donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Arman Najmi
Poet
--: Biography of Arman Najmi :--

 

 ارمان نجمی 
 
شمس الحسن ( قلمی نام : ارمان نجمی) ولد ڈاکٹر نجم الحسن تعلیمی سند کے مطابق ۹؍ اگست ۱۹۴۰ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن شیخ پورہ تھا۔ مگر ۱۹۱۴ء میں ان کے دادا ڈاکٹر جعفر حسین جب پٹنہ میڈیکل کالج اسپتال میں فار لنسک میڈیسن کے استاد ہو کر آئے تو انہوں نے عدالت کے قریب ( موجودہ محلہ باقر گنج) ایک گھر بنایا وہیں دادا کے زیر نگرانی شمس الحسن ( معروف بہ ایس حسن)کی ابتدائی تعلیم و تربیت ہوئی ۔ اردو ، فارسی اور ابتدائی عربی کی کتابیں پڑھنے کے بعد ۱۹۵۵ء میں ڈی ایم ہائی اسکول شیخ پورہ سے میٹرک پاس کیا۔ دربھنگہ سے انٹر اور ہزاری باغ سے بی ایس سی کرنے کے بعد پٹنہ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس اور ایم ایس کے امتحانات پاس کئے۔۱۹۶۱ء میں شادی تحقیق کر رہے ہیں۔ بیٹی بھی برطانیہ میں ڈاکٹر ہیں اور دوسرے آسٹریلیا میں رہ کر کمپیوٹر پر تحقیق کر رہے ہیں۔ بیٹی بھی برطانیہ میں ہے جس نے بر سنگھم سے ایم ایڈ ان سائنس کیا ہے۔ موصوف ایک عرصے تک حکومت بہار کے محکمہ صحت میں ملازمت کرنے کے بعد کچھ دنوں جیزان،سعودی عرب کے ایک اسپتال میں ملازم رہے۔ وہاں سے واپسی کے بعد اپنے ذاتی مکان واقع صندل پور میں سبک دوشی کی زندگی گذار رہے ہیں اور خدمت خلق کو اپنا شعار بنا رکھا ہے۔ اردو زبان کی خدمت کے لئے ہمہ دم متفکر اور کوشاں رہتے ہیں اور مختلف ادبی محفلوں یا نجی ملاقاتوں میں اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ زبان کا تحفظ اس کی تمامتر نزاکتوں اور لطافتوں کے ساتھ ضروری ہے۔ تاکہ تہذیبی ارتقاء کا عمل جاری ہے۔ ریٹائر منٹ کے بعد انہوں نے اردو کی ابتدائی اور ثانوی تعلیم اور زبان کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں مفید کوششیں کی ہیں۔ ان کے ایک بھائی زین الحسن نجمی مشہور فٹ بالر تھے۔ دوسرے فیض الحسن نجمی ہیں جو بہار اردو اکادمی سے وابستہ ہیں۔ تینوں ہی نے والد کے نام کی مناسبت سے اپنے ناموں میں نجمی کا اضافہ کر لیا ہے اور اردو زبان و ادب سے اچھی وابستگی رکھتے ہیں۔
 
ارمان نجمی کو زبان و ادب کا ذوق بڑی حد تک وراثت میں ملا ہے۔ ان کے پردادامولوی لطافت حسین فارسی کے مشہور شاعر تھے جن کے قصائد کا مجموعہ خدا بخش لائبریری پٹنہ میں موجود ہے۔ ان کے دادا اور والد بھی علم و ادب سے خاصی دلچسپی رکھتے تھے اور تہذیبی روایتوں کی حفاظت کے لئے علم و ادب سے وابستگی ضروری سمجھتے تھے۔ اس لئے اسکول کی طالب علمی کے دوران ہی بیت بازی کے مقابلوں کے لئے ارمکان نے دوسروں کے اشعار یاد کر نے کے ساتھ ساتھ خود بھی مصرعے سامنے تھا جس سے انہوں نے دل بھر کے استفادہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف تو اسپتال کے وارڈز میں مریضوں کی اور دوسری طرف دل کی انگنائی میں جذبوں سے لبریز اشعار کی آمد جاری رہی۔ پہلی غزل ۱۹۵۷ء میںجمالستان، دہلی ( ایڈیٹر نجم صدیقی) میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد قریب ہند و پاک کے مختلف رسالوں میں شائع ہونے لگے اور موجودہ صورت حال یہ ہے کہ پانچ سو کے  قریب غزلیں اور دو سو سے زیادہ آزاد اور پابند نظمیںکہہ چکے ہیں۔ ہند و پاک کے علاوہ اردو کی دوسری بستیوں سے نکلنے والے تمام ادبی رسائل و جرائد میں آپ کا کلام تواترکے ساتھ شائع ہوتا رہا ہے۔
 
