donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Allama Fazal Imam Waqif
Poet/Writer
--: Biography of Allama Fazal Imam Waqif :--

Allama Fazal Imam Waqif

 

علامہ شاہ فضل امام واقف آروی
 
علامہ واقف دلدار، وضح دار اور ظریف طبع انسان اور بحیثیت شاعر یکتا ئے روزگار وعظیم فن کار تھے۔وہ قدیم وجدید ادب کے پیر ہن میں پرانی تہذیب کی نمائندگی کرتے تھے۔ کرتے کی جیب میں راکھ اور ہاتھ میں چھڑی لے کر چلنے والی اس ہستی کو محض دیکھنے سے یہ قطعی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو خود فاقہ میں رہ کر اپنے آرٹ، کی زبان میں ادبی چٹکیوں سے قارئین کے دل میں گد گدی پیدا کر دیتا ہے۔ شاعری کی تقریبا تمام اصناف اور اردو، فارسی وعربی پر عبور رکھنے والے شاہ فضل امام کے ساتھ بھلے ہی گردش ایام نے انصاف نہ کیاہو تاہم وہ اپنے فن کے معاملے میں پوری طرح انصاف پسند تھے۔ انہوں نے اپنے کلام میں جو کچھ بھی کہا، جو بھی لکھا بالکل صاف صاف لکھا ہے۔ انتہائی سادگی و ظرافت آمیز سنجیدگی سے اپنے خیالات واحساسات کا اظہار کیا۔ وہ خودہی کہتے ہیں:
 
میرے اشعار میں منظر کشی بھی ہے ظرافت بھی
قلم نے کھینچ دی تصویر جو خاکہ لکھا میں نے
اور
زبان سادہ میں رنگنیاں رکھ دیں سیاست کی
مزہ آنے لگا دونوں کو جب یکجا لکھا میں نے
 
علامہ ایک زندہ دل شاعر تھے۔ زندگی کے تئیں ان کا نظر یہ بالکل واضح تھا۔ وہ مانتے تھے کہ زندگی ہے تو تلخی بھی ہوگی۔ لیکن اگر اس تلخی کو مسکراکر فراموش کر دیا جائے تو کیا براہے! لہذا وہ فرماتے ہیں:
خار زار زندگی کیا ہے، گلستاں بوستاں
شرط ہے لیکن گل و گلزار کی باتیں کرو
ولادت: علامہ واقف کا اصل نام شاہ فضل امام تھا۔ ان کی ولادت ریاست بہار کے موجودہ ضلع جہاں آباد میں واقع ارول میں ۱۳؍جمادی الاول ۱۳۳۴ھ بمطابق ۱۸؍مارچ،۱۹۱۶ء بروز سنیچر بوقت دس بجے صبح ہوئی تھی۔ علامہ کا داد ایہال ارول جبکہ نانیہال آرہ تھا۔ وہ اپنے والدین کی واحد اولاد تھے۔
پرورش: علامہ کی پرورش ان کی والدہ محترمہ صفیہ خاتون نے کی۔ کہتے ہیں، جب وہ اپنی ماں کے بطن میں تھے، تو والد شاہ منظرامام کو کسی نے زہر دے دیا تھا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ اس طرح انہوں نے اپنےوالد کا منہ تک نہیں دیکھا۔ 
محترمہ صفیہ خاتون نے بڑے ناز ونعم اور محبت وشفقت سے اپنے بیٹے کی پرورش کی۔ ہر خواہش کی تکمیل کی اور کسی بات کی کمی نہیں محسوس ہونے دی۔ جب علامہ پچاس سال کی عمر کو پہنچے، تو ان کی والدہ ۳؍اپریل ۱۹۶۶کو اس دارفانی سے رخصت ہوگئیں۔
