماراعذاب ہوکر
 
میرے دل میںیہ شعرکھٹکتا تھا میں نے ایک روزموقع پاکر حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ لکھنؤمیں جحیم مذکرمستعمل ہے حضرت نے فرمایاکہ ہاں صحیح ہے یہ لکھنؤوالوں کا اجتہاد ہے اوریہ ہمارا اجتہاد ہے، غالباً ہم سے مراد خاندانِ ناسخؔ ہے،میرعلی اوسط رشکؔ نے جوزبان اردوکے اصول اورقواعد کارسالہ لکھا تھا اس میں میم کومئونث لکھا ہے اوران کے اصول میںآخرکے حروف کوبھی اوزان کے ساتھ تانیث وتذکیرمیں بہت دخل ہے حضرت نے رشیدآباددرگاہ کیلئے پختہ سڑک سے درگاہ تک ایک سڑک اورپل بنوایاتھا زائرین کودرگاہ تک برسات میںپانی ہل کرجاناپڑتاتھا، حضرت شمشادؔرحمتہ اللہ علیہ نے تاریخ کہہ کے حضرت کی خدمت میںسنائی میںحاضرخدمت تھامادۂ تاریخ یہ ہے،پلے مطاع زیارتگہِ رشیدآباد،حضرت نے سننے کے بعدبرجستہ فرمایا،مولوی صاحب!پلے کی ’’ی‘‘کونکال کے’’مطاع‘‘کے’’ع‘‘کو’’ف‘‘سے بدل دیجئے اب مصرعہ یوںہوا’’پل مطاف زیارتگہِ رشیدآباد‘‘نہ ہوسکیں مگرہم جلیسوں سے یہی سنا کہ اصلاحیں بے مثل ہوتی تھیں اورجس نے ایک مرتبہ اصلاح لے لی دوسرے کی طرف مائل نہیں ہوتاتھا، حضرت کاشعرہے ۔
 
؎عشق کیاکیانسبت یںکرتا ہے پیداحسن سے
زلف اگرشب رنگ تھی نالہ مراشب گیرتھا
 
اس شعرپرایک شخص نے یہ اعتراض کیا کہ شب گیرصبح کے معنی میں مستعمل ہے اس لیے شعربے معنی ساہوجاتاہے وہاں میرے پاس کوئی لغت موجودنہ تھااس لیے میں نے ان سے عرض کی کہ اس کاجواب میںمکان پہنچ کرروانہ کروںگا،غیاثؔ ،برہانؔ ،جہانگیری وغیرہ ودیگرلغات کے دیکھنے سے معلوم ہواکہ شب گیر، بمعنی روندۂ شب ،بھی مستعمل ہے میں نے جب لغات کاحوالہ لکھ کران کے پاس بھیج دیاتو ان کی تشفی ہوئی، حضرت کاکلام جملہ اصنافِ سخن میں طاق تھا مگرافسوس کہ میں نے بہت کوشش کی مگردستیاب نہ ہوسکاتاریخیں بھی بکثرت اورلاجواب تھی مگرصرف چندمل سکیں ایک مثنوی بھی دستیاب ہوئی ہے جودربارِ رسالت میں سلام کے طورپرہے جسکاایک شعریہ ہے۔؎
 
سلام مسلسل چوزلفِ پری
نثارِسرِچترِپیغمبری
 
یہ سلام حضرت ہی کاہے مگرغالباً مولوی وکیل احمدمرحوم سکندرپوری کے نام سے شائع ہواتھا رباعیاںکافی تعداد میں ملیں اورحق تویہ ہے کہ زبان اردومیں ایسی رباعیاں دیکھنے میں نہیں آئین۔
 
حضرت کا خُلق: حضرت کاخُلق اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٍ کامجسم مظہرتھا چاہے کوئی کی ساہی مصیبت زدہ اورمغموم ہوتاحضرت کی خدمت میں حاضرہوتے ہی صورتِ مبارک دیکھ کرکل رنج وغم بھول جاتا،ہرادنیٰ اوراعلیٰ پرایسی شفقت تھی کہ ہرشخص کویہی دعویٰ تھا کہ مجھی کوسب سے زیادہ چاہتے ہیں، حضرت کی خدمت میںرہ کرلڑکے بالے ماں باپ گھربارسب بھول جاتاتھا اورجوجتناہی زیادہ گنہ گارہوتاتھا اس پراتناہی زیادہ رحمت کاجوش ہوتاتھا،کوئی حاضرباش ایسا نہ تھاجس کے ساتھ سیکڑوںکرامتوںکاظہورنہ ہوا ہومگراخفاء کایہ عالم تھاکہ جوواقعہ جس کے ساتھ پیش آتاتھا دوسرے کواس کی خبربھی نہیں ہوتی تھی مجھ سے کئی بارفرمایاتھاکہ میرے پیرنے مجھ کووصیت کی تھی کہ درویشی کواس طرح چھپاناچاہئے جیسے عورت کرسف کوچھپاتی ہے حضرت کی کرامت کااگرکوئی اظہارکرتا تھا تواس کونقصان ہوتا تھا، لوگوں کے د لوںکے خطروں کاجواب دوسروں سے گفتگو کے دوران میں بے تکلف دے دیتے تھے جس کوسوائے صاحب خطرہ کے دوسرا نہیں سمجھ سکتا تھا، حضرت کی کرامتیں اگرلکھی جائیں توایک ضخیم کتاب میںبھی نہ سمائیں گی، حضرت کی خدمت سے میں نے کسی صاحبِ غرض کومحروم جاتے نہیں دیکھا بشرطیکہ جوحضرت کی زبان سے نکلا ہواس پراس نے عمل کیا ہو، جوکوئی اپنی غرض لے کرآتا حضرت کبھی کوئی دعایااسم بتادیتے یاکسی بزرگ کے مزارپرحاضری کوفرماتے یاکوئی تعویذوغیرہ دلوادیتے بعض مرتبہ یہ بھی دیکھنے میںآیاکہ کسی نے اپنی حاجت پیش کی اورحضرت نے انتہائی بے توجہی ظاہرکی اورادھراس کا کام ہوگیا میں ۱۹۰۹ئ؁ میںجب حضرت کی خدمت میں حاضرہواتومیرے خیالات کچھ وہابیت اورنیچریت لئے ہوئے تھے، جوخیال دل میں آتا تھا دوسروں پررکھ کراس کا جواب فوراً دے دیتے تھے، جب تک میرے عقائد بالکل درست نہ ہولئے اس وقت تک میرے ہرخطرے کاجواب فوراًملتارہا،اخیرمیںاکثریہ خطرات آئے کہ حضرت پرخطرات مکشوف ہوتے ہیں جب جواب ملتاہے یاحضرت کی تقریرہی اتنی جامع ہوتی ہے کہ سب کے خیالات کے جواب ہوجاتے ہیں،اگرمیںسامنے بیٹھارہاتوآنکھ ملاکے جواب ملااگرپشت کی طرف بیٹھارہاتومیری طرف منہ پھیرکرفرمایاکہ تمہاراجواب ہے اورپھر دوسروںسے باتیںکرنے لگے جملہ پیرانِ رشیدی اورحضرت کامعمول تھاکہ بغیربلائے کسی مریدکے گھرنہیں جاتے تھے اوربلانا بھی جب بہت اصرارسے ہو، میں۱۹۱۳ئ؁ میںبعارضۂ دردِ جگرمبتلاہوااوردرداتناشدیدہوتاتھا کہ میرے کراہنے کی آوازسڑک تک جاتی تھی حضرت نے مجھ سے فرمایاتھاکہ اپنے جدِامجد حضرت سید شاہ قیام الدین قدس سرہٗ کوحضرت دیوان جی سمجھواورجوتمہاری حاجت ہوان سے عرض کیا کرو حضرت شاہ قیام الدین صاحب قدس سرہٗ کامزارِمبارک ہم لوگوں کے مکان کے اندرصحنِ مسجدمیں واقع ہے، جب دردکی شدت ہوتی تھی توکسی کومزارپربھیجتا تھا اورجب مزارکی خاک لاکے لگادی جاتی تھی تودردساکن ہوجاتاتھا، مگرجب تک کوئی آدمی وضوکرکے مزارپرجائے اورخاک لاکر لگائے میری حالت غیرہوجاتی تھی خاک لگانے کے ساتھ ہی درد ساکن ہوجات اتھا مگرپھردورہ پڑتاتھاحضرت اس زمانے میں غازی پورتھے جب مجھے کئی دن اسی حالت میں گزرگئے تومیں نے ایک دن لیٹے لیٹے حضرت کی خدمت میں اپنی حالت کی اطلاع لکھی،خط دوبجے دن کوڈاک میںڈالاگیاحضرت نے اس دن دوبجے دن کواپنے خادم حافظ نبی بخش مرحوم کوحکم دیاکہ نبی بخش !میرااسباب باندھ میںآج ہی گورکھپورچلوںگااورسبحان اللہ کوتاردے دے کہ میں صبح کوپہنچوںگا،سب لوگ متحیرتھے کہ حضرت کاارادہ گورکھپورکا تھا بھی نہیں اورگورکھپورسے کسی نے بلایا بھی نہیں اس خلاف معمول قصد میں کیا رمزہے، مولوی سبحان اللہ صاحب نے شام کومیرے پاس اطلاع بھیجی کہ حضرت صاحب صبح تشریف لارہے ہیں اس خبرسے جس قدرمجھے خوشی ہوئی وہ بیان سے باہرہے، میں روزانہ پالکی میں سوارہوکرمولوی صاحب کے مکان پرحضرت صاحب کی خدمت میںحاضرہواکرتاتھااورجہاں کہیں گوشہ میںجگہ مل جاتی بیٹھ رہتاتھانہ حضرت میراحال پوچھتے تھے اورنہ مجھے کہنے کی حاجت تھی، چلتے وقت حضرت کی جوتیوں کی خاک چاٹ کر چلا آتا تھا میری علالت کے بارہویں دن ڈاکٹرجگیسررائے نے جواب دے دیا کہ ان کا مرض لاعلاج ہے، جگراتنابڑ ھ گیاہے، کہ اگرپیٹ کاآپریشن کرکے جگرکابڑھاہواحصہ کاٹ کرنکال دیاجائے توشاید بچ جائیں ،مجھے اس واقعہ کی کوئی خبرنہیں تھی مگروالدہ کی حالت روتے روتے غیر ہوگئی، اس دن جومیں حضرت کی خدمت میں حاضرہواتوحضرت استنجے کیلئے تشریف لے گئے تھے  اوراتفاق سے تخلیہ بھی تھا حضرت جب استنجے سے فارغ ہوکرواپس تشریف لائے تومجھ سے پوچھا،میاں شاہد! تمہارا کیا حال ہے؟میں نے امتثالِ امرکے خیال سے اپنا حال عرض کیامجھے ایک پلنگ پرلٹایا اورخود ایک کرسی پرجلوہ فرما ہوئے اورفرمایا دیکھوکہاں درد ہے،میرے جگرپرانگشتِ شہادت سے دبا کرفرمای اکہ کہیں ورم وغیرہ تونہیں ہے، انگشتِ مبارک میرے جگرپرپڑنے کے ساتھ ہی ورم اوردرد سب غائب ہوگئے میں نے اپنے دل میں کہاکہ تھاتوبہت کچھ مگراب واقعی کچھ نہیں ہے،میں بالکل اچھا ہوکرمکان واپس آیاشام کوجب ڈاکٹرصاحب میرے پاس آئے توسخت متحیرہوئے، بہت دیرتک دیکھتے رہے نہ ورم تھانہ درد جس مریض کوصبح کوجواب دے کرجاتے ہیں وہ اسے شام کوبالکل اچھاپاتے ہیں، صحت کی خوشی کے نشہ میںمیرے منہ سے نکل گی اکہ ڈاکٹر صاحب کیا دیکھتے ہیںمیرے پیرتشریف لائے ہیں، انہوں نے اچھا کردیا، ڈاکٹراس قدرمعتقد ہوئے کہ جب تک حضرت تشریف فرمارہے برابرحاضرِ خدمت ہوتے تھے مجھ کویہ معلوم تھاکہ پیروں کی حیات میں ان کی کرامتوںکا اظہارعتاب میں ڈالتاہے مگرخوشی کا نشہ ایس تھا کہ اوربھی دوایک آدمیوں کے سامنے اس واقعہ ک ا اظہارہوگیا تین چارروزکے بعد ایک دن دوپہرمیں پھرخفیف درد جگرمیں محسوس ہوا،اب کے میں بہت پریشان ہوا اورسمجھا کہ پہلے تومرض تھا مگراب اپنی کم ظرفی کی وجہ سے پیروںکے عتاب میں مبتلا ہوں، اس در دکی خبرکسی کونہیں تھی،دوبجے کے قریب میں نے اپنے چھوٹے سالے میاں حسین احمد کوحضرت کی خدمت میں بھیجا اوریہ کہا کہ جاکرعرض کروکہ شاہدؔ نے عرض کی ہے کہ میں اپنے خطرے سے توبہ کرتاہوں یہاں میں درد سے بے چین ہوں مگرکسی پراظہارنہیں ہے،حضرت ظہرکی نماز کے بعد وظیفہ پڑھ رہے تھے میاں حسین احم دنے جاکر یہ پیغام عرض کیا حضرت مسکرا دیئے یہاں میرا دردغائب ہوگیا پھرمیں نے اس واقعہ کا اظہارحضرت کی حیات تک کسی سے نہیں کیا اس کے چند دنوں کے بع دمیںب خارمیں مبتلا ہوا اورعلالت نے پانچ مہینے تک طول کھینچاعلالت کے ساتھ کھانسی بھی تھی، اکثرطبیبوںکی رائے یہ ہوئی کہ دق ہے، جب میری صحت سے سب لوگ مایوس ہوگئے اورعلالت سے حالت  اس درجہ پرپہنچ گئی کہ گھڑی ساعت کامہمان رہ گیاتھا، صبح سے شام اورشام سے صبح کی امید نہیںرہی تھی تومیری بیوی نے حضرت صاحب کویادکرکے عرض کی کہ وصیؔ کوجواس وقت تک میراایک ہی لڑکاتھا،اورنیزگھربھرمیں بھی ایک ہی لڑک اتھااٹھا لیجئے اوران کواچھا کردیجئے اس کے بعد وصیؔ کونمونیہ ہوا اوراس کی علالت بڑھتی گئی، جس دن وہ مرگیا میری حرارت زائل ہوگئی، اسی اثناء میں حضرت مخدوم شاہ طیب بنارسی کاعرس آیا اورمیں نے رس گلا منگواکے فاتحہ دلوائی اورجوشِ عقیدت میں دورس گلے کھ ا گیا حالانکہ اس وقت میری خوراک ایک پھلکے کا چھلک ابھی بدقتِ تمام تھی حکیم صاحب کوجومیرے معالج تھے دودن کے بعد جورس گلا کھانے کی خبرہوئی توآکے بہت برہم ہوئے اوران کے منہ سے یہ جملہ نکل اکہ اگرمدینہ منورہ کی کھجوربھی ہوتی تومیں بحیثیت طبیب ہونے کے کھانے کی اجازت نہ دیتا
حکیم صاحب جواپنے کو محدث بھی کہتے تھے میں انے ان سے عرض کی کہ حکیم صاحب حدیث شریف میں وارد ہے کہ مدینہ منورہ کی کھجوراورمدینہ منورہ کاغبارہرمرض کیلئے شفا ہے سوائے موت کے اب میں آپ کاعلاج نہیں کرسکتا، مجھ کومرجانا قبول ہے، اس کے بعد میری والدہ نے سید حسین احمد کوحضرت کی خدمت میں منڈوا ڈیہہ بھیجا کہ وصیؔ سخت بیمارہوگیا ہے میاں حسین احمد جونہی حضرت کے سامنے پہنچے اورکچھ کہنے بھی نہ پائے تھے کہ حضرت نے بڑے زور سے ڈانٹ کے فرمایا کہ دونوںنہیں اچھے ہوسکتے ،یا یہ اچھے ہوںگے یا وہ اوراپنے خادم سے فرمایا کہ شاہدؔ کے لئے مخدوم صاحب کے عرس کی مٹھائی بھیج دے اورمیاں حسین احمد سے فرمایا کہ یہی مٹھائی ان کوصبح شام کھلائی جائے، اسی کوکھا کے وہ اچھے ہوںگے کسی علاج کی ضرورت نہیں ہے چنانچہ اسی کوکھا کے میں اچھ اہوا،میں بہت محرورالمزاج تھا اورسال میں چارپانچ مہینے مجھے بخارمیں گزراکرتے تھے اورجب بخارآتاتھاتودق کااشتباہ واقع ہوتاتھاایک مرتبہ حضرت کی خدمت میں حاضرتھامہینے ڈیڑھ مہینے سے اندرخفیف حرارت رہاکرتی تھی میں اپنی طبیعت سے اطفائے حرارت کیلئے ایک نسخہ پیاکرتا تھا، حرارت زائل نہیںہوتی تھی ایک دن خدمت اقدس میں بیٹھا ہوا تھامیرے دل میں خیال آی اکہ یہ حرارت دق کی تونہیں ہے، حضرت نے میری طرف مخاطب ہوکرفرمایا تم کوحرارت رہتی ہے، میں نے عرض کی کہ ہاں،فرمایاکہ نبض تودیکھوں،میں نے ہاتھ بڑھایا نبض دیکھنے کے بعد فرمایا وہ بات نہیں ہے یعنی دق نہیں ہے،مجھ سے پوچھا کہ کیا پیتے ہو، میں نے دوائوں کے اجزاء عرض کئے فرمایا کہ اس میں۶ماشہ تخمِ پالک بڑھادواس کے بعد تخم پال کے اضافہ کے دوتین کے بعد میری حرارت دورہوگئی اورحضرت کے اس فرمانے کے بعد سے کہ وہ بات نہی ںہے اس قسم کی حرارت نہیں آئی جس سے دق کااحتمال ہوتا،حضرت صاحب ایک مرتبہ متلی کے عارضہ میں مبتل ہوئے تھے اورپانچ مہینے تک نہ کوئی دوااورنہ کوئی غذا ہضم ہوئی حضرت صاحب دوا پینی نہیں چاہتے تھے، اعزاء عرض کرتے تھے کہ پی لیجئے مگرآپ انکارفرماتے تھے جب لوگ اصرار کرتے تھے توپی لیتے تھے مگرفوراًہی قے ہوجاتی تھی جس سے بہت سخت تکلیف ہوتی تھی،می ںلوگوں کو کتنا ہی سمجھاتا تھا کہ حضرت کی طبیعت پرچھوڑدولیکن لوگ مانتے نہیں تھے اس علالت کے دوران میں حضرت کے منہ سے یہ مصرعہ اکثرسننے میں آتا تھا۔   
 