ان کا آہنگ دھیما مگر پر تاثیر ہے۔ ان کی غزلیں عام طور پر ان کے داخلی جذبوں کی ترجمان ہوتی ہیں۔ جن میں خود داری اور دل داری کا ایک حسین امتزاج ملتا ہے۔۱۹۸۴ء میں ان کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ ’’ مردہ خوشیوں کی تلاش‘‘ کے نام سے منظر عام پر آیا تھا۔ ۲۰۰۱ء میں ان کی ایک کتاب’’ بیاض شب و روز‘‘ لاہور سے شائع ہوئی ہے جو وزیر آغا کے نو مختلف شعری مجموعوں میں شریک اشاعت نظموں کا جائزہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف سخنور نہیں ایک بالغ نظر ’’ سخن فہم‘‘ بھی ہیں۔ ان کی درج ذیل کتابوں کے زیر اشاعت یا زیر ترتیب ہونے کی اطلاع ہے۔
 
راستے کی بات (غزلوں کا مجموعہ تخلیق کار پبلی کینشر، دہلی)
افتادگی کے بعد (نظموں کا مجموعہ)
نمایاں (غزلوں کا مجموعہ)
مضامین کا مجموعہ
نمونہ کلام کے طور پر حمد اور غزل کے اشعار ملاحظہ ہوں۔
زماں تیری بدولت ہے ، مکاں تیری بدولت ہے
یہ بحر و بر تو کیا   ہفت آسماں تیری بدولت ہے
براہوں یا بھلا ہوں، جو بھی ہوں وابستہ تجھ سے ہوں
 مری ہستی مرا نام و نشاں تیری بدولت ہے
یقیں کے کار خانے میں بھی ہے صورت گری تیری
 متاع جستجو نقد گماں تیری بدولت ہے
٭٭٭
سرورد زندگی پر گوش بر آواز ہو لیکن
 ذرا اپنی نظر سے دیکھ اس خوں زیر موسم کو
٭٭
تاج زرّیں نہ کوئی مسند شاہی مانگوں
 میں تو بس اپنے ہی ہونے کی گواہی مانگوں
ہار جائوں گا تو مٹی کے قدم چوموں گا
 گرتی دیوار سے کیا پشت پناہی مانگوں
زیب دیتا ہے مرے تن پہ فقیری کا لباس
 کسی دربار سے کیا خلعت جاہی مانگوں
 میری وحشت کو یہ صحرا کی مسافت کم ہے
 سیر کے واسطے کچھ اور فضا ہی مانگوں
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
٭٭٭
 

 

 اپنا  تعارف     ارمان نجمی


    اپنے بارے میں کچھ بھی لکھنا میرے لئے ایک مشکل کام ہے۔میں ادب کا  ا یک طالب علم ہوں ، پڑھتا رہتا ہوں سیکھتا رہتا  ہوں،بھولتا رہتا ہوں اور یاد بلکہ مکرر یاد کرتا رہتا ہوں۔لفظوں کی کا ئینات سے بساط بھر رشتہ جوڑنے کی کو شش میں کیا پایا  اور کیا     کیا کھویا اس کا حساب لگا نے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ایک  تعلیم یافتہ خوشحال گھرانے میں میری آمکھ کھلی۔ 

    نام ٖ ڈاکٹر ایس حسن۔تخلص ارمان رکھا۔والدصاحب کا نام نجم الحسن تھا ا سی منا سبت سے نجمی لکھنا شروع کیا۔ڈاکٹری کی پیشے سے  منسلک ہوا تو اپنی ادبی شناخت الگ سے قائیم کرنے کا خیال آیا۔تعلیم   بی،اس،سی۔ام بی بی اس۔ ام اس( پٹنہ)۔پیشیے کے لحاظ سے سرجن۔ایک میڈیکل کالج میں سرجری کے پروفیسر کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔برطانیہ کے ایک اسپتال سے بھی منسلک  رہا۔سعودی عرب کے جنو بی منطقہ صدر مقام جیزان میں خدمات انجام دیں ان دنوں اپنا ایک اسپتال بنوانے کی تگ و دو میں  ہوں۔کام ہوتا نہیں ہے اور میں وقت سے پیچھے پڑتا جا رہا ہوں۔    

