donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Anand Narain Mulla
Poet
--: Biography of Anand Narain Mulla :--

 

Anand Narain Mulla a Saraswat Kashmiri Pandit,  born in October 1901 at Lucknowwas a prominent Urdu poet of India. He was the 1964 Sahitya Akademi award in Urdu for his poetry, specifically the book Meri Hadis-e-Umr-e-Gurezan   His first collection of poems " Ju-yi shir " published in 1949, was followed by " Hans cog " and " Bamhina bol "  He was also a recipient of the prestigious literary award - " Iqbal Samman ".
 
His father, Jagat Narain Mulla was a leading advocate of his time who had also acted as Govt. prosecutor  Anand Narain Mulla was himself a leading practitioner of Law and was later on elevated to the Bench as a judge of the Allahabad High Court (23.08.1954 - 24.10.1961).  After his retirement he practiced law as Senior Advocate of the Supreme Court of India.
 
Anand Narain Mulla was a crusader. He was a member of the Fourth Lok Sabha (1967 - 1970) elected as an Independent candidate from the Lucknow Constituency. Later on, he was also elected as a Rajya Sabha member (1972 - 1978) as a nominee of the ruling Congress Party.
 
In 1995 Anjuman Taraqqi-Urdu published a book by Khaliq Anjum titled " Pandit Anand Narain Mulla ki Adabi khidmat " to commemorate his services to Urdu language.
 
Anand Narain Mulla died on 12 June 1997 in New Delhi aged 96 years.
 
 
 آنند نارائن ملا 
 
 
خود نوشت
 
 پیدائش اکتوبر ۱۹۰۱ء ۔ مقام پیدائش آبائی مکان محلہ رانی کٹرہ لکھنو، خاندان میرا خاندان کشمیری ہے۔ میری جد امجد پنڈت سیتا رام ملا کشمیر سے کلکتہ چلے آئے تھے۔ان کے صاحبزادے ( میرے دادا ) پنڈت کالی سہائے ملا کی تربیت لکھنو میں ہوئی اور اسی وقت سے میرا خاندان مستقل طورپر یہاں رہنے لگا۔ میرے دادا کے دو اولادیں ہوئیں۔ پنڈت بشن نرائن ملا اور پنڈت جگ ناتائن ملا جو میرے والد تھے۔ تعلیم ۱۹۱۱ء سے لے کر ۱۹۱۷ء تک گورنمنٹ جوبلی ہائی اسکول لکھنو میں ہوئی جو اب گورنمنٹ جوبلی انٹر میڈیٹ کالج ہے۔ ۱۹۱۷ء میں انٹرس پاس کیا پھر ۱۹۱۷ء سے ۱۹۲۵ء تک کیننگ کالج لکھنو میں ۱۹۱۹ء میں ایف اے۱۹۳۱ء میں بی اے ۱۹۲۳ میں ایم اے اور ۱۹۲۵ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ ۱۹۲۳ء میں آئی سی ایس کے امتحان میں بیٹھا لیکن اردو کے پرچہ میں بہت کم نمبر ملنے کی وجہ سے فیل ہو گیا۔نمبر کم ملنے کی غالباً دو وجہیں تھیں ایک تو پرچہ کے جوابات بجائے اردو کے انگریزی میں دئیے ۔ دوسرے رائج الوقت نقطہ نظر سے بالکل اختلاف تھا۔ مثلاً میرؔ کو خدائے سخن ماننے کو ہر گز تیار نہیں تھا۔ کیوں کہ میر کی شاعری محض ایک مشتعل دیںکی شاعری ہے۔ نہ اس میں کوئی فلسفیانہ گہرائی ہے نہ ذہنی رفعت۔ میرؔ کا شاعری میں درجہ کیا ہے اس کے متعلق ایک سوال پرچہ میں تھا اور ممکن ہے کہ ایسے جواب کو دیکھ کر ممتحن نے یہ اندازہ کیا ہو کہ یہ اُردو ادب سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ۹ فروری ۱۹۲۳ء کو شادی ہوئی۔ ۱۹۲۸ء سے لکھنو میں وکالت شروع کی۔ وکالت خاندانی پیشہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’’کہتے ہیں وکالت جسے گھُٹّی میں پڑی ہے‘‘
 
