donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Ashfaqur Rahman Sharar
Poet
--: Biography of Ashfaqur Rahman Sharar :--

 Ashfaqur Rahman Sharar 

 

Ashfaqur Rahman Sharar ia a well known Indian urdu poet, primarily of the Ghazal form, but also of Nazm. He used unique diction for his remarkable expressions regarding life and society.

Works : WORKING IN MADINAH MUNAWWARAH, (EL-MAIMAN  FACTORIES GROUP) AS A SECRETARY.

Born : June 30, 1968

Phone : +966 502956147

Email id : ashfaq_rahman@rediffmail.com      sharar68@gmail.com

 

اشفاق الرحمن شررؔ مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش بھارت

  حال مقیم مکہ معظمہ سعودی عربیہ


موبائیل نمبر : 00966551105767  : sharar68@gmail.comای میل


 

    اپنے تعارف میں عرض کرنا چاہونگا کہ میری پیدائش اتر پردیش کے ایک مشہور لیکن پسماندہ ضلع غازی پور کے بہادر گنج نامی ایک چھوٹے قصبے میں ایک مزدور کنبہ میں ہوئی۔ پارچہ بافی ہمارا آبائی ذریعہ معاش ہے میرے والدین ہینڈ لوم پر ساڑیاں تیار کرتے تھے۔ میری زندگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ میری ولادت سات بہنوں کے بعد ہوئی پھر مجھے دو چھوٹے بھائی بھی میسر ہوئے اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کس قدر مجھے والدین اور بڑی بہنوں کا پیار ملا ہوگا۔ لیکن مجھے اپنے والدین اور بہنوں سے جو سب سے بڑی دولت ملی وہ یہ ہے کہ انھوں نے مجھ پر محبت اور شفقت دل کھول کرنچھاور کی لیکن کبھی ایسا موقع نہیں آنے دیا کہ میںلاڈ پیار کی وجہ سے بگڑ جائوں جیسا کہ عام طور پر ہوتاہے۔ مجھے ایک معیاری تربیت دی گئی اور وقت سے تعلیم دلائی گئی تعلیم و تربیت میں کبھی محبت اور شفقت آڑے نہیں آئی۔ ہمارے بھارت میں دو طرح کے تعلیمی ادارے ہیں ایک اسلامی دینی تعلیمی ادارے ہیں جنھیں مدرسہ اور جامعہ کہا جاتا ہے دوسرے عصری تعلیمی ادارے ہیں جنھیں اسکول کالج اور یونیورسٹی کہا جاتا ہے ہمارا خاندان بڑا اور دیندارہے اور خاندان کی روایت کے مطابق مجھے پاس کے مدرسہ میں داخل کرا دیا گیا جہاں سے میں نے اسلامی ماحول اور اردو میڈیم میں پانچویں جماعت پاس کیا اس کے بعد سرکاری میڈل اسکول میں ہندی میڈیم درجہ ششم میں داخل ہوا میرے پورے خاندان میں مجھ سے پہلے کسی کو اسکول میں داخل نہیں کرایا گیا تھا اور اس وقت چھوٹی جگہوں پر مسلم بچوں کا اسکول میں ہندو اکثریت کے ساتھ پڑھنا معیوب سمجھا جاتا تھامیرے اسکول میں داخل ہونے پر والدین کو خاندان کے افراد اور دوسرے لوگوں کی تنقیدوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اس سے بے فکر میرے والدین نے مزدوری کر کے میرے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھا۔ والدین چونکہ خانگی تعلیم ہی حاصل کر پائے تھے اس لئے درجہ ششم میں داخلہ ہونے کے بعد وہ میری رہنمائی نہیں کر سکے اور میں ازخود جو مناسب سمجھتا رہا کرتا رہا ۔ آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد اتر پردیش ہائی اسکول و انٹر میڈیٹ بورڈ سے ہائی اسکول سائنس مضامین کے ساتھ پاس کیا۔ میرے والدین کی اتنی حیثیت نہیں تھی کہ میں بڑے شہر اور مہنگے ادارے میں تعلیم حاصل کر سکوں اس لئے پاس کے ہی شہر مئو ناتھ بھنجن کے ڈی اے وی انٹر کالج میں انٹر میڈئیٹ میں بایولوجی گروپ میں داخلہ لیا انٹر کرنے کے بعد قریب کے شہر اعظم گڑھ جو اس وقت مئو ناتھ بھنجن کا ضلع صدر مقام تھا کے شبلی نیشنل پی جی کالج میں بی۔ ایس سی۔ (بایو) میں داخلہ لیا اسی دوران انڈین ایئر فورس میں ملازمت کے لئے درخواست اور ٹیسٹ دیاجس کے ابتدائی ٹیسٹ میں کامیاب بھی ہوا اور فائنل ٹیسٹ اور میڈیکل کے لئے اس وقت بلایا گیا جو بی۔ ایس سی۔ سال اول کے امتحانات کا وقت تھا۔ مخلص حضرات نے بی ایس سی کے امتحان پر ایئر فورس کے فائینل ٹیسٹ کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا جس میں میں کامیاب بھی ہوااور میرا انتخاب ایئر فورس میں میٹرولوجیکل اسسٹنٹ عہدہ کے لئے ہو گیا لیکن بد قسمتی سے تکنیکی مسائل کے سبب میں جوائن نہیں کر سکا اور اسی انتظار میں ایک سال کا وقت گذر گیا اس طرح میرے تعلیمی سفر میں دو قیمتی سال ضائع ہو گئے ۔ ایک طرف گھر کے معاشی حالات تو دوسری جانب دو سال نقصان ہونے کے سبب تعلیم چھوڑ کر معاش کی تلاش میں بھارت کے دارالحکومت دہلی آ گیا وہاں ایک رشتہ دار کے احسان کی بدولت گوشت فریزنگ اور ایکسپورٹ کرنے والی ایک پرائیویٹ فیکٹری میں ٹرینی سپروائزر کی ملازمت مل گئی اللہ کا کرم اور والدین کی دعائوں کی بدولت جلد ہی مجھے پروڈکشن سپروائزر کا عہدہ مل گیا ۔دوران ملازمت میں نے پوروانچل یونیورسٹی جون پور اتر پردیش سے علعم سماجیات اور علوم سیاست کے ساتھ پرائیویٹ بی۔ اے۔ کی ڈگری حاصل کی نیزمراسلاتی یونیورسٹی جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب کامل اور معلم اردو کی ڈگریاں بھی حاصل کرنے میں کامیابی میسر ہوئی۔ پھر خاندانی رنجش کے سبب حالات کچھ ایسے ہوگئے کہ میرا گھر سے دور رہنا مناسب نہیں تھا لہٰذا میں گھر لوٹ آیااور کچھ دنوں بعدحالات مزید خراب ہونے پر اپنا آبائی وطن چھوڑنا پڑا۔ میرے والدنے لڑائی جھگڑے کو کبھی پسند نہیںکیا گھر سے مسجد تک ان کی دنیا سمٹی ہوئی تھی اور اختلاف انھیں کے بھائیوں سے تھا اسلئے لڑائی جھگڑے سے بچنے کا ایک ہی راستہ دکھائی دیا کہ یہ قصبہ ہی چھوڑ دیا جائے اور قریب کے شہر مئو ناتھ بھنجن میں جو اس وقت تک ضلع بن چکا تھا کسی طرح کر کے سر چھپانے لائق مکان تعمیر ہوا اور مستقل طور پر ہمارا کنبہ یہاں آکر آباد ہو گیا۔ اسی شہر میں پرائیویٹ اسکول میں ملازمت کر لی لیکن بچوں کے تعلیمی اخراجات بڑھنے لگے تو 2008 میں ملک سے باہر جانے کے پروگرام کے تحت مدینہ منورہ کی ایک کمپنی میں سیکریٹری کے عہدہ کے لئے ممبئی جا کر انٹر ویو دیا اور منتخب بھی ہوگیا۔ مسلسل پانچ سالوں تک المیمنی گروپ مدینہ منورہ میں اپنی خدمات پیش کیا۔ 2013 میں اپنے ملک میں ریاستی حکومت کی پالیسی کے تحت ملازمت کی امید سے مدینہ منورہ کی ملازمت چھوڑ کر واپس انڈیا چلا گیا لیکن حکومت کی پالیسی میں عدالتی پینچ پھنستا گیا اور تاخیر ہوتی گئی ایک سال سے زیادہ انتظار کرنے کے بعدجولائی 2014 میں مجبوراً  پھر سے سعودی عرب آنا پڑا اپنے شہر میں قیام کے دوران میں نے اکائونٹنگ کا ڈپلومہ بھی لیا جو آج کام آیا فی الحال میں مکہ معظمہ میں اکائونٹنٹ کی حیثیت سے بر سر روزگاراور مکمل طور پر مطمئن ہوں۔


