donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Bashir Ahmad
Writer
--: Biography of Bashir Ahmad :--

Bashir Ahmad

 

بشیر احمد
 
بشیر احمد بہار کے جانے پہچانے افسانہ نگار ہیں ان کی نگار شات ۱۹۵۹ء سے ہندو پاک کے مختلف رسائل کی زینت بن رہی ہیں صحافی کی حیثیت سے بھی انہوں نے ایک نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے جہاں تک افسانے کاسوال ہے تو انہوں نے ہر طرح کے افسانے لکھے ہیں روایتی بھی اور جدید بھی کچھ افسانے تجربہ کا شکار ہوگئی ہیں، لیکن کچھ ہی کہانیوں پر یہ بات صادق آتی ہے ان کی بعض کہانیاں بہت ہی اچھی قراردی جاسکتی ہیں، انہوں نے نوابوں اور زمیندار وں کے حالات پر بھی بہت سی کہانیاں لکھی ہیں اپنی رعایا کے ساتھ ان کا کیا تعلق تھا اسے آگ جو بجھ نہ سکی، میں دیکھا جاسکتا ہے۔ شاہ بلوط میں نوابوں کی ان اذیت ناک زندگی کی طرف اشارہ کیا ہے جو شاہ بلوط میں نوابوں کی ان اذیت ناک زندگی کی طرف اشارہ کیا ہے جو حالات کے ستم ظریفی کے شکار ہوئے اور بعد میں انہیں پھانسی سے لٹک جانا پڑا شبیر صاحب نے اپنی بعض کہانیوں میں دیہاتی زندگی کی بھی عکاسی کی ہے اور کرداروں کی زبان بھی ٹھیک اس کے مطابق پیش کی ہے جس کی وجہ سے ایسے کچھ افسانوں کی قدروقیمت بڑھ گئی ہے ان کی کچھ کہانیوں پر رومانی کہانی ہونے کا گمان ہوتا ہے نامکمل دائرہ اور اپنی جنت کا خیال، ایسی ہی کہانیاں ہیں ان میں رومانی انداز بیان پیش کر کے ان کے تاثر کو ہر جگہ قائم رکھاگیا ہے جن کہانیوں میں روایتی انداز کو اپنا یا گیا ہے اور پلاٹ کردار اور مکالمے وغیرہ کا لحاظ رکھا گیا ہے وہ کہانی بہت کا میاب قراردی جاسکتی ہیں عام طور پر شبیر صاحب اپنے افسانوں میں اپنے ہی جذبات وخیالات کی ترجمانی کرتے ہیں ظاہرہے دل پر گزری ہوئی بات دل پر اثر کرے گی ان میں اثر آفرینی کاپایاجانا ناگریز ہے۔ ان کی علامتی کہانیاں ایک دریا پیاس کے صحرا میں روشنی کے شہر میں اور مثلث سے بھاگتے راوئے وغیرہ ہیں ان کا شمار کسی خاص مصلحت کی وجہ سے اچھی کہانیوں میں کرلیا جائے تو الگ بات ہے ورنہ ایسی کہانیاں قارئین سے اپنا رشتہ قائم نہیں رکھ سکتیں۔ اسلوب کاجہاں تک سوال ہے تو شبیر صاحب کو اس معاملے میں ایک کہنہ مشق نثر نگار کہاجائے گا چونکہ ان کا تعلق صحافت سے بھی ہے اس لئے ان کا اندازبیان اور ان کی طرزتحریر قاری کو اپنی طرف مخاطب کرنے کیلئے ایک اہم رول ادا کرتی ہے وہ عام فہم جملے سادہ اور سلیس فقرے استعمال کرتے ہیں وہ کچھ سوچتے سوچتے چونک پڑا اور پھر فیرا روادی طور پر اس کے ساتھ چل پڑا بچی اپنے چھوٹے چھوٹے پائوں سے تیز تیز چل رہی تھی اس کا پھدک پھدک کر چلنا مسعود کو بہت پیارا لگ رہاتھا۔ ’’گرہ ناخن گرہ‘‘
روشنی کے شہر میں چھوٹی بیگم، چوردروازہ ، ہوبہو، سرحدوں کا سفر، وغیرہ ان کی اچھی کہانیاں ہیں امید ہے مستقبل میں وہ اردو افسانہ نگاری کے دامن کو اور بھی وسیع کریں گے ان کا سوانحی خاکہ اس طرح ہے۔والد کا نام عبدالودود ،مرحوم، تاریخ پیدائش ۰۳؍مارچ ۱۹۳۸ء تعلیم ایم اے، پی ایچ ڈی، ڈپ ان ٹی، ملازمت درس وتدریس صحافت شائع شدہ افسانوں کی تعداد ستر افسانوی مجموعے دو اعتراف ۱۹۷۱؍ کل ۱۹افسانے ،ہوبہو، ۱۹۸۶، کل ۸۱ افسانے، افسانوں کے علاوہ ان کے بہت سے سیاسی ادبی مضامین اور تبصرے شائع ہوچکے ہیں بہار اردو اکادمی دونوں افسانوی مجموعے پر انعامات سے نوازچکی ہے۔
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
++++
 
 
You are Visitor Number : 1484