donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Abdul Ghafoor Shahbaz
Poet/Writer
--: Biography of Abdul Ghafoor Shahbaz :--

 Abdul Ghafoor Shahbaz 

 

 حیات شہباز 
 
ریاست بہار کے ضلع پٹنہ میں باڑھ سب ڈویزن سے 27کیلومیٹر پورب سر میرا، نامی ایک قصبہ ہے جو اب ضلع نالندہ کا ایک بلاک بن گیا ہے ایک صدی قبل یہ زمیندارانہ ٹھاٹھ باٹ والی بستی ہوا کرتی تھی۔ اس میں ایک سادات گھرانہ صدیوں سے عزت ووقار کا حامل تھا۔ انیسویں صدی میں سید طالب علی اسی گھرانہ کے نجیب الطرفین سادات میں سے تھے جو اپنے علم وکمال کی بنا پر معروف تھے۔ ان کے یہاں اعزا کے بیان کے مطابق قرینا1858میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کانام سید محمد عبدالغفور رکھا گیا۔ سال پیدائش کی بابت تذکرہ نگاروں میں اختلاف رائے ہے لیکن خود شہباز اور ان کے افراد خاندان کے مختلف مواقع کے بیانات 1858کو قرین قیاس ثابت کرتے ہیں۔یہی سید محمد عبدالغفور انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں بحیثیت پروفیسر عبدالغفور شہباز اردو زبان وادب کی بے لوث خدمت کر کے مشہور اور ممتاز ہوئے۔
تعلیم
پروفیسر شہباز کا بچپن ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، کی مثل تھا۔ وہ ذہین وفطین واقع ہوئے تھے، ابتدائی تعلیم اپنے والس سید طالب علی کے سایہ شفقت میںگھر ہی پر حاصل کی اور عربی وفارسی زبان وادب کا اتنا درک پیدا کرلیا کہ سخن سنجی اور مضمون نگاری سے خاصی رغبت پیدا ہوگئی اور رسائل وجرائد میں چھپنے بھی لگے۔ رواج زمانہ کے مطابق تابناک مستقبل کی تڑپ نے انہیں انگریزی تعلیم کی طرف توجہ کیا تو اپنی سہولت کے پیش نظر بارو، والے برادرنسبتی خاں بہادر سید عبدالعزیز منصف مظفرپور کے پاس چلے آئے اور مظفرپورضلع ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا مگر انٹرنس تک پہنچ کر انہیں تعلیمی سلسلہ ترک کرناپڑا۔1876میں وہ گھرواپس آگئے کیونکہ زمینداری کی کنبہ جاتی تقسیم درتقسیم کے سبب اور امتدادزمانہ کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی مالی حالت مزید بارِ تعلیم کی متحمل نہ ہوسکی۔
بقول پروفیسر محمد مسلم :
’’خاندان کی مالی حالت جو پہلے بہت اچھی تھی اب بہت گرچکی تھی۔ وہ انگریزی کی تعلیم باقاعدہ جاری نہ رکھ سکے۔ عربی وفارسی میں اچھی استعداد بہم پہنچائی تھی مگر انٹرنس پاس کرنے سے پہلے انگریزی تعلیم ترک کرناپڑی اور تلاش معاش میں سرگرداں رہنے لگے۔‘‘
 
1879
سے1886تک تلاش معاش کی دربدری نے انہیں احساس دلایا کہ اعلیٰ تعلیمی سند کے بغیر حسب منشا ملازمت دشوار ہے۔ لہذا نہوں نے 1886سے پھر اپنا تعلیمی سلسلہ شروع کیا اور نیشنل کالجیٹ اسکول پٹنہ سے 1887میں انٹرنس کاامتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا نیز حکومت سے تعلیمی وظیفہ بھی حاصل کیا۔ پھر1889میں بہار نیشنل کالج پٹنہ سے ایف اے پاس کیا اور بی اے میں داخل ہوگئے مگر شومئی قسمت 1891 میں بی اے کے امتحان سے چند دن قبل امراض صدر جیسی مہلک بیماری میں گرفتار ہوگئے اور شرکت امتحان سے محروم رہ گئے پھر اعلیٰ تعلیم کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ تاہم مشاہیراہل علم وادب سے علمی استفادہ کی سعی جاری رہی۔ ان مشاہیر میں قابل ذکر ہیں آزاد برادران یعنی رئیس ڈھاکہ خان بہادر سید مہدی علی کے پوتے نواب سید محمود ،آزاد فارسی کے صاحبِ دیوان شاعر اور نواب،سیدمحمد آزاد ممتاز ادیب وقلمکار نیز انسپکٹر جنرل آف رجسٹریشن بنگال وبہار، جن سے مظفرپور میں دوران تعلیم ارتباط ہوا وہ دمِ آخری تک قائم رہا۔ نوعمروجواں سال شہباز اگر معمر قلمکار آزاد برادران کے چشمہ علم وفضل سے مستفیض ہوئے تو شہباز کی غیر معمولی ذہانت و فطانت سے آزاد برادران بھی
متمتع ہوئے، اگر شہباز کے پروان چڑھنے میں بالخصوص نواب سید محمد آزاد کی نوازشوں کو دخل رہا تو
 
بقول ڈاکٹر محمداخترا لحسن:
 
’’سید محمد آزاد کو ادبی شہرت ومقبولیت بخشنے میں شہباز کا بہت بڑا ہاتھ تھا ورنہ آزادکا نام بھی بیشتر نامہ نگاروں مضمون نگاروں اور شاعروں کی طرح اودھ پنچ ،کے گورستان میں مدفون ہوتا اور آج ان کو جاننے والا شاید کوئی نہ ہوتا۔‘‘’’عبدالغفورشہباز:حیات اورادبی خدمات صفحہ 54‘‘
اس قول کی تائیدان کے ستمبر1886 میں سید محمد آزاد کو لکھے خط سے بھی ہوتی ہے انہوں نے لکھا ہے:
 