        ادب و شاعری سے واسطہ ہوش آنے کے بعد ہی پڑ گیا۔بچپن میں اردو فارسی کی تعلیم حسب روایت گھر پر ہی حاصل کی مسدس حالی کم عمری میں ہی تقریباِِ ازبر ہو گیا تھا۔اخلاق محسنی، اخلاق جلالی اورانتخاب ازشاہنامہ کے ساتھ ساتھ قصص ا لا نبیا  آمنہ کا لال اور سیدہ کا لال گھر پر ہی ختم کی۔اس کے بعد ہی انگریزی کی فرسٹ بک پڑھی ،پھر کلرنڈن ریڈر کی جلد اول و دویئم 

    اسکول میں داخلہ بعد میں ہوا لیکن گھر پر زبان کی تعلیم کا سلسلہ نہیں ٹوٹا۔فارسی میں مفتاح الترجمہ اور مفتاح ا لقواعد کا سبق ملتا رہا اور     ذہن نشیں ہو تا رہا۔ گھر میں مدینہ بجنور نامی اخبار آتا تھا اور غنچہ بجنور نامی رسالہ میری آپا کے لئے جاری تھا۔ان میں کہا نیا ں دلچسپی  کے ساتھ پڑھتا رہا۔ایک اور روزانہ اخبار انجام لا ہور بھی ابا کے مطب میں آتا تھا اور کبھی کبھی زمیندار لاہور بھی۔

            ادب سے میرا رشتہ جسم و جان کا ہے۔ابا جان کے دادا ابا مولوی لطا فت حسین عربی فارسی کے جید عالم تھے،  شاعری نہیں کرتے تھے لیکن یک بیک انکے ذہن کی کایا کلپ ہو گئی اور انھوں  نے حضرت وار ث علی کی شان میں ایک قصیدہ لکھ بھیجااسکے بعد وہ ان کی شان میں کلام لکھتے رہے۔طلبی ہو نے کے بعد سفر و حضر میں ان کے ساتھ رہے۔ان کا مجمو عہء ِکلام طلاطم     عشق کے نام سے  میرے داداابا  ڈاکٹر جعفر حسن جو ان دنوں پٹنہ میڈیکل کالج میں فورنسک میڈیسن کے پروفیسر تھے نے   میں پٹنہ کے کھڈگ ویلاس پریس سے شایئع کروایا۔اس میں حمد و نعت منقبت کے ساتھ غزلیں بھی ہیں جو سب کی سب  فارسی زبان میں ہیں۔میرے ابا کے نانا جان حکیم نظیر حسن کو بھی عربی فاسی پر عبور ھاصل تھا۔ان کا ایک مطبوعہ رسالہ جو مثنوی  مناظرہ نفس کلی بہ نفس جزوی     میرے پاس مو جود ہے۔ان کا بہت سا کلام ضا یئع ہو گیا۔میرے دادا ابا کبھی کبھی ہم لوگوں کو فی  البدیہ اردو کی نظمیں لکھاتے     تھے،افسوس کہ وہ سب کچھ تلف ہو گیا۔ صرف ذہن میں چند مصرعے یا اشعار گونجتے ہیں۔ 

        شاعری میریے لیے روحانی غذا ہے۔ادب کی تمام اصناف کا مطالعہ  میرے لئے ضروری رہا ہے اور اب میری عادت     میںشامل ہو گیا ہے۔بغیر مطالعہ کے میں زندہ رہنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا ، ادب اور اپنے پیشے کے مطالعہ سے بھی سیکھتا رہتا ہوں ۔  شاعری سے رشتہ ہمیشہ ہی قایئم رہا۔شعر کہنا کب شروع کیا یہ تو یاد نہیں لیکن بچپن سے ہی مصرعے موزوں ہونے لگے تھے،جو ایک     طرح سے بے اختیار ی کا عمل تھا۔  اور یہی بے اختیاری مجھ سے  اب تک شعر کہلواتی رہتی ہے۔