اے خداوندِ جہاں بات ہماری رکھنا
 
پانچ مہینے کے فاقہ کے بعد حضرت نے خادم کوحکم دیا کہ ’’بھٹالائو‘‘خادم نے بھٹا پیش کیا نوش فرمانے کے بع دہی نہ متلی رہی نہ کوئی مرض رہا کسی ڈاکٹریا حکیم کی سمجھ میں مرض نہیں آیا،اطباء نے شرح اسباب وقانون وغیرہ چھان ڈالے، کسی جہت کی علامتیں حضرت کی حالت سے مطابقت نہیں کرتی تھی، جونپورمیں عبدالرحیم خاں مرحوم کامکان حضرت خواجہ محمدعیسیٰ تاج قدس سرہٗ کے روضہ کے متصل تھا خان صاحب اکثربے فصل کے بھٹے تلاش کرکے لاتے تھے اورحضرت کی خدمت میں پیش کرتے تھے حضرت ان سے بہت خوش رہتے تھے خان صاحب راجہ ابوجعفرمرحوم رئیس پیرپورکے وہاں ملازم تھے، خان صاحب ملازمت ترک کرکے گھرچلے آئے تھے جوراجہ صاحب کے خلافِ مزاج ہواراجہ صاحب نے ان پردومقدمے خیانت مجرمانہ کے جونپور میں چلائے حضرت صاحب نے جوترکیبیں خان صاحب کوبتادی تھیںوہ ان پرعامل تھے، ایک انگریزجوائنٹ مجسٹریٹ کے اجلاس میں ان کا مقدمہ تھاجنٹ صاحب خان صاحب کودیکھنے کے ساتھ ہی آگ بگولا ہوجاتے تھے مقدمہ کی کارروائی ختم ہوگئی اوربحث بھی ہوگئی خان صاحب کے وکیلو ںنے جواب دے دیا کہ مقدمہ ثابت ہوگیا ہے آپ کے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے سنیچر کے دن فیصلہ سنانے کی تاریخ مقررہوئی، عدالت کارنگ دیکھ کروکیلوں کا گمان تھا کہ فیصلہ سنیچرکی شام کوسنایاجائے گ اتاکہ دوسرے دن اتوارہونے کی وجہ سے ضمانت بھی نہ ہوسکے، جمعرات کے دن دس بجے کے قریب خان صاحب حضرت کی خدمت میں حاضرہوئے اتفاق سے صرف میں حضرت کی خدمت حاضرتھا،خان صاحب نے کل حال عرض کیا، اس کے بعد حضرت نے فرمایا کہ تاریخ کے دن پہلے حضرت خواجہ محمدعیسیٰ تاج، قدس سرہٗ کے مزارپرحاضری دینا اورپھررشیدآباد جانا اورپھرکچہری جاتے وقت حضرت قطب الدین بینادل قلندرقدس سرہٗ کے مزارپرہوکرجب کچہری جانا، اس کے بعد کچھ توقف کرکے فرمایا کہ خان صاحب!آپ ہرسال میری دعوت کیا کرتے تھے،اس سال میری دعوت نہیں کی خان صاحب اپنے کھیت کی ہری مٹرکی برہیں،کی روٹیاں پکا کے ہرسال حضرت کوکھلایا کرتے تھے،ان اطراف میں برہیں،اس روٹی کوکہتے ہیں جس کے بیج میں ہری مٹریا ہرے چنے کی دال پیس کے دی جاتی ہے، یہ روٹیاں گھی میں تلی نہیں جاتیں بلکہ توے پرپکانے کے بعد گھی اوپرسے لگا دیا جاتا ہے، خان صاحب نے عرض کی جب حکم ہوپیش کروں، حضرت نے فرمایا کہ چوتھے دن لائو، یعنی اتوارکوخان صاحب نے عرض کی کہ حضور!میں پرسوں خدا جانے کہاں رہوں کل ہی کیو ںنہ لائوں؟حضرت نے فرمایا نہیں چوتھے دن مجھے اس بشارت سے بڑی مسرت ہوئی، خان صاحب حسب ہدایت عمل کرکے کچہری تشریف لے گئے جنٹ صاحب نے اول ہی وقت فیصلہ سنانے کیلئے طلب کیا، تجویزگھرسے لکھ کرلائے تھے خان صاحب کی صورت دیکھنے کے ساتھ ہی مبہوت ہوگئے،تجویزہاتھ میں ہے اورمنہ سے آوازنہیں نکلتی بہت دیرتک خان صاحب کا منہ تکتے رہے اس کے بعد آخر کے د وورق پھاڑکے ردی کی ٹوکری میں پھینکے اوران کی بریت کی تجویزلکھ کے یہ فیصلہ سنای اکہ دونوں مقدمے میں خان صاحب دودوسوروپئے معاوضہ دیں(جرمانہ نہیں)راجہ صاحب کے مختارعام سے کہا کہ تم ایک درخواست دوکہ اب دوسرا مقدمہ ان پرنہیں چلایا جائے گا،اوردرخواست لے کر شامل ِ مسل کردی پیشکارصاحب نے پھاڑے ہوئے ورق پڑھ کے بتایاکہ دوبرس کی قیدس خت کی سزا لکھ کے جنٹ صاحب لائے تھے ،خان صاحب نے کسی سے قرض لے کے یہ روپے ادا کردیئے قرض خواہ ک اتقاضا رہا کرتا تھا لیکن خان صاحب ناداری کی وجہ سے ادا نہیں کرپاتے تھے ایک روزقرض خواہ نے ایسی سخت کلامی کی جس سے خان صاحب کوبڑی تکلیف ہوئی اس روز شب میں خان صاحب میاں بیوی خواجہ صاحب کے روضہ میں حاضرہوئے خواجہ صاحب کے مزارپرقدم پکڑکے خان صاحب نے عرض کی یاحضرت! سات سوروپئے مجھ پرقرض ہیں ،یہ روپئے مل جاتے تومیں قرض سے سبک دوش ہوجاتا بیوی نے کہا کہ نہیں آپ بھول رہے ہیں،قرض پانچ ہی سوہے میاں بیوی رودھوکے گھرآئے خان صاحب باہرسوئے بیوی اندرسوئیں بیوی نے یہ خواب دیکھا کہ کسی نے میرے تکیہ کے نیچے کوئی چیزرکھی اوریہ کہا کہ خواجہ صاحب نے بھیجا ہے، صبح کوآنکھ کھلی توتکیہ کے نیچے تینتیس گنیِ اورپانچ روپئے موجود تھے خان صاحب خوشی کے مارے پھولے نہ سمائے اورحضرت کی خدمت میں لے کردوڑے ہوئے آئے کہ یہ واقعہ رات ہوا ہے حضرت صاحب مسکرائے اورفرمایا کہ خواجہ صاحب نے تمہارا قرض ادا کردیا، جائو قرض خواہ کودے آئو،
 
بابومحمد اسمٰعیل علی خان رئیس علی گنج سیوان ضلع سارن ایک سنگین مقدمہ میں ماخوذ تھے جب مقدمہ ثبوت کوپہنچ گیا اورروداد مقدمہ سے مایوسی ہوئی تو فیصلہ کی تاریخ سے ایک دن قبل حضرت کو اطلاع دی گئی حضرت عین تاریخ کے دن سیوان پہنچے اوربابوصاحب مرحوم کی پیشانی پرکچھ لکھ کرکچہری روانہ کیا اورحکم دیا کہ کچہری سے لوٹ کے میرے پاس ہوکے تب مکان جانا، میں انتظارمیں بیٹھا ہواہوں، جب تک بابوصاحب بری ہوکے کچہری سے لوٹ نہیں لئے حضرت صاحب کرسی پربیٹھے رہے، ایس ڈی او صاحب نے بعد کوبابوصاحب سے مل کرفرمایا کہ میں نے چھ سات مرتبہ آپ کی سزا کی تجویزلکھی مگرجب تجویزلکھتا تھا توآپ کی بریت ہی قلم سے نکلتی تھی،ہرمرتبہ میں اپنی دانست میں سزا کرتا تھا مگرقلم سے آپ کی رہائی ہی نکلتی تھی
 
بابوصاحب مرحوم کے انتقال کے
 
عد بابوعبدالمجید خاں خلفِ اکبران کے جانشین ہوئے تھے
،بہمن برہ شریف کے عرس میں بابوعبدال مجی د خاں مرحوم کی والدہ صاحبہ وغیرہ تشریف لے گئی تھیں، رات کے وقت حضرت کی خدمت میں ان لوگوں کوباریابی نصیب ہوئی، حضرت نے فرمایا کہ عبدالمجید خاں کے اوپربہت زبردست سحرہوا ہے اورایک تعویذعطا فرمایا اورحکم دیا کہ ابھی آدمی جائے اوران کے گلے میں پہنا دے عورتیں پریشانی سے رونے لگیں ایک آدمی اسی وقت تعویذ لے کرسیوان روانہ ہوا تین بجے شب میں آدمی سیوان پہنچا توبابوصاحب کوسینہ کے درد میں تڑپتا ہوا پایا،یہ درد اسی وقت شروع ہوا تھا جس وقت حضرت نے سحرکی خبردی تھی تعویذ پہنانے کے ساتھ ہی درد ساکن ہوگیا اور وہ اچھے ہوگئے۔
 
(بابوعبدالمجید خاں میری اہلیہ عشرت پروین کے پرنانا تھے………جاوید محمود)
 
 شاہ بدرعالم صاحب رئیس غازی پورکوحضرت سے بہت عقیدت تھی اورغلامی میں بھی داخل تھے شاہ صاحب مرحوم کی انگریزی کی قابلیت بی اے اورایم اے والوں سے بہتر تھی مگرشاہ صاحب کے پاس انٹرنس کی ڈگری بھی نہ تھی جب شاہ صاحب نے اپنے املاک فروخت کرڈالے توحضرت نے حکم دیاکہ الہ آبادجاکے ہائی کورٹ کی وکالت کے امتحان کی درخواست دوشاہ صاحب نے درخواست دی اوروہ منظورہوگئی،سب لوگ متعجب تھے کہ بغیرکسی تعلیمی سند کے ہائی کورٹ کی وکالت کے امتحان کی اجازت کامل جاناہندوستان میں پہلاواقعہ ہے، میں حضرت کی خدمت میں ایک روزبیٹھاتھااورکوئی دوسراشخص نہیں تھا، حضرت نے مجھ کومخاطب کرکے فرمایاکہ میاںشاہد!تم نے دیکھاشاہ بدرعالم صاحب کوہائی کورٹ کی وکالت کے امتحان کی اجازت مل گئی میں نے کہاجی حضورفرمایا کہ جویہ ان ہونی بات کرا سکتا ہے کیا وہ امتحان میں پاس نہیں کراسکتا؟میں نے عرض کیاحضور! وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔حضرت کی کافی توجہ شاہ صاحب کے حال پرتھی اورمجھے یقین تھا کہ شاہ صاحب امتحان میں بھی کامیاب ہوجائیںگے مگرشاہ صاحب کی بد قسمتی کہ جب الہ آباد امتحان میں جانے کیلئے شاہ صاحب حضرت سے رخصت ہونے کیلئے جونپورتشریف لائے حضرت پلنگ پربیٹھے ہوئے تھے اورپچھم طرف کھٹولے پرآکے شاہ صاحب بیٹھے رخصتی کے وقت حضرت نے شاہ صاحب سے مصافحہ کیا اورہاتھ پکڑکے دعائیں دیتے رہے کہ خدا تم کوکامیاب کرے خوش جائواورخوش آئو،شاہ صاحب کی شامت جوآئی توشاہ صاحب نے کہا کہ حضرت یہ فرما دیجئے کہ تم پاس ہوگئے،حضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اورپیروں کے کرم پربھروسہ رکھواللہ تعالیٰ تم کوکامیاب کرے،پھرشاہ صاحب نے یہی عرض کی پھرحضرت نے یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے تمہیں ناامید نہیں ہونا چاہئے، اللہ کا نام لے کے جائوپھرشاہ صاحب نے عرض کیا کہ آپ جب تک یہ نہ فرمادیں گے کہ تم پاس ہوگئے می ںنہ جائوں گا یہ سننے کے ساتھ ہی جلال سے حضرت کاچہرہ او،آنکھیں سرخ ہوگئیں اورڈاڑھی کے بال کھڑے ہوگئے اورفرمایا کہ تم مجھ سے وہ بات کہلواناچاہتے ہوجومیرے پیروں کے منہ سے کبھی نہیں نکلی یہ کہہ کے حضرت خاموش ہوگئے، شاہ صاحب بھی ہیبت سے کانپنے لگے اورچپکے سے رخصت ہوکے الہ آباد روانہ ہوگئے میں نے اسی وقت یہ سمجھ لیا کہ اب شاہ صاحب کی کامیابی دشوارہے ہائی کورٹ سے تین سال تک امتحان دینے کی اجازت ملی تھی اس سال شاہ صاحب امتحان میں ناکامیاب ہوئے، دوسرے سال جب پھرشاہ صاحب رخصت ہونے کیلئے تشریف لائے توحضرت نے فرمایا کہ جناب شاہ عبدالسبحان صاحب سے مل کے جب الہ آباد جانا شاہ عبدالسبحان صاحب موضع پہتیا ضلع غازی پور کے رہنے والے تھے اورسلسلہ نقشبندیہ میں اپنے پیرشاہ عبدالقادرقدس سرہٗ کے صاحب سجادہ اورحضرت کے اجل خلفاء میں سے تھے شاہ بدرعالم صاحب نے کہا کہ میں سوائے اپنے پیروںکے کسی کے پاس نہ جائوںگا، حضرت نے فرمایا کہ تم میرے بھیجے ہوئے جاتے ہوان کے پاس جانا میرے ہی پاس جانا ہے، شاہ صاحب نے عرض کی کہ میں سوائے اپنے پیروں کے کسی کے پاس نہیں جائوںگا۔حضرت نے فرمایا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ ان کے پا س جائو،شاہ صاحب نے عرض کی کہ میں اس حکم کونہیں مانتا،حضرت خاموش ہوگئے اورشاہ صاحب پھرناکام ہوئے،تیسرے سال پھرحضرت نے یہی فرمایا کہ شاہ عبدالسبحان صاحب سے مل کے جائومگرشاہ صاحب نے نہیں مانا،اورپھرناکام ہوئے۔
 
حضرت کے مزاج میں جلال ان کے پیرومرش دسے بھی زیادہ تھاحضرت فرماتے تھے کہ میری حالت دیکھ کے میرے پیرومرش دنے مجھے حلیم پکار ن اشروع کیا اورحلیم کہتے کہتے مجھے حلیم کردیا حضرت کے مزاج میں طہارت کے متعلق بہت غلوتھا بمصداق اس آیتہ کریمہ کے کہ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُ الْمُتَطَھّرِیْنَ۔یعنی تحقیق کہ اللہ تعالیٰ طہارت میں مبالغہ کرنے والوںکودوست رکھتا ہے۔مگریہ مبالغہ حدودِ شرعی سے باہرنہیں تھاغازی پورمیں حضرت کے بہت بڑے دوست مولوی سید ولایت حسین صاحب  مجتہد مغفورکا واقعہ بیان کرکے یہ فرماتے تھے کہ دیکھوایمان داری اس کا نام ہے واقعہ یہ ہے کہ جب مولوی صاحب موصوف کاارادہ زیارت کربلائے معلّیٰ وحج وغیرہ کاہواتومولوی صاحب کوخیال آیاکہ میرے دادا کے زمانہ میں ایک موضع رہن بالقبض لیاگیاتھااب تک میں اس کاسودکھارہاہوںمولوی صاحب نے جب سے وہ موضع رہن لیا گیاتھا اس کی کل آمدنی کاحساب کیااو جورقم زرپیشگی دی گئی تھی اس میں سے باقی نکالااوررہن کرنے والے کے ایک ایک وارث شرعی کوتلاش کرکے حسب تخریج حصہ شرعی وہ موضع مفت واپس کیااور جورقم زائدزرپیشگی سے وصول ہوئی تھی وہ سب واپس کرکے زیارت کوتشریف لے گئے اللہ اللہ !کیسے لوگ تھے اب ایسی ہستیاںخواب وخیال ہوگئیں۔
 
وصال سے پانچ سات برس پہلے حضرت پرنسبتِ چشت کاغلبہ بہت زیادہ ہوگیا تھا اورخواجہ غریب نوازکی بارگاہ میں مندرجہ تین شعرشاہ عبدالسبحان صاحب کے علاوہ اوربھی دوایک آدمیوں کی معرفت کہلوایا تھا شعریہ ہیں          
 
اداسے دیکھ لوجاتارہے گلہ دل کا
بس اک نگاہ پہ ٹھہراہے فیصلہ دل کا
میںاورمئے ناب میرامنہ یہ کہاں ہے
تچھٹ بھی اگردے کرم ِ پیرِ مغاں ہے
یک نظرفرماکہ مستشنیٰ شوم زابنائے جنس 
سگ کہ شدمنظورِ نجم الدین سگاں راسروراست
 