    لکھنے کی شروعات کب ہوئی اس کے بارے میں اگر میں یہ کہوں کہ نثر لکھنے کی شروعات بچپن میں ہی ہو گئی تھی تو بیجا نہیں ہوگا۔ ہماری آبادی مزدوروں کی بستی تھی اور تعلیم کی بہت کمی تھی دوران طالب علمی جب کسی ہم سائے کے وہاں کوئی خط آتا تھا تو اسے پڑھنے کے لئے اور جواب لکھنے کے لئے مجھے پکڑا جاتا تھا خاص طور پر پردہ نشین خواتین جو غیر مردوں سے سامنا نہیں کرتی تھی مجھے گھروں میں بلاتیں اور اپنی زبان میں اپنی بات بیان کرتیں میں لکھتا جاتا اس طرح بہت ساری غلطیاں ہوتیں اور بار بار لکھے ہوئے کو کاٹنا پڑتا کیوں کہ ان کے جملوں اور الفاظ میں کوئی ربط نہیں رہتا تھا۔ بعد میں انکی بات کو جیسے جیسے وہ بیان کرتیں رف کاغذ پر لکھ لیتا پھر اپنے حساب سے الفاظ اور جملوں کو ترتیب دیکرلکھ دیتا۔ پھر ایسا بھی ہونے لگا کہ انکے جذبات اور خیالات کو سن کر اپنے لفظوں میں لکھ دیتا جب میرا لکھا ہوا خط کہیں جاتا تو جوابی خط میں اس کی تعریف ہوتی ظاہر ہے پھر مجھے ہی پڑھنے کے لئے بلایا جاتا بچپن میں اپنی تعریف سن کر بہت اچھا لگتا تھا اور مزید بہتر لکھنے کا شوق پیدا ہوتا اس طرح ہمسایوں کی مدد کے طور پر لکھنے کی شروعات ہوئی۔ اس کے علاوہ دوران طالب علمی لمبے جوابات یاد کرنا میرے لئے بڑا مشکل کام تھا میں لمبے مظامین کبھی یاد نہیں کر پایا درجہ ششم میں اردو اور ہندی میں کم از کم 150 الفاظ کے مضامین لکھنے ہوتے تھے پھر درجات بڑھنے کے ساتھ مضمون کی طوالت بھی زیادہ ہوتی گئی انھیں میں بنا یاد کئے خود سے لکھتا تھا ہمارا اسکول، ریل کا سفر، میلہ، ہولی ، کسان، استاد وغیرہ پر مضامین ہوتے تھے ان مضامین میں میں اپنے تجربات اور احساست کو جملوں میں بیان کر دیتا تھا اور اچھے نمبرات حاصل کر لیتا تھا۔  پھر تعلیمی سلسلہ ختم ہونے اور ملازمت شروع ہونے کے ساتھ ہی لکھنے کا سلسلہ منقطع ہو گیاتھا دہلی سے واپسی کے بعد ایک بار پھر اہل اردو سے قربت کا موقع ملا نوجوان شعراء کو سن کر خیال آیا کہ جب دوسرے اشعار کہہ سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں ۔؟پہلی کوشش کی اور1994 میں ایک غزل لکھ کرپروفیسر ڈاکٹر ارشد کریمی صاحب کے پاس لے گیا جو ایک پی جی کالج میں صدر شعبہ اردو اور ایک اچھے شاعر تھے انھوں ایک نظر دیکھا اور بڑی بے رحمی سے کاٹ دیا یقین جانیں جب وہ اپنے قلم سے کراس بنا رہے تھے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے دل پر چھری چلائی جا رہی ہے لیکن ڈاکٹر صاحب نے بڑی سنجیدگی اور شفقت سے مجھے سمجھایا اور حوصلہ دیا کہ میرے اندر صلاحیت ہے صرف قواعد کی لا علمی کی وجہ سے غلطی ہوئی ہے میں وہاں سے خوش ہوکر عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھا اور دو یا تین روز کے بعد ایک غزل لکھ کر ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوااس بار بہت خوش ہوئے اور میرا حوصلہ بڑھایا انھوں نے کچھ اصلاحات کے بعد میری پہلی غزل کو سند عطا کی نیز ہدایت دی کہ اسے اخبار کے دفتر میں پوسٹ کر دوںان کے مشورے کو میں نے حکم مانتے ہوئے عمل کیا اور جلد ہی وہ دن آیا میری پہلی ہی غزل اردوروز نامہ ’آواز ملک‘ میں شائع ہوئی جس کا مطلع یوں تھا:


 ’’ہاتھوں میں ظالموں کے ہے تلوار دیکھنا ٭ پھر زندگی پہ ہونہ کوئی وار دیکھنا۔‘‘
 اس کے بعد غزل لکھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ڈاکٹر صاحب کی رہنمائی ملتی رہی اپنا آبائی قصبہ چھوڑ کر 1999 میں مئو ناتھ بھنجن منتقل ہونے بعد بھی غزلوں کی اصلاح کرانے میں ڈاکٹر صاحب کے پاس جایا کرتا تھا لیکن اسی دوران میرے محسن دوست اور استاد ڈاکٹر ارشد کریمی صاحب اپنی ملازمت کے دوران ہی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ پھر مجھے اپنے ہی شہر میں ایک سینیر صحافی، انشا پرداز اور بہترین شاعر امیر حمزہ اعظمی صاحب کی سرپرستی میسر ہوئی جو آج تک برقرار ہے اور ان سے مجھے بڑا حوصلہ ملتا ہے۔


    عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی نئی جگہ خاص طور سے چھوٹے قصبہ یا گائوں سے آکر شہر میں آباد ہونے پر کافی عرصہ تک اجنبیت کا احساس ہوتا ہے لیکن میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا ایک تو اس شہر میں میں نے تعلیم حاصل کی تھی  اور اس کے بعد بھی برا بر آنا جانا رہتا تھا۔ یہاں آباد ہونے پر میری ملاقات ایک تعلیم دوست اور فعال شخصیت طرفدار ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ کے بانی و سیکریٹری اورا سکالر پبلک اسکول کے منیجر محمد اویس طرفدار سے ہوئی انھوں نے پتہ نہیں میرے اندر کیا دیکھا کہ میرے مداحبن گئے اور میری بہت پذیرائی کی ان سے مجھے بڑا حوصلہ ملا۔ ان کے بعد سر اقبال پبلک اسکول کے منیجر حاجی ٖفیاض احمد، عالیہ گرلس انٹر کالج کے منیجر علاء الدین انصاری صاحب، علم دوست، سماجی کارکن، الفارق چیریٹیبل سوسائٹی کے بانی و سیکریٹری، الفاروق ماڈل اسکول کے منیجر اور شہر کے چیرمین ارشد جمال صاحب، سابق ایم ایل اے اورہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن کامریڈ امتیاز احمد صاحب، علمی سرگرمی سے جڑے شہاب الدین انجینئر صاحب، عشرت کمال ایڈوکیٹ صاحب وغیرہ نے اپنی محبتوں اور رفاقت سے نوازا ان لوگوں کے طفیل جلد ہی مجھے شہر میں ایک پہچان مل گئی اور مجھے زبردست حوصلہ عطا ہوا۔  