تعلیم: علامہ واقف کی اتبدائی تعلیم ان کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی گھر پر ہی عربی ،فارسی واردو کا درس لیا۔ بعد ازاں میر گنج، آرہ واقع مدرسہ حنفیہ میں ان کا داخلہ ہوا، جہاں سے انہوں نے مولوی کی سند حاصل کی۔ پھر مدرسہ وحیدیہ ،آرہ سے عالم کی سند لی اور مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ سے فاضل کی سند پائی۔ پڑھائی لکھائی کے معاملے میں ان کی والدہ نے کوئی کوتاہی نہیں برتی تھی۔کہتے ہیں مدرسہ کی تعلیم کے زمانے میں علامہ قیمتی شیروانی ،چوڑی مہری کا ذرابفت کا پائے جامہ، ترکی ٹوپی اور سلیم شاہی جوتا پہنتے تھے۔ ان کے آگے پیچھے دودو مامائیں کتابوں کا بستہ اور سینی میں وافرمقدار میں اشیائے خوردنی لے جایا کرتی تھی۔
اہل خاندان: علامہ کا تعلق ارول وآرہ کے بے حد متمول اور مشہور ومعروف خاندانوں سے تھا۔ ان کے دادا کا نام شاہ ظہیر تھا جبکہ چودھری شرافت حسین، ایم ایل سی، چودھری ریاست حسین، سول سرجن چودھری وجاہت حسین، ڈپٹی گورنر، ریزرو بینک اور چودھری حفاظت حسین، کمشنر، بنارس علامہ کے اپنے مامو ں تھے۔ علاوہ ازیں خود ان کے والد شاہ منظر امام کا اچھا خاصا ادبی ذوق تھا۔ انہیں داغ دہلوی سے عقیدت اور حضرت علی عشرت گیاوی سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ جدمرحوم حضرت شاہ اظہر حسین عالم دین مفتی شرح متین ہونے کے علاوہ اردو، فارسی اور عربی کے بلند پایہ شاعر تھے۔ علامہ کے نانا چودھری منظور احمد بھی اچھے اور خوش فکر شاعر تھے۔ مرحوم شاہ مشتاق احمد، سابق نائب صدر، بہار اردو اکادمی علامہ کے چچا زاد بھائی اور سابق ایم پی، طارق انور علامہ کے بھتیجہ ہوتے ہیں۔
علامہ کی شادی ۱۹۴۳ء میں موضع قاضی چک، تھانہ مسوڑھی ،ضلع پٹنہ کے باشندہ ڈاکٹر سید عبدالحمید کی سب سے بڑی صاحبزادی نفیسہ خاتون سے ہوئی تھی۔ان سے کل پانچ بیٹیاں(بالترتیب نیلو فر، فردوسی، مسرت،شادمانی اور شادابی) اور ایک فرزند (اکبر امام کاشف) ہیں۔ اہلیہ اور بچے بہ فضل تعالیٰ باحیات ہیں۔
شخصیت:علامہ واقف کی شخصیت گونا گوں خوبیوں کا مجموعہ تھی۔ وہ ایک طرف جہاں انتہائی ذہین، عاقل اور زمانہ شناس تھے، تو دوسری طرف نفا ست پسند ، سادہ لوح اور دلچسپ انسان بھی تھے۔ وہ خوش مزاج بھی تھے اور تنک مزاج بھی گویا گھڑی میں ماشہ، گھڑی میں تولہ، وہ جہاں اپنی عالمانہ اور مدلل گفتگو سے سامعین کو متحیر اور قائل کردیا کرتے تھے، وہیں روتے ہوئے کو ہنسادینے کا فن بھی خوب جانتے تھے۔ ان میں بچوں جیسی معصومیت بھی تھی اور مطلق العنان حکمراں جیسی آمریت بھی مجموعی طور پر وہ بے انتہاقابل ومدبر اور انتہائی حساس انسان تھے۔ سچ پوچھا جائے تو ان میں وہ سارے تضادات موجود تھے، جو ایک آدمی کو جینس بناتے ہیں۔ 