اس شعرکی تلمیح یہ ہے کہ حضرت میر سید انجم الدین کبریٰ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جومولاناروم ؓ کے داداپیرتھے، یہ ذکرچلاکہ حدیث میں ہے کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل،یعنی میری امت کے علماء مثل بنی اسرائل کے انبیاء کے ہیں، اصحاب کہف کی صحبت میں کتاجس کانام ’’قطمیر‘‘تھا، ولی ہوگیاتھا، اولیائے امتِ محمدی ؐ میں بھی ایسے لوگ ہیں،حضرت میرسید نجم الدین کبریٰ ؓ نے فرمایاکہ ’’ہیں کیوںنہیں‘‘اتفاق سے ایک کتاسامنے آگیا،آپ نے اس پرایک توجہ کی نظرڈالی وہ کتاولی ہوگیااوراس کتے کی قوت کایہ عالم تھاکہ اس کے اردگردصبح کوہزاروںآدمیوں کاہجوم ہوتاتھاصبح کوپہلی نگاہ جس شخص پراس کتے کی پڑتی تھی وہ ایک نظرمیں ولی کامل ہوجاتا تھا اس کتے کامزارنیشا پورمیں ہے، حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیرکچھوچھوی رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک مجلس میں اس واقعہ کا ذکرکیا کسی نے عرض کی کہ حضرت اب بھی اس قوت کے اولیاء اللہ ہوتے ہیں آپ نے فرمایاکہ ہوتے کیوںنہیں حسنِ اتفاق سے ایک بلی سامنے آگئی آپ نے اس پر توجہ ڈالی اوروہ ولیہ ہوگئی بی بی بلائی کی کرامت یہ تھی کہ روزانہ مخدوم صاحب کے سامنے آکے جتنے مہمان آنے والے ہوتے تھے اتنی ہی بولیاں بولتی تھیں،حضرت مخدوم صاحب فرماتے کہ اتنے مہمان آنے والے ہیں اتنے آدمیوں کا کھانا پکائو، روزانہ کا یہی معمول تھا اتفاق سے ایک روزایک مہمان زیادہ آگیا بی بی بلائی ایک بولی کم بولی تھیں،آپ نے بی بی بلائی کوبلاکرکہاکہ کیوں بی بی بلائی آج تم ایک مہمان کوکھا گئیں،بی بی بلائی نے سرجھکا لیا اورکچھ نہ بولیں،صبح کومعلوم ہوا کہ وہ مہمان نہیں تھا بلکہ چورتھا مہمان بن کے آیا تھا رات کوچوری کرکے چلتا ہوا ،بی بی بلائی کا مزارکچھوچھہ شریف میں مخدوم صاحب کی درگاہ میں موجود ہے۔
 
اورلوگ تویہ اشعارمزارپرجاکرپڑھ دیاکرتے تھے مگرشاہ عبدالسبحان قدس سرہٗ نے مراقبے میں حضرت خواجہ غریب نواز کی زیارت سے مشرف ہو کے عرض کیا تھا جس کاجواب حضرت خواجہ غریب نوازنے یہ فرمایا تھا کہ میں محمدعبدالعلیم کا ہوں اورمحمد عبدالعلیم میرے ہیںاورایک خط بھی عطا ہوا تھا جس کے مضمون کا انکشاف کسی پرنہیں ہوا حضرت محبوب الہی رضی اللہ عنہ کے مزارپرمراقبے میں شاہ عبدالسبحان صاحب سے حضرت محبوب الہی رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ فرمائے کہ محمدعبدالعلیم کومیرا سلام کہنااورکہنا کہ میرے سلسلے کا رواج ان اطراف میں تمہاری ذات سے قائم ہے اوریہا ں سے بھی ایک خط عطا ہوا تھا یہ خط بھی صیغہ رازمیں رہ گیا حضرت نے یہ دونوں خط اوراپنے پیرومرشد کاایک خط جن کی ایک نقل یعنی پیرومرشد کے خط کی نقل میرے پاس موجود ہے جس کاایک جملہ یہ ہے کہ تم بمقابلہ اس فقیرکے اس امر خطیر کے زیادہ سزا واراوراہل ہو، حضرت دیوان جی قدس سرہٗ کے قرآن شریف جس میں خانقاہ شریف کے کل سجادگان تلاوت کرتے آئے تھے، کے شروع کے دوسادے ورقوں کے درمیان رکھ کے لئی سے چپکا کے بند کردیئے تھے حضرت کے سالِ وصال یا سال وصال سے ایک سال قبل جس بستے میں یہ کلام پاک رکھا ہواتھا اونڑیہار جنکشن کے اسٹیشن پرجونپور کی گاڑی ب دلنے میں غازی پور سے بنارس جانے والی گاڑی میں چھوٹ گیا بعد کوہرطرف تاردیئے گئے مگرکوئی پتہ نہیں ملا ہم لوگوں کی نگاہوں پر غفلت کا پردہ ایسا پڑاہوا تھاکہ جب بھی نہ سمجھے کہ یہ سال ِوصال ہے اسی سلسلہ چشت کے غلبہ کے دوران میں ایک شب قاضی عبدالبصیرمعصوم پوری مرحوم اورغلام رسول عرف توبہ شاہ سیوانی مرحوم رات بھراپنی کیفیت میں مست صبح تک غزلیں پڑھتے رہ گئے میں بھی دوبجے رات تک حاضر خدمت رہا حضرت سورہے تھے اورچہرے کی عجیب روشنی اورحالت تھی جوکبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی،میں دوبجے رات کواٹھ کے خانقاہ سے متصل جو خلوت خانہ ہے اس میں چلاآیاتھا چاربجے رات کے قریب ان دونوں آدمیوںکوحضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بچشم ظاہرہوئی ان لوگوں نے یہ دیکھاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمان سے اترے اورحضرت کے منہ میں مجسم سماگئے مجھ سے جب صبح کوان دونوں آدمیوں نے یہ واقعہ بیان کیاتومجھے اپنی بد قسمتی پرجس قدرافسوس ہوا وہ بیان سے باہرہے کہ اگرمیں دوگھنٹے اورخدمتِ اقدس میں رہ گیا ہوتا توشرفِ زیارت سے محروم نہ ہوتا حضرت کے وصال سے پیشترپیشتراوقات استغراق کاغلبہ رہتا تھا غلبہ ٔ استغراق میں یہ حالت رہتی تھی کہ نواسی صاحبہ توکیااپنے آپ کوبھی نہ پہچانتے تھے اس حالت میں لی مع اللہ وقت کی مظہریت کی شان نظرآتی تھی،اورجب پھرعالم ناسوت کی طرف متوجہ ہوتے تھے توتمام باتیں حسب معمول کرتے تھے، وصال سے تین سال قبل سے غذا ترک کردی تھی تین تین چارچارپانچ پانچ دن پردوایک تولہ کھا لیا کرتے تھے ہم لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بھوک نہیں لگتی خانقاہِ رشیدی کامعمول یہ ہے کہ جب تک تمام مہمان کھانانہ کھالیں صاحبِ سجادہ کھانا نہیں کھاتے حضرت غازی پورمیں تشریف رکھتے تھے اورمیں حاضرِخدمت تھا حضرت نے کئی دن سے غذانہیں کی تھی دوپہرکوخادم سے تاکید کی کہ اتنی دیرہوگئی میاں شاہد کوکھانا نہیں کھلایا جلد کھانا منگوائو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ چارپانچ دن سے حضرت نے غذانہیں کی ہے شاید آج کچھ خواہش معلوم ہوتی ہے اس لئے یہ تاکید فرمارہے ہیں کہ سب مہمان کھانا کھالیں توشاید حضرت کچھ نوش فرمائیں اس خیال کے آتے ہی مجھ سے آنکھ ملا کرفرمایاکہ یہ بات نہیں ہے مجھ کوبھوک لگتی ہے مگرخدانے مجھ کوصبردیاہے وصال سے ایک سال قبل حضرت نے غذا قطعی ترک کردی تھی صرف صبح وشام دونوں وقت بے دودھ کی چائے پی لیتے تھے پانچ مہینے قبل سے چائے بھی ترک کردی تھی صرف خوب ٹھنڈا پانی دوچارگھونٹ نوش فرمالیتے تھے، اس ترکِ غذا سے حضرت کی معمولی تندرستی پرکوئی اثرنہیں پڑاتھا۔حضرت جس قدر معذورتھے اس سلسلہ میں کوئی اتنامعذورنہیں ہواتھا، معذوری کی ابتدایوںہوئی تھی کہ اپنے پیرومرشدکے سامنے حضرت اکڑوںبیٹھ کروضوفرمارہے تھے حضرت کے پیرومرشد قطب الہندحضرت شاہ غلام معین الدین قدس سرہٗ گھٹنے کے درد سے معذورتھے حضرت کواکڑوںبیٹھے وضوکرتے دیکھ کرفرمایاکہ حلیم!تم اب تک اکڑوںبیٹھ کروضوکرلیتے ہو،حضرت فرماتے تھے کہ اسی وقت میرے گھٹنے میںدرد شروع ہوااورمیں اس وضوکواکڑوںبیٹھ کرتمام نہ کرسکا مولوی عبدالمجید صاحب کاتب مصنف’’سمات الاخیار‘‘نے اس گھٹنے کے درد کے متعلق ایک قطعہ بہت ہی نفیس لکھا ہے ،؎
 
مرشد میں تجھ میں فرق بس اب کچھ نہی ںرہا
سیرت میں حصے شیخ سے سب بیش وکم لئے
پس ماندہ رہ گیاتھا بس اک درد پاعریب
اس نے بھی دوڑدھوپ کے تیرے قدم لئے
 
آخرزمانے میں حضرت کی معذوریوں کا یہ عالم تھا کہ نماز بھی اشارے سے پڑھتے تھے، ۱۹۱۴ء ؁ کی جنگ کے زمانے میں جب جرمنی کوفتح ہوتی جاتی تھی سیداحمدمرحوم بھی جوڈاکٹرمحمود کے بڑے بھائی تھے، حاضرخدمت تھے حضرت نے ایک دن فرمایاکہ ذرامیںچلنے کی کوشش کروں دیکھوں کہ میں چل سکتاہوں یانہیں؟ایک طرف سے میں نے اوردوسری طرف سے سیداحمدمرحوم نے حضرت کی بغل میں ہاتھ دیے اٹھایاحضرت اپنے کمرے سے خلوت کے دروازے تک آئے اوروہیں سستانے کیلئے کھڑے ہوگئے، سیداحمد مرحوم نے عرض کی کہ حضرت !فرما د یجئے کہ جرمن جیت جائے ،حضرت نے فرما یا کہ میرے کہنے سے کیاہوگا؟سیداحمد مرحوم نے کہا کہ حضرت!میراایمان ہے کہ اگرآپ فرماد یںگے کہ ’’جرمنی جیت جائے گا‘‘تویقینا جرمنی جیت جائے گا،حضرت نے مسکراکربرجستہ یہ شعرفرمایا،   ؎
 
جوکہیںہم زبان سے ہوجائے
منہ میںلیکن کہیںزبان بھی ہو
 
میں نے اسی وقت سمجھ لیا کہ نتیجے میں جرمنی ہی کوشکست ہوگی،اسی جنگ کے متعلق ایک اورواقعہ یاد آیاکہ جب روس نے مشہد مقدس میں حضرت امام علی رضارضی اللہ عنہ کے روضہ پرگولہ باری کی تھی حضرت بہت متاثرخاموش بیٹھے ہوئے تھے عصرکے بعد کاوقت تھا،میں پائوں دبارہا تھا، حضرت نے سکوت توڑکرمجھ سے فرمایا کہ روس نے مشہد مقدس میں بہت بڑی گستاخی کی ہے اورتین مرتبہ یہ جملہ فرمایاکہ روس بہت تباہ ہوگا، روس کی بربادی کا مجھ کواسی وقت یقین کامل ہوگیا مگرزارِروس کے اس سطوت وجبروت کود یکھتے ہوئے جب اسباب ظاہرپرغورکرتا تھا توکوئی ذریعہ بربادی کامیرے ذہن میں نہیں آتاتھا،جب ۱۹۱۴ء ؁ کی لڑائی چھڑی ا س وقت یہ معمہ سمجھ میں آیاکہ یہ ساراکھیل روس کی بربادی کیلئے ہورہاہے اورزارِ روس کوجتنی ذلتیںایک انسان کیلئے ہوسکتی تھیںوہ سب ہوئیں جواظہرمن الشمس ہے۔
 
حضرت کی زبانِ مبارک سے ایک مرتبہ یہ جملہ سننے میں آیا کہ اب اولیاء اللہ کواپنی کرامت ظاہرکرنے کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ملتی بلکہ وہ مامورہیں کہ اپنی کرامتوں کوچھپائیں،حضرت کے وصال کے قریب کوئی مرض ظاہری نہیں پیداہوا، غلبہ ٔاستغراق بڑھتاگیا، میں دوایک مہینہ قبل خدمت سے غیرحاضر تھا،وصال سے چند روزپہلے حافظ نبی بخش مرحوم سے حضرت نے فرمایاکہ میاں شاہد آرہے ہیں ان کیلئے مکان صا ف کردے، دس دن قبل سے کلام ترک کردیا تھا اس دس دن میں نواسی صاحبہ سے یہ فرمایا تھاکہ میں بہمن برہ شریف جائوںگا، نواسی صاحبہ نے عرض کی کہ آپ کی حالت سفرکے لائق نہیں ہے توفرمایاکہ میں نہیں تومیری لاش جائے گی،چند مہینے قبل سے استغراق کی حالت میں حاضرین پرایسی ہیبت طاری ہوتی تھی کہ کوئی دم نہیںمارسکتاتھا، لوگ پائوں دباکے آتے تھے اورپلنگ کی پٹی چوم کے چپکے سے بیٹھ جاتے تھے،کسی کوسلام وکلام کی ہمت نہ ہوتی اس حالت میں جس کے بارے میں جومنہ سے نکل جاتاوہ فوراًہوجاتا، حضرت جب پھراس عالم کی طرف متوجہ ہوتے توپھر سب سے اسی طرح باتیں کرتے جیسے پیشترکیاکرتے تھے، اورہیبت مٹ جاتی تھی جب حضرت نے حافظ نبی بخش مرحوم سے میرے آنے کے بارے میں فرمایا توحافظ صاحب نے گورکھپورمیرے نام تارروانہ کیا میں اسی دن گورکھپورسے روانہ ہوکردوسرے دن صبح کوغازی پورپہنچا میرے ساتھ مولوی محمد اصغر صاحب بھی تشریف لے گئے تھے میں پائینتی کی پٹی چوم کے دست بستہ خاموش کھڑارہا، حضرت کے چہرۂ مبارک سے یہ معلوم ہوتاتھاکہ جمالِ حقیقی کوبڑی محویت سے مشاہدہ فرمارہے ہیں،ٹکٹکی آسمان کی طرف لگی ہوئی تھی اورآنکھوں کی گردش سے ذکرجاری تھا کچھ کچھ دیرکے بعداللہ کالفظ منہ سے نکلتاتھا، وصال سے چندمنٹ پیشترمولوی محمد اصغرصاحب نے فرمایا تھاکہ نبض میں کوئی تغیرنہیںہے، نبض کی حالت آج کل کے تندرست نوجوانوںسے بہترہے،اس کے بعد مولوی صاحب نے یہ بھی فرمایاکہ ان لوگوںکی نبض کااعتبارنہیں ہے ہم لوگ یہی گفتگوکررہے تھے کہ ایک آدمی نے آکرکہاکہ نبض غیرمنتظم ہوگئی ہے،
 
دوسری تاریخ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۵ء ؁ ہجری تھی اوراتوارکادن تھاکہ حضرت نے دن کے ایک بج کربیس منٹ پر ہم گنہگاروں کوداغِ مفارقت دیا اوراپنے محبوب ِ حقیقی سے جاملے، حضرت نے اپنے مزارکیلئے جوجگہ مجھ سے فرمائی تھی اس کومیں نے ظاہرکردیا تھا، اعزاء نے لاش مبارک کوجونپوریا بہمن برہ شریف جانے نہیں دیا میں نے رفع فتنہ کے لحاظ سے سکوت اختیارکیا، حضرت کے مکان کے سامنے افتادہ زمین تھی اس میں اسی روزنصف شب کے بعد مدفون ہوئے، عرس دوسری جمادی الاولیٰ کوشہرغازی پورمحلہ نورالد ین پورہ میں مزارمبارک پرہواکرتاہے۔
 
وصال کی تاریخیں ہرطرف لوگوں نے کہیں جن کی تعداد ہزاروں ہے مولوی محمداحمد صاحب ایمن ؔسکندرپوری نے بھی لقدرضی اللہ عنہ سے خوب تاریخ نکالی ہے، دوتاریخیں اس گنہگارنے بھی نکالیں،ایک تویہ ہے۔؎
 
قطب ِدوراں شیخِ ماعبدالعلیم
چوںبحق واصل شدازراہِ نیاز
دستگیرش چوںبخوانداوراحلیم
عفوولطفش زاںشدہ عاصی نواز
مثلِ عرش ازپرتوِخلقِ عظیم
بواورادامنِ رحمت دراز
بہرِ تاریخش چوفانیؔ فکرکرد
ایں صداآمدزخلوت گاہِ راز
شدجہاں بے اوبچشمِ من سیاہ
محوِذات اللہ حلیم پاک باز
 
دوسری تاریخ میں نے قرآن پاک سے نکالی تھی اس آیتہ مقدس میں جتنی باتیں درج ہیں وہ حرف بحرف حضرت پرگزری تھیں اورجواللہ تعالیٰ نے جزاعطافرمائی وہی مادہ ٔ تاریخ ہے۔
 
ولاتقولوالمن یقتل فی سبیل اللہ اموات ،بل احیائُ ٗ ولکن لاَّ تشعرون،ولنبلونکم بشی ئٍ مّن الخوف والجوع ونقصٍ مّن الاموال والانفس والثمراتِ ،وبشرالصٰبرین ،الذینَ اِذااصَابتھم مصیبتہ قالواناللہ واناالیہ رجعون ،اُولئٰٓک علیھم صلوٰتُٗ مَّن ربھم ورحمہ۔
 
اس تاریخ پربہت سے لوگوں نے رشک کیااوراُولٰٓئِکَ کے ہمزہ پراعتراض کیاکہ ہمزہ کا عدد شمارکیاگیا ہے میں نے اس کا جواب یہ دیا تھا کہ ہمزہ کا ایک عدد لیجئے چاہے کوئی عدد نہ لیجئے دونوںصورتوںمیں تاریخ صحیح باقی رہتی ہے اس لیے کہ کتاب قرآنی اس آیتِ کریمہ میں صَلَوٰتُٗ کے لفظ میںالف کے ساتھ اوربغیرالف دونوںطرح سے واردہے۔اگراُولٰٓئِک کے ہمزہ کاایک عددلیتے ہیں توصَلَواَتُٗ  کالفظ بغیر الف کے لکھاجائے گا،اوراگرآپ کے نزدیک ہمزہ کاکوئی عدد نہیں لیاجائے گا توصَلَواَتُٗ میں وائو کے بعدالف لکھاجائے گا۔
 
