donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Akbar Raza Jamshed
Writer
--: Biography of Akbar Raza Jamshed :--

 

 اکبر رضا جمشید 
 
 
سید اکبر رضا نقوی عرف جمشید ولد سید علی جواد تعلیمی سند کے مطابق ۵؍ جولائی کو جمشید پور ( موجودہ ریاست جھارکھنڈ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جو ڈیشیل سروس میں تھے۔ اور اکبر رضا کی پیدائش کے وقت جمشید پو رمیں منصف تھے۔ اسی اعتبار سے ان کی عرفیت، جمشید قرار دی گئی جسے انہوں نے اپنے قلمی نام کا ایک حصہ بنا لیا۔ ۱۹۵۹ء میں ان کے والد دھنباد سے بحیثیت ضلع جج ریٹائر ہوئے تو یہ مستقل طور پر اپنی نانیہال واقع افضل پور پٹنہ آگئے۔ ۱۹۶۱ء میں پٹنہ کالج سے بی اے اور ۱۹۶۴ء میں کامرس کالج پٹنہ سے بی ایل کرنے کے بعد ۱۹۶۶ء سے ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی اور ۱۹۷۵ء سے ۲۰۰۴ء تک بہار جو ڈیشیل سروس کے مختلف عہدوں پر فائز رہ کر بحیثیت ضلع جج ریٹائر کیا۔ کچھ دنوں بعد دوبارہ پٹنہ ہائی کورٹ میں پریکٹس کرنے لگے۔ اعلیٰ عہدوں پر رہنے کے باوجود ان کی سادگی اور انکساری ایک مثال رہی ہے۔ وہ بے حد خلیق اور درد مند شخصیت کے مالک ہیں اور خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اپنی دفتری مشغولیات کے باوجود اکبر رضا جمشید بہار کی ادبی و سماجی دنیا میں بے حد فعال رہے ہیں۔
 
ان کی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۶۵ء میں رسالہ’’ صبح نو‘‘ میں ایک افسانہ ’’ شکست کی آواز‘‘ کی اشاعت سے ہوا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر مضامین بھی لکھے مگر ان کی ادبی شناخت اس وقت قائم ہوئی جب ۱۹۶۹ء میں غالبکی صد سالہ تقریبات کے موقع پر ان کی کتاب’’ نے شنیدہ غالب‘‘ کے نام سے منظر عام پر آئی۔ یہ غالب کے غیر معتدل کلام کا مجموعہ تھی جس کا اجراء جناب فخر الدین علی احمد ( اس وقت کے مرکزی وزیر خوراک)نے خدا بخش لائبریری ، پٹنہ میں کیا۔ اس موقع پر ادبی دنیا کی اہم ہستیاں مثلاً قاضی عبد الدود، علامہ جمیل مظہری اور اختر اورینوی وغیرہ جلسے میں موجود تھیں۔ اس کے بعد
                                                                                                                  ۱۹۷۲
ء تا ۲۰۰۶ء ان کی درج ذیل کتابیں زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔
 
(۱)خاتون اعظم (۱۹۷۲ئ) حضرت امام حسین کی بہن بی بی زینب کی سوانح ہے۔
(۲) غالب خستہ جاں (۱۹۸۸ئ) غالب کی سوانح عمری پر مشتمل ڈرامہ
(۳) ہم رہے نہ ہم(۱۹۹۱ئ) ملک کے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق ڈرامہ
(۴) بکھرے لوگ (۱۹۹۲ئ) ، فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق ڈرامہ
(۵) اسلام نامہ(۲۰۰۱) رسول پاک کی سوانح عمری اور ابتدائے اسلام سے متعلق واقعات۔
(۶) حضرت علی  کے بیٹے حضرت عباس (۲۰۰۶ئ) حضرت عباس کی سوانح
 
ان تمام کتابوں کا اجراء عام طور سے قانون یا انتظامیہ کی دنیا کی اہم شخصیتو ںکے ہاتھوں ہوتا رہا ہے۔ ان کا سرسری مطالعہ بھی یہ احساس دلاتا ہے کہ اکبر رضا جمشید کی ذہنی تشکیل میں روایت اور جدت کے تار حریر دورنگ کا اہم حصہ رہا ہے۔ اس لئے ایک طرف تو وہ مذہبی تاریخ اور اس سے متعلق امور کی پیش کش پہ مائل رہے ہیں۔اور دوسری طرف نئے عہد کے مسائل کو بھی موضوع بناتے رہے ہیں۔ دونوں ہی طرح کی تصنیفات میں ڈرامے کا پیرایہ اظہار اختیار کرنا بھی ان کی جدت طبع کا ثبوت ہے۔ گرچہ یہ ایسی جرات ہے جس پہ مذہبی رہنمائوں کو اعتراض بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اردو ڈرامے کو اس سے ایک نئی دنیا بھی مل سکتی ہے۔ چوں کہ تاریخ اسلام میں ڈرامائی پہلوئوں کی کمی نہیں ہے۔ ویسے اکبر رصا جمشید کا السوب بے حد شگفتہ ہے اور وہ عقائد کے اظہار میں عام طور پر شدت پسندی سے کام نہیں لیتے۔ یہ وصف  ان کی تحریروں کو با وقار اور دل پسند بناتا ہے۔ جہاں تک ان کے اسلوب کا سوال ہے وہ پوری طرح ان کی شخصیت کا آئینہ دار ہے۔ گرچہ ڈراموں میں سوانحی رنگ قابل تحسین نہیں مگر اس کی سادگی اور روانی اسے بھی دل پسند بنا دیتی ہے ۔ حال ہی میں اکبر رضا جمشید کے فن اور شخصیت سے متعلق پرویز عالم کی مرتب کردہ ایک کتاب منظر عام پر آئی ہے جس میں مختلف مشاہیرے کے مضامین ہیں۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
****************************
 

 

 
You are Visitor Number : 1576