خواجہ افضل امام، سابق صدر، شعبہ فارسی، پٹنہ یونی ورسٹی اپنے ایک مضمون علامہ شاہ فضل امام واقف آروی عظیم آبادی، میں علامہ کے عالم شباب کا خاکہ کچھ یوں پیش کرتے ہیں۔
واقف صاحب کی ذات ہر لحاظ سے نمایاں تھی، بہترین سورج کی 
شیروانی، آنکھ پر سنہری فریم کا چشمہ، ہاتھ میں چاندی کی
مٹھ کی چھڑی ، پیر میں پیٹنٹ کا پمپ قیمتی لٹھے کا پائے جامہ،
سرمہ لگائے ہوئے، سرپر ترکی ٹوپی ،سیاہ خش خشی داڑھی
منہ میں پان، شیروانی کی جیب میں گھڑی جس کی چین سونے 
کی، غزل ترنم سے پڑھتے تھے، حسین، جمیل ،شکیل وجیہ
انسان، جب غزل پڑھتے تو ایک سماں بندھ جاتا،
اسی شخص کا خدوخال ایام پیری میں یکسر مختلف تھا۔ عمر کے ۷۵ ویں سال میں علامہ کا پیکر بقول نوجوان ادیب ڈاکٹر رضوان اللہ آروی کچھ اس طرح تھا:
بوٹا ساقد، خمیدہ کمر، سوچتی ہوئی، چمکتی ہوئی اور خلائوں 
میں کچھ ڈھونڈتی ہوئی آنکھیں ،لب تبسم آشنا، دنیا اور اہل دنیا
 سے بےنیاز، اپنی ذات میں گم، قلم بدست، فاقہ مستی میں مست
اور خود شناسی وخود نگری کا ایک خاموش پیکر۔ یہ تھے
علامہ شاہ فضل امام واقف آروی۔
جن لوگوں نے علامہ کو آخری وقتوں میں قریب سے دیکھا ہے، وہ ان کی مزید چند خصوصیات کا اضافہ کریں گے۔ مثلا سرپہ لازمی طور پر ٹوپی، ہونٹوں میں اکثر ہابیڑی یاسگریٹ، جسم پر صاف کم بیشتر میلا سا کرتہ پائے جامہ، پیروں میں ہوائی چپل، شانوںسے لٹکتا ایک جھولا، جھولے میں دو چار نئے پرانے قلم، چند مڑے تڑے سادے یا خود کے تحریر کردہ کاغذات، ہاتھ میں چھڑی ،اور ہاں، جھولے یا کرتے کی جیب میں راکھ علامہ راکھ کیوں کھاتے تھے؟ یہ ایک معمہ ہے۔ کہیں وہ پیٹ کی بھوک منہ میں راکھ بھر کرہی تو نہیں بجھا لیتے تھے؟
علامہ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہیں ذاتی طور پر کبھی کسی سے شکایت نہیں رہی۔ نہ خدا سے نہ حالات سے نہ انسانوں سے انہوں نے کبھی اپنی بربادی وزبوں حالی رونا بھی نہیں رویا۔ ان میں خود داری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ علامہ کو اپنے نام ونمود کی ذرا بھی فکر نہیں تھی۔ بقول ان کے وہ تحریک آزادی میں بھی پیش پیش رہے تھے لیکن ہمیشہ روپوش رہ کر کام کرتے رہے انہوں نے خود کو فریڈم فائٹر اعلان کرکے پنشن لینا تک گوارہ نہیں کیا۔ 
علامہ واقف ایک ہمدرد اور رحم دل انسان تھے۔ وہ خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو راحت پہنچا نے کا جذبہ رکھتے تھے۔ ڈاکٹر رضوان اللہ آروی اس سلسلے کا ایک قابل ذکر واقعہ یوں رقم کرتے ہیں۔ 