’’احمداور شاہد کا گرویدہ ہونامیری سحربیانی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس عام شہرت کا، جو آپ کو علی العموم ادبی دنیا میں حاصل ہے۔ علاقہ بہار میں کوئی انصاف پسند ایسا بھی ہے جس کو فقط آپ کے ادبی کمالات کا مسلسل طور پر تصور نہ ہو۔ ممکن ہے کہ کسی قدر مختصر احاطے میں اس شہرت کے پھیلنے میں میں نے بھی کسی قدر مدددی ہو لیکن وہ اس قسم کی ہے جیسی کسی شہسوار کے آگے سے کوئی روڑے پتھر الگ کردے‘‘
(مکتوبات شہباز،ص83)
اس کے برعکس ان ہی کو 21اپریل 1892کو لکھے خط میں یوں لکھا:
’’اگر میرے مضامین سے آپ کو مضامین لکھنے کی گدی گدی پیدا ہوتو اس سے زیادہ کامیابی کوئی ہونہیں سکتی۔خصوصا ظرافت انگیز مضامین کی میں تو ظرافت سے اسی طرح ناآشناہوں جس طرح رحیم بخش درزی حسن و نزاکت سے حق پوچھے تو یہاں بھی جو کچھ ہے وہ آپ ہی کا ہے:
جمال ہم نشیں درمن اثر کرو۔وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم‘‘
(مکتوبات شہباز،ص134)
لہذاا یک دوسرے کیلئے دونوں کی حیثیت تکملہ کی رہی۔
ان کے علاوہ انیسویں صدی کے بطل عظیم اور بین الا قوامی شخصیت مولانا سید جمال الدین افغانی جن دنوں کلکتہ میں قیام پذیر تھے انہیں دنوں بسلسلہ ملازمت شہباز بھی کلکتہ میں قیام پذیر تھے۔ شہباز شناسوں کے مطابق انہوں نے عربی ادب وفن کی کئی کتابیں باقاعدہ سبقا علامہ افغانی سے پڑھیں اور ان کے درسوں میںشہباز باقاعدہ شریک ہوا کرتے تالیفات شہباز مقالات جمالیہ اور رد نیچری اسی دوران کی یاد گارہیں۔ اسی درمیان سرشتہ تعلیم حکومت بنگال سے عربی کاایف اے کورس بھی کیا۔
شادی اور اولادیں
آغاز شباب میں اسکولی تعلیم کے درمیان ہی شہباز رشتہ ازدواج سے مسنلک ہوگئے نواب واجد علی شاہ کے مشیر خاص نواب امیر علی ساکن باڑھ، ضلع پٹنہ کے چچا زاد بھائی منشی دائود علی کی دختر بی بی شمس النساء یا شمسہ خاتون 1875 میں ان کی پہلی منکوحہ بنیں ان سے چھ لڑکے اور تین لڑکیاں ہوئیں سبھی لڑخے بچپن سے لڑکپن کی دہلیز پر پہنچتے پہنچتے اپنے والدین کو داغ مفارقت دے گئے لڑکیوں میں صغریٰ بیگم اور بشریٰ بیگم ہی بچیں ۔ سب سے چھوٹی صالحہ بیگم سن بلوغ کو پہنچ کر فوت ہوگئیں اور اہلیہ شمس النساء یاشمسہ خاتون بھی سولہ برس ہی حق رفاقت نبھا سکیں، اواخر1891 میں مسلسل علالت کی اذیت جھیلتے جھیلتے انتقال کرگئیں۔ اس بابت اپنی الجھنوں کاتذکرہ اپنے رفیق مخلص نواب سیدمحمد آزاد کولکھے 13اکتوبر 1891 کے خط میں اس طرح کیاہے۔
 
’’میرے قبائل کی صحت ایک ایسا مسئلہ ہے جو بعض وقت میرے خیالات میں اس قدر انتشار پیدا کرتاہے کہ کبھی کبھی میں ہجرت کے مسودے سوچنے لگتا ہوں میری مصیبت کی ابتدامیری شادی ہے اس لیے میں اپنے ازدو اجی تعلقات کو اس رغبت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا جس نگاہ سے میرے بعض عالی خیال احباب دیکھتے ہیں۔ جب سے شادی ہوئی میں متوحش خبریں علالت کی سننے لگا۔ اس تواتر کے ساتھ کے دو مہینے بھی یک لخت چین سے دم لینے کی مہلت نہیں ملی۔ شادی ہی کے ساتھ نوکری کے تقاضے شروع ہوئے۔ آخر ان تقاضوں کی شامت سے کسی قدر وقت سے پہلےمجھ کو اپنی گردن میں نوکری کاحلقہ ڈالناپڑا۔ زمانہ نوکری میں زیادہ تر اپنے مرکز اصلی سے اور ایک محدود دائرے میں چکر لگا تار ہا تین چار برس ہوئے کہ مشکلوں سے نوکری کی آفت سے نجات ملی مگر ابھی تک علالت کا مشغلہ گھر میں بدستور باقی ہے وہ علامتیں جو میرے ہاں نہیں اس قابل تھیں کہ کسی بڑے گھر میں ہوتیں کہ کافی تیمارداری ہوسکتی کوئی بڑے مضبوط دل اورہش دیہاتی صحت کے آدمی کے گھر میں ہوتیں کہ وہ ان تمام متوحش خبروں کی جزئیات وکلیات کو تفصیل کے ساتھ بہ اطمینان سن سکتا اور ان کی اصلاح کی تدبیر مناسب سہولت کے ساتھ کرسکتا۔ میری چور صحت، نازک دل کمزور دماغ ،خالی مکیں اتنی آفتوں کے کب سزاوارتھے۔‘‘
(مکتوبات شہباز،ص117تا118)
 
اب قبائل کی فکر سے بھی نجات مل گئی تو بس پڑھنا، لکھنا، پڑھانا اور بہترسبیل معاش کی جدوجہد ان کا مشغلہ بن گیا۔ عرصہ دس سال کی زندگی اسی ادھیڑ بن میں کٹی۔ پھر اور نگ آباددکن میں پروفیسر شپ ملی اور فکر معاش سے زندگی کو قرار آیا تو تالیف وتسکین قلب وجاں کی طرف مائل ہوئے۔ ایک مخلص رفیق مولوی بشیرالدین احمد بن ڈپٹی نذیر احمد دھلوی کے توسط سے نکاح ثانی کا مرحلہ بھی طے ہوگیا۔ دہلی سے اپنے سمدھی نواب سید محمد آزاد کو 15مارچ 1902کے خط میں شہباز نے لکھاہے۔
 
’’آپ کا دوسری مارچ کا مکرمت نامہ شرف ورود لایا۔ جواب عین وقت پر نہ جانے کاسبب یہ ہوا کہ یکایک مولوی بشیرالدین احمد صاحب کا تار دہلی سے پہنچا کہ فوراًچلے آئو۔ بہتر ہے کہ شادی میرے رہتے رہتے ہوجائے۔ غرض انہیں کے تارنے دہلی کھینچ بلایا ہے تین چار روزسے دہلی میں ہوں تمام مراتب طے ہوچکے ہیں، آج شام کو نکاح ہوجائے گا۔ دعا فرمایئے کہ خدا انجام اس کابخیر کرے۔ (مکتوبات شہباز،ص71)
 
اور شادی کے چند روز بعد21مارچ1902کو اپنے تاثرات نواب صاحب مذکور کویوں رقم کیے:
 
’’میں اپنے تئیں خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے اس عمر میں دہلی سے شہر میں ایک ایسی شریک رنج وراحت ملی۔ عمر کے اعتبار سے اس کرم خوردہ میر حسن کی یاد دلاتی ہے۔ برس پندرہ چودہ بھر کر پندرہویں میںہے۔ صورت شکل اچھی ہے۔ جیسی عموماً شریفوں کی ہوتی ہے آنکھیں بڑی بھنویں جسی ،رنگت گوری ،گواعلیٰ درجہ کی حسینوں میں شمار نہ ہوںمگر پیشانی سے لے کر تھوڑی تک ہر چیز مطبوع ہے، تعلیم بھی متوسط درجے کی خاصی ہے۔ قرآن شریف پڑھاہے بعض مسئلے مسائل کی کتابیں بھی پڑھی ہیں،لکھنا سیکھ رہی ہیں۔ مزاج دو چار روزمیں اچھی طرح معلوم نہیں ہوسکتا مگر ان کے باپ ولی صفت ہیں، آخر انہیں کی بیٹی ہیں۔ گھر میں نماز روزے اور دین داری کا چرچاہے۔ گھٹی میں دینداری پڑی ہوئی ہے۔میں خط لکھ رہا ہوں وہ ادھر وضو کرکے نمازیں پڑھ رہی ہیں۔جہاں تک دیکھا گیا مزاج میںنیکی کی خاصی صلاحیت ہے۔ طبیعت میں ٹھوڑا بہت مذاق بھی ہے جو بعض اوقات دل کے شگفتہ رکھنے کو پھولوں کی کیاری میں کھلی ہوئی چاندنی کا حکم رکھ سکتا ہے۔ شروفساد سے طبیعت کوسوں دور ہے۔ بعض وقت طبیعت کا بھولا پن عقل کی نسبت ایک مخالف رائے پیدا کرنے پر مائل کرتاہے مگر حقیقتاًوہ تقا ضائے عمر ہے، جو فطری سلامت روی سے مل کر اس کیفیت کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ملنسار بھی معلوم ہوتی ہیں مگر اس کی نسبت ابھی زیادہ میں کچھ رائے ظاہر نہیں کرسکتا۔ غرض اس روداد کی بیوی مجھے بالکل اپنی امید کے خلاف ملی ہے، میں اپنی قسمت پر نازاں ہوں۔دعا کیجئے کہ آئندہ بھی تجربے مجھے نازاں ہی رکھیں۔
(مکتوبات شہباز)
مذکورہ بالا دونوں مکتوب پر نواب صاحب مذکور کا جوردعمل سامنے آیا انہو ں نے اورنگ آباد سے 19اپریل1902کے خط میں یوں لکھا۔
 