ناظرین کرام سے استدعا ہے کہ اس گنہگارکودعائے خیرسے یاد کریں اورمیری خط اپوشیوںمیں عالی ہمتی سے کام لیں۔
 
رقم : شاہد علی سبزپوش علیمی رشیدی غفرلہ ،گورکھپور
 
(یہ مضمون عین المعارف سے ماخوذہے)
 
حضرت شاہدعلی سبزپوش کامزارمبارک جونپورمیں ہے۔
 
 
 نقدونظر،حضرت علامہ آسی کی شاعری 
 
اس قدردردسے بلریزجوتقریرنہ ہو
سخن آسی شیداغزلِ میرؔ نہ ہو
 
میرے مقالے کا موضوع حضرت آسیؔ غازی پوری کی شاعری اوران کاوہ نرالااندا زتغزل ہے جس کی بناء پرخود شاعرکواحساس ہے کہ اس کی شاعری اکثرغزلِ میرکے رتبہ کوپہنچ جاتی ہے جیساکہ اس نے اپنے شعرمیں ظاہرکردیاہے۔ 
دنیا میں محرومی دوطرح کی ہوتی ہے، ایک تویہ کہ جس چیز کوچاہووہ نہ ملے دوسری یہ کہ ایک ملی ہوئی دولت کی صحیح اورکماحقہ، قدرنہ کی جائے ،اگرایک طرف ایسوں کی تعدادبے شمار ہے جوعمربھراکسیرکی تلاش کرتے رہے اورنہ پاسکے تودوسری طرف ایسوں کی تعدادبھی کچھ کم نہیں جن کواکسیرملنے کوتوبارہاملی مگروہ بیشتراوقات اس کوخاک سمجھتے رہے میں جب آسیؔ غازی پوری کی شاعری پرغورکرتاہوںاورپھراس ناشناسی اوربیگانہ وشی کودیکھتاہوں جس کواردوشاعری کے نقادوںنے ان کے حق میں برتاہے تومجھے اس دوسری ہی قسم کی محرومی کی مثال نظرآتی ہے۔
 
آج مجھے کوئی قابلِ قدرتاریخ ِ شعرِ اردوایسی یادنہیں آتی جس میں آسیؔ کی شاعری کااعتراف کیاگیاہو،مولاناعبدالسلام ندوی جیسابالغ نظراور ہمہ گیرمئورخ دوجلدیں، شعرالہند،کی لکھ ڈالتاہے اورمشکل سے کسی ایک جگہ آسی، کانام لے کرچپ ہوجاتاہے اورپھر نہ ان کی شاعری پرکوئی رائے دیتاہے اورنہ ان کا ایک شعردرج کرتاہے کیا آسیؔ کے سارے کلام میں ایک شعربھی ایسانہ نکل سکا جس کوتغزل یاتصوف یاکسی اورعنوان کے تحت مثالاً پیش کیا جاسکتا؟ کہاجاسکتا ہے کہ آسیؔ کا مرتبہ شاعرسے بہت بلند تھا اورشاعری ان کیلئے باعثِ فخرنہ تھی، وہ خانقاہ رشیدیہ کے سجادہ نشین تھے اورایک صاحب باطن مرشداوریہی ان کی اصل بزرگی اوربرگزید گی ہے جس کے سامنے ان کی ساری شاعری شرماکرمنہ چھپالیتی ہے، یہ آسی خود کہتے توہم خاموش ہوجاتے یاپھراگرکوئی ایسامرید کہتاجوشاعری کامبصرنہ ہوتایاکم ازکم شاعری پرتنقید کرنے نہ بیٹھا ہوتا توبھی اس کومعاف کیاجاسکتا تھالیکن ایک نقادادب کوایساتجاہل زیبانہیں، اردوشاعری میں آسیؔ کی شاعری کوشامل نہ کرناصریح ظلم ہے، مانا کہ آسیؔ کیلئے شاعری ننگ تھی لیکن ہمارے لیے توننگ نہیں ہے اورپھرآسیؔ کے کلام میں جوسنجیدہ درد مندی اورجومتین گدازہے وہ صاف اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خودبھی مزہ لے کرشعرکہتے تھے اورشاعری کوننگ وعارکی چیزنہیں سمجھتے تھے۔
سب سے پہلے میں ان کی مشہورغزل کے دوشعرلیتا ہوں اورانہیں سے اس تبصرہ کاافتتاح کرتاہوں،مطلع ہے۔
 
وصل ہے پردل میںاب تک ذوقِ غم پیچیدہ ہے
بلبلہ ہے عین دریامیں مگرنم دیدیج ہے
 
یہ شعراگر سوچئے توشعورِ محبت کی ایک خاص منزل کاپتہ دیتا ہے جوتصوف کے انفعالی سکون سے اتناہی دورہے جتنا کہ نفسانیت کے اضطراری ہیجان سے شاعرکووصل اس وقت میسر ہوتاہے جبکہ وہ ایک پوری عمر وصل کی تمنامیں کھوچکاہے اوراس کی ایک خاص طبیعت بن چکی ہے مہجوری کاغم سہتے سہتے اس کے اندر ایک ذوقِ غم پیداہوگیاہے، یعنی اب غم اس کامزاج ہے اوراب اس کو وصل نصیب ہوتا ہے جبکہ وہ وصل سے لذت اندوز ہونے کی پوری صلاحیت نہیں رکھتا نتیجہ ایک عبرت ناک کشمکش CONFLICT ہے جس کوہرکس وناکس نہیں سمجھ سکتا، ایک طرف تووصل کی نشاط انگیزیاں ہیں دوسری طرف اس ذوقِ غم کاجواب منزلہ فطرت ہے، مطالبہ یہ ہے کہ کسی چیز سے نشاط نہ حاصل کرو،اس کشمکش کوشاعرصرف لفظ ’پیچیدہ‘ سے اداکرتاہے اب آپ اس لفظ کی بلاغت کااندازہ کیجئے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے لکھنؤکے ایک دوست نے جواردوتنقید نگاری میں کافی روشناس ہوچکے ہیں ایک مرتبہ اسی شعرکوپڑھ کراعتراض کے لہجہ میں پوچھا تھا آخراس، ذوق پیچیدہ، کے کیامعنی ہیں؟میں نے ان کوبہت سمجھانے کی کوشش کی تھی، کہہ نہیں سکتاکہ وہ سمجھ سکے یانہیں مگرچپ ضرور ہوگئے خیراب دوسرے مصرع کی طرف آیئے تشبیہات اوراستعارات کی دنیا کاپوراجائزہ لے چکنے کے بعدبھی اس خاص حالت کی مصوری کیلئے اس کومکمل نہیں کہہ سکتے،یہ بلبلہ کی تشبیہ جس طرح ہماری اس مخصوص حالت پرمحیط ہوگئی ہے شاید کوئی دوسری تشبیہ نہ ہوسکتی۔
 
یہ کشمکش کوئی ایسی دنیا سے نرالی بات نہیں جوہماری سمجھ میں نہ آئے لیکن عام انسان یا تواس منزل تک پہنچنے کی تاب نہیں لاتا یا اگرپہنچ جاتا ہے توعموماً اپنی حالت سے بے خبررہتاہے شاعرکا کام ہمارے اندرآگاہی پیدا کرنا ہے،شاعراور صوفی میں سب سے بڑافرق یہی ہے صوفی کیلئے اس کے اپنے واردات اورتجربات ہی سب کچھ ہوتے ہیں اوروہ انہیں میں کھویا رہتاہے، برخلاف اس کے شاعراپنے واردات اورتجربات کواس وقت تک قابل ِقدرنہیں سمجھتاجب تک کہ وہ ان کوازسر نوپیداکرکے دوسروںکے مطلب کی چیزنہ بنادے صوفی جب خبردارہوتا ہے توپھرہم کوخود اس کی خبرنہیں لگتی شاعرجب خبردارہوتاہے تووہ دوسروں کوبھی خبردارکرنے کیلئے بے تاب رہتاہے، آسی کے شعرکایہی اثرہوتاہے کہ ہم خوداپنی واقعی یا امکانی حالت سے آگاہ ہوکراس پرعبورپاجاتے ہیںمیں نے سب سے پہلے اس شعر کواس لئے منتخب کیا کہ اس سے یہ اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ خود شاعر کس منزل پرہے یہ وہ منزل ہے جہاں نہ محض صوفی پہنچ سکتاہے نہ محض شاعربلکہ صرف وہ شخص پہنچ سکتاہے، جوصوفی اورشاعردونوں ہو اورجس نے تصوف اورشاعری کوملا کر ایک آہنگ بنالیا ہو آسی مجھے مجازاورحقیقت کاایک نہایت خوشگوارتصفیہ معلوم ہوتے ہیں ان کی شاعری اس سطح سے ہوتی ہے جہاں مجاز حقیقت اورحقیقت مجازہے، خودشاعراپنے اندراس کااحساس پاتاہے، چنانچہ کہتاہے :
 
دنیامیںاٹھالائے گی فردوس بریں کو 
بدمستی ِصہباومزامیرہماری
 
یہی وجہ ہے کہ آسی کے حال میں قال کومزہ ہوتاہے اوران کے قال میں حال کاکیف، ان کی شاعری کی ایک عام خصوصیت یہ ہے کہ ان کے اشعارکوہرسطح کا آدمی حسب ِتوفیق دل نشین پاتاہے اوران سے کیف اندوزہوتاہے مثال کے طورپراب وہ دوسراشعرلیجئے جواسی غزل کامقطع ہے جس کے پہلے شعرسے میں نے ابتداء کی تھی۔
 
حشرمیںمنہ پھیرکرکہناکسی کاہائے ہائے
آسی گستاخی کرہرجرم نابخشیدہ ہے 
 
مجازمیں حقیقت کودیکھنا ایک بہت پرانی سی رسم ہوگئی ہے یہ کہنے والے دنیامیں بہت ملیں گے، 
 
لیکن حقیقت کو مجازکی نت نئی رنگینیوںسے معمور اور پرُکیف بنانے کیلئے ایک خاص بصیرت درکارہے مجاز میں حقیقت کانظرآناتوپھر بھی دو نوں میں ایک محسوس فرق کوباقی رکھتاہے، لیکن حقیقت میں مجاز دیکھنادر اصل دونوں کو ایک محسوس کرناہے، آسی نے اپنے شعر میں یہی کیاہے،پڑھتے ہی ہرمدرس کہہ دے گا کہ شعر میں حشر، واورحشر اور اپنی گنہ گار یوں کاایک مرقع پیش کیاگیاہے لیکن شعر کو جوچیز اسی قلیل کے اور سینکڑوں اشعار سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کی بلیغ مجازیت SYMBOLISM یاثمثیلت ALLEGORISM  ہے اوراسی نے اس کو ہرشخص کے حالات اور جذبات سے قریب اورمانوس رکھاہے، شاعرنے عارفہ نہ وجدانات کوعاشقانہ واردات بنا دیاہے اوراسی کواپنی اپنی توفیق اوراپنی اپنی بصیرت پر چھوڑدیا ہے کہ داورحشرکوجوجی چاہے سمجھ لو،ہمارے لئے اس کی بھی پوری گنجائش کہ ہم اس ہستی کوجزا اورسزاکامالک سمجھیں جواس زندگی میں ہمارے دل کامدعارہ چکی ہواور جس نے اس دنیامیں ہماری تمناکی گستاخیوںاوربے باکیوںکوکبھی نہ بخشاہے،ریاض مرحوم کاایک شعرہے ۔
 
رہاہے جواس دل میں ہنگامہ آرا
وہی جلوہ آرائے محشرنہ نکلے
 
ریاض کے تخیل میں جوبات گمان وتذبذب رہ گئی تھی وہ آسی کے مشاہدہ میں آگئی ہے اورعین الیقین ہوگئی ہے، داورِحشرسے ہم کوئی اجنبیت نہیں محسوس کرتے اس لئے کہ وہ توہماراوہی قدیم محبوب ہے جواپنی تمام بے وفائیوں کے باوجودزندگی میں ہمارے سارے حرکات وسکنات کاکار فرمارہ چکاہے، اگرآسی فطرتاًشاعرنہ ہوتے اگروہ محض ایک عارفِ کامل ہوتے توایک ایسے تصورمجردکی اتنی کامیابی مصوری نہ کرسکتے کہ ہرشخص کو وہ ایک ایسا مکان معلوم ہونے لگے جس کوواقعہ کی صورت اختیارکرتے دیرنہیں لگی ،اسی غزل کے بعض اوراشعارسننے کے لائق ہیں۔
 
آنکھیںتجھ کوڈھونڈھتی ہیں دل تراگردیدہ ہے
جلوہ تیرادیدہ ہے صورت تری نادیدہ ہے
 
انگریزی کے مشہورنقادہیزلٹ HAZLITT نے سچ کہاہے کہ شاعری تخیل اور جذبات کی زبان ہوتی ہے، اورمیراخیال ہے کہ اگر منطق یار یاضیات کوبھی اس زبان میں پیش کیا جائے تو وہ شاعری ہوجائے شاعری اورمنطق میں سوائے اس کے اور کوئی فرق نہیں کہ منطق کی زبان اور اس کے تصورات جذبات وتخیل سے یک قلم عاری ہوتے ہیں، بہرکیف ذراآسی کے اس ’’تجھ کو‘‘ کوملاحظہ کیجئے جس کوان کی آنکھیں ڈھونڈھتی رہتی ہیں، قیاس کہتاہے کہ یہ صوفیوں کاوہی پُرانارسی معشوق ہوگا، جس کوشاہدِ ازاں کہتے ہیں لیکن آسیؔ کے اندازِتخاطب میں جوبے تکلفی جووالہانہ سادگی اورجوعاشقی وارفتگی پائی جاتی ہے اس نے اس شاہد ِازل کوہرشخص کامحبوب بنادیاہے اورہم آپ سب محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ہماری زندگی میں ایسے تخاطب اورتکلم کاموقع بارہاآچکاہے۔
 
دوسراشعرخالص تصوف اورمعرفت کاہے لیکن اس میں بھی مجاز کی پوری رنگینیاں موجود ہیں،اوراس بت پرستی کی لاج رکھ لی گئی ہے جواسنان کی فطرت اصلی ہے ۔
اتنے بت خانوں میں سجدے ایک کعبہ کے عوض
کفرتواسلام سے بڑھ کرتیراگرویدہ ہے
یہ اس غزل کے اشعارتھے جس سے ہروہ شخص واقف ہے جواردو شاعری کاصحیح مذاق رکھتاہے اب قبل اس کے کہ ہم آسیؔ کے اوراشعار کی طر ف متوجہ ہوں ان کے متعلق چنداہم رسمی باتوں کاذکربھی ضروری ہے۔
آسی ؔ کاسلسلہ تلمذ ناسخؔ سے ملتاہے اورجہاں تک شاعری کے اسالیب وصُورکاتعلق ہے وہ لکھنوی دبستاں کے تربیت یافتہ ہیں،چنانچہ ان کے دیوان میں ایسے اشعاربھی ہیں جن کوآج کل کے روشن خیال نقادمحض اردوشاعری کے مزخرفات کہہ کرالگ کردیںگے، اورجن میں سوائے مناسبات درعایات کے اورکچھ نہیں ہے اوراس سے انکارنہیں کہ یہ اشعارصرف زمین اورردِیف وقافیہ بنانے کیلئے کہے گئے ہیںیہ اشعارکچھ شاہ نصیرؔ،ذوقؔ ،ناسخؔ اوررشکؔ ہی کوزیب دے سکتے تھے چند نمونے ملاحظہ ہوں۔
 
کہایہ دیکھ کرخال بُتِ بے پیرکادانا
الہیٰ اس کوتوکرنامری تقد یرکادانا
جوداناہے تود یوانوں کے قدموں سے تولپٹارہ
مسلسل یہ صدادیتاہے ہرزنجیرکادانا
٭٭٭
گلوے خشک خواہاں ہے دم تکبیرپانی کا
ذبیحہ سے نہ کربخل اے دمِ شمشیرپانی کا
خدنگِ آہ نکلایاکلیجہ ہوگیاپانی
ہوائی تیرسُلتے تھے یہ دیکھاتیرپانی کا
٭٭٭
آہ بھی آج ہوئی ہم سفرِ اشک نئی
کیاملی سوئے فلک رہ گذرِ اشک نئی
آج توگریۂ عاشق نے کئے دل ٹکڑے
ہاتھ آئے کوئی تیغ ِ اثرِاشک نئی
کوششِ دستِ مثرہ نے اسے کب روکاتھا
آج ہے طرزِگرفتِ کمرِاشک نئی
٭٭٭
 