دسمبر کی یخ بستہ رات میں واقف صاحب کو سردیوں میں ٹھٹھرتے دیکھ کر ایک صاحب حیثیت وصاحب اقتدار نے انہیں دو کمبل بخش دئے۔ راستے میں واقف صاحب کو دو بھکاری نظر آئے جو انہیں کی طرح سردیوں سے کانپ رہے تھے ۔ واقف صاحب نے ان دونوں کے جسموں پر ایک ایک کمبل ڈالا اور آگے کی راہ لی ساتھ والے آدمی نے سرزنش کی۔ واقف صاحب! یہ کوئی دانشمندی تو نہیں، واقف صاحب کا جواب تھا۔ انہیں کوئی نہیں دے گا اللہ مجھے دے گا، اور کمال حیرت، اللہ نے انہیں دینے میں تاخیرنہیں کی۔ وہ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ ایک دوسرے ذی حیثیت نے انہیں نئی شال عنایت کردی۔
کوئی خواہ علامہ کے بارے میں کچھ بھی کہے، ان کی شخصیت کے کسی بھی پہلو کو اجا گر کر ے، وہ بذات خود اپنے متعلق بس یہی کہتے ہیں:
بے تلک کے ہیں مہاراج، یہ واقف صاحب
اس کو سمجھا نہیں وہ ’الو کاپٹھا‘ مردود
مزاج: علامہ منکسر المزاج ہونے کے ساتھ ساتھ نازک مزاج بھی تھے۔ اس کا سبب شاید بے پناہ علمی صلاحیتیں اور ان کا پر شکوہ ماضی تھا۔ طبیعت خوشگوار رہتی تھی تو انتہائی ادب، متانت خلوص اور نرم دلی کا سلوک کرتے تھے۔ لیکن جب مزاج بگڑتا تھا تو کسی کو بھی معاف نہیںکرتے تھے۔ خواہ کوئی ان کا کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔ ان کے مزاج میں حدت آتی تھی تو سبھوںکو ایک ہی رد یف وقافیہ سے نواز دیتے تھے۔ مغلظات کی لغت میں بھی انہوں نے بہت کچھ اضافہ کیا ہے۔ بقول خواجہ افضل امام ان کی تنک مزاجی کا ایک بڑا دلچسپ واقعہ حسب ذیل ہے:
پٹنہ ریڈیو اسٹیشن میں ایک ٹاک تھا۔ مدعوئین میں ہفتہ روزہ ’نقیب‘ پھلواری شریف کے سابق مدیر جناب اصغر امام فلسفی مرحوم بھی تھے وہاں کے اسٹاف نے جناب واقف سے استفسار کیا کہ شاعری سے آپ کا مقصد کیا ہے۔جناب واقف نے بڑے تلخ انداز میں جواب دیا۔ مچھلی سے آپ دریافت کرتے ہیں کہ تیرنے سے تمہارا مقصد کیا ہے۔ ہواسے پوچھتے ہیں کہ چلنے سے تمہارا مقصد کیاہے؟ ارے سوال کرنے کےلئے بھی اہلیت چاہئے۔
حافظہ: علامہ کی ذہانت وعلمیت کا لوہا ان کے مخالفین بھی مانتے تھے۔ یہ در اصل ان کے برسوں کے مطالعہ اور کتب بینی کا ثمرہ تھا۔ ان کے مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ جب وہ آرہ سے پٹنہ ہجرت کررہے تھے تو اس وقت ان کے پاس صرف فقہہ، تفسیر، فلسفہ اور مذاہب عالم سے متعلق تقریبا چھ ہزار کتابیں تھیں۔سب سے حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ اس قدر عمیق مطالعہ کے باوجود آخری وقت تک ان کا حافظہ بڑا قوی تھا۔ انہوں نے جس چیز کو ایک بار پڑھا ، اسے دوبارہ پڑھنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ حتیٰ کہ وہ برسوں بعد بھی کتاب کانام، مصنف یا شاعرکا اسم گرامی عنوان مضمون اور صفحہ نمبر تک بتا دیا کرتے تھے۔ انہیں کچھ لکھتے وقت حوالہ کیلئے کبھی کسی کتاب سے رجوع کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ 
