donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Ahmad Tabassum
Poet
--: Biography of Ahmad Tabassum :--

 

 احمد تبسم 
 
 
 
 سید محمد احمد ( قلمی نام احمد تبسم) ابن ایس۔ ایم سلیم میٹرک سرٹی فیکٹ کے اعتبار سے مغل سرائے میں یکم فروری۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئے۔ اصلِ سال پیدائش ۱۹۳۵ء ہے۔ ان کے والد ریلوے میں ملازم تھے۔ مگر ا حمد کی عمر صرف پانچ سال تھی جب والد اللہ کو پیارے ہو گئے۔ پھر وہ پٹنہ چلے آئے اور محمڈن اینگلو عربک ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ یہاں سے میٹرک پاس کرنے کے بعد ۱۹۵۷ء میں سرکاری ملازمت مل گئی۔ ۱۹۶۰ء میں شادی ہوئی۔۱۹۹۳ء تک سرکاری ملازمت رہے۔ ساتھ ہی ۱۹۴۵ء سے آل انڈیا ریڈیو میں لائٹ میوزک کے فنکار کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔ فی الحال پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی کے علاوہ کئی پوتوں اور پوتیوں کی سرپرستی اور رہنمائی کرتے ہوئے پٹنہ سیٹی کے قدیم محلے صدر گلی میں قناعت اور آسودگی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ وضع داری اور خاکساری ان کی شخصیت کا ناگزیر حصہ ہے۔ شاد اسٹڈی سرکل کی جانب سے انہیں ساہتیہ سادھنا سمان برائے ۲۰۰۵ء مل چکا ہے۔ 
 
احمد تبسمؔ مشاعروں کے توسط سے پورے ملک میں مقبول رہے ہیں۔ علم موسیقی سے اپنے لگائو اور سحر انگیز ترنم کے سبب کسی بھی مشاعرہ میں ان کی شرکت ایک عرصے تک مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ آپ کی شعر گوئی کا آغاز کم عمری میں ہی ہو گیا تھا مگر ۱۹۴۸ء سے باضابطہ شاعری کی طرف توجہ کی۔ ابتداء میں شاگرد شاد جناب حمید عظیم آبادی کی شاگردی اختیارکی۔ ان کی وفات کے بعد خود اپنی طبیعت کی رہنمائی اختیار کر لی۔ شعر گوئی کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ مگر گذشتہ پندرہ برسوں سے بینائی بے حد کمزور ہو گئی ہے جس کے سبب مشاعروں میں شرکت تقریباً موقوف ہے۔ ان کا کوئی مجموعہ کلام اب تک شائع نہیں ہوا ہے مگر طرحی و غیر طرحی غزلوں کی مجموعی تعداد دو سو سے زیادہ ہے۔ انہوں نے سینکڑوں نعتیں بھی کہی ہیں اور چند نظمیں بھی ۔ ان کے کلام میں کلا سیکی رنگ و آہنگ کے ساتھ جدید حسیت کا امتزاج دیدنی ہے۔ انہوں نے عام طور سے مترنم بحریں استعمال کی ہیں۔
 
نور یزداں کے مظہر ہمارے نبی
سارے نبیوں سے بہتر ہمارے نبی
 شافع روز محشر ہمارے نبی
 ساقی جام کوثر ہمارے نبی
 مہر بانی کے پیکر ہمارے نبی
 رحمتوں کے سمندر ہمارے نبی
 جس نے پہنا وہ آراستہ ہو گیا
 لائے قرآں کا زیور ہمارے نبی
٭٭٭
تم اپنی یاد نہ دل سے مرے نکلنے دو
اندھیرے گھر میں کوئی تو چراغ جلنے دو
تعلقات گذشتہ کا بوجھ ٹلنے دو
 جلا رہا ہوں جنہیں وہ خطوط جلنے دو
برس رہے ہیں برسنے دو بادلوں کو یہاں
 زمیں کو گرد بھرا پیرہن بدلنے دو
 مرے وجود کا شیشہ اچھالنے والو
میں گرکر ٹوٹ نہ جائوں مجھے سنبھلنے دو
٭٭٭
یہ ذائقہ شناس لبوں کا قیاس ہے
اس کے لبوں میں تازہ پھلوں کی مٹھاس ہے
 اک محویت کی شام مرے آس پاس ہے
بیٹھا ہوں اور سامنے خالی گلاس ہے
آنکھوں کو ڈس رہی ہے دہکتی برہنگی
 ماحول کا گداز بدن بے لباس ہے
یادوں کی میز پر کوئی تصویر چھوڑ دو
 کب سے ہمارے ذہن کا کمرہ اداس ہے
٭٭٭
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
***************************************

 

 
You are Visitor Number : 1678