donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Azad Gurdaspuri
Poet/Writer
--: Biography of Azad Gurdaspuri :--

 

 آزاد گرداس پوری 
نام :مہندر سنگھ
قلمی نام:آزادگرد اس پوری
والد کا نام: سردار جھنڈارسنگھ
تعلیم: بی اے بی ای
اعزازات وانعامات: رباب سخن، مجموعہ کلام، پر محکمہ السنہ پنچاب سے اور غالب کلچرل ایسوسی ایشن بنگلور سے ایوارڈ ز ۱۹۸۸ء میں ملے۔ 
ملازمت: سائیٹ انجینئر
پہلا افسانہ محبت کے مزار پر، ماہنامہ پگڈنڈی ،امرتسر جنوری ۱۹۵۴ء
رسائل وغیرہ میں چھپنے والے افسانوں کی تعداد اوررسائل :تقریبا ایک سوپچاس افسانے ادیب لطیف لاہور، پاسبان ہریانہ بیسویں صدی دہلی ، آج کل ، دہلی، شمع ، دہلی اور ،افکار، وغیرہ میں شائع ہوچکے ہیں۔
دیگر تصانیف اور مضامین وغیرہ:پنجابی میں کچھ کہانیاں لکھی ہیں۔انگریزی کی چند کہانیوں کا ترجمہ کیا ہے۔ ارباب سخن،کے نام سے ایک شعری مجموعہ منظر عام پر آچکا ہے۔ 
مستقل پتہ: کوارٹر نمبر۴، بلاک نمبر ۵۲؍۲ روڈ نمبر ۱۷ اوتیہ پور، جمشیدپور۔
آزاد گرداس پوری بہار کے پرانے لکھنے والوں میں سے ایک ہیں یہ ۱۹۵۳ء ہی سے افسانہ نگاری کررہے ہیں لیکن چند اسباب کی بنا پر ان کا کوئی افسانوی مجموعہ منظر عام پر نہ آسکا ہند وپاک کے معیار ی پرچوں میں ان کی کہانیاں شائع ہوتی رہی ہیں۔ 
ہندوستان کے خصوصیت سے بہار کے بہت سے افسانہ نگاروں کی طرح وہ جدیدیت کے نام پر نئے نئے تجربے کر نے کی کوشش کبھی نہیں کرتے انہوں نے ہمیشہ روایتی انداز کی کہانیاں لکھی ہیں، پلاٹ، کردار اور مکالمہ نگاری کو وہ افسانے میں ضرور ی سمجھتے ہیں کہانی پن سے کبھی انہوں نے انحراف نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ قارئین ان کے افسانوں کو کافی پسند کرتے ہیں، ان کے افسانوں میں سماجی برائیوں کو دور کرنے کی تلقین کی گئی ہے انہوں نے ہمیشہ سماجی خرابیوں پر نظر رکھ کر افسانے تخلیق کئے ہیں ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کو جو کچھ کہنا ہوتا ہے وہ بے لاگ اور بے دھڑک کہہ ڈالتے ہیں کبھی کبھی لوگوں کو ان کی یہ بے باکی گراں بھی گزرتی ہے لیکن وہ اس بات کی پروانہیں کرتے،انہوں نے خود فرمایا ہے۔ میں نے ہمیشہ ان برائیوں کو سامنے رکھ کر افسانوں کو تخلیق کیا۔ہے جنہیں دور کر نے کی از بس ضرورت ہے میں نے ہمیشہ دور حاضر کی خامیوں کی اصلاح کی غرض کو مد نظر رکھ کر افسانے لکھے ہیں جنہیں پسند بھی کیا گیا اور ناپسند بھی مگر میری نزدیک کسی کے رد وقبول سے کیا فرق پڑتا ہے مجھے جو کہنا ہے بے لاگ دبے دھڑک کہوں گا۔ زبان وبیان کے لحاظ سے بھی یہ قابل تعریف ہیں دودھ کی بوندیں پاچھو، نقل نویس، رنگ وبو اور ہائے میں مرجائوں ،وغیرہ ان کی اچھی کہانیاں ہیں، ان افسانوں سے ان کی اعلیٰ افنکاری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
++++
 
 
You are Visitor Number : 1483