donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Akhter Sayeed Khan
Poet/Writer
--: Biography of Akhter Sayeed Khan :--

Akhter Sayeed Khan

 

 اختر سعید خاں  
 
خود نوشت
 
 میری زندگی میں کوئی واقعہ حیرت کا ہے نہ عبرت کا ، اس کے سوا کیا لکھوں کہ ۳؍ اکتوبر ۱۹۲۳ء کو بھوپال میں پیدا ہوا ۔ میرے والد مرحوم کا نام حامد سعید خاں ہے جو حسرت، فانی، اصغر اور جگر کے سلسلے کی ایک کڑی تھے اور ہندستان کے ادبی حلقوں میں اپنی شاعری اور شخصیت کی وجہ سے احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ انہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں جب شعر کہنا شروع کیا تھا تو دوسرے مقامات کی طرح بھوپال میں بھی غزل داغ، امیر ، اور ان کے تلامذہ کی صدائے باز گشت بنی ہوئی تھی۔ والد صاحب کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے بھوپال میں غزل کا دامن رعشہ دار ہاتھوں سے چھڑاکر ان ہاتھوں میں دے دیا جو جنوں کی حکایات نئے خون سے لکھ رہے تھے۔
مجھے اردو کا قاعدہ میری ماں نے پڑھایا۔ رائسین کا مڈل اسکول میری پہلی درسگاہ ہے جب کچھ چل نکلا تو والد صاحب نے پروفیسر رشید احمد صدیقی کا مقدمہ باقیات فانی اور اصغر گونڈوی کے مجموعہ نشاط روح پر اقبال سہیل کا لکھا ہوا تبصرہ پڑھایا۔ ان مضامین کے معانی و مطالب  برسوں بعد میری سمجھ میں آئے۔ لیکن یہ ضرور ہوا کہ میری روح کو شعر سے نسبت پیدا ہو گئی۔ اسی دوران فارسی کی متداول کتابیں اپنے پھوپھا مولوی یعقوب علی خاں صاحب مرحوم سے پڑھیں جو اپنے وقت کے زبردست عالم تھے ۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے والد صاحب مجھے اور میرے چھوٹے بھائی اظہر سعید خاں کو جو میرے ہم سبق تھے لاہور لے گئے اور سر عبد القادر کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے علامہ تاجور نجیب آبادی کی نگرانی میں دیال سنگھ کالج میں داخل کرا دیا۔ بی اے پاس کرنے کے بعد ہم دونوں بھائی قانون کی تعلیم کے لئے علی گڑھ بھیج دئیے گئے۔ ۱۹۴۶ء میں مسلم یونیورسٹی سے ہم دونوں نے درجہ اول میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا اور ۱۹۴۷ء سے بھوپال پائی کورٹ میں پریکٹس شروع کردی۔ اظہر ۱۹۷۰ء میں پاکستان چلے گئے۔ اور میں اسی دیار میں ہنوز وکالت کر رہا ہوں۔
 اوبہ صحرا رفت مادر کوچہ ہار سوا شدیم
میری پرورش جاگیر دارانہ فضا میں ہوئی ہے۔ میرے دادا احمد سعید خان اور والد دونوں جاگیر دار تھے اور والیان بھوپال سے متوسل تھے۔ لیکن ان کی زندگیوں میں جاگیر داری کی خو بو نہیں تھی۔ اسی لئے میں بھی اس افسانوی سماج کا کردار نہیں بن سکا۔ میرے اسلاف سرحد کے پٹھان تھے۔ پردادا حکیم محمد سعید خاں بچپن میں ہندستان آگئے تھے اور طب کی تکمیل کے بعد بھوپال کے خاندان شاہی کے طبیب ہو گئے تھے۔ دادا نے بھی طب میں دستگاہ حاصل کی تھی لیکن اسے پیشہ نہیں بنایا وہ قدیم تہذیب اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا نمونہ تھے۔ اور بڑے کنبے کے کفیل ولی عہد بھوپالی کے ہمدم و دمساز تھے اور نواب ولی عہد انہیں شرافت پناہ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ والد صاحب مشرقی علوم اور اگلی شرافتوں کے پاسدار ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت اوریجنل شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت کی تشکیل میں عاقلانہ انکار اور عاشقانہ اقرار کو بڑا دخل تھا۔ ان کی زندگی محبت اور شاعری سے عبارت تھی۔ ان کا دائرہ احباب نوابزدگان سے لے کر شہر کے ناکسیوں تک وسیع تھا اور ان کا گھر شعر اور ادبا کا مہمان خانہ تھا۔ ان کی شان بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے نہ اپنی زندگی کو اہمیت دی نہ شاعری کو ۔ ’’ وہ بازار سے گزراہوں خریدار نہیں ہوں‘‘ کے مثال ۱۹۶۰ء کے اوائل میں رخصت ہو گئے ۔
صحت مند اور خوبصورت روایات کی وراثت سے دستبردار ہوئے بغیر میں ۱۹۴۷ء سے ادب کی ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوں۔ اور ترقی پسندی میرا ذہنی روپیہ بن چکی ہے۔ میں نے ترقی پسندی کو کبھی اس کے محدود معانی میں سمجھا ہے نہ برتا ہے۔ شاید اسی لئے میری چالیس سالہ سیاسی، سماجی اور ادبی زندگی آسمانوں میں پرواز کرنے کے بجائے زمین پر بسنے والے انسانوں کے دلوں کی دھڑکن سننے میں گزری ہے اور محبت میرے فکر و عمل کی روح  و رواں ہے ۔
مجھے اعتراف ہے کہ پیشہ وارانہ مصروفیت نے مجھے بہت سے مفید کام نہیں کرنے دئیے۔
٭٭٭
 
You are Visitor Number : 2681