donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Ejaz Shaheen
Writer
--: Biography of Ejaz Shaheen :--

 

 اعجاز شاہین 
نام: اعجاز فاطمہ
قلمی نام: اعجاز شاہین
والد کا نام: محمد خلیل
تاریخ ولادت: ۷؍جنوری،۱۹۴۰ء
تعلیم: ایم اے ،بی ایڈ
ملازمت : پرنسپل اردو گرلزاسکول پٹنہ 
افسانہ نگاری کا آغاز: بارہ چودہ سال کی عمر ہی سے افسانے لکھ رہے ہیں ان کی زیادہ تر کہانیاں ’’بانو‘‘ دہلی اور ،زبان وادب، پٹنہ میں چھپی ہیں کچھ کہانیاں پٹنہ ریڈیو اسٹیشن سے نشر بھی ہوئی ہیں۔
افسانوی مجموعہ: دو،۱۔تصور اور تصویر،۲۔ ۱۹۷۵ء،۲۔یہ ادیاں،۱۹۸۳ء
اعزازوانعامات:بہار اردو اکادمی نے دونوں افسانوی مجموعے کوانعامات سے نوازا ہے۔
مستقل پتہ: ایوب اردو گرلس ہائی اسکول ،لال باغ ،مہندرو، پٹنہ۔
اعجاز شاہین کی کہانیوں کے  پلاٹ سیدھے سادے ہوتے ہیں ان میںکوئی الجھائو  نہیں ہوتا موقع محل کو دیکھتے ہوئے وہ استعاراتی زبان بھی لکھتی ہیں لیکن عام طور پر ان کی زبان صاف ستھری ہوتی ہے زبان ومکان کی پابندیوں کے ساتھ ساتھ وہ طنز کے تیرسے بھی کام لیتی ہیں چھوٹے چھوٹے جملوں کے استعمال کی وجہ سے ان کا اسلوب اور طرازاظہار پرکشش ہوجاتا ہے۔ اعجاز شاہین عام طور پر اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے چھوٹے چھوٹے ان واقعات کو پیش کرتی ہیں جو بعض اوقات لا پرواہی اور غفلت کی وجہ سے خطرناک اور بڑے واقعات میں تبدیل ہو جاتے ہیں جن کی تلافی ناممکن نہیں تو محال ضرور ہو جاتی ہے ان کے فن میں سچائی کافنکار انہ اظہار ملتا ہے وہ اپنے مشاہدات اور عملی زندگی پر پورا یقین رکھتی ہیں کہاجاتا ہے کہ ان کا فن خود ان کی اپنی زندگی کا آئینہ ہے اعجاز شاہین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں جس طرح اعتدال اور توازن ہے اسی طرح ان کے فن میں بھی توازن اور اعتدال ہے یہی وجہ ہے  کہ خواتین افسانہ نگاروں میں ان کو ممتاز حیثیت حاصل ہے وہ عام طور پر عورتوں کی نفسیات اور ان کے مسائل کی ترجمانی  کرتی ہیں، اس لئے انہیں عورت پرست بھی کہا جاتا ہے عورتوں کی مجبوری بے بسی اور مظلومیت کو انہوں نے بڑے سلیقے سے پیش کیا ہے عورت ہونے کی وجہ سے وہ عورتوں کے مسائل کو اچھی طرح محسوس کرتی ہیں اور ان کی کروازنگاری میں کامیاب ہوتی ہیں انہوں نے خود ہی لکھا ہے۔میرے اکثر افسانوں کا موضوع بے بس مظلوم عورت ہے۔
میرے دل میں عورت کا درد ہے میں نے تڑپتی سسکتی عورت کو دیکھا ہے اور ان مردوں کو بھی جو عورتوں کا فن دبائے بیٹھے ہیں ،بیچاری عورت جو سراپا ایثار ووفاہے اکثر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اس نے اپنا حق پالیا۔ 
یہ سچ ہے کہ ہمارے سماج میں آج ایک عورت بڑی حد تک محکوم زندگی گزاررہی ہے ڈاکٹر احمد حسین آزاد صاحب نے کتنا صحیح فرمایا ہے ۔اعجاز شاہین کی کہانیوں میں بھر پور عصری حیثیت اور تقاضے کا التزام نہ سہی لیکن ان کی کہانیاں ہماری معاشرتی زندگی کے جن پہلوئوں پر روشنی ڈالتی ہیں ان کی صد اقت ہے ہم انکار نہیں کرسکتے۔
اعجاز شاہین کے افسانوں میں بیانیہ انداز ہر جگہ موجود ہے انہوں نے کہا نی پن سے کبھی انحراف نہیں کیا شاید اس لئے ڈاکٹر عبدالمغنی صاحب نے کہا ہے کہ اس قسم کے افسانوں سے عصر حاضر کی اردو افسانہ نگاری کا بھرم قائم ہے ان افسانوں کو پڑھ کر اہل ذوق یقیناًخوش وقت اور شاد کام ہوں گے۔ اعجاز شاہین صاحبہ اس سادگی اور پر کاری سے اپنے دل کی بات کہہ جاتی ہیں کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا، ان کا انداز بیان پرکشش اور دلکش ہوتا ہے جس کی وجہ سے قاری کے دل ودماغ پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
اپنی روحی !ایک بار پھر دل چاہ رہا ہے تمہیں بے بی کہہ کر چھیڑدوں اور سچی بات ہے کہ تم ابھی بے بی ہو، بات بات پر مچل جانے والی ضدی بچی جسے ہر کوئی چاہتا ہے مگر جس کو ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ مجھے کوئی نہیں چاہتا۔’’دوبوند آنسو‘‘
’’دردلادوا‘‘تصور اور تصویر‘‘دوبوند آنسو‘‘کچی کلی‘‘ زخم‘‘ اور’’شیشہ کی دیوار‘‘ وغیرہ ان کی بہتر ین کہانیاں ہیں۔؎
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
++++
 
 
You are Visitor Number : 1917