’’ازدواجی تعلقات شریفوں میں صرف ان سفلی تعلقات کے خیال سے نہیں ہوتے میری پہلی شادی آغاز عمر میں ہوئی تھی۔ سولہ برس تک بیوی مرحومہ زندہ رہیں مگر اس مدت میں بمشکل دوسال میری ان کی یکجائی رہی ہوگی۔ یہی تجربہ اکثر نوکری پیشہ لوگوں کا ہے کہ سال بھر میں صرف ایک مہینہ وہ بیوی کی صحبت سے کامیاب ہوتے ہیں لیکن کوئی ان کی بیویوں کے صبروتسکین اور عزت وآبروسے رہنے کودیکھے تو ہر نگاہ پر ان کی حوریں نثار ہوتی ہیں اور اداپر مریم اور آسیہ دعائیں دے دے کر بلائیں لیتی ہیں مکتوبات شہباز
 
گویامولوی بشیرالدین احمد کے رشتہ کی سالی اشرف النسائ بنت حافظ سید اشرف حسین دہلوی کی صورت وسیرت سے خاصے مطمئن تھے بلکہ خاصے متاثر بھی ہوئے۔ بقول ڈاکٹر محمد اخترالحسن:
’’پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعد اور دوسرے نکاح سے قبل شہباز ایک خانہ بدوش کی سی زندگی گزار رہے تھے، نہ کھانے کا ٹھکانہ تھا نہ رہنے کا معقول انتظام جومل جاتا زہر مار کرلیتے، جہاں پاتے پڑرہتے ان کی زندگی الجھی ہوئی تھی لیکن دوسری شادی کے بعد دہلی اہلیہ نے ان کی بے رونق حیات کی کایاپلٹ دی اور ان کی خشک اور سپاٹ زندگی میں رنگینیاں بھردیں۔ یہ ان کی اسی سلیقہ مندو منتظم شریک حیات کے بہتر انتظام خانہ داری کا نتیجہ تھا کہ شہباز اورنگ آباد دکن میں اپنا ایک خوبصورت مکان عزلت منزل، بنوایا تھا اور ایک معقول رقم پس انداز کی تھی‘‘
(عبدالغفورشہباز حیات اور ادبی خدمات ،ص32)
اس محل ثانی سے صرف ایک مگر شہباز کی دسویں اولاد8ستمبر1904کو تولد ہوئی اور اس نے سید محمد عاشر نام پایا لیکن بی بی اشرف النساءکی عمر ہی نے وفانہ کی ۔دوسال کے عاشر کو چھوڑ کر1906میں دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
پروفیسرشہباز کی بڑی بیٹی صغریٰ بیگم کی شادی پٹنہ سیٹی کے حاجی محلہ میں سید عزیز احمد مختار سے ہوئی ان کی واحد اولاد معصومہ بیگم تھی معصومہ بیگم کو تین لڑکے حسین احمد، حسن احمد محسن اور نور احمد اور تین لڑکیاں معلومہ بیگم، بازغہ بیگم اور نورابصار ہوئیں، ان میں بازغہ بیگم کے علاوہ سبھی پاکستان چلی گئیں بازغہ بیگم لیڈی برابورن کالج کلکتہ میں اردو کی لیکچرار تھیں مارچ1984میں انتقال ہوگیا ان کے خاوند پروفیسر نیاز احمدخاں مولاناآزاد کالج کلکتہ میں اردو فارسی کے لکچرار تھے۔
دوسری بیٹی بشریٰ بیگم نواب سید محمد آزادکے تیسرے صاحبزادے سید ابومحمد علی حسن سے بیاہی گئیں۔ ان سے تین لڑکے سید اختر حسن، سید محمود حسن اور سید حامد حسن ہوئے سید ابو محمدعلی حسن چند سال بعد 27 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ تینوں بچے اپنے داد اکے زیرکفالت پروان چڑھے اور بشریٰ بیگم کا دوسرا نکاح بہار شریف سب ڈویزن کے موضع دھر ہرامیں مولوی عبدالحیٔ سے ہوا، ان سے دولڑکے سید شاہد حسن اور سید شہید حسن ہوئے سید شہید حسن عنفوان شباب میں ہی 1951میں وفات پاگئے سید شاہد حسن باڑھ کے ایک اسکول میںمدرس مقرر ہوئے تو اپنی والدہ بشریٰ کے ساتھ آبائی مکان نواب کوٹھی باڑھ میں منتقل ہوگئے۔ ان ہی کے صاحبزادہ پروفیسر سید صابر حسین، پی جی، شعبہ اردو بھیم رائو امبید کر بہار یونیورسٹی مظفرپور نے مکتوبات شہباز، نامہ شوق اور باقیات شہباز کی تدوین کرکے شائع کیاہے۔ یہیں1954میں بشریٰ بیگم کاانتقال ہوابشریٰ بیگم کے پہلے خاوند کے بڑے بیٹے سید اختر حسن ریاست بنگال کےانکم ٹیکس افسر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے دہلی کمر شیل یونیورسٹی نے ان کی اعلیٰ ادبی استعداد کے اعتراف میں پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی۔ دوسرے بیٹے سید محمود حسن ای، آئی ریلوے ہوڑہ میں ملازم تھے، قیام پاکستان کے بعد لاہورمنتقل ہوگئے تیسرے بیٹے سید حامدحسن نے کاروبار اختیار کیا اور رانچی میں سکونت پذیر ہوئے۔شہبازکے اکلوتے بیٹے سید محمد عاشر کی پرورش وپرداخت نانھیال دہلی میں ہوئی۔ انہوں نے راہ سلوک اختیار کیا اور مجرد زندگی گزار کر12 فرور 1984 کو ملک عد م سدھارا اور احاطہ حضرت نظام الدین اولیاء میں مدفون ہوئے۔
سبیل معاش وملازمت:
خوش قسمتی سے کمسنی ہی سے اردو زبان وادب سے گہرے شغف اور شاعری، مضمون نگاری اورقلمکاروں سے مکتوب نگاری کے شوق نے انہیں بڑے بڑے قلمکاروں ادیبوں اور شاعروں سے غائبانہ ارتباط پیدا کردیاتھا، ترک تعلیم کے بع گھرپر رہ کر محض علمی وادبی مشغلے اور امراء کے بچوں کوٹیوشن پڑھاکر معاشی مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا یہ سوچ کر وہ تقریبا1879 میں مظفرپور آگئے تاکہ بارو والے برادر نسبتی اور محسن خان بہادر سید عبدالعزیز منصف مظفرپور سے ملازمت کے سلسلہ میں تعاون حاسل کرسکیں حسن اتفاق اس وقت رئیس بنگال اور معروف شاعر ادیب سید محمد آزاد خاں بہادر بحیثیت رجسٹرار مظفرپور اور ان کے ساتھ بڑے بھائی نواب سید محمود آزاد صاحب دیوان شاعر فارسی بھی مظفرپور میں مقیم تھے، ان سے مراسلاتی رابطے کام آگئے آزاد برادران نے اپنے بچوں کااتالیق مقرر کرکے اپنے یہاں ٹہرالیا۔ پھر تو معمر ومکسن ادیب وشاعر کی علمی وفکری ہم آہنگی ایسی رنگ لائی کہ شہباز اور محمد آزاد خاں یک قلب ودوجان بن گئے اور علمی وادبی دنیا میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ جنوری1880 میں منصف صاحب سید عبدالعزیز کی سفارش پر سہسرام کچہری میں عملہ کی اسامی پر جوائن کیا مگر اس ملازمت کی طرف طبیعت مائل نہ ہوسکی اور چار ماہ بعد ہی اسے چھوڑکر گھر لوٹ گئے۔ جون1880میں وہ پٹنہ آگئے ٹیوشن اور کتب فروشی کے ذریعہ کسب معاش میں لگ گئے۔ مارچ1881میں مطبع نول کشورلکھنؤمیں حصولِ ملازمت کی غرض سے لکھنوگئے۔ پھرنا مراداپنے مخلص دوست مولوی بشیرالدین احمد کے یہاں دہلی پہونچے۔ 
دیں اثنامیں سید محمد آزادخاں اور ان کے خسر رئیس بنگال نواب عبدالطیف خاں بہادرسی، آئی ای کی نوازش سے اخبار، دارالسلطنت ،کلکتہ کی ادارت میںجگہ مل گئی یکم مئی 1881کو تیس روپے ماہانہ مع سہولت قیام وطعام پر اخبار مذکورمیں جوائننگ کرلی مگر اپنے محسن سید عبدالعزیزمنصف کے سخت تاکیدی خط پر 25جولائی1881کوکلکتہ سے رخصت لے کر تاجپور کچہری ضلع دربھنگہ موجودہ ضلع سمتی پور میں خالی عملہ کی اسامی پر جوائن کرلیا ایک بار پھر خلاف مزاج ملازمت اختیار کرنی پڑی۔ اس پرطرح یہ کہ بیس روپے م اہانہ تنخواہ سے زیادہ کی گنجائش نہ نکل سکی اور کلکتہ جیسی سہولتیں بھی میسر نہ ہوسکی تھی۔ انجام کار منصف صاحب کی مروت میںیہاں جبراًچند ماہ ٹھہرے اور15دسمبر1881کو بڑی خاموشی سے استعفیٰ دے کرکلکتہ آگئے نواب سید عبدالطیف خاں کی وساطت سے نواب ڈھاکہ احسن اللہ خان کے مطبع کلکتہ میں اردو گائیڈ کی ادارت بمشاہرہ تیس روپئے ماہانہ مع سہولت قیام وطعام مل گئی لیکن بروقت تنخواہ اور دارالسلطنت جیسی سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب جولائی 1882میں استعفیٰ دے کر گھر چلے آئے۔ نواب سید عبدالطیف خاں نے پھرکلکتہ بلالیا اور اپنی قائم کردہ ادبی انجمن مذاکرہ علمیہ کلکتہ، کانظم ونسق 13تالتلا، بازار اسٹریٹ کلکتہ میں3دسمبر1882کوسونپ دیا۔ اس درمیان کچھ دنوں تک رسالہ نور بصیرت، کلکتہ کی ادارت بھی سنبھالی اس طرح براہ راست نواب صاحب کی ملازمت میں رہے البتہ محض بیس روپئے ماہانہ تنخواہ پر قناعت ان کے لیے دشوار گزارتھا تاہم کوئی معقول سبیل نکلنے تک نواب صاحب کی ناراضگی وہ مول لینا نہیں چاہتے تھے کیونکہ نواب صاحب سے ان کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں جبکہ منصف صاحب کے تقاضے طبیعت سے میل نہیں کھاتے تھے۔ اپنی الجھنوں کا اظہار کرتے ہوئے 31مارچ1884کو اپنی شریک حیات کو لکھاتھا۔ مولوی سید عبدالعزیز منصف صاحب کاتقاضہ ہے کہ میں عملہ گری کی نوکری کروں۔چونکہ اس میں رشوت لینی ہوتی ہے اس لیے وہ مجھے منظورنہیں۔نواب صاحب کے سامنے وہ کچھ بول تو نہیں سکے البتہ دسمبر1884میںگھر آئے تو پھر کلکتہ کارخ نہیں کیا۔ اس درمیان پٹنہ کے ڈاکٹر اصدرعلی سے سوروپے فی کتاب کے معاہدہ پر طب کی انگریزی کتابوں کے ترجمے کاکام شروع کیا۔ نواب سید محمد آزاد کو 27جون1885کے خط میں وہ لکھتے ہیں:
’’سردست ڈاکٹر صاحب کی کتاب کے ترجمے میں مشغول ہوں اس سے پابہ زنجیر ہورہاہوں۔ وہ ایک زنجیر اور تیار کیے ہوئے ہیں یعنی چاہتے ہیں کہ Medical Jurisprudenceکے ختم ہوتے ہے Mid Wiferyکے ترجمے میں لگادیں مگر میں بھی کسی قدر نیم راضی ساہوں۔اور سبب یہ کہ چندے چاہتاہوں اگرچہ غربت ہی کے ساتھ ہو کہ اپنے بال بچوں میں بسر کروں لڑکی کے پڑھانے کی مہم بھی در پیش ہے اگر برس روز بھی یہاں رہنا ہو جائے اور غالباًسامان اسی کے نظر بھی آتے ہیں تو میں اس کو اتنا ضرور پڑھادوں کہ آئندہ کو مشکل نہ رہے پھر مستفید ہونے میں اس کو سہولت ہو غرض برس روز تک توارجمے ترجمے میں گزارہ کرنا ہے بعد اس کے یقین جانئے کہ میںیہاں سے کوئی پانچ چھ برس کیلئے موقت یعنی (Tempory)ہجرت کرونگا۔ زیادہ تر قصد کلکتے کا ہے اور مقصد کا رمترجمی کیلئے کوشش کروں گا اگر یہ یہاں اس امرے کیلئے اسباب مساعدنہ ہوئے تو ممبئی اور وہاں سے کہیں اور آپ ان امور میں شک کرتے ہیں گویا آپ میرے مزاج سے واقف نہیں اجی حضرت وطن میں ذلت ورسوائی اور گم نامی کے ساتھ جی کرکیا کروںگا کسی کا کیا اچھا شعرہے:‘‘
عجبت لمن یعیش بدارذل
وارض اللہ واسعۃ فلدھا
یعنی مجھے اس شخص سے کس قدر تعجب ہوتا ہے جو رسوائی کے گھر میں پڑا زندگی کرتاہے اور کم بخت سے اتنا نہیں ہوتا کہ نکل تو کھڑا ہوحالانکہ ملک خدا بہت وسیع ہے۔ جائوں اور ضرور جائوں ،بیچ کھیت جائوں،اور بغیر کچھ پیدا کیے اور وہ بھی وافرنہ آئوں اور کامیابی نہ ہوئوں تو پھر گھر کا منہ نہ دیکھوں۔