ذکاوت: ذکاوت وذہانت میں علامہ کا جواب نہیں تھا۔ بقول خواجہ افضل امام۔
۱۹۴۶ء کے فرقہ وارانہ فساد کے موقع پر مسلم لیگ اور کانگریس
کے بڑے بڑے لیڈران پٹنہ میں مقیم تھے۔ مسلم لیگ کے اکابرین مثلاً
خواجہ ناظم الدین اور سرفیروز خاں نون کا قیام مسٹرلارنس کے ساتھ گرینڈ ہوٹل میں تھا۔ کانگریس کے کچھ اکابرین صداقت آشرم ، ڈاک بنگلہ اور کچھ مختلف وزراء کی کوٹھیوں میں مقیم تھے۔ سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان ڈاک بنگلہ میں قیام پذیر تھے۔ مولانا ابو اکلام آزاد جناب سید محمود کے ساتھ اسی کوٹھی میں ٹھہرے ہوئے تھے، جس میں آج کل اے این سہا انسٹی ٹیوٹ واقع ہے۔جمعیت العلماء کا ایک وفد، جس میں واقف صاحب قاضی احمد حسین صاحب، حاجی عیسیٰ پھلواری اور حاجی شفیع پھلواری شریک تھے، مولانا آزاد سے ملنے آیا اس وقت مولانا آزاد اکابرین کانگریس یعنی ڈاکٹر راجندر پرساد، سری کرشن سنگھ ڈاکٹر انوگرہ نارائن سنگھ وغیرہ کے ساتھ محوگفتگو تھے۔ مولاناکی مشغولیت دیکھ کر ارکان جمعیت نے واپسی کا پروگرام بنایا مگر واقف صاحب نے کھڑے ہو کر مولانا آزاد کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا۔ حضرت!سورہ عبس وتولیٰ کی شان نزول کیاہے۔
مولانا چونک پڑے وہ اکابرین کانگریس کو چھوڑ کر فوراً واقف صاحب کی طرف مسکراتے ہوئے مخاطب ہوگئے اور دیر تک ان سے گفتگو کرتے رہے اس درمیان اکابرین کانگریس ان دونوں کی گفتگو سنتے رہے۔
ظرافت:علامہ بڑے ظریف طبع واقع ہوئے تھے۔ روتے ہوئے کو ہنسانا اور تلخ بات کو ظرافت کا لبادہ پہنانا ان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ ان کاکلام اس امر کا گواہ ہے ذاتی زندگی کے شب وروز بھی کم دلچسپ نہ تھے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے۔
علامہ کے برادر نسبتی جناب سید عبدالسلام ،ریٹائرڈ اسسٹنٹ سکریٹری مدرسہ ایجوکیشن بورڈ،پٹنہ کو سگریٹ نوشی کا بڑا شوق تھا۔ سگریٹ پیتے بھی تھے تو انتہائی قیمتی بڑا نڈ کی جس کی خوشبو قریب وجوار تک پہنچ جاتی تی۔ لیکن جناب عبدالسلام اپنے بہنوئی علامہ واقف کے سامنے سگریٹ نوشی سے احترام کر تے تھے ایک بار علامہ نے جناب عبدالسلام سے سگریٹ طلب کی۔ سگریٹ کے کش لیتے ہوئے بولے۔ تم بھی پیو کوئی مضائقہ نہیں۔
جناب عبدالسلام ذراہچکچائے پھر بولے نہیں میں سگریٹ نہیں پیتا۔
اس پر علامہ مسکراتے ہوئے بولے میاں چھوٹی موٹی عیاشی کیا کرو، تاکہ بڑی عیاشی سے بچ سکو۔ایک دوسرا واقعہ ہے کہ صدر اسپتال ،پٹنہ میں علامہ واقف کی آنکھوں کا آپریشن تھا۔ آنکھوں پرپٹی بندھی ہوئی تھی ۔ ان کے بستر کے بغل والے خالی بیڈ پر ایک ضعیفہ علاج کرانے پہنچی ۔ علامہ بدبدانے لگے۔ یہاں کے ڈاکٹر بڑے موذی ہیں۔ جب مریض سوجاتاہے تب اس کی گردن اتار لیتے ہیں۔ رات ہونے والی ہے اب تو خدا ہی حافظ ہے۔