    ہوش و حواس بیدار ہوتے ہی ملک کی تقسیم کے المیہ سے دو چار ہوا۔اس کے پہلے کچھ دنوں  میں فسادات کے منحوس سائے میری  یادوں پر ہنوز منڈلاتے رہتے ہیں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان دنوںآس پاس کے دیہی علاقو ں سے  میرے گھر اور محلہ میں     کئی ایسے لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ آ کر رہنے لگے جو اپنی جان اور عزت آبرو بچانے کی خاطراپنے گھروں کو چھو ڑنے پر مجبور  ہو ئے تھے۔ان میں سے کچھ ہم عمر لڑکوں سے میری دوستی بھی ہو گئی تھی،لیکن بعد میں وہ دوسرے دیاروں میں جا بسے۔ان کی  صورتیں اور نام آج تک میری یا دو ں     میں محفوظ ہیں۔ ان دنوں کی ان کی بے بسی اور عدم تحفط کا احساس  ہنوز مجھے نہیں بھو لا ہے۔  لیکن ایک اور دکھ میری راہ تک رہا تھا،وہ تھا عزیز و اقارب کی ایک خا صی تعداد کا سرحدوں کے پار نئے ملک کا  سفر اختیارکرنا۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ گھر آنگن خا لی ہو گئے جہاں محبتوں کے چراغ روشن تھے۔  زندگی کے منظرنامے کو تیزی سے     بدلتے     ہوئے میں نے دیکھا ۔ محبتوں اور رشتوں کو فاصلوں کی نذر ہوتے ہوے میں نے دیکھا ۔لوگ اس طرح دور ہو گئے جیسے  ان کا     وجود ایک وہم تھا۔ اس کا اثر میرے دل و دماغ پر جس طرح ہوا ا س نے میرے سو چنے سمجھنے کے انداز کو ہی  بدل کر رکھ     دیا۔  ایک اداسی اس طرح میرے اندر بسیرا کئے ہوئے ہے جس کولفظوں میں بیان کرنا بہت ہی مشکل ہے۔

    دوسری جنگ عظیم کے زمانے میںتومیںبہت چھوٹا تھا  لیکن اس کی غارت گری اور پچاس لاکھ انسانوں کی موت کا اثر میرے دل ٍ    و دماغ پر اس وقت پڑا جب مجھے اس کے بالواسط نتا ئج بھگتنے پڑے ۔گر چہ یہ جنگ بیشتر یوروپ میں لڑی گئی لیکن اس کے اثرات  جاپان پر ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری بموں کی بے مثال اور دور رس تبا ہی کے بعد بھی تابکاری کی پیدا شدہ بیماریوںکی شکل میں  ظاہر ہوتے رہے۔ 

        میری شاعری اگر میرے عہد کی نوحہ گری ہے تو اس میں میرا کیا قصور ۔میں بربادی ،غارتگری، ناجایئزفوج کشی،اور خود     مختار ملکوں کی مسلسل تاراجگی کا عینی شا ہد ہوں۔ایک اور طرح کی غارت گری  جسے لسانی غارت گری کا نام دیا جا ئے تو بے جا نہ ہگا  وہ ہے جمہوریت کے نام پر ہماری تہذیبی و ثقافتی  اقدار کی بیخ کنی۔میرے گھر کے بچے اپنے اسکولوں میں سب کچھ پڑھ سکتے ہیں     لیکن نہیں پڑھ سکتے ہیں تو اپنی مادری زبان اردو۔یہی نہیں انہیں سنسکرت پڑھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔۔آپ اچھے پبلک اسکولوں     میں جا کر دیکھ لیجئے آپ پر یہ حقیقت وا ضح ہو جا ئے گی۔ان میں زیادہ تر’ سی بی اس ای‘ نصاب را یئج ہے۔ویسے اب سینیئر کیمبرج    (آئی سی اس ای) کے نصاب والے اسکولوں خاصکر مشن اسکولوں میں بھی یہی صورت حا ل ہے۔اور بات بات میں سیکولرزم اور  جمہوریت کا ڈھول بجا یا جا تا ہے۔اور سچ کہوں تو میرا اعتماد ہی ان اداروں سے اٹھ گیا ہے۔اور ہم بھی ہاتھ پہ ہاتھ دئے بیٹھے ہیں  اپنے بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دینے سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔

        میں کسی ازم میں یقین نہیں رکھتا ہوں نہ ان سے وابستہ ہوں۔ترقی پسندی نے ادب کو جو کچھ دیا اس کا بھی قا ئل  ہوں     اور جدیدیت کے رجحان سے بھی میرے ذہن کو کشادگی ملی ہے اور چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے اندازمیں تندیلی آئی ہے۔ سرجری کے پیشے سے منسلک ہو نے کے باعث مجھے انسانی دکھوں کو قریب سے دیکھنے اور ان کے مداوا کا موقع ملا ہے۔     ٍٍ    گنہ گار آنکھوں نے فرشتوں کی بھی زیارت کی ہے اور شیطان کو بھی خود کو بے نقاب کرتے ہو ئے دیکھا ہے۔