(مکتوبات شہباز،ص64)
نواب عبدالطیف خاں کواپنی استعداد اور کارکردگی سے ایسا گرویدہ بنالیا تھا کہ جب نواب صاحب1885میں ریاست بھوپال کے وزیر اعظم مقرر ہوئے تو شہباز کو اپنا پرنسپل اسسٹنٹ مقرر کر کے بھوپال بلالیا۔ اس عہدہ پر بمشاہرہ پچاس روپے مع سہولت قیام وطعام انہوں نے 2 فروری 1886کو جوائن کیا۔ چند ماہ بعد حکومت انگلیشیہ کے دبائو میں بیگم بھوپال انگریز وزیراعظم بنانے پرمجبور ہوئیں تو نواب صاحب نے استعفیٰ دے دیا اور بھوپال سے 10جولائی1886 کونواب صاحب کے ہمراہ کلکتہ لوٹ آئے یہاں حسب سابق نواب صاحب کی ملازمت میں رہے لیکن جس امید پر نواب صاحب کے کھونٹے سے بندھے رہے وہ پوری ہوتی نظر نہیں آئی تو مارچ1887میں خاموشی سے چلے گئے۔ اس کی وضا حت سید محمد آزاد خاں کولکھے ان کے خط سے ہوتی ہے۔
’’صاحب!میں آپ سے ایک امر پر مشورہ طلب ہوں، وہ یہ کہ پارسال کی جنوری، فروری اور مارچ کے عشرۂ اولیٰ کا مشاہرہ عالی جناب نواب بہادر کی سرکار سے مجھے وصول نہیں ہوا۔ آیا جرم فرار میں وہ حساب جرمانہ میںآیا یا کوئی اور بات ہے۔ اگر جرمانہ ہے تو مجھے کوئی عذر نہیں کیونکہ مجھ سے قصور صادر ہواہے بے شک، ورنہ آپ صلاح بتائیں کہ اس وصولی کی کیا تدبیر کروں۔ آیا کوئی عریضہ لکھوں یا آپ بہ عنایت عرض فرمادیںگے۔
(مکتوبات شہباز،ص86)
بعد ازاں پٹنہ کو مستقر بنایا اور تعلیمی، علمی وادبی سرگرمیوں کے ساتھ ترجمہ کاری، کتب فروشی نیز ٹیوشن سے مسائل معاش بدقت تمام حل کرتے رہے نامساعد حالات سے تحمل کا بندھ ٹوٹا تو1896 کے اوائل میں اپنے مخلص احباب سے سفارشی خطوط لے کر حیدر آباددکن قسمت آزمانے پہنچے۔
اس زمانے میں ریاست نظام حیدرآباد اہل علم وکمال کی کہکشاں سے جگمگارہی تھی۔بڑے بڑے مشاہیر مختلف محکمہ جات سرکار نظامیہ سے وابستہ تھے معروف ادیب مولوی محمد عزیز مرزا سکریٹری محکمہ داخلہ تھے اور اسی محکمہ مولانا ظفرعلی خاں مدیر زمیندار لاہور،منصب ترجمی پر فائز تھے محکمہ تعلیمات میں ڈائرکٹر سید سراج الحسن ڈی پی آئی کے تحت مولاناعبدالحلیم شرر لکھنوی منتظم کی حیثیت سے مقرر تھے ان کے علاوہ مولانا حالی، مولانا شبلی اورمولوی عبدالحق بھی حیدرآباد میں دربار نظامی سے وابستہ ہو کر مختلف مشاغل علمیہ میں مصروف کارتھے۔ شہبازکو بھی مولوی سید حسن کی سفارشی چھٹی پرافسر جنگ کے یہاں سوروپے ماہانہ کی ملازمت مل گئی۔ اول تویہ ملازمت پرائیویٹ تھی، دوسرے کچھ دنوں کام کرنے کے بعد بے اطمینانی محسوس ہوئی تو انہوں نے عزیز مرزا سے رجوع کیا، پھر ان کی کوششوں سے محکمہ داخلہ میں انہیں ملازمت مل گئی۔ اس کی تفصیل 13اپریل1896کو نواب سید محمد آزادخاں صاحب کے نام لکھے اپنے خط میں کچھ یوں بیان کی:
’’احمد قلی خاں صاحب کی خدمت میں دونوں خطوط کا شکریہ ادا کیجے اور کہیے کہ الحمد اللہ قبل ان کے استعمال کے مجھے ایک اچھی سی نوکری مل گئی۔ مولوی سید حسن صاحب نے افسر جنگ کی چھٹی دی تھی مگر اس تقرر کے بعد مجھے بہ مجبوری واپسی کرنی پڑی افسر جنگ کے یہاں نوکری سوکی تھی ڈھائی سوکی امید کے ساتھ، غالباً اس میں کچھ جھگڑے تھے جن کی وجہ سے خلیل الرحمن بی اے نے کنارہ کشی کی اگر میں وہاں ہوتا تو شاید بہت پریشان ہوتا، خدا نے خیر کی کہ یہ تازہ سامان ہوگیا‘‘۔(مکتوب شہباز،ص 142)
لیکن جس توقع پر انہوں نے ہوم سکریٹریٹ میں مترجمی کی نوکری حاصل کی وہ پوری نہ ہوسکیں بلکہ پیشمانی کے ساتھ وقت کاٹنا پڑا۔19 فروری 1897کو اپنے ایک عزیز سید محمد یعقوب کے خط میں انہوں نے یوںلکھا:
ؔؔ’’قیام حیدر آباد کی روداد تین لفظوں میں بندہے۔ علالت، ملامت، خجالت، آیاتو بیمار آیا اور مدتوں بیمار رہا۔ بیماری سے نجات ملی تو فرائض گلے کاہار ہوئے ٹوٹی ہوئی صحت، نیا کام پھر کاموں کا ہجوم روزانہ پانچ چھ گھنٹوں تک سخت محنت ملامت ایک امر ضروری ہے۔ بہر حال کسی طرح مرپٹ کر اس خوشی میں کہ ختم ماہ معتدبہ رقم ملے گی۔ کام انجام دیتا تھا ہر چند مشہور یوں ہے کہ میں ایک سودس روپے پاتا ہوں لیکن واقع میں شیاد تیس بھی ماہانہ مجھ کو مشکل سے ملتے ہوں گے لیکن اس پربھی شاید یہ امید آئندہ میں کچھ صبر کرتا مگر جب فلک کج رفتار صبرکرنے دے۔ہرمزجی جومیرے افسر اعلیٰ ہیں انہوں نے بے شان وگمان ایک دن حکم دے دیا کہ دو مہینے کے اندر تم کو جگہ خالی کردینی ہوگی کوئی لائق تراس عہدہ پہ بحال کیا جائے گا۔ اتنی محنت وزحمت کے بعد یہ صلہ ملے تو آدمی کیونکر پیشمان نہ ہو۔ غرض اب میری دن رات خجالت میں گذرتی ہے۔ پہلی خجالت اس بات کی کہ کیوں بے وقوفی کر کے حیدر آباد آیا۔دوسری خجالت اس بات کی کہ افسر جنگ کے یہاں کی نوکری چھوڑ کر ہم نے ہوم سکریٹریٹ کی ملازمت کیوں قبول کی۔ تیسری اس بات کی کہ روپے کچھ پس انداز کیوں نہ کیے۔ پانچویں خجالت اس بات کہ بہ مجبوری رجعت قہقری کرنی پڑے گی اور پھر وہی امتحان کی آفت مول لینی پڑے گی‘‘۔(مکتوبات شہباز،ص59-158)
