donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Fakhruddin Arfi
Writer
--: Biography of Fakhruddin Arfi :--

Fakhruddin Arfi

 

فخرالدین عارفی
 
دور حاضر میں فخر الدین عارفی ایک جانا پہچانا نام ہے، ان کی پیدائش 29 جنوری 1954ء کو محمد پور شاہ گنج پٹنہ میں ہوئی ان کے والد کا نام سید اظہار الحسن ہے جو سادات خاندان سے تعلق