اسکول اور کالج کی طالب علمی کے زمانہ میں گھر پر اردو اور فارسی مولانا محمد برکت اللہ صاحب رضا مرحوم فرنگی محلی سے پڑھتا تھا اور وہ اکثر سبق دے کر غزل کہنے میں مصروف ہو جاتے تھے۔ ہر طرح پر کم سے کم وہ پچاس ساٹھ شعر کہتے تھے۔ جب میں کالج کا طالب علم تھا تب انہوں نے دو تین بار اپنے کہے ہوئے اشعار پڑھنے کے لئے دئیے لیکن میں نے پڑھنا گوارا نہ کیا۔ مولانا بھی ناراض ہوئے اور یہ بھی بتایا کہ شروع شروع میں سب یہی کرتے ہیں لیکن مجھے پھر بھی قبول نہ ہوا۔ غالباً ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مجھے وہ شعر پسند نہ آتے تھے مولانا نے میری طرف سے ایک قطعہ تاریخ کہہ کر اپنے کسی شاگرد کے دیوان کے ساتھ جو کہ ایک راجہ تھے چھپوا بھی دیا۔ ان کا نام شاید اشفاق حسین تھا۔مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ میرا تخلص بھی اثر رکھ دیا گیا ہے۔ جب میں نے مولانا سے شکایت کی تب انہوں نے ناراض ہو کر فرمایا کہ نہ آئندہ مجھے کوئی عطیہ دیں گے اور اگر میں کہوں گا بھی تو میرے اشعار کی اصلاح نہ فرمائیں گے۔
 
 جب سے کہ میں ۱۵ یا ۱۶ سال کی عمر میں کالج آیا تھا مجھے انگریزی میں تھوڑی بہت نظم کرنے کی عادت ہو گئی تھی۔ اور میرا انگریزی کالج میگزین میں شاید ہوا کرتا تھا۔ اسی زمانہ میں میں نے انیس کی چند رباعیات کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ جس کو لوگوں نے کافی پسند کیا تھا۔
 
۱۹۲۰ء میں میری صحت کچھ خراب ہو گئی اور ڈاکٹروں نے ایک مہینہ تک بستر پر لٹا رکھا۔ کوئی ایسی بیماری نہ تھی کہ میں اور کام نہ کر سکوں ۔ صرف شام کو حرارت ہو جاتی تھی۔ پڑے پڑے ہی گھبراتا تھا تو زیادہ تر وقت کتابیں پڑھنے میں صرف ہوتا تھا۔ اسی زمانہ میں اقبال کے فارسی کلام کا مجموعہ جو، پیام مشرق کے نام سے شائع ہوا تھا اس کی پہلی نظم، لالہ طور پڑھی……؟یہ نظم  اس قدر زیادہ پسند آئی کہ میں نے پڑے پڑے قریب 100 قطعات کا انگریزی میں ترجمہ کر ڈالا ۔ جب میرے احباب نے یہ ترجمہ دیکھا تو انہوں نے اسے بے انتہا پسند کیا۔ پنڈت منوہر لال زتشی جو جوبلی اسکول میں میرے ہیڈ ماسٹر بھی رہ چکے تھے اور ہمیشہ میرا دل بڑھایا کرتے تھے انہوں نے جب یہ ترجمہ دیکھا تو انہوں نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ میں اپنی شاعرانہ قابلیت کو انگریزی شعر کہہ کر ضائع نہ کروں ۔ بلکہ اردو میں شعر کہا کروں میں نے اس وقت تک مذاقاًشاید کبھی کوئی شعر کہا ہو۔ لیکن ایک مکمل غزل کبھی نہ کہی تھی۔ میں نے عذر کیا کہ اردو میں کہنا میرے بس کی بات نہیں۔ ان کا اصرار مگر جاری  رہا۔ اور جب ملتے تھے تو ٹوکتے تھے کہ تم نے کچھ کہا یا نہیں۔ چنانچہ ان کے اصرار پر میں نے غالباً ۲۷ء میں پہلی نظم کہی جس کا عنوان ’’ پرستارِ حسن‘‘ تھا۔ انہوں نے اس نظم کو اتنا پسند کیا کہ اس کی نقلیں اپنے احباب کو بھیجیں جن کے مبارکباد کے خطوط میرے پاس آئے۔ اس نظم کو زمانہ میں انہوں نے ہی بھیجا اور زمانہ میں یہ ایک اڈیٹوریل نوٹ کے ساتھ شائع کی گئی ہیں۔ اس کے بع دتو ان کا اور نیز دیگر احباب کا اصرار اور بڑھ گیا اور میں مستقلاً نظم کہنے لگا۔ زمانہ میں دو چار نظمیں چھپنے کے بعد شہر کے مشاعروں کے دعوت نامے آنے لگے۔ اور بہار مرحوم نے گھیر کر انجمن معین الاد ب کا ممبر بھی بنا لیا۔
 