اس اندازکے اشعاردیون آسی میں کم نہیں ہے،مگریہ ان کی شاعری نہیں بلکہ صرف مشق دریاضت ہے جس طرح وہ خانقاہ رشیدیہ کی سجادہ نشینی اوراس کے تمام رسوم وروایات کی پابندی کو اپنی روح کی تہذیب وتحسین کیلئے ضروری سمجھتے تھے اسی طرح انہوں نے اپنے مدرسہ شاعری کے تمام شرائط ولوازم کوپوراکرناشاعری کی تکمیل کیلئے اپنانصاب بنالیا تھا، آسیؔ کے مریدین اُن اشعارکوجوابھی سنائے گئے ہیں، آسیؔ کی ابتدائی مشق بتاتے ہیں اوریہ بہت بڑی حدتک صحیح ہے لیکن ان کی حقیقت صرف اسی قدر نہیں ہے ،اس لیے کہ وہ دراصل ان بندشوں اورضابطوں کی یادگاریں ہیں، جس سے آسی نے اپنے نفسِ شعری کی تربیت کی ہے۔
آسیؔ نے زبان،تشبیہات واستعارات اوردیگر رعایات وہی استعمال کئے ہیں جوروزِ اول سے ہمارے قدیم شعراء استعمال کرتے چلے آئے ہیں لیکن انہوں نے ان روایاتِ قدیمہ میں جونئی جان ڈالی ہے اس کی دوسری مثال مشکل سے ملے گی۔جوتاثیرآسیؔ نے اپنے کلام میں ان رسوم وتکلفات سے پیداکی ہے وہ انتہائے خلوص وسادگی کے باوجود بھی کسی دوسرے کومشکل ہی سے میسرہوسکتی تھی، مجھے یہ کہنے میں مطلق تامل نہیں ہے کہ آسیؔ کی باتیں اس قدردردسے لبریزکیوںہوتی ہیں اوروہ ہم پرچھاکیوںجاتی ہیں۔
آسیؔ کویہ رازمعلوم تھاکہ حقیقت کبھی عریاں منظرِ عام پرنہیں لائی جاسکتی،حقیقت سے میری مرادمحض معرفت ِ خداوندی نہی ہے بلکہ ہروہ حالت ہے جوہم پرگزرے بہرحال آسیؔ نے تشبیہات اوراستعارات اوردیگرصنائع وبدائع سے وہی کام لیا ہے جواہلِ معرفت رموزوعلامات سے لیتے ہیں، وہ ہرکیفیت اورہرتاثرکواس قدرآراستہ وپیراستہ کرکے سامنے لاتے ہیں کہ ظاہرپرست ان کومحض خرافاتِ شاعری سمجھتے ہیں لیکن اہلِ بینش کے دلوں پربن جاتی ہے اس لیے کہ وہ دیکھ لیتے ہیں کہ شاعردراصل کس حال میں ہے اور اس بنائووسنگارسے اس کااصل مقصدکیاہے آسی کیلئے یہ تمام رموزدکنا یات یہ سارے تشبیہات واستعارات زندہ حقیقتیں ہیں میں یہاںایک شعرسے اپنامطلب واضح کرناچاہتاہوں اوروہ آسیؔ کے جاننے والوںمیں کافی مشہورشعرہے۔
 
تابِ دیدارجولائے مجھے وہ دل دینا
مُنہ قیامت میں دکھاسکنے کے قابل دینا
 
ایسوں کی تعداد کافی ہے جوشعرسنتے ہی یہ کہہ دیں گے،میاں اس شعرمیں رکھاہی کیاہے وہی قیامت کاذ کروہی تابِ دیدارکارونا، وہی دقیانوسیت، میں اس لیے یہ کہنے کی جرأت کررہاہوںکہ اکتوبر۱۹۳۱ئ؁ میں جب کہ یوم حالی کے سلسلے میں میں پانی پت جارہاتھاتواپنے چندہمسفر احباب ملے اس شعرپراس قسم کی رائے سنی تھی مجھے بھی اتفاق ہے کہ ہاں سب باتیں وہی ہیں قیامت بھی وہی تابِ دیداربھی وہی، لیکن وہی دقیانوسیت کہنے کیلئے تیار نہیں ہوں،شاعراچھی طرح جانتاہے کہ دیدارکی تاب لانادینامیں سب سے زیادہ سخت اوردشوارکام ہے ذراہم آپ سب اپنی اپنی زندگی میں تبصرہ کرجائیں، ہم میں سے کتنے ہیں جن کواس دیدارسے سابقہ پڑاہے اورجواس کی تاب لاسکے ہیں؟وہ قیس وفرہادہوںیاکلیم ومنصوراپنی تنگ ظرفی اوربے تابی کی بدولت محبوب کے جلووںکے سامنے شرمندہ سبھی کوہونا پڑتا ہے، یہ شرمندگی انسان کامقدرمعلوم ہوتی ہے، آسی کی لغت میں قیامت نام ہے دوسرے روزدیدارکا ان کیلئے قیامت کی حقیقت صرف اس قدرہے کہ محبوب سے دوبارہ مگرآخری بارملاقات ہوگی، یہ محض خیال نہیں بلکہ آسی کاایمان ہے، حشرکی غایت سوائے اس کے اورکچھ نہیں ہوسکتی کہ محبوب کادیدارنصیب ہو،اب ذراسوچئے کہ ایک عاشق نامرادجوزندگی میںاپنی تاب نظارہ سے دھوکاکھاچکاہواورصرف اپنے ظرف کے بدولت جلوہ یارسے محروم رہ گیاہواورجس کوابھی یہ اندیشہ لگاہوکہ کہیںپھرایساہی نہ ہوسوائے اس کے اورکیادعامانگ سکتاہے کہ تابِ دیدارجولائے مجھے وہ دل دینا۔
اوریہ دعاکچھ عجیب قسم کاخلوص اپنے اندررکھتی ہے جس کااثرزبان تک موجودہے پیرایۂ اظہارمیںجوگداختگی اورجوگھلاوٹ پائی جاتی ہے اس سے غیرشعوری طورپرسننے والے کواپنی گزری ہوئی حالت یادآجاتی ہے اوروہ اختیاردعامیں آسیؔ کاہم آہنگ ہوجاتاہے سنتے ہیںلبِ اظہارکایہ معجزہ کبھی مسیحاکوملاتھا،
آسیؔ نے قیامت کے پامال تصورمیں ایک نئی زندگی پیدا کردی ہے ان کے دیوان میں قیامت کاباربارذکرآتاہے اورجب ذکرآتاہے تومخصوص تصوراورمخصوص اعتقا د کے ساتھ قیامت اس دن کانام ہے جبکہ اس کاروبارِعاشقی کی تکمیل ہوگی جواس زندگی میں نامکمل رہ جاتاہے اس کو نفسیات کی اصطلاح میں ان واعیات ومیلانات کی تکمیل کہتے ہیں جوچنددرچنداسباب وعوارض کی وجہ سے ہماری روزمرہ کی زندگی میںپورے نہیں ہونے پاتے، ہماری ان خون گشتہ حسرتوںاورردکردہ تمنائوںکی تکمیل ہمیشہ پردے میںہوتی ہے، ہمارے خواب اس تکمیل آرزوکی ایک خاص صورت ہیں، خواب میں ہمارانفس آزادوخودمختارہوتاہے اورمحال سے آرزوکوآسودہ کرسکتاہے آسیؔ قیامت اورخواب دونوں کوایک ہی عنوان کی چیزیں سمجھتے ہیںکہتے ہیں اورکس یقین کے ساتھ ہیں،میری آنکھیںاوردیدارآپ کایاقیامت آگئی یاخواب ہے ایک دوسری غزل میںکہتے ہیں روکے آسیؔ پوچھتاتھاکب قیامت آئے گی کس طرح کہئے کہ وہ تیراتمنائی نہ تھا تمنااورانتظارکااس سے زیادہ شدیداوربلیغ ثبوت اورکیاہوسکتاہے اورپھرقیامت کا اس سے زیادہ متعین اورواضح تصورکہاں ملے گا،کبھی کبھی آسیؔ کایقین متزلزل بھی ہوجاتاہے اورقیامت کے دن کی کامیابی کی طرف سے بھی وہ کچھ بدگمان اورمایوس ہوجاتے ہیں مثلاًاس شعرمیں:
 
وہاں بھی وعدۂ دیداراسطرح ٹالا
کہ خاص لوگ طلب ہونگے بارِعام کے بعد
 
مگراساسی تصوروہی ہے یعنی قیامت اوردیدارکے درمیان ایک ازلی نسبت ہے اورقیامت توبہت بعدکی چیزہے،آسی اس سے ایک منزل پہلے شب گورکوبھی ملاقات کی رات سمجھتے ہیں کہتے ہیں:
 
اب توپھولے نہ سمائیں گے کفن میں آسی
ہے شب گوربھی اس گل کی ملاقات کی رات
 
موت اوربعدالموت کے متعلق آسی کے علاوہ اگرکسی کوایسایقین اوراطمینان نصیب تھاتووہ سقراط ہی تھا اوراگراسی کایہ یقین پورانہ ہواتوقیامت سے بھی کچھ حاصل نہیں ،
 
نظروناظرومنظورنہ جب ایک ہوئے
کیاملاروزِقیامت میںندامت کے سوا
 
پھرقیامت میں وہی ندامت ہوگی جوایک بارزندگی میںہوچکی ہے۔ آسی زندگی کوایک طویل میعادِانتظاروامیدقراردیتے ہیں، جوقیامت کے دن پوری ہوگی چنانچہ کہتے ہیں،
 
کچھ ہمیں سمجھیںگے یاروزقیامت والے 
جس طرح کٹتی ہے امید ملاقات کی رات
 
اوراس شعرمیں تووہ نہایت لطیف اوربلیغ کنایہ میں واضح کردیاہے کہ بچھڑے ہوئے محبوب سے ملنااب قیامت ہی میں ہوگا۔
 
الہیٰ آسی بے تاب کس سے چھوٹا ہے
کہ حط میں روزِقیامت لکھاہے نام کے بعد
 
اگرقیامت یہی ہے تواس کوعشاق کی عید سمجھے قیامت کی اصل غایت توجیساکہ دکھایا جاچکا ہے یہی ہے کہ محبوب کی ملاقات میسرہولیکن اس کابھی اندیشہ ہے کہ ہم مایوس وناکام رہ جائیںاورقیامت کے دن بھی کچھ نہ ہوسکے اس لئے کہ اپنے اپنے ظرف اوراپنی اپنی تاب کی شرط لگی ہوئی ہے ممکن ہے کہ عین وقت پرہماراظرف پھرہمارے ساتھ کمی کرجائے اس خیال سے آسیؔ کادل کانپ اٹھتاہے ایک رباعی میں کہتے ہیں ۔
 
پھربادۂ تندِغصہ پیناہوگا
پھرٹکڑے جگرکے ساتھ سیناہوگا
جینے نے یہاںکے مارڈالاآسی
سنتے ہیں کہ پھرحشرمیںجیناہوگا
بے ساختہ اس جگہ یقین کاایک شعریادآگیا۔
دوبارہ زندگی کرنامصیبت اس کوکہتے ہیں
پھراٹھنا بے دماغوںکا قیامت اسکوکہتے ہیں
 
لیکن یقین اورآسی میں وہی فرق ہے جوشوریدگی اورپختہ مغزی میںہواکرتاہے بہرحال قیامت کے دن اورکچھ ہویانہ ہواتناتوہوناہی ہے کہ ہماری زندگی کاقضیہ جہاں سے چھوٹاتھاوہیں سے پھرشروع ہوگا۔
 
خبرجومحشرمیں بھیڑکی ہے وہ حسرتوں کا ہجوم ہوگا
وہ داغ ہوگا کسی کے دل کا چمکے گا آفتاب ہوکر
 
اورحسرتوں کا یہ ہجوم زیادہ ترہمارے جذبۂ عشق کی نیابت کرے گااس لیے کہ اس سے انکارنہیںکیاجاسکتاکہ زندگی میں جوجذبہ سب سے زیادہ نامکمل اورناآسودہ رہ جاتاہے وہ ہماراجذبۂ عشق ہی ہوتاہے، ہماری جوتخیل سب سے زیادہ نامکمل اورناآسودہ رہ جاتاہے وہ ہماراجذبۂ عشق ہی ہوتاہے ہماری جوتخیل سب سے زیادہ ناقص رہ جاتی ہے وہ محبت کی تخئیل ہے اورہم مجبوراًاس کوقیامت کے دن کیلئے اٹھا رکھتے ہیں۔
دورِجدید کی مہذب اورتعلیم یافتہ دنیاایسے خیالات کی فرسودگی پرقہقہہ لگاتی ہے اس کونہیں معلوم کہ کسی چیز کی فرسودگی اس کے بطال کی دلیل نہیں ہواکرتی حقیقت جتنی ہی زیادہ پرانی ہوگی اتنی ہی زیادہ سنگین بھی ہوگی، حشرومعاد کا تصورانسان کی فطرت میں ہے، دنیا میں جتنے مذاہب ظہورپذیر ہوئے ان سب کی بنیاداسی سوال پررہی ہے کہ مرنے کے بعدکیا ہوگا، مومن ہویامنکر،ملحدہویاصوفی دہریہ ہویامتکلم اگروہ اپنے نفس کاٹھنڈے دل سے جائزہ لے تومعلوم ہوگاکہ شعوری ہویاغیرشعوری طورپراس کے اندریہ اندیشہ موجودہے کہ جس زندگی کی ابتدا یوں ہوئی اورجویوں نامکمل رہ گئی اس کاموت کے بعدکیاحشرہوگا،ظاہرپرست یورپ جومادیت اورافادیت کامبلغ اورعلم بردار سمجھاجاتاہے آج دنیامیں ہرملک سے زیادہ اس سوال کی طرف متوجہ نظرآتاہے کہ مرنے کے بعدکیا ہوگا، آج یورپ میں جن علوم کاسب سے زیادہ چرچاہے وہ تحلیل نفسی اورتحقیق روحانی ہیں اوریہ دونوں اس باب میں متفق ہیں کہ مرنے کے بعد ہمارے وہ میلانات وداعیات ابھریںگے جواس زندگی میں دب کررہ گئے اورجوعلی الاعلان آسودہ نہ کئے جاسکے یہ بھی سب مانتے ہیں کہ ان میلانات میں سب سے زیادہ اہم اورناقابلِ تردیدوہیں جن کاتعلق ہمارے جذبہ زوجی یاشعورجنسی سے ہے وہ اس کوشعورجنسی کہتے ہیں ہم اس کوزیادہ لطیف اورپُرکیف پاتے ہیں اورعشق کہتے ہیں بہرحال یہ مسلم ہے کہ ہمارے وہ جذبات ہماری روح سے لپٹے رہیں گے جودنیامیں خاطرخواہ آسودہ نہ ہوسکے پھراگرآسیؔ یہ کہتے ہیں توکیاغلط ہے۔
 
غبارہوکے بھی آسیؔ پھروگے آوارا
جنونِ عشق سے ممکن نہیں ہے چھٹکارا
 
آج کل حیاتِ انسانی کاسب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہی ہے اورشاید سبوطِ آدم سے لیکر اب تک ایسا ہی رہاہے۔اب ہم آسیؔ کے دوچاراوراشعار ایسے سناتے ہیںجن کاموضوع موت اورقیامت ہے اورجوہمارے خیال کی مزیدتشریح وتوثیق کرتے ہیں۔
 
فتنہ زارِحشرسب سمجھے ہیںجس میدان کو
دامنِ نازِنگہ کاگوشۂ جنبیدہ ہے
٭٭٭
ہم سے بے کل سے وغدہٗ فردا
بات کرتے ہوتم قیامت کی
اے شبِ گوروہ بے تابی ِشبہائے فراق
آج آرام سے سونامری تقدیرمیںتھا
مآل اس کاقیامت ہے قیامت
وہ آفت کی جگہ ہے دارِ فانی
٭٭٭
اب تودیداردکھادیجئے تقصیرمعاف
ہوگیاوعدۂ فرداہی قیامت مجھ کو
٭٭٭
ساتھ چھوڑاسفرِ ملک ِعدم میں سب نے
لپٹی جاتی ہے مگرحسرتِ  دیدارہنوز
 
آپ کہتے ہوںگے کہ ہم نے صرف ایک عنوان یعنی قیامت پراتناوقت لے لیامجھے خوداس کااعتراف ہے لیکن میں صرف یہ دیکھانا چاہتا ہوں کہ آسیؔ کی ذات اوران کی شاعری کی ایک ممتازخصوصیت یہ ہے کہ ان کے چندمخصوص اورمتعین تصورات واعتقادات ہیں جن میں آسیؔ کواسی قدر غلواورانہماک ہے جس قدر کسی کٹرسے کٹرمذہبی شخص کواپنے مذہب میں ہوسکتاہے، آپ لوگوں کومعلوم ہوگیاہوگاکہ آسیؔ قیامت کاذکرمحض شاعری کی رسم اداکرنے کیلئے نہیںکرتے،ان کے ذہن میںقیامت کاایک خاص تصورہے اوروہ اس کی بابت ایک اعتقادرکھتے ہیں یہی آسیؔ کی ساری شاعری ہے وہ جوکچھ کہتے ہیں اورجب کہتے ہیں ایک خاص تصورکے ماتحت اورایک شدیداعتقادکے ساتھ کہتے ہیں جس میں ان کوانہماک ہوتاہے ،مثلاً
 
دل دیاجس نے کسی کووہ ہواصاحب ِدل
ہاتھ آجاتی ہے کھودینے سے دولت دل کی
 
یامثلاًیہ شعر!
 
