donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Ali Akhtar Akhtar
Poet
--: Biography of Ali Akhtar Akhtar :--

 

 علی اختر اختر 
 
خود نوشت
 
میرا نام علی اختر ہے اور وطن علی گڑھ ۔ ۱۳۱۱ھ میں بمقام ریاست رام پور پیدا ہوا۔ کچھ دن علی گڑھ میں تعلیم پائی اور اس کے بعدنانیہال کے تعلق سے آگرہ سینٹ جانسن کالج میںرہا۔
 
فارسی اور عربی کا درس مولانا نصیر الدین صاحب سے حاصل کیا تھا اور اس زمانہ کی مروجہ تکمیل کے بعد اسکول میں داخل کیا گیا تھا۔ کالج کے ابتدائی  ایام ہی میں سل میں مبتلا ہو گیا جس کی وجہ سے ایک سال تک تعلیم بند رہی ، پھر حالات بدل گئے اور طبیعت ادھر رجوع نہ سکی غالباً ۱۰ء یا ۱۱ء سے حیدر آباد میں بہ سلسلہ ملازمت مستقلاً قیام پذیر ہوں ۔
 
شعر مجھے خود یاد نہیں کہ کس عمر سے کہہ رہا ہوں میرے گھر میں شعر و ادب کی فضا پہلے سے مرتب تھی اس لئے میری شاعرانہ فطرت کو اس سے بہت مدد ملی۔ شاید (۱۴) (۱۵) سال کی عمر کے دو شعر حافظہ میں ہیں ۔ جنہیں ذیل میں لکھتا ہوں ۔
 
 قفس میں سمجھے تھے ہم کہ حالت رہین امن و اماں رہے گی
 کسے خبر تھی کہ برق اب بھی نگاہ بر آشیاں رہے گی
 ڈوبی ہوئی پاتا ہوں، نبضِ دل دیوانہ
 ہلکی سی پھر اک جنبش اے جلوۂ جاناناں
 
لیکن ایک عجب بات یہ ہے کہ میرے خاندان کے دوسرے افراد خورد و بزرگ عام طور پر وہی داغ اور میر کے راستوں پر چل رہے تھے لیکن اس نوع کی شاعری سے مجھے ابتداء ہی میں کوئی دلچسپی نہ ہو سکی ذخیرہ کے ابتدائی نمبروں میں بھی میری نظمیں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ یہ واقعہ بھی شاید ۱۲ء یا ۱۳ء کا ہے۔ چنانچہ بہار کا آخری پھول ، کے عنوان سے جو نظم لکھی اُسے قبول عام بھی حاصل ہو ا تھا ۔ یہ ہیں میرے مختصر حالات۔
 
علی اختر اختر 1947 ء کے بعد پاکستان چلے گئے اور وہیں وفات پائی۔
 
*****************************
 
You are Visitor Number : 1469