بآلا خرقدرت مہر بان ہوئی۔15جولائی1897 کوشہباز اورنگ آبادانٹر میڈیٹ کالج دکن میں علم طبیعات کے پروفیسر مقرر ہوئے اپنے ایک خط بنام سید محمد یعقوب مرقومہ 19اگست1897میں اس کا احوال انہوں نے اس طرح بیان کیاہے:
’’پہلی جولائی کو پٹنہ سے چل کر داخل حیدرآباد ہوا وہاں سات آٹھ روزرہ کر اور رنگ آباد کالج کی پروفیسر ی کا پروانہ لے کر نویں یادسویں روز اورنگ آباد کو روانہ ہوگیا روز ورود کے ایک روز بعد سے عہدہ پروفیسری پر مامور ہوں۔ سوروپے تنخواہ ہے، وعدہ ہے کہ کچھ دنوں بعد تنخواہ سوسے ڈیڑھ سو کردی جائے گی۔(ایضاً،ص162)
یہ ملازمت مبارک ثابت ہوئی، اطمینان نصیب ہوا تو زندگی میں بھی بہار آئی۔ خانہ بدوشی کی زندگی سے نجات ملی، دوسری شادی کی اورنگ آباد دکن میں ہی از سر نوگھر بسایا عزلت منزل یا نشیمن شہباز بنایا اور اپنے علمی وادبی خدمات کے سبب پروفیسر شہباز کی حیثیت سے چہار دانگ مشہور ہوئے مدیر رسالہ مخزن، شیخ عبدالقادر نے تفریح القلوب کے دیباچہ میں لکھاہے:
’’جب میں نے رسالہ مخزن جاری کیا تو جن ادیبوں نے شروع شروع میں مجھے بے غرضانہ مددی اور اپنے مضامین مجھے بھیجنے شروع کیے ان میںپروفیسر صاحب موصوف شہباز بھی تھے وہ اس زمانہ میں اورنگ آباد کے کالج میں سائنس کے پروفیسر تھے، انہوں نے علم اور علمی خدمت کو اوڑھنا بچھونا بنالیا تھا۔ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور کالج میں پڑھانے کے اوقات کے بعد دن رات لکھنے پڑھنے میں مصروف رہتے تھے مخزن کے سوا دوسرے ادبی رسالے بھی ان کے مضامین سے حصہ پاتے رہے‘‘۔ 
ان کی ایک نظم کے دواشعار ہیں:
تنہائی کا میں عاشق ہوں
رہتا ہوں عزلت منزل میں
خاموش لبوں سے ناطق ہوں
خوشیاں ہوں خموشی کی دل میں
لیکن محرم خانہ اشرف النساء کے ناز وانداز اور سید محمد عاشر کی کالکاریوں نے عزلت منزل کی تنہائیاں بھی دورکردی تھیں اور خموش دل کی خوشیاں ان کے لبوں پر بکھیردی تھیں۔ اس طرح اورنگ آباد میں اچھے دن کٹنے لگے۔
1905 میں نواب شاہجہاں بیگم ریاست بھوپال نے پروفیسر موصوف کی غیر معمولی استعداد اور ادبی قابلیت سے متاثر ہو کر ریاست بھوپال کے محکمہ تعلیمات کے نظامت کا عہدہ جلیلہ پیش کیا تو قیر وترقی کے مواقع سامنے آئے تو بھلا کون اس سے منہ پھیر تا ہے انہوں نے بھی بخوشی اس پیشکش کو قبول کرلیا اور دوسری بار ریاست بھوپال پہنچے مگر بقول ڈاکٹر اختر الحسن:
’’اب کی بار سرزمین بھوپال شہباز کو راس نہ آئی، شہباز تقریبا ایک ڈیڑھ سال اس منصب عالی پر مامور رہے غالباً بیگم صاحبہ بھوپال اس بحالی کی شرائط کو نباہ نہ سکیں اور شہباز کو موعودہ تنخواہ نہ دے سکیں۔ اسی درمیان یعنی 1906 میں شہباز پر ایک بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی یعنی ان کی دوسری مونس حیات اشرف النساء بیگم اچانک انتقال فرماگئیں۔ اس حادثہ عظیم نے شہباز کے دل ودماغ کو بے حد متاثر کیا۔ علاوہ بریں بیگم صاحبہ بھوپال کی عہد شکنی نے ان کے زخم خوردہ دل پرنمک پاشی کی ان دونوں حادثات سے شہباز پر غم والم کاپہاڑ ٹوٹ پڑا۔ دنیا کی نظروں میں تاریک ہوگئی اورنگ آباد کالج کی پروفیسری گئی۔ریاست بھوپال کی ڈائرکٹری گئی ۔زمین وآسمان ان کے غم والم پر آنسو بہار ہے تھے۔ ان حالات سے مجبور اور دل برداشتہ ہو کر شہباز نے انتہائی مایوسی کے عالم میں اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔‘‘عبدالغفور شہباز:حیات اورادبی خدمات،ص31
اس کے بعدکوئی ملازمت پکڑنے کی انہیں مہلت ہی نہیںملی۔
آخری لمحات زندگی
ظاہر ہے انسان ماورائے بساط نہیں ہوتا۔ ضبط ضرب کی بھی ایک حد ہوتی ہے بقول غالب:
کیوں گردش مدام میں گھبرانہ جائے دل
انسان ہوں پیالہ وساغر نہیں ہوں میں
لہذا پروفیسر شہباز بھی اس بشری کمزوری کے بالآخر شکار ہوئے پروفیسر شب چھوڑ نے کاقلق اور ملازمت ریاست بھوپال کی خجالت سے نجات کیلئے دیے استعفیٰ کے انجام کی فکر کے درمیان مونس حیات جس نے ویران زندگی کو گل گلزار بنادیا تھا، کے اچانک ساتھ چھوڑ دینے کے صدمے کو جھیلنے کا حوصلہ ان کا ٹوٹ گیا۔ اوائل1907میں ان پر فالج کا شدید حملہ ہوا، چار وناچار مفلوج دماغ وصحت کے ساتھ اپنی سسرال دہلی چلے آئے جہاں بڑی کسمپرسی کی زندگی سے دو چار رہے۔ کئی اعزاءنے مصیبت میں ان کی مدد کرنی چاہی حتیٰ کہ قیام کیلئے اپنا گھر پیش کیا مگر ان کی حمیت نے انہیں قبول نہ کیا۔ بقول نواسۂ شہبا زڈاکٹر سیداختر حسین:
’’مجھے اگر کوئی دوانہ بھی میسر ہوتو بھی میں صرف سادہ پانی پیتے ہوئے اپنے دیرینہ رفیق مخلص ڈپٹی صاحب کے دردولت پرجان دینا، ترجیح دوںگا۔ ایضا،ص32