کوئے محبوب سے کوئی بھی نکل سکتاہے
اپنے ادہام ہوئے وادیِ غربت مجھ کو
 
شعرمیں تشبیہ سے کام لیا گیاہے اورتشبیہ بھی ایسی جس کو انوکھی کہناپڑتاہے مگریہ آسیؔ کے تخیل کی شدیدہویت جس نے تشبیہ کوعین واقعہ بنادیاہے اورمشبہ اورمشبہ بہ میں کوئی امتیازباقی نہیںرہنے دیا ہے، ’’اوہام کو‘‘کووادیِ غربت‘‘بتانااگرکوئی اورکہتا توہم اس کومحض شاعری یعنی ایک دورازکارخیال سمجھتے لیکن آسیؔ کاخلوص جذب اورزبان ودل کی یک آہنگی ہے جس نے اس نرالے تخیل کوہمارے لیے اقلیدس کاایک ایسا مقالہ بنادیاہے جو کسی ثبوت کامحتاج نہی ںہے، ہم سب سنتے ہی مان لیتے ہیںکہ ہمارے’’اوہام ‘‘ہی ہمارے لیے ’’وادیِ غربت‘‘بنے اردومیں اس قبیل کا صرف ایک شعرمجھے یاد ہے جومیرؔکے مشہوراشعارمیں سے ہے۔
 
عمربھرکوچۂ دل دارسے جایانہ گیا
اس کی دیوارکاسرسے مرے سایانہ گیا
 
آسیؔ نے ہم کواس خطرہ سے بھی آگاہ کردیاہے کہ ہمارے ’’اوہام‘‘ہم کوکوچۂ دل دار سے نکال بھی سکتے ہیں اور ’’اس کی دیوار کاسایہ‘‘ہمارے سرسے جابھی سکتاہے۔
آسیؔ رمزدکنایہ کے قائل ہیںوہ جانتے ہیں کہ’’دشنہ وخنجر‘‘یا’بادہ وساغر‘‘کے بغیرگفتگومیں کام نہیں چلتا،وہ تشبیہ واستعارہ کوبیانِ حقیقت کیلئے ضروری سمجھتے ہیں یہ کہنا شاید زبردستی نہ ہوکہ آسیؔ مجاز کو’’قنطرۃ الحقیقت‘‘نہیں بلکہ عین حقیقت مانتے ہیں، اگرایسا نہ ہوتاتوان کی شاعری میںجوکافی حدتک تشبیہ واستعارہ اوررمزوکنایہ کی شاعری ہے اتنی تاثیراورلذت نہ ہوتی کہ اس پر’’غزلِ میر‘‘کااطلاق ہوسکے۔
آسیؔ کے کلام کی مجموعی خصوصیت گستگی اورتبتل ہے یعنی سب کچھ چھوڑکرمحبوب کی طرف نہ صرف آجائو بلکہ اسی میں محوہوجائو، لیکن یہ محویت کوئی مجہولی کیفیت نہیںہے آسیؔ کے وہاں عشق ایک جداگانہ مذہب ہوگیا ہے اوران کی شاعری کواس مذہب کی انجیل سمجھنا چاہئے وہ عشق کی بشارت لے کرآئے ہیںاوران کاپیغام یہ ہے کہ بے عشق زندگی بے کیف ہے ایک شعرمیں کہتے ہیں،
 
عین معنی ہے وہ دل عاشقِ معنی جوہوا
ہائے وہ لوگ جودل دادۂ صورت بھی نہیں
بے ساختہ حافظؔ کایہ شعریادآگیا
بروزحشرندانم چہ عذرخواہی گفت
کسے کہ دوست نداردجمالِ زیبارا
 
آسیؔ نے عشق کومحض ایک وجودِ بے کیف یاانفعالیت نہیں سمجھاہے، عشق نام ہے محبوب میںجذب ہوکر یکسرحرکت واضطراب ہوجانے کااور یہ حرکت واضطراب کوئی عصبی ہیجان نہیں ہے،عشق سے مرادوہ مستقل اورپیہم سعی وعمل ہے جس کا تعلق بیک وقت جسم ’دل‘دماغ ،روح، غرضکہ انسان کی ساری،ہستی سے ہے عشق اورحسن دونوں لازم وملزوم ہیں اورایک دوسرے سے جدانہیں کئے جاسکتے دونوں کومل کرانسان کے مقدرکی تحسین وتکمیل کرناہے اس لیے عشق مجہولیت اوربے کیفی سے اسی قدردُورہے جس قدرکہ حُسن،حُسن اورعشق ایک دوسرے کوکبھی مردہ نہیں ہونے دیتے، دونوںایک دوسرے کے اندرذوقِ عمل اورنشاطِ کارپیداکئے رہتے ہیں، یہ تین شعرسن یے اورآسیؔ کے پیغام کوسمجھنے کی کوشش کیجئے۔
 
ذوق افزائے جنوںہے اشتیاق ہم مجھے 
دل مرادرکاراُس کواوراُس کاغم مجھے
میںوہی سمجھاملی جب کسوتِ آدم مجھے
عالمِ غم میں بنایامرکزِ عالم مجھے
واقعی صہبائے ذوقِ جلوہ ہستی سوزہے
وجدمیںلاتی ہے آسیؔ حالتِ شبنم مجھے
ذرااس نویدِکامرانی کوبھی سنئے:
ہواکے رُخ توذراآکے بیٹھ جااے قیس
نسیمِ صبح نے چھیڑاہے زلفِ لیلیٰ کو
 
آسیؔ کے دل میں دائمی کیف ونشاط موجودہے اس کافیض یہ ہے کہ حسن وعشق کے بازارکوکبھی سردنہیںپاتے۔
 
حُسن کی کم نہ ہوئی گرمیِ بازارہنوز
نقدِجاں تک لیے پھرتے ہیںخریدارہنوز
 
آسیؔ عشقِ مجازی اورعشق حقیقی کی بحث میں نہیں پڑتے عشق بہرحال عشق ہے جس میں’’دردِسر‘‘نہیںبلکہ ’’دردِدل‘‘اوردردِجگردرکارہوتاہے، یہ عشق اخرہوکس کے ساتھ یہ اپنے اپنے حوصلہ اوراپنی اپنی توفیق پرمنحصرہے بلجیم ٔ کے مشہورصوفی تمثیل نگارمارس ماھترلنکؔ کاخیال ہے کہ دنیامیں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے عشق کیاہواورعشق سے اپنی روح کی عظمت اوربرگزیدگی میں اضافہ نہ کیاہو، چاہے اس کاعشق کتناہی سفلی کیوں نہ ہو، آسیؔ نے کھلے الفاظ میںکہیںیہ تلقین نہیں کی ہے مگران کی شاعری کاعام لہجہ اورعام اشارہ یہی ہے کہ عشق مقصودبالذات ہے جو تمام اضافتوں سے بالاترہے جوکسی کے ساتھ منسوب ہوسکتاہے ،جب تک عشق عشق ہے ہم کویہ سوال نہ اٹھاناچاہیے کہ کس کے ساتھ ہے۔
 
مردم ازعشق مرادِدوجہاں می جستند
صائب ازعشق ہماں عشق تمنامی کرد
 
یہی وجہ ہے کہ ہرپڑھنے والا عام اس سے کہ وہ شعورِ محبت کی کس منزل پرہے آسیؔ کی شاعری کو اپنے سے بہت قریب پاتاہے اور اس کو ماننا پڑتاہے۔
 
آسیؔ مست کاکلام سنو
وعظ کیا پندکیانصیحت کیا
 
مشرق کے صوفی شاعروں میں صرف دوہستیاں ایسی نظرآتی ہیں جنہوں نے مجازکی حقیقت اور قدسیت کو کماحقہ ، تسلیم کیا ہے اور جن کے مسلک کو مجازیت کہا جاسکتاہے ایک توحافظؔ دوسرے آسیؔ دردؔ کے تصوف کی دھوم محض تاریخِ شعر اردو کی ایک رسم ہے وہ خودکتنے ہی زبردست صوفی کیوں نہ رہے ہوں لیکن شاعری میں ان کاشعورِ عشق بہت ادنیٰ سطح پر ہے اور وہ معاملہ عشق میں محض ایک نوآموز معلوم ہوتے ہیں، آتش میں تصوف اور تغزل دونوں کے قوی اور شدید امکانات موجود تھے لیکن زمانہ اور ماحول نے نہ توان کے تصوف کواچھی طرح نمایاں ہونے دیا نہ تغزل کوآسیؔ کے وہاں تصوف اور تغزل حقیقت اور مجاز دونوں ایک مزاج ہوکر نمایاں ہوتے ہیں جس کانتیجہ یہ ہے کہ حقیقت والے اس کوحقیقت سمجھتے ہیں اور مجاز والے مجاز مثال کے طورپر ایک شعر سنیے۔
 
بس تمہاری طرف سے جوکچھ ہو
میری سعی اور میری ہمت کیا
 
فوراًخیال،السعی منی واتمام من اللہ تعالیٰ‘ کی طرف جاتاہے لیکن الفاظ میں جوسیدھاپن ہے اور لب ولہجہ میں جوملائمت اورگدازہے وہ اس شعر کو عام اورہمہ گیر بنائے ہوئے ہے ایک دائم الخمر اپنے بازاری محبوب سے بھی یہی کہہ سکتاہے بشرطیکہ وہ اپنے محبوب کے ساتھ اتناہی خود فراموش ہوا اور معیارِعشق پرپورا اترتاہو، اورآسیؔ کامعیارِعشق کیاہے، وہ بھی سن لیجئے۔
 
عاشقی میںہے محویت درکار
راحتِ وصل ورنجِ فرقت کیا
 
اسی غزل کاایک اور شعر سننے سے تعلق رکھتاہے۔
 
نہ گرے اس نگاہ سے کوئی 
اورافتادکیامصیبت کیا
 
اگریہ خیال کسی اور شاعر کو سوجھتاجورعایت لفظی کوضروری سمجھتا تو یہ شعر الفاظ کی بازی گری ہو کر رہ جاتااور اس میں کوئی تاثیرنہ ہوتی لیکن جیسا کہ آپ لوگوں کومعلوم ہوگیا ہوگا آسی کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ وہ تمام آرائش اور تکلف کے باوجود اپنے کلام کو اس تاثیرسے بھردیتے ہیں جو خلوص اور سادگی سے پیداہوتی ہے تشبیہات واستعارات کی شاعری دنیا میں بہت کم تاثیرکی شاعری ہوسکی ہے مگر آسیؔ کے دل میں کیفیت پہلے ہوتی ہے اور تشبیہات واستعارات اور دوسرے مناسبات بعد کو سوجھتے میں اسی لیے ان کے تشبیہات واستعارات بھی ان کے جذبات وتاثرات کے لازمی عناصر بن جاتے ہیں اور صورت ومعنی میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا جوشعر ابھی سنایاگیا ہے اس پرغورکیجئے ظاہرہے کہ ’’گرنااور افتاد‘‘ میں رعایت ملحوظ ہے لیکن شاعر خوداس قدر متاثرہے اور اس رعیات کی واقعیت کو اس شدت کے ساتھ محسوس کررہاہے، کہ آج ہرسننے والے کواس کی واقعیت ایک نہایت عام بات معلوم ہورہی ہے لفظ اورمعنی کوایک کردینااس کوکہتے ہیں گرنے، کے لغوی معنیٰ گرنے، کے استعاری معنی نگاہ سے گرنے کامحاورہ،افتاد،اورمصیبت سب ایک ہی حالت کے مختلف نام ہیں ،اس غزل کے دواشعاراورسن لیجئے۔
 
جن میں چرچانہ کچھ تمہاراہو
ایسے احباب ایسی صحبت کیا
جاتے ہوجائوہم بھی رخصت ہیں
ہجرمیںزندگی کی مدت کیا
 
آسی ؔکی ہربات ہمارے دل میںتیرکی طرح اترجاتی ہے اس لیے کہ وہ حال اوربیان حال میں کوئی فرق نہیں رہنے دیتے ،یہ شعرملاحظہ ہو۔
 
جورہی اورکوئی دم یہی حالت دل کی
آج ہے پہلوے غم ناک سے رخصت دل کی
 
اگرکبھی بھی آپ کے دل کی یہ حالت رہ چکی ہے تواب آپ کومعلوم ہواہوگاکہ اس حالت کوبیان کیسے کرتے ہیں، کسی قدیم مشرقی نقادِ سخن کایہ خیال بہت صحیح ہے کہ اصلی شعروہ ہے کہ ہرسننے والاسمجھے کہ یہ تومیں بھی کہہ سکتاتھا لیکن جب کہنے بیٹھے تومعلوم ہوکہ واقعی اس کیلئے کس دل سوزی اور جگر خراشی کی ضرورت ہے، آسی، کایہ شعرایساہی ہے،اس غزل کے تین شعر اورپیش کرناچاہتاہوں۔
 
کوچۂ یارسے گھبراکے نکلناکیاتھا
دل کوشکوے ہیں مرے مجھ کوشکایت دل کی
 
اگرآپ کوزندگی میں کبھی بھی کوچۂ یار، سے سابقہ رہاہے اوراگرآپ کے اندرحمیتِ عشق کاکچھ بھی اثرباقی ہے توآپ کے دل کوآپ سے اورآپ کو اپنے دل سے یہی شکایت ہوگی۔اس شعرمیں وحشتِ دل کاکیسابے تکلف اوربے ریانقشہ کھینجاہے۔
 
گھرچھٹاشہرچھٹاکوچۂ دل دارچھٹا
کوہ وصحرامیںلیے پھرتی ہے وحشت دل کی
 
مقطع میںجس تسلیم ورضاکی ترغیب دی گئی ہے وہ منتہائے عشق ہے اورعاشق کے مقدرکی چیزنہیںہے۔
 
راستہ چھوڑدیااس نے ادھرکاآسی
کیوںبنی رہ گذرِیارمیںتربت دل کی
 
آسیؔ کے کلام کے مطالعہ کے بعدمان لیناپڑتاہے کہ کامیاب ادب میں لفظ اورمعنی کے درمیان کوئی دوئی نہیںرہتی لفظ ہی معنی اورمعنی ہی لفظ ہوتا ہے شاعرکاکام نہ صرف یہ ہے کہ معنی کے لیے لفظ تلاش کرے بلکہ اس کاسب سے بڑاکمال یہ ہے کہ لفظ کی معنوی کیفیت کوبڑھادے مسیح کا معجزہ کچھ اس سے زیادہ نہ تھا، الفاظ وہی تھے جولغت میں صدیوں سے موجودتھے، صرف ان کی معنوی کیفیت اورمعنوی شدت اتنی بڑھ گئی تھی کہ مردوں میں بھی جان پڑجاتی تھی آسیؔ نے اپنے بہترین اشعارمیں یہی کیاہے وہ فرسودہ سے فرسودہ الفاظ کوایسے وقت اورایسی ترکیب کے ساتھ لاتے ہیںاور اس کے اندرایسی کیفیت پیداکردیتے ہیںکہ وہ لفظ ہمارے لیے بالکل نیاہوجاتاہے اس وقت مجھے ان کی ایک رباعی یادآرہی ہے۔
 
غنچے!تجھے میری دل فگاری کی قسم
شبنم !تجھے میری اشک باری کی قسم
کس گل کی نسیم صبح خوشبولائی
بے تاب ہے دل جنابِ باری کی قسم
 
ذرااس ’’جناب ِباری‘‘پرغورکیجئے گا،کس قدرعام اورپرانی اصطلاح ہے لیکن آسیؔ نے جیسااس کونئی معنوی کیفیت سے بھردیاہے،اس کااندازہ نہیں کیا جاسکتاایسا معلوم ہوتاہے کہ آخرمیں یہ قسم نہ کھائی گئی ہوتی تونہ شاعراس حالت کوپوری طرح بیان کرسکتااورنہ ہم خاطرخواہ اس سے متاثرہو پاتے شاعرکی زبان قسم کی تہذیب وتحسین کرتی چلی گئی ہے یہاں تک کہ اس کی قسم اس کی حالت پرمیحط ہوگئی ہے۔
چند خالص استعاری اندازکے اشعارسنیے جن میں صرف استعارہ سے کیف وجذب پیدا کیا گیا۔
 
ناتوانوںکے سہارے کوہے یہی بھی کافی
دامنِ لطفِ غبارِپسِ محمل دینا
 
کیااس شعرنے ’’غبارپسِ محمل‘‘کوہمارے لیے ایک جانبدارحقیقت نہیں بنادیاہے۔
یایہ شعر۔
 
ذوق میں صورتِ موج آکے فناہوجائوں
کوئی بوسہ توبھلااے لبِ ساحل دینا
 
اگراستعارہ اس قدرکامل ہواوراس میںایسی لازمیت پائی جائے توکوئی وجہ نہیںکہ اس میںتاثیرنہ ہو استعارہ اس قدر کامل ہواور اس میں ایسی لازمیت پائی جائے توکوئی وجہ نہیں کہ اس میں تاثیرنہ ہو، استعارہ اس وقت بے اثرہوتاہے جب کہ وہ ہمارے کسی خیال یاجذبہ پرحاوی نہ ہوسکے آسیؔ کاہراستعارہ اضطراری ہوتاہے اوراس میں آوردکاکوئی شائبہ نہیںہوتا،ان کے دیوان میںایسے اشعار کی بھی کثرت ہے جوسیدھے سادے ہیں اورجن کی تاثیرکارازان کی سادگی اورمعصومیت میںہے،مثلاًاسی غزل کے یہ دوشعر:
 
ہائے رے ہائے تری عقدہ کشائی کے مزے
توہی کھولے جسے وہ عقدۂ مشکل دینا
دردکاکوئی محل ہی نہیںجب دل کے سوا
مجھ کوہرعضوکے بدلے ہمہ تن دل دینا
 
یایہ غزل:
 
پسندآئے تولے لودل ہمارا
مگرپھردل بھی کس قابل ہمارا
چھری بھی تیز ظالم نے نہ کرلی
بڑابے رحم تھاقاتل ہمارا
نہیںہوتاکہ بڑح کرہاتھ رکھ دیں
تڑپتادیکھتے ہیں دل ہمارا
نہ آناہم تمہارادیکھ لیںگے
جونکلاجذبِ دل کامل ہمارا
لیکن اسی غزل میںیہ شعربھی ہے:
دلِ گردوںسے لے کرتادلِ دوست
گیانالہ کئی منزل ہمارا
 
ہم ان تمام منزلوںکواحاطہ کرنے سے قاصرہیں جوہمارے دل سے دلِ گردوںتک اورپھردلِ گردوںسے دلِ دوست تک حائل ہیں اورجن کوہماراشاعراس سہولت کے ساتھ بات کی بات میں طے کرگیاہے، اس کیلئے جس کائناتی بصیرت COSMIC VISION اورجس مافوقی تخیل TRANSCENDENTAL IMAGINATION کی ضرورت ہے وہ ہرشخص کے نصیب کی چیز نہیں،آسیؔ کی شاعری اس بات کاپوراپتہ دیتی ہے کہ وہ صاحبِ کیف وحال تھے اوریہ کیف وحال صوفیانہ سے کہیںزیادہ عاشقانہ تھابلکہ یہ کہنازیادہ مناسب ہوگاکہ آسیؔ کے تجربہ میںکیف وحال کی یہ تقسیم تھی ہی نہیں، ان کاہرشعرایک وجدہوتاہے اوراس مقام کی خبردیتاہے جہاں خارجی اورداخلی میںکوئی امتیاز نہیںکیا جاسکتا، جہاں گردوپیش کی ہرحالت ایک کیف باطن ہوجاتی ہے جہاں محبت کے سواکچھ باقی نہیں رہتااورنظروناظرومنظور،سب مل کرایک ہوجاتے ہیں آسیؔ چونکہ زندگی اورمحبت کے تمام درمیانی اورادنیٰ مراحل ومنازل طے کرکے اس منزل پرپہنچے ہیں اورجن جن صعوبتوںاورمشقتوںسے ان کودوچار ہونا پڑاہے ان کوبھولے نہیں ہیں بلکہ ان کی ماہیت اوراہمیت کے اب بھی قائل ہیں اس لیے جب وہ کوئی بات کہتے ہیں تواس میں ان مرحلوںاور صعوبتوں کی بھی پوری جھلک ہوتی ہے لیکن وہ بات ہوتی ہے ان کی اپنی منزل سے اسی لیے ان کی شاعری ہمارے اندرکسی قسم کی دوری یااجنبیت کااحساس پیداکئے بغیرہم کوغیرشعوری طورپررفعت وتمکین کے احساس سے معمورکرتی رہتی ہے۔ آسیؔ کے کلام سے ہمارے اندرکبھی افسردگی یابے دلی نہیںپیداہوتی جیساکہ بعض دوسرے متغزلین کے مطالعہ سے پیداہوجاتی ہے ان کاسوزوگدازہمارے دل میں ایک نئی تاب پیداکردیتا ہے ان کی دردمندی میںنشاط کاایک پہلوہوتاہے جونمایاںہوتاہے، وہ محبت کے غم کوزندگی کی اپج بنادیتاہے اسی وجہ سے ان کے کلام میں وہ اثرہے جومیرؔ کی خاص شان ہے، ایک غزل کے کچھ اشعارسینے۔
 