کسی نے کہا ہے کہ میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں ۔میں اس میں تحریف کرتے ہو ئے اتنا کہوں گا کہ میں لکھتا ہوں     اسی لئے میں ہوں۔میں نے غزلیں بھی لکھی ہیں،نظمیں بھی، رباعیات اور دوہے بھی۔ادھر میرے مضامین اور تبصرے بھی شایئع     ہو رہے ہیں۔میں ادب میں ایک اعلیٰ معیار کا طالب ہوں خود سے بھی اور دوسروں سے بھی۔


 میری مطبوعات    
مردہ خوشیوں کی تلاش مجموعہ نظم و غزل مطبوعہ ۱۹۸۴        
بیاض شب و روز (وزیر آغا کی نو عدد نظمیہ کتاؓوں کا تفصیلی مطا لعہ) مطبوعہ کاغذی پیرہن لا ہور    
راستے کی بات( مجمو عہ  غزلیا ت) تخلیق کار پبلشرس دلی کے زیر اہتمام شایئع ہو گیا ہے        
افتادگی کے بعد (نظموں کا مجموعہ زیر ترتیب)            
نمایاں (غزلوں  کا مجموعہ  زیر ترتیب )        
لفظوں کی کائینات( مضامین کا مجموعہ  زیر ترتیب) 


        ادھر میں نے اپنی نظموں کے انگریزی ترجمے کئے ہیں جو میوز انڈیا (muse india)میں شائع ہوتے     رہے ہیں۔کناڈا سے ہندوستانی شاعروں کی انگریزی نظموں کے ایک انتخاب میں میری چار نظمیں بھی شامل ہیں

     میری پرورش و پر داخت اردو فارسی محاورے کے ذریعہ عمل میں آئی ہے لیکن انگریزی زبان نے مجھ پر کئی دریچے کھو لے ہیں۔اس کے ذریعے قدیم جیسے مصری،یونانی،رومی و چینی تہذیبوں تک رسا ئی حاصل ہو سکی ہے ، ان کے طرز فکر اور طرز اظہار سے پہچان ہو سکی ہے،اور میں نے ان کی تواریخ اور اسا طیر سے بھی رشتہ جوڑا ہے۔اس کے علاوہ مجھے خود ہندوستان جنت نشان کے ما ضی جو ایک نہیں ہے بلکہ اس میں کئی ماضیوں کی موجودگی سے بھی خود کو دریافت کیا ہے۔کہ ہندوستان صرف ایک ہی نہیں بلکہ کئی زبانوں     اور ثقافتوں کا گہوارہ رہا ہے۔اسکی ثقافت بہت متنوع اور رنگا رنگ رہی ہے۔لیکن پھر بھی اپنی روشن خیالی اور وسعت نگا ہی کے با وجود اپنے تہذیبی مظاہر سے میرا جو والہا نہ رشتہ ہے وہ کسی دوسری تہذیب سے استوار ہو ہی نہیں سکتا کہ یگانگت کی حس  (sense of belonging )سب تہذیبوں کے لئے ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔

        دوسرے ملک و علا قے ہمیشہ میرے لئے کشش کا باعث رہے ہیں۔ہر سفر ایک مہم جوئی کا آغاز ہے جو شاعر و ادیب کو     دوسرے لوگوں بالخصوص لکھنے والوں کی جائے بود و باش ہی نہیں بلکہ ان کے رہن سہن طور طریقے اور سوچنے کے انداز کو دریافت کرنے  کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ایک نئی ٹہذیب سے آشنا ئی کئی طرح کے روابط کے نقطء آغاز کی حیثیت رکھتی ہے کہ اس طرح انسانوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ بین الثقافتی اور بین التہذیبی تعامل کی راہیں بھی ہموار ہو تی ہیں۔ ہماری ایک بہت بڑی     کمزوری یہ ہے کہ ہم لوگ بغیر جا نے بوجھے، بغیر جا نچے پرکھے دوسروں کے بارے میں را ئے قا ئیم کر لیتے ہیں جو بسا اوقات غلط ثابت ہو تی ہے۔شنیدہ کے بود مانند د یدہ۔ دیکھ اور پرکھ کر جو علم حاصل ہو تا ہے وہ درست ہو تا ہے یا اس میں غلطی کا امکان کم رہتا     ہے۔ میں نے سفر وسیاحت کے دوران جو کچھ دیکھا ہے انہیں ابھی لکھا نہیں ہے صرف روزنامچو ںور یادداشتوں کی حد تک محفوظ کر رکھا ہے ،لیکن یہ ضرورکہنا چا ہو ں گا کہ خوبیاں اور خامیا ں ہر جگہ ہیں،ہر جگہ انسان ہی بستے ہیں جو خطا و نسیان کے پتلے ہیں ۔

******************

 
You are Visitor Number : 1999