ڈپٹی صاحب سے مراد نواب سید محمد آزاد خاں کی ذات گرامی تھی۔ بالآخر نواب صاحب کو ان کے اندوہ ناک وافسوس ناک حالت کی خبر ہوئی اس وقت نواب موصوف انسپکٹر جنرل آف رجسٹریشن بنگال وبہاربن کرکلکتہ آگئے تھے۔ انہوں نے تقریباچھ ماہ بعد پروفیسر صاحب کو اپنے یہاں کلکتہ بلالیا۔ ان کے علاج ومعالجہ، تیمارداری اور ہمدردی میںکوئی کسر نہ اٹھارکھی ۔انجام کار صحت یاب بھی ہونے لگے مگر اواخر1907میں پھر ان پرزبر دست فالج کا حملہ ہوا۔ نواب صاحب تقریبا سال بھر تک علاج ومعالجہ کی لاکھ کوششیں کرتے رہے مگر انہیں بچانہ سکے۔ بالآخر 30نومبر1908 مطابق1326ھ پیر کی صبح شہباز نے اپنی جاں جان آفریں کے سپرد کردی اور کلکتہ ہی میں نواب صاحب کے خاندانی گورستان میں سپردخاک کیے گئے اناللہ وانالیہ راجعون، ان کی وفات پر اپنوں کے علاوہ پرایوں نے بھی گہرے رنج وغم کا اظہار کیا۔ اس وقت کے مشاہیر اہل قلم نے ان پر تعزیتی تحریریں رقم کیں اور ان کی علمی وادبی خدمات کو سراہا اور اجاگر کیا ۔یہاں صرف پروفیسر محمد مسلم کے مرثیہ یاد شہباز، کی پیشکش پراکتفا کیجیے:
شہباز آنکہ رخش فکرش بہ آسمان تازہ
سحرِ حلال نظمش درنثر اوصد اعجاز
عنقائے فکر گردوں پیما اسیر چنگش
در صد مرغ معنی گوئی کہ بود شہباز
واحسر تا فرامش گشت ازدل عزیزاں
آن مادر وطن را فرزند مائیہ ناز
ازیاد رفتہ باشد صدحیف آں سخنور
آن طوطی شکر خا،آں مرغ نغمہ پرواز
آں یوسفے کہ اخواں بااوفانہ کردند
در مصر فضل ہر چند اوشد عزیز وممتاز
ناساز وار آمد او را ہوائے گیتی
کردازپرمشیت سوئے بہشت پرواز
مسلم سن وفاتش گفتم زروئے حسرت
آہ الوداع سید عبدالغفور شہباز
1908=1900+8
+++
شخصیت شہباز
مشرقیت شعار مگر مغربیت نواز، سادہ وپرکار، قناعت پسند،پراستقلال،تصنع اورریاسے دور، مروت کے پاسدار کتابی چہرہ ،دبلاجسم اوسط قد، رنگ سانولا،رخساروں کی ہڈیاں نمایاں، فرنچ کٹ مونچھیں، داڑھی چھوٹی، دہانہ چھوٹا، لب موٹے، ستواں ناک بشرہ سے متانت و سنجیدگی نمایاں مگر طبعازندہ دل وظریف واقع ہوئے تھے۔ وہ جس محفل میں ہوتے اسے زعفران زار بنادیتے مخلص وغمخوار اور خلیق وملنسار ایسے کہ جو بھی رابطے میں آتا اسے متاثر کر لیتے اس لیے ان کاحلقہ احباب بڑا وسیع تھا۔ ان کے مکتوبات سے پتہ چلتا ہے کہ معمر ونوخیز تقریبا تمام ہمعصر قلم کاروں سےا چھے مراسم رکھتے تھے مولوی بشیرالدین احمد ابن ڈپٹی نذیر احمد دہلوی، نواب سید محمد آزاد، مولوی خدابخش خاں، مولوی نورالہدیٰ مولوی عبدالحی مولاناالطاف حسین حالی،سیداکبرحسین اکبرالہ آبادی، سرشیخ عبدالقادر، سید افتخار عالم ماہر ہروی، آغاز کمال الدین، سنجر ایرانی وغیرہ سے ان کے بہت گہرے تعلقات تھے۔ 
یوں تو زندگی کے سردو گرم سے ہر کس ناکس کو واسطہ پڑتا ہے مگر بدقسمتی سے کچھ لوگ نامساعد حالات کے بھنور میں زیادہ پھنستے ہیں، زندگی میں محرومیاں زیادہ ہاتھ آتی ہیں اور زندگی کابیشتر حصہ رنج والم کے تھپیڑوں میں کٹتا ہے۔ لیکن حرماں نصیبی اور یاسیت کا شائبہ ان کے عمل وکردار پر نظر نہیں آتا بلکہ وہ خوب سے خوب تر کی جستجو میں رہتے ہیں۔ اور کارہائے نمایاں انجام دیتے ہیں، اور حقیقت بھی یہ ہے کہ ایسے ہی لوگ Ideal Personality کہلانے کے حقدار ہوتے ہیں۔ پروفیسر شہباز بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ حسب منشا حصول تعلیم کے مواقع سے محرومی کی کسک، معاشی بدحالی کی کشاکش ،فکر معاش سے بے فکر ہوکر علمی وادبی خدمات کی آرزوکا خون، حسب استعداد ومعیار ملازمت کے حصول میں ناکامی کا درد، بار باربے روز گاری کے دورسے گزرنے کا قلق ، اہل وعیال کے متواتر عارضے علالت سے نجات کی الجھنیں اور اس پر تسلسل کے ساتھ اولادوں اور شریک ہائے حیات کے غیر متوقع سانہائے ارتحال کے صدمے، جھیل کر خود مسکراتے رہنا اور دوسروں کو ہنساتے رہنا، ان المیوں کی ژالہ باری سے اپنے تخلیقی سرچشمہ کو طغیانی دیتے رہنا اور صلہ وشہرت کی تمناسے بے نیاز ہو کر علم وادب کی بے لوث وگراں قدرخدمات میں آخری سانس تک بر سرپیکار رہنا یقینا ایک مثالی کردار کے اوصاف حمیدہ ہیں۔ سرشیخ عبدالقادر نے تفریح القلوب، کے دیباچہ میں لکھاہے کہ انہوں نے علم اور علمی خدمت کو اوڑھنا بچھونا بنارکھاتھا۔وہ ایک معزز خاندان سادات کے رکن اور مغربی اور مشرقی علوم کے جامع تھے۔ ان کی زندگی ہرذی علم شخص کے لیے ایک قابل تقلید مثال تھی۔پروفیسر جمیل مظہری نے نامہ شوق کے دیباچہ میں لکھا:
’’انیسویں صدی کے ربع آخر میں اردو کے اساطین اربعہ آزاد حالی شبلی اورنذیر احمد کے بعد جن شعرا اور ادبا نے ایوان اردو کو اپنی جانفشانی سے آراستہ پیراستہ کیا ان میں شہباز مرحوم کا شمار بوجہ احسن ہوتا آیاہے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اردو نظم کی اصلاح وارتقا کا جوکام حالی اور آزاد نے شروع کیا تھا اس کو آگے بڑھایا بلکہ اردو نثر کو بھی بہت سے جواہر گرانمایہ دیے۔(نامہ شوق،ص9)
پروفیسر شہباز معمار ان اردو ادب میں شمار کیے جاتے ہیں۔ لیکن ارباب نقد نظر نے ان کے ساتھ انصاف نہیںکیا، جو مقام انہیں ملنا چاہیے وہ نہیں مل سکا۔
+++
 