اسی کے جلوے تھے لیکن وصالِ یارنہ تھا
میں اس کے واسطے کس وقت بے قرارنہ تھا
خرامِ جلوہ کے نقشِ قدم تھے لالہ وگل
کچھ اوراس کے سواموسمِ بہارنہ تھا
غلط ہے حکمِ جہنم کسے ہواہوگا
کہ مجھ سے بڑھ کے توکوئی گناہ گارنہ تھا
وفوربے خودئی بزم مے نہ پوچھورات
کوئی بجزنگہِ یارہوشیارنہ تھا
لحدکوکھول کے دیکھوتواب کفن بھی نہیں 
کوئی لباس نہ تھاجوکہ مستعارنہ تھا
تومحوِ گلبن وگل زارہوگیا آسیؔ
تری نظرمیںجمالِ خیالِ یارنہ تھا
 
آج تک میری نظرسے غالبؔ کے علاوہ اردومیں کوئی شاعرایسا نہیں گزرا ہے جس کی ایک ایک غزل میں اتنے اشعارقابلِ انتخاب نکل آتے ہوں اوراگرآپ لوگ انصاف کریں تومیرے اس انتخاب کوجوشِ عقیدت سے تعبیرنہیںکیاجاسکتا،پہلے شعرمیں وصل کاجوبلنداورناقابلِ حصول تصور پیش کیا گیا ہے اورجس طرح یہ ذہن نشین کیاگیاہے کہ تڑپتے رہناعاشق کافطری منصب ہے اس کی دوسری مثال مشکل سے ملے گی۔ دوسرے شعر میں ذوات واعیان اورمظاہروحوادث میں جوازلی تعلق ہے اس کوجس حُسنِ اسلوب کے ساتھ واضح کیاگیاہے وہ نہایت دل پذیرہے تیسرے شعرمیں جس اعتماداورجس اطمینان کے ساتھ اپنی خامیوں اورکمزوریوںکااعتراف کیاگیاہے وہ ان کمزوریوںاورخامیوں کوسراسرتوانائی اورپختگی بنائے ہوئے ہے اس کے بعدکے دوشعرایساتیرکی طرح دل میںبیٹھ جاتے ہیں کہ شایدہی کوئی نقادِسخن ان کوانتخاب سے خارج کرناگواراکرے، مقطع میں استغراق کی جونئی تخئیل ہے اورجس حُسن کے ساتھ بیان کی گئی ہے وہ اپنی آپ نظیرہے، شاعرجمالِ یارکے خیال میںنہیں بلکہ خیالِ یار،،کے جمال میں محوہوجانے کی تحریک کررہاہے اورجولوگ ایسانہیںکرسکتے اوردوسرے مظاہرمیںبہل جاتے ہیںان کوموروطعن سمجھتاہے۔ 
اگرمحض فنی نقطۂ نگاہ سے دیکھاجائے توبھی آسیؔ کوایک قادرالکلام شاعرمانناپڑتاہے اسلوب اورزبان میںبھی ان کاایک مرتبہ ہے اگروہ اثروتاثیر میں متقدمین سے آنکھیں ملاسکتے ہیں توزبان اوررعایات وتکلفات میںمتاخرین سے بھی جوبھرکم نہیںہ یںاورپھراس امتزاج کوانہوں نے کس قدر حسین اوردل فریب بنادیاہے اب آخرمیںان کی غزلوںسے ہرقسم کے اشعارمنتخب کرکے سناتاہوں تاکہ آسی کے متعلق جتنی باتیں کی گئی ہیںان کی خاطرخواہ تشریح وتائید ہوسکے۔
 
وفادشمن ہوتم یاہوجفادوست
بہرصورت مجھے رہنارضادوست
کوئی دشمن ہویاآسیؔ مرادوست
میںسب کادوست کیادشمن ہوکیادوست
ترقی اورتنزل کی نہ پوچھو
میں دشمن ہوگیادشمن ہوادوست
مجھے نیرنگِ دل نے مارڈالا
یہ دشمن کاہے دشمن دوست کادوست
فریبِ عالم صورت سے بچنا
نہیںکوئی کسی کاجزغدادوست
فقیروںکابنالوبھیس آسیؔ
وہ شاہنشاہِ خوباںہے گدادوست
٭٭٭
عشق میںکہتے ہیں کامل آسیؔ دل گیرتھا
آہ جس کی بے اثرتھی نالہ بے تاثیرتھا
حالتِ دل خاک میںکہتاکہ تاہنگامِ مرگ
آپ کاشکرجفایاشکوۂ تقدیرتھا
عشق نے فرہادکے پردے میںپایاانتقام
ایک مدت سے ہماراخون دامن گیرتھا
وہ مصورتھاکوئی یاآپ کاحسنِ شباب
جس نے صورت دیکھ لی اک پیکرِ تصویرتھا
٭٭٭
نقشِ دوجہاںگردش پیمانۂ دل تھا
کن روزِ ازل نعرۂ مستانۂ دل تھا
خوشبووہی رنگت وہی مستی بھی اسی کی
کعبہ میںبھی دورِمئے میخانۂ دل تھا
ذوقِ غم واندوہِ محبت کے میںصدقے
جوداغ دیاتم نے وہ جانانۂ دل تھا
٭٭٭
آئینہ آپ کے نزدیک جونامحرم ہے
آپ نے خاک نہ جاناکہ مجھے کیاغم ہے
عشق کہتاہے دوعالم سے جداہوجانا
حسنُ کہتاہے جدھرجائونیاعالم ہے
میرے دشمن کونہ مجھ پرکبھی قابودینا
تم نے منہ پھیرلیاآہ یہی کیاکم ہے
ایک عالم کے طلسمات میںجی چھوٹ گیا
ہراداے نگہِ نازنیاعالم ہے
٭٭٭
قطرہ میںکچھ نہیںپانی کے سواکیاکہیے
بات کہنے کی نہیں ہے بخداکیاکہیے
لالہ وگل میںاسی رشکِ چمن کی ہے بہار
باغ میںکون ہے اے بادِصباکیاکہیے
ایک ہستی کے سواہم نے نہ جاناکچھ بھی 
اے نکیرین اب اوراس کے سواکیاکہیے
٭٭٭
بہرصورت طلب لازم ہے آبِ زندگانی کی 
اگرپایاخضرتم ہونہ پایاتوسکندرہو
کوئی توپی کے نکلے گااڑے گی کچھ توبُومنہ سے 
درِپیرِ مغاں پرمے پرستوچل کے بسترہو
کسی کے درپہ آسیؔ رات روروکریہ کہتاتھا
کہ آخرمیںتمہارابندہ ہوںتم بندہ پرورہو
٭٭٭
ایک جلوے کی ہوس وہ دم رحلت بھی نہیں
کچھ محبت نہیں ظالم تومروت بھی نہیں
جودیاتونے تری راہ میں سب کھوبیٹھے
ہاںاگرشکرنہیں ہے توشکایت بھی نہیں
٭٭٭
ٹکڑے ہوکرجوملی کوہن ومجنوںکو
کہیں وہ میری ہی پھوٹی ہوئی تقدیرنہ ہو
وہ بھی کچھ عشق ہے جودردکی لذت نہ چکھے
وہ بھی نالہ ہے جوحسرت کشِ تاثیرنہ ہو
جس کودیکھااسے چھاتی سے لگائے دیکھا
دل جسے کہتی ہے خلقت تری تصویرنہ ہو
حاصلِ صحبتِ غم ناک بجزغم کیا ہے
دل مرالیتے ہوڈرتاہوںکہ دل گیرنہ ہو
صاف دیکھاہے کہ غنچوںنے لہوتھوکاہے
موسمِ گل میں الہیٰ کوئی دل گیرنہ ہو
٭٭٭
سوئے دشت ایک قدم ایک ترے گھرکی طرف
سرمیں سوداہے توملنے کی تمنادل میں
داغوںمیںروشنی شمع سرِ طورہے آج
کون ہے اے شبِ غم انجمن آرادل میں
٭٭٭
کس دشت میںعشق نے تھکایا
ہرریگِ رواں ہے کارواں سوز
اس خلوتِ رازکے طلسمات
جورازکھلاوہ راز داںسوز
٭٭٭
یہ دونوںایک ہی ترکش کے ہیں تیر
محبت اورمرگِ ناگہانی
علم کے خلدمیںبھی خنجرِ ناز
تصدق ہے حیاتِ جاودانی
٭٭٭
جویہ کدہے کوئی بلبل کی صورت نعرہ زن کیوںہو
کوئی گل فام کیوںہوگل بدن گل پیرہن کیوںہو
تمہیںسچ سچ بتادوکون تھاشیریں کی صورت میں
کہ مشتِ خاک کی حسرت میںکوئی کوہکن کیوںہو 
٭٭٭
اس کاتوبھی اب پتہ نہیں لائے تھے یہاں دل ِحزیںہم
کون اس گھاٹ سے اُتراکہ جنابِ آسیؔ
بوسہ لینے کوبڑھے ہیں لبِ ساحل کی طرف
٭٭٭
دل جس سے مل گیاوہی نکلابجائے دل
یایوں کہوکہ کچھ بھی نہیںہے سوائے دل
٭٭٭
جنبش بھی کبھی اپنے ارادہ سے نہ کر
چلتے ہیں توچلاتی ہے زنجیرہماری
٭٭٭
رات ہے رات توبس مردِ خوش اوقات کی رات
گریہ ٔ شوق کی یاد ذوق مناجات کی رات
٭٭٭
کمی نہ جوش جنوں میں نہ پائوں میں طاقت
کوئی نہیں جواُٹھالائے گھرمیں صحراکو
٭٭٭
نہ مرض کچھ ہے نہ آسیب نہ سایاہم کو
اک پری زادنے دیوانہ بنایاہم کو
٭٭٭
آج وہ ہیں مجمعٔ احباب ہے
ایک مہجورآسیؔ بے تاب ہے
٭٭٭
اورکیاچاہتی ہے آرزوئے دل ان سے
کچھ نہیںحُسن کی سرکارمیںحسرت کے سوا
٭٭٭
یہ ہے آسیؔ کے کلام سے انتخاب میں نے اول اول دوسوسے زائد اشعار کاانتخاب کیا تھا لیکن پھربیشترایسے اشعار کونکال کرانتخاب کومختصرکردیاجوکافی مشہورومعروف ہیں کہاجاسکتاہے کہ یہی غزل گوئی آسیؔ کاحاصل عمرہے اس لیے کہ اردوشاعری میں جوچیزان کوہمیشہ زندہ رکھے گی وہ ان کی غزل ہے ان کی شاعری کی سب سے نمایاں شان ان کی غزلیت ہے جوان کی رباعیوں میں بھی موجودہے رباعی کی صنعت میں بھی آسیؔکاایک مرتبہ ہے دورباعیاں سناچکا ہوں چند اور سنیے:
 
یامجھ کوتراحُسن نہ بھایاہوتا
یاہررگ وپے میں توسمایاہوتا
یادل ہی میں جلوہ گراگرہوناتھا
ہرجزوِبدن کودل بنایاہوتا
٭٭٭
کب تک کوئی اپنے دل کے غم کوروئے
کب تک کوئی یار کے ستم کوروئے
ہردم یہ رُلارہی ہے الفت جس کی
اللہ کرے کہ اب وہ ہم کوروئے
٭٭٭
جن سے رہ ورسم کی وہ رہزن نکلے
بھولاجنہیںسمجھے تھے وہ پُرفن نکلے 
جان اپنی جن احباب کوہم سمجھے آہ
وہ دل کی طرح ہمارے دشمن نکلے
٭٭٭
جس کی طبیعت میںیہ گدازاورجس کی زبان میں یہ نرمی ہووہ کسی اورصنفِ سخن کیلئے موزوںنہیں ہوسکتا، شاید عشقیہ مثنوی میں بھی آسیؔ کامیاب رہتے لیکن جس جذب وحال کے عالم میں وہ رہاکرتے تھے وہ مسلسل گوئی کے منافی تھااسی لیے انہوں نے غزل رباعی کے سوا کسی اور صنف کی طرف توجہ نہیں کی، دوقصیدے کہے ہیں جن میں ایک تو نواب کلب علی خاں والی  رام پور کی شان میں ہے اور مکمل ہے،دوسرامیرمحبوب علی خاں نظام دکن کی مدح میں ہے اورناتمام ہے، ان قصیدوںمیںفن کے اعتبارسے کوئی بات قابلِ لحاظ نہیں ہے، البتہ تشبیب دونوںقصیدوں کی خوب ہیں اور خالص غزل کاحکم رکھتی ہیں چنداشعارملاحظہ ہوں:
 
کہے بہارلبِ گل سے’’میںبہار‘‘توکیا
یہ شورِکشتنِ منصوروائے نادانی
اگریہ میں ہوں توکیاتیری ذات ہے محدود
اگریہ توہے توپھرکیاوجودِامکانی
٭٭٭
دوسراقصیدہ:
کسی کودیکھ کے لغزش جوپائوں میں آئی
 شراب پی کہ وہ آنکھیںنہ ہوں کہیںبدنام
بس اتنے پرکہ لبِ لعلِ یارچوم لیا
میرے فرشتے نے لکھاہے مجھ کومے آشام
کوئی کہے مجھے دیوانہ کوئی سودائی
تمہارے عشق نے کیا کیا کیامجھے بدنام
کسی طرح کسی قالب میںانقلاب توہو
خداکرے کہ جدائی ہوداخلِ ایام
٭٭٭
آپ لوگوںکوشاید یہ شکایت ہوکہ میں نے خواہ مخواہ اتنالمباانتخاب پیش کرکے بات کوضرورت سے زیادہ طول دے دیا جومحض میرے جذبۂ عقیدت اوربڑھے ہوئے حُسن ِظن کی دلیل ہے، اس کاایک جواب تویہ بھی ہوسکتاہے کہ تنقیدبھی ادب ہی کی ایک صنعت ہے اورلکھنے والے کے ذاتی ذوق اوراس کے اپنے جذبات سے کبھی الگ نہیں کی جاسکتی لیکن یقین مانیے میرااصل مقص دیہ تھا کہ خود آپ کو بھی فیصلہ کرنے میں سہولت ہو اور آپ خود تسلیم کرلیں کہ جس شاعرکا دیوان ایسے اشعار سے بھراپڑاہواس کی شاعری کواردوشاعری کی تاریخ میںداخل نہ کرنایاتو تصوف کاایک غلط زعم اوربے جارتبہ شناسی ہے یاپھرمحض بدذوتی اوربے بصری اب آخرمیں میں چنداوراشعارسُناکراپنے مقالہ کوختم کرتاہوں اورآپ لوگوںسے رخصت چاہتاہوں:۔
 
اپنی عیسیٰ نفسی کی بھی توکچھ شرم کرو
چشم بیمارکے بیمارہیںبیمارہنوز
کیاخرابایتوںکوحضرت آسیؔ نہ ملے
کہ سلامت ہے وہی جبہّ ودستارہنوز
انہیںکانوں سے اناالحق کے سُنے ہیںنعرے
آدمی عشق میںکیاجانیے کیاہوتاہے
٭٭٭
ملنے کی یہی راہ نہ ملنے کی یہی راہ
دنیاجسے کہتے ہیں عجب راہ گزرہے
٭٭٭
اب کہیںآسیؔ نالاں ہے نہ قیس وفرہاد
کیاہوئے کنگرۂِ عرش ہلانے والے
٭٭٭
بک گئے روزِازل پیرِ خرابات کے ہاتھ
ہم ہوئے تم ہوئے یاآسیؔ مے خوارہوا
٭٭٭
مضمون نگار
 
مجنوؔں گورکھپوری
 
٭٭٭
 
(اقتباسات عارف ہسوی (مرحوم
 
’’حضرت آسیؔ کے کلام میں وہ تمام خوبیاں موجودہیں جومذاقِ سلیم کسی غزل میں تلاش کرتاہے، اندازِ بیان کی متانت وپختگی،مضامین کاعُلُو،خیالات کی بلندی جذبات کی پاکیزگی ولطافت اُن کے کلام کے مخصوص عناصرہیں اوریہی وہ خوبیاں ہیں جوان کے کلام کونیرنگی واعتبارکے بلنددرجہ پر پہونچادیتی ہیں، ایک خاص خوبی حضرت آسیؔ کے کلام کی یہ ہے کہ اُن کی غزلوںمیں بھرتی کے شعربالکل نہیں ہوتے اورسُوقیت وعامیانہ مذاق سے کلام پاک ہے نیز جرأت وداغ کی طرح ہوس ناکی، سفابت بھی ان کے یہاں پائی نہیں جاتی، آسیؔ ایک صاحبِ حال صاحب، دل، صاحبِ نسبت بزرگ تھے اس لیے فطرتاًاُن کاکلام تصوف کی چاشنی سے معمورہے، وہ کبھی توایسے اشاراتِ صوفیانہ کرجاتے ہیں جس سے کلام کی رنگینی درعنائی حددرجہ دل پذیری کی شان اختیارکرلیتی ہے اورکبھی کسی خاص مسئلہ تصوف پرشاعرانہ رنگ میں روشنی ڈال جاتے ہیں اورکبھی مجازکے پردہ میں رموزِ حقائق کی طلسم کشائی کرجاتے ہیں،چونکہ تصوف میں بھی حضرت آسیؔ کامذاق وحدت الوجود کا ہے اس لیے خصوصیت کے ساتھ اس مسئلہ پر وہ مختلف والہانہ اورمستانہ اندازسے اپنے وارداتِ قلب کوقالبِ شعرمیں ڈھال کرپیش کرجاتے ہیں جن کوسنتے ہی سامع پرایک بے خودی کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اورمذاق ِ سلیم پہروںسردُھنتاہے۔
 