کبھی شعر کہنے کی نیت سے بیٹھ کر آج تک شعر نہیں کہا جو کہا ہے وہ چلتے پھرتے ، اُٹھتے بیٹھتے کہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی لکھ کر کچھ نہیں کہا۔ بڑی سے بڑی نظمیں اولین مصرعہ سے لے کر آخر تک دماغ ہی میں نظم ہوئیں۔ پہلے خاکہ سے لے کر آخری خاکہ تک یہاں ان کی اصلاح اور ترقی ہوتی رہی اور مکمل ہو جانے کے بعد بھی دماغ ہی محفوظ رہیں۔ اکثر نظمیں محفلوں میں پڑھے جانے کے کئی مہینہ بعد کاپی پر لکھی گئیں۔ آج بھی قریب قریب اپنی ساری نظمیں یاد ہیں جس میں کچھ کم سے کم بارہ سال پرانی ہوں گی۔غزلیں بھی یوں ہی کہی گئی ہیں اور وہ بھی اسی طرح یاد ہیں چوں کہ خیال پر کبھی قافیہ اور ردیف کی پابندی لگا کر فکر نہیں کی لہذا ایسا کئی بار ہوا کہ طرح پر یونہی کہی گئیں اور وہ بھی اسی طرح یاد ہیں ۔ چوں کہ خایل پر کبھی قافیہ اور ردیف کی پابندی لگا کر فکر نہیں کی لہذا ایسا کئی بار ہوا کہ طرح پر تو کوئی شعر کوئی نہ کہہ سکے لیکن دو دوچار چارشعر طبع زاد زمینوں میں نکل آئے۔ ایسا تو ہمیشہ ہوا کہ ایک غزل کہتے کہتے دو چار طبع زاد غزلیں تیار ہو گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ غزلوں کے مجموعہ میں طرحی غزلیں بہت کم ہیں او رغیر طرحی بہت۔
 
شروع شروع میں میرے احباب نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں کسی کا شاگرد بن جائوں لیکن میرے ذوق نے اسے گوارا نہ کیا۔اول تو یہ کہ شاگردی سے انفرادیت اس قدر سخت مجروح ہوتی ہے کہ وہ پھر جاں بر نہیں ہو سکتی۔ استاد کا رنگ شاگرد کے کلام پر ایک نہ ایک حد تک ضرور حاوی ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ہر شخص کا تجربہ مختلف ہوتا ہے۔اس کے جذبات میں مختلف طریقے سے کیف پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کے دل و دماغ پر ایک مخصوص عالم طاری ہوتا ہے جس میں کوئی اُس کا شریک نہیں ہو سکتا۔ایک آدمی کے دل کی ترجمانی دوسرا کس طرح کر سکتا ہے۔ کہنے کو تو غم اور خوشی دنیا میں سب کو ہوتی ہے لیکن ایک ہی غم اور خوشی کا اثر دنیا میں دو انسانوں پر بھی یکساں نہیں ہوتا۔ وہی شاعر کامیاب ہے جو اس مخصوص اثر کو ادا کر سکتا ہے۔ لہذاظاہر ہے کہ شاعر کے لئے سب سے پہلے صداقت کی ضرورت ہوتی ہے۔اور صداقت  دوسرے کے رنگ میں ڈوب کر قائم نہیں رہ سکتی۔ استاد زبان کی غلطیاں ضرور دور کر سکتا ہے لیکن اس طرح شاگرد کی ذہنی ترقی نہیں ہوتی۔ اور اگر شاگرد میں جوہر قابل ہے تو وہ خود کچھ زمانہ بعد اپنے پُرانے کلام پر نظر ثانی کرکے ان غلطیوں کو بغیر اپنے مفہوم کا خون کئے ہوئے۔ استاد سے کہیں بہتر طریقہ سے نکال سکتا ہے۔ابھی تک کوئی پچاس ساٹھ نظمیں کہی ہیں اور قریب سو غزلیں پیشہ کی مصروفیت کی وجہ سے کوئی وقت فکر ِ سخن کے لئے نہیں ملتا۔ اور جو کچھ ملتا بھی ہے وہ مشاعرہ میں شریک ہونے کے خیال سے کسی غزل کہنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نظمیں سال میں تین چار سے زیادہ کہنے کا وقت نہیں ملتا۔ اتنی بھی فرصت نہیں ملتی کہ جو کچھ کہا ہے اس پر نظر ثانی ڈالی جائے اور اسے شائع کرا دیا جائے۔
 
آنند نرائن ملا
 
*********************
 
 
You are Visitor Number : 1677