کتابیات
مقالات جمالیہ۔عبدالغفور شہباز۔.1881۔کلکتہ
ردنیچری مرتبہ عبدالغفور شہباز۔1883۔کلکتہ
موعظ حسنہ۔عبدالغفورشہباز.1887۔کلکتہ
رباعیات شہباز۔عبدالغفورشہباز۔1891۔کلکتہ
سوانح عمری مولاناآزاد۔مرتبہ عبدالغفورشہباز.1891۔پٹنہ
کلیات نظیر۔عبدالغفورشہباز 1900۔لکھنو
نوابی دربار۔عبدالغفورشہباز 1901 لکھنؤ
خیالات آزاد۔مرتبہ عبدالغفور شہباز۔1908طبع ثانی کلکتہ
خیالات شہباز۔عبدالغفورشہباز۔1916۔بدایوں
تفریح القلوب۔عبدالغفور شہباز۔1942۔کلکتہ
زندگانی بے نظیر۔عبدالغفور۔1981۔دہلی
آثار وافکار۔ڈاکٹر عبدالخالق 1975 پٹنہ
نامہ شوق۔مرتبہ ڈاکٹر سید محمد صابر حسین 1980 پٹنہ
 
شہباز:بہار میں نظم جدید کابانی۔ایس ایم رضوان اللہ ۔1981 ۔پٹنہ
باقیات شہباز۔مرتبہ ڈاکٹر سیدمحمد صابر حسین.1985۔پٹنہ
عبدالغفور شہباز بحیثیت نظم نگار۔اعظم الحق دائودی 1985۔پٹنہ
عبدالغفور شہبازحیات اورادبی خدمات ڈاکٹر محمد اخترالحسن 1988 پٹنہ
مکتوبات شہباز۔مرتبہ ڈاکٹر سید محمدصابر حسین.1989۔پٹنہ
سراج ومنہاج۔پروفیسر اختراور ینوی
ذکر ومطالعہ۔پروفیسر محمد ذکی الحق
سفینہ اردو۔مولوی محمد اسمٰعیل میرٹھی
اردو ادب کی ترقی میں بھوپال کاحصہ ۔ڈاکٹر سلیم حامد رضوی
دیوان نظیر۔مرزافرحت اللہ بیگ
تذکرہ خندہ گل۔مولوی عبدالباری آسی
گلزارنظیر ۔سلیم جعفر
روح نظیر ۔مخمور اکبرآبادی
خم خانہ جاوید (لالہ سری رام) ۔مرتبہ پنڈت ودتاریہ کیفی
مسدس حالی۔خوجہ الطاف حسین حالی
اردو زبان کی ترقی میں صوبہ بہار کا حصہ سید نجیب اشرف ندوی
بنگال میں اردو۔وفاراشدی
اردو شاعری پرایک نظر۔پروفیسر کلیم الدین احمد
اردو تنقید پر ایک نظر۔؍؍
مطالعہ شاد۔پروفیسر عطاء الرحمن عطا کاکوی
جدیداردو شاعری۔پروفیسر عبدالقادر۔
نظم آزاد ۔مولانامحمد حسین آزاد
مقالات جمال الدین افغانی ۔پروفیسر سید مبارزالدین رفعت
افغانستان کے پہلے مردمجاہد۔سید جمال الدین شاہد حسین رازاقی
یاد گارِ غالب۔خواجہ الطاف حسین حالی
حیاتِ جاوید۔خواجہ الطاف حسین حالی
طنزیات ومضحکات۔پروفیسر رشید احمد صدیقی
آب حیات۔مولانا محمد حسین آزاد
تحقیق وتنقید۔ڈاکٹر مولوی عبدالحق
یاد،رفتگاں۔مولانا سیدسلیمان ندوی
مطالعہ آزاد۔پروفیسر محمد ذکی الحق
حالی بحیثیت شاعر ۔ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی
قاموس المشاہیر۔خواجہ حسن نظامی
حالی کا نظریہ شعری۔ناظم کا کوروی
بہار میں اردو زبان وادب کا ارتقاء۔پروفیسر اختر اور ینوی
تاریخ ادب اردو اردوترجمہ۔رام بابو سکسینہ
اے ہسٹری آف اردو لٹریچر ۔ڈاکٹر محمد صادق
چمنستانِ شعراء ۔رائے لچھمی نرائن شفیق اورنگ آبادی
مقدمہ شعروشاعری ۔خواجہ الطاف حسین حالی
موازنہ انیس ودبیر ۔مولانا شبلی نعمانی
کاشف الحقائق ۔نواب امداد امام اثر
اردو نثر میں ادب لطیف۔ ڈاکٹر عبدالودودخاں
خطوط غالب ۔ڈاکٹر خلیق انجم
صحیفہ محبت خطوط۔مہدی افادی
غبارِ خاطر۔مولانا ابوالکلام آزاد
مشاہیر اردو کے خطوط۔مرتبہ مہیش پرساد
مکتوبات سلیمان۔مرتبہ عبدالماجددریابادی
مکتوبات سرسید۔مرتبہ شبنم اسمٰعیل پانی پتی
دیدہ ورانِ بہار، جلداول۔ڈاکٹر عبدالمنان طرزی
+++
رسائل وجرائد
اخباردارالسطنت کلکتہ1880،1881
رسالہ نمائش کلکتہ۔1883،1884
رسالہ نورِ بصیرت کلکتہ۔1884
رسالہ اردو گائیڈکلکتہ۔1884
اخبار رئیس اینڈر عیت ،کلکتہ۔1889
اخبار اودھ پنج لکھنؤ ۔1887تا1901
رسالہ الپینچ ،باقی پورپٹنہ۔1889تا1908
اخبار مخزن لاہور۔ 1901تا1908
جرنل آف دی مسلم انسٹی ٹیوٹ ،کلکتہ۔جلد3،شمارہ1،جولائی ستمبر1907
جنرل آف دی مسلم انسٹی ٹیوٹ، کلکتہ۔جلد4،شمارہ2دسمبر1908
رسالہ ندیم گیا۔اکتوبر1935
رسالہ ندیم گیا۔مئی1936
بمبئی کرانیکل ۔20 دسمبر1942
رسالہ ساقی، کراچی۔سالنامہ1953
رسالہ ساقی،کراچی۔جنوری فروری1964
رسالہ نقوش، لاہور شخصیات نمبر۔اکتوبر1956
رسالہ نقوش ،لاہور طنزومزاح نمبرجنوری فروری 1959
رسالہ صنم،پٹنہ بہارنمبرجنوری اپریل1959
رسالہ ندیم ڈھاکہ جنوری تااپریل 1961
رسالہ معاصر، پٹنہ جولائی 1960
رسالہ معاصر، پٹنہ مارچ1962
رسالہ معاصر،پٹنہاپریل1964
رسالہ زبان وادب پٹنہ اکتوبردسمبر1983
اخبارقومی تنظیم ،پٹنہ 2008
+++
امام اعظم
 
ریجنل ڈائرکٹرمولاناآزادنیشنل اردو یونیورسٹی کلکتہ
 
بشکریہ ہندوستانی ادب کے معمار عبدالغفورشہبازمطبوعہ شاہداکیڈمی
 
 
You are Visitor Number : 4471