اتنا سننا تھا کہ ضعیفہ اٹھی اور اسی وقت وہاں سے چلتی بنی۔ بقول جناب احمد بدر ڈپٹی ڈائرکٹر، آدری اسٹیٹ ریسورس سنٹر، پٹنہ علامہ یہ واقعہ بڑے لطف لے لے کر سنایا کرتے تھے۔
نشیب وفراز:علامہ کی زندگی نشیب وفراز سے بھر پور تھی۔ ایام طفلی اور عہد شباب جس قدر آرام وہ تھا بڑھاپا اس کے ٹھیک برعکس تکلیف دہ تھا۔ کہتے ہیں ان کے داد یہال اور نانیہال میں دولت علم مرتبہ اور وقار گھر کی لونڈی تھی۔ عہد شباب میں دولت وعشرت کا ٹھکانہ نہ تھا۔ اس امر کا اندازہ بقول جناب ماہر آروی اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ جب تک آرہ میں رہے دستر خوان پر دس پانچ آدمی ضرور شریک رہا کرتے تھے۔ یہی نہیں محفل آراستہ ہے اور باہر کسی خوانچہ والے نے آواز لگادی، تو اس کے خوانچہ کا سارامال چند لمحوں میں فروخت ہوجاتا تھا۔
علامہ کا زوال۴۷۔ ۱۹۴۶ء سے شروع ہوا۔ اس زوال کی وجہ کسی قسم کی اخلاقی برا ئی نہیں، بلکہ علامہ کی فضول خرچی اور بے جامہمان نوازی تھی۔ چونکہ وہ اپنے والد ین کی واحد اولاد تھے لہذا ان کے حصے میں کافی دولت آئی۔نانیہال سے کٹرے کی آمدنی آتی تھی۔ جب آمدنی ناکافی ہوئی، تو کٹرے بیچ دئے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آمدنی کا ایک ٹھوس ذریعہ ختم ہوگیا شاہ خرچی میں قرض بڑھ گیا۔ آخر میں عالیشان مکان کا ایک حصہ فروخت کرنا پڑا۔ پھر دو سرا حصہ، یعنی پورامکان بک گیا۔ اس طرح ۱۹۶۵آتے آتے وہ اپنی ساری دولت سے ہاتھ دھوبیٹھے۔
بذات خود علامہ اپنی تباہی کی رودادیوں بیان کرتے ہیں۔
شعرو شاعری کے خبط اور موسیقی کے ذوق نے ہمیں تباہ کیامشاعرہ میں غزل پڑھنی تھی۔ اس میں منہمک تھا۔ دیوان جی تشریف لائے اور خبر دی کہ سرکاری مال گذاری جمع کرنے کی آخری تاریخ ۳۱دسمبر ہے اور اب صرف۸ یوم رہ گئے ہیں، ہم نے سنسی ان سنسی کردی۔ پھر کچھ دنوں کے بعد دیوان جی آئے اور کہا کہ آج آخری تاریخ ہے کوئی صورت نکالئے ورنہ جائیداد نیلام ہو جائے گی۔ اور وہ واقعی نیلام ہوگئی۔ یہاں خوشی اس بات کی تھی کہ غزل مکمل ہوئی رہی جائیداد تو اس کی واگزاری کیلئے مقدمہ بازی شروع کردی۔
اس طرح علامہ واقف آرہ میں دو چیزوں کے لئے مشہور تھے۔ شعرو شاعری کیلئے اور مقدمہ بازی کیلئے علامہ کے بارے میں ایک بات دعویٰ کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ ان کے لب شراب سے ناآشنا رہے اور کسی اخلاقی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔
جب آرہ میں سب کچھ ختم ہوگیا تو وہ پٹنہ چلے آئے۔کچھ روز تک گولک پور واقع جناب عبدالسلام کی رہائش گاہ پر رہنے کے بعد پھلواری شریف میں ایک کرائے کے مکان میںمع اہل وعیال رہنے لگے۔ وہاں قریب ڈیڑھ برس ہی رہے پھر آرہ چلے گئے۔ملکی محلہ میں اپنی فیملی کے قیام کا بندوبست کر کے دو بارہ پٹنہ چلے آئے۔۱۹۹۳ء کے وسط تک پٹنہ میں ہی رہے۔ پٹنہ میں رہے تو اپنی خود داری اور پرانی نفسیات کے ساتھ رہے یہی وجہ ہے کہ مختلف ڈیوڑھیوں پر شب گزاری کے باوجود انہوں نے خود کو کسی کے سامنے جھکنے نہیں دیا۔ ہمیشہ اپنے قلم اور ذہانت کی بدولت اپنی روٹی کا بندوبست خود کرتے رہے۔ سردی ہویا گرمی، علامہ کے شانے پر ایک کمبل ہمیشہ رہتا تھا۔ ادارہ شرعیہ کا فرش ہو یا روزنامہ، ہمارا نعرہ، کے دفتر کی بنچ کسی عزیز کی چوکھٹ یا پھر اتحاد وطن وسنگم کا آفس، جہاں جاتے کمبل بچھا دیتے حسب ضرورت اوڑھ بھی لیتے جھولے سے کاغذقلم نکالتے اور خامہ فرسائی شروع کردیتے۔ اخباروں میں علامہ واقف کی ایک نظم کی قیمت پانچ سے بیس روپے ہوتی تھی۔ خدابخش لائبریری کے لئے لکھے گئے ایک صفحہ کی قیمت تین روپے تھی۔ علامہ کی نظر میں اس قیمت کی اہمیت نہیں تھی،بلکہ ان کیلئے ایک دن کی اہمیت تھی۔ وہ روزانہ کماتے تھے اور روزانہ کھاتے تھے۔ نہ صرف خود کھاتے تھے بلکہ بانٹ کر کھا تے تھے۔ کچھ پیسہ وہ بچا کر بھی رکھتے تھے جو ان کے اہل وعیال کے کام آتاتھا۔ محکمہ راج بھاشا سے مقررہ وظیفہ سے بھی انہیں کچھ رقم حاصل ہو جاتی تھی۔ جب تک آنکھوں میں روشنی اور دل میں دھڑکن رہی، یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ان کا کلام روزنامہ سنگم، ہمارا نعرہ صدائے عام ہفتہ وار اتحاد وطن ہفتہ وار عظیم آباد اکسپریس ہفتہ وار الہذ،ہفتہ وار مگدھ پنچ، ماہنامہ رفاقت، المعظم اور سہ ماہی شفق وغیرہ میں شائع ہوتا رہا۔ انہوں نے ۱۹۶۵میں خود اپنا ایک اخبار، طشت ازبام شائع کرنا شروع کیا تھا جس میں واقف آرٹ کے عنوان سے حالات حاضرہ پر ان کا طنزیہ کلام شائع ہوتاتھا۔ مگر طشت ازبام کی عمرمختصر رہی ۔ البتہ مختلف اخبارات میں واقف آرٹ جاری رہا۔
وفات:علامہ نے پٹنہ میں اپنی زندگی اور شاعری دونوں کا ایک طویل حصہ گزارا آرہ میں انہوں نے جوانی گزاری اور بڑھاپے کو راجدھانی پٹنہ کے نام وقف کردیا۔ عمر کے قریب ۷۷ ویں سال میں ان کی صحت نے جواب دے دیا۔ حالت بگڑنے لگی تو وہ کاکو چلے گئے۔ وہیں ۶ستمبر،۱۹۹۳ء کو ساڑھے پانچ بجے شام میں اس دارفانی سے رخصت فرماگئے۔ ان للہ وان علیہ راجعون۔۷ستمبر کو اپنے نانیہالی قبرستان متصل بوعلی منزل منشا پانڈے کا باغ آرہ میں مدفون ہوئے ۔
علامہ نے اپنی حیات میں ہی کہا تھا۔
لحد میں یہ فرشتوں نے کہا واقف مبارک ہو
کہ تم کلمہ سے جنت کی فضا لیتے ہوئے آئے
 
(بشکریہ لطف ستم مرتبین سید جاوید حسن،زیبا تبسم)
++++
 
 
You are Visitor Number : 2370