میں نے2000 ؁ء سے اردو روزنامہ میں مراسلہ لکھنا شروع کیا میرے لئے خوشی اور حوصلہ کی بات تھی کہ میں جو بھی مراسلہ پوسٹ کرتا وہ شائع ہوتا تھا  اس سے حوصلہ پا کر حالات حاضرہ پر پھر مظامین لکھنے لگا اور جو بھی مضمون کسی اخبار میں ارسال کیا وہ ضرور شائع ہوا۔ یہ سلسلہ اب تک برقرار ہے کوئی بھی موجودہ موضوع ہوتا ہے تو ذہن و دل میں عجیب سی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور جب تک اپنے خیالات اور جذبات کو لفظی شکل نہیں دے لیتا سکون نہیں ملتا۔ میں غزل کہتا ضرور ہوں لیکن غزلوں سے زیادہ مضامین کو ترجیح دیتا ہو کیوں کہ میں کسی مشاعرے میں بحیثیت شاعر شرکت نہیں کرتا صرف شعری نشستوں تک ہی محدود ہوں اور میں شعری بزم سے منسلک بھی ہوں بزم شعرو ادب مئو ناتھ بھنجن کا گذشتہ تقریباً آٹھ سالوں سے جنرلسکریٹری کی ذمہ داری میرے سر ہے ۔ جبکہ اخبارات میں شائع مضامین کے ذریعہ میں اپنے جذبات اور خیالات عوام تک پہونچانے کوشش کرتا ہوں۔ آخر میں مختصراً عرض کردوں کہ آج میں جس مقام پر بھی ہوں والدین کی بدولت ہوں خصوصاً میری والدہ کو اللہ تعالی جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے انھوں نے میری تربیت اس انداز سے کی کہ میرے اندر تعلیم سے دلچسپی اور خدمت خلق کا جذبہ، معاشرہ کے لئے فکر پیدا ہوئی اور انھی خیالات کا اظہار میرے اشعار اور مضامین میں ہوتا ہے۔ میری کوئی بہت بڑی تعلیمی لیاقت نہیں بس میری تحریر اور تخلیق کو عوام میں پسند کیا جاتا ہے میرے لئے یہی کافی ہے۔ ورنہ میری اردو کی تعلیم بہت مختصر ہے صرف درجہ پنجم تک میں نے اردو کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے اس کے بعد ذریعہ تعلیم ہندی ہو گیا اور اردو مضمون داخل نصاب بھی نہیں تھا۔ ادیب کامل اور معلم کی ڈگریاں میں ذاتی مطالعہ کی بدولت حاصل کیا۔ کبھی کبھی میں سنجیدگی سے غور کرتا ہوں کہ میرے اندر ایسی صلاحیت کہاں سے آئی جو لوگوں کو پسند آئے تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا سوائے اس کے کہ یہ خدا داد صلاحیت ہے جو والدین خصوصاً ماں کی تربیت سے نکھری اور  اہل علم حضرات کی رفاقت اور پذیرائی کی بدولت پروان چڑھی ۔


****************************

 

 

 

   

 

 
You are Visitor Number : 5455