(عارف ہسوی(مرحوم
 
(نقل ازسمات الاخیار، مطبوعہ جونپوریوپی ۱۳۴۴ھ؁)
 
اقتباسات ۔فراق گورکھپوری
 
’’آسی ؔ غازی پوری کے کلام کے بھی ہم دونوں عاشق تھے جسے لذت لے لے کرایک دوسرے کوسناتے تھے اورجس پردونوں مل کرتبصرے کیاکرتے تھے ،کئی برس بعدایساہواکہ میں کان پورسناتن دھرم کالج میں پروفیسرہوگیااورمجنوںؔجواب بی اے پاس کرچکے تھے گورکھپورہی میں تھے ہم دونوں کے شعوراوروجدان کے باہمی ربط کایہ کرشمہ تھاکہ بغیرایک دوسرے کی خبررکھے ہوئے ہم دونوں نے پچاس رباعیاں کہہ ڈالیں اور دونوںنے ایک دوسرے کوخط لکھاکہ آسیؔ کی رباعیوںسے متاثرہوکریہ رباعیاںکہی گئی ہیں، ہم دونوںاب تک اس حُسن ِاتفاق پرحیرت کرتے ہیں۔
 
فراق گورکھپوری
 
(مضمون’’مجنوںگورکھپور‘‘نقوش لاہورشخصیات نمبر۲۹۶
جنوری ۱۹۵۵ئ؁
 
اقتباسات ۔مولانا سیدابولحسن علی ندوی
 
’’ڈاکٹرصاحب،ڈاکٹرسید محمود مرحوم سابق وزیرخارجہ حکومتِ ہند)کوجونپورکی خانقاہ رشیدیہ سے بھی بڑاگہراروحانی تعلق تھا، یہ تویقینی طورپرمعلوم نہیں کہ وہ اس سلسلہ میں بیعت بھی تھے لیکن ان کو اسی سلسلہ کے مشہور شیخ مولاناعبدالعلیم آسیؔ غازی پوری سے ایسی عقیدت ووابستگی تھی کہ اس سے قیاس ہوتاہے کہ وہ اپنی نوجوانی میں ان سے بیعت ہوگئے تھے، اپنی زندگی کے آخری دورمیںوہ ان کاکلام بڑے شغف اورجوش عقیدت کے ساتھ پڑھتے تھے اوراکثران کاتذکرہ فرماتے تھے،۔
 
مولاناسیدابوالحسن علی ندوی
 
(پُرانے چراغ،کراچی ایڈیشن مطبوعہ ۱۹۷۵ئ؁ ۳۸۴
بابت ڈاکٹرسیدمحمود(محروم)
 
٭٭٭
اقتباسات ۔مولانا محمدعلی جوہر
 
اس( سفر بسلسلہ ٔ مقدمہ)، کراچی، میںرات کے طول طویل گھنٹے درودوسلام کی تسبیح پڑھتے پڑھتے گزاردیئے اورآسیؔ غازی پوری کایہ شعرسارے سفرمیں برابروردِزبان رہا،
وہاں پہونچ کے یہ کہناصباسلام کے بعد
تمہارے نام کی رٹ ہے خداکے نام کے بعد،
 
مولانامحمدعلی جوہرؔ
 
’قومی ڈائجسٹ‘لاہور، اپریل ۱۹۸۸ء صفحہ نمبر؁ ۱۶۱،
 
 
 
شجرۂ طیبہ چشتیہ احمدیہ
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 
اے کہ بودت مائیہ بودہمہ
دے وجودتست مسجودہمہ
ہردوعالم ازعدم ایجاد تست
آنچہ ماداریم باخوددادتست
کارسازبندۂ بیچارہ ام
دربیابان ہوس آوارہ ام
صرف شدعمرم دریںآوارگی
ازتوخواہم چارۂ بیچارگی
انچہ می خواہم زتوآنم بہ بخش
ازبرائے ای بزرگانم بہ بخش
خواجہ ٔ ما دستگیرِبیکساں
عیسیٰ مریم پے مردہ دلان
بوالمحاسن مصطفی وہم علی
مشعلِ عرفاںبذاتشی منجلی
آںشہودالحق رشیدالدین لقب
سیدشاہدعلی محبوب رب
ذاتِ پاکش مخزنِ فیض قدیم
نامِ پاک اوبودعبدالعلیم
آںمعین الدین،امیرالدین قیام
نورحق آںحیدرِعالی مقام
آںابی الفیاض وارشدہم رشید
ہریکے زاںپادشاہِ اہلِ دید
راجے سیداحمدابن مجتبیٰ
مجتبیٰ خورشیدبرج اجتسا
واںمبارک بردرش شاہاںگدا
نورازسرتابپانورِخدا
راجے سیدحامدآں سلطانِ دین
داںحسام الحق امام العارفین
نورحق قطبِ زمین وآسماں
واںعلاء الحق شہ کون ومکان
واںسراجِ ملت ودین نبیؐ
دستگیراوبگفت اوراخی
واںنظام الدین کہ محبوبِ خدااست
واںفریدالحق کہ فرداولیاست
واںشہ اقطاب قطب بختیار
واںمعین الدین حبیب کردگار
شیخِ اوعثمان کہ باشدہرونی
شیخ اوحاجی شریف زندنی
خواجہ مودودآنکہ شاہ اتقیاست
واںابویوسف کہ اورامقتداست
بومحمدؐ  شمع ِبزم اہلِ دین
واںابواحمدمہِ اوجِ یقین
واںابواسحاق وممشادِعلو
واںہبیرہ داںحذیفہ شیخ او
خواجہ ابراہیم شاہِ اولیا
آفتاب دین فضیل باصفا
عبد ِواحدمرشدراہِ یقین
واںحسن کوہست خیرالتابعین
واںعلی شیرخداوالی دین
برتراست ازانچہ گویم بالیقین
واںمحمدؐخاتمِ پیغمبراں
خواجۂ دین پادشاہِ انس وجان
ہم بذات خویش وقرآن مجید
کزتوبرجانِ محمددررسید
دیدہ ام راازرخت نورے بدہ
سینہ ام راازغمت سورے بدہ
جزتوہیچ ازایں وآںیادم مباد
دںزبندعشقت آزادم مباد
انچہ دانم ازہمہ دانم ترا
آنچہ خوانم ازہمہ خوانم ترا
ازدرون وازبرون ازپیش وپس
توبچشم جلوہ گرباشی وبس
بردردحالی نقاب ازپیش رو
کل شی ٔہالک الا وجہ
ہمچوانجم درضیائِ آفتاب
گم شوم واللہ اعلم بالصواب
بگزرم ازہرچہ باشدبیش وکم
دُردیِ دردت نبوشم دم بدم
من نگویم سجہ یازناردہ
ساغرِعشقِ خودم سرشاروہ
من نگویم دوزخم دہِ یاجناں 
بیخوداندرکوچہ شقم بخواں
من نگویم ایںبدہ یاآں بدہ
ذرہ دردخودت درجاںبدہ
باتوباشم ازہمہ ببریدۂ
 خلوتے دربیخودی بگزیدۂ
نالۂ شبہاواشک بامداد
لبکہ ومسازِ غم عشق توباد
جساںبدروخودبروںآرازتنم
ہم بدردخویش درگورافگنم
روزمحشرہم بایںمردانِ پاک
دردناک خودبرانگیری زخاک
گروہی دوزخ وگرجنت مقام
ہمدم دردغودم داری مدام
چوںلقائِ خودبغمناکاںدہی
بہرہ چشم بایںپاکاںدہی
غیرازیںدیگرندارم آرزو
توکریمی سائلم من موبمو
٭٭٭
 
شجرۂ طیبہ چشتیہ طیبیہ
 
چشتیہ احمدیہ کے اشعار۱۱نعایت ۱۶کے عوض حسب ذیل چھ اشعار پڑھے جائیں۔
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 
آں ابی الفیاض وارشدہم رشید
طیب وتاج آن امام اہل دید
خواجہ ومخدوم ماخواجہ کلاں
داںنصیرالدین اسد قطبِ جہاں
واںحسن کزدست ترساشدشہید
دستگیرش عمِ پاک اوفرید
داںمبارک خواجہ قدسی مزاج
داںمحمدابن عیسیٰ ابن تاج
خواجہ فتح اللہ آں حق راجیب
خواجہ صدرالدین پے دلہاطیب
داںنصیرالدین چراغِ پرضیا
کعبہ رادرطوفِ کویش ذوقہا
٭٭٭
 
شجرہ طیبہ چشتیہ مصطفائیہ
 
چشتیہ احمدیہ کے اشعار۱۱۔۱۲۔۱۳کے عوض یہ دوشعرپڑھے جائیں۔
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 
آں ابی الفیاض وارشدہم رشید
وآںجمال الحق امام اہل دید
وآںقیام وقطب اڈھن پاکباز
وآںبہائوالد ین شہ مسکین نواز
٭٭٭
 
تاریخ اعراس المشائخ رشیدیۂ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین
 
اسمائے گرام
٭شیخ السلام والمسلمین ابوصالح حضرت مولانامحمدغلام محمدیٰسین شاہدی رشیدی (تاریخ وفات۳ربیع الاول)(وقت)رات۹بجکر۱۰منٹ (مدفن)چمنی بازارپورنیہ
 
اسمائے گرام
٭حضرت مخدوم محمدبن عیسیٰ تاج قدس سرہٗ (تاریخ وفات۱۴ربیع الاول)(وقت)۱/۲/۹بجے صبح (مدفن)جونپور
 
اسمائے گرام
٭حضرت سیدوزیراحمدعلیمی رشیدی  (تاریخ وفات۲۸ربیع الاول)(وقت)۱/۲/۳ بجے شب(مد فن)مضافات سیوان
 
اسمائے گرامی
٭حضرت سیدعبدالشکورعلیمی رشیدی (تاریخ وفات۷ربیع الثانی)(وقت)قبل نمازظہر(مد فن)سادات پور
 
اسمائے گرامی
٭حضرت شیخ مولانامحمدعبدالعلیم آسی معینی رشیدی (تاریخ وفات۲جمادی الاول)(وقت۱بجکر ۲۰ منٹ دن)(مدفن غازی پور)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت شیخ معروف بندگی (تاریخ وفات۹جمادی الاول)(وقت بعدعصر)(مد فن جونپور)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت راجے سیداحمد مجتبیٰ حلیم اللہ (تاریخ وفات۱۵جمادی الاول)(وقت بعدعصر)(مد فن   مانک پور)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت شیخ قطب الد ین ولد حضرت د یوان جی  (تاریخ وفات۲۲جمادی الاول)(وقت صبح)(مد فن رشیدآباد)
 
اسمائے گرامی
٭شیخ الاسلام حضرت حکیم لطیف الرحمن شاہدی رشیدی (تاریخ وفات۴جمادی الآخر)(وقت رات ۸بجکر۵منٹ)(مدفن چمنی بازار)
 
اسمائے گرامی
٭قطب العالم ابی الکشف بدرالحق حضرت مولانا محمدارشد (تاریخ وفات۲۴جمادی الآخر)(وقت قبل صبح صادق) (مد فن رشیدآباد)
 
اسمائے گرامی
٭سیدالسادات ابوالخیرحضرت محمدایوب ابدالی (تاریخ وفات۳رجب)(وقت عصر)(مد فن اسلام پورپٹنہ)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت شیخ عبدالطیف مٹھن پوری  (تاریخ وفات۶شعبان)(وقت صبح)(مدفن مٹھن پور)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت قطب بنیادل قلندر(تاریخ وفات۲۵شعبان)(وقت۱۰بجے دن)(مدفن جونپور)
 
اسمائے گرامی
٭محبوب الحق حضرت شاہ فصیح الدین رشیدی (تاریخ وفات۲۵شعبان)(وقت عشا)(مدفن رشیدآباد)
 
اسمائے گرامی
٭قطب الاقطاب حضرت محمدرشیدمصطفی قدس سرہٗ (تاریخ وفات۹رمضان)(وقت فجر)(مدفن رشیدآباد)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت شیخ عبدالحمیدولد حضرت د یوان جیو(تاریخ وفات۱۴رمضان)(وقت صبح)(مد فن رشیدآباد)
 
اسمائے گرامی
٭امیرالمومنین حضرت سید ناعلی کرم اللہ وجہ (تاریخ وفات۱۸رمضان)(وقت صبح)(مد فن نجف اشرف)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت مخد وم بخشی رومیؒ(تاریخ وفات۲۵رمضان)(وقت صبح)(مد فن مسکلائی بارہ بنکی)
 
اسمائے گرامی
٭قطب العارفین حضرت مخد وم طیب بنارسی(تاریخ وفات۸شوال)(وقت بعد نمازعشائ)(مد فن بنارس)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت مخدوم خواجہ مبارک (تاریخ وفات۱۰شوال)(وقت۱۰بجے دن)(مد فن شہرکاشی بنارس)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت شاہ عبدالقد وس قلندر (تاریخ وفات۱۲شوال)(وقت بعدعصر)(مد فن  جونپور)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت قطب الد ین نورالحق شاہ حیدربخش امام الد ین (تاریخ وفات۲۵شوال)(وقت قبل صبح صادق)(مد فن  بہمن برہ)
 
اسمائے گرامی
حضرت شاہ حیدرسجادعرف بد لوبابوشاہدی (تاریخ وفات۲۵شوال)(وقت۱۱بجے دن)(مدفن  رشیدآباد)
 
اسمائے گرامی
٭مشہودالحق رشیدالد ین حضرت سیدشاہدعلی (تاریخ وفات۶ذی القعدہ)(وقت۱۱بجے کر۲۰منٹ د ن)(مدفن رشیدآباد)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت مولاناشاہ سراج الد ین قدس سرہٗ (تاریخ وفات۷ذی القعدہ)(وقت۱بجے دن)(مد فن  رشیدآباد)
 
اسمائے گرامی 
٭حضرت شاہ محمد قطب قلندر (تاریخ وفات۹ذی القعدہ)(وقت بعدعصر)(مد فن جونپور)
 
اسمائے گرامی
٭سیدالسادات منبع ابرکات حضرت سید شاہ مصطفی علی سبزپوش (تاریخ وفات۱۸ذی القعدہ)(وقت۱بجے کر۲۰منٹ دن)(مدفن رشیدآباد)
 
اسمائے گرامی
٭محرم رازقطب الہند حضرت شاہ معین الدین  (تاریخ وفات۱۶ذی الحجہ)(وقت بعد نمازمغرب)(مد فن بہمن برہ)
 
اسمائے گرامی
٭حضرت شیخ محمد ولید برادرحضرت د یوان جیو  (تاریخ وفات۱۹ذی الحجہ)(وقت  صبح)(مد فن رشیدآباد)
 
اسمائے گرامی
٭قطب اولیاحضرت بندگی مصطفی جمال الحق   (تاریخ وفات۲۰ذی الحجہ)(وقت بعدنمازفجر)(مد فن چمنی (بازارپورنیہ 
 
اسمائے گرامی
٭حضرت مولوی محمدطٰہٰ  (تاریخ وفات۲۶ذی الحجہ)(وقت  صبح)(مدفن رشید آباد)
 
اسمائے گرامی
(٭حضرت بی بی عرف بہنی صاحبہ  (تاریخ وفات۲۶ذی الحجہ)(وقت  صبح)(مدفن غازی پور
 
اسمائے گرامی
٭حضرت شاہ امیرالدین حیدری رشیدی  (تاریخ وفات۹محرم الحرام)(وقت بعدنمازعشائ)(مدفن رشیدآباد
 
اسمائے گرامی
٭حضرت راشدعلی بن شاہدعلی سبزپوش  (تاریخ وفات۹ محرم الحرام)(وقت صبح)(مدفن سبزپوش ہائوس  (گورکھپور
 
اسمائے گرامی
(٭قطب اولیاحضرت شاہ قمرالحق غلام رشید  (تاریخ وفات۵صفرالمظفر)(وقت۱پہردن چڑھے)(مدفن رشیدآباد
 
اسمائے گرامی
٭حضرت مولاناسکندرعلی علیمی رشیدی   (تاریخ وفات۱۳صفرالمظفر)(وقت ۱۱بجے دن)(مدفن چمنی
(بازار
 
اسمائے گرامی
(٭حضرت میرسیدقیام الدین  (تاریخ وفات۸صفر)(وقت  صبح صادق)(مدفن گورکھپور
 
اسمائے گرامی
(٭حضرت میرسیدجعفرپٹنوی  (تاریخ وفات۳رمضان)(وقت )(مدفن پٹنہ
 
اسمائے گرامی
(٭حضرت میرسیدباقرجعفری  (تاریخ وفات۷جمادی الآخر)(وقت شب)(مدفن پٹنہ
 
اسمائے گرامی
٭حضرت میرسیداسلم جعفری  (تاریخ وفات۲۱شوال)(وقت دوگھڑی دن چڑحے)(مدفن پٹنہ)
 
اسمائے گرامی
(٭حضرت میرسیدسعداللہ مداری  (تاریخ وفات۱۲رجب)(وقت ظہر)(مدفن سادات پور
 
اسمائے گرامی
(٭حضرت محبوب الحق شاہ فصیح الدین  (تاریخ وفات۲۶شعبان)(وقت شب)(مدفن جونپور
 
اسمائے گرامی
(٭حضرت قنبرحسین  (تاریخ وفات۱۰محرم)(وقت شب)(مدفن سکندرپوربلیا
 
اسمائے گرامی
(٭رشیدالحق حضرت میرسیدحسین جعفری  (تاریخ وفات۱۶رجب)(وقت  شب)(مدفن غالب پٹنہ
 
٭٭٭
 
 
You are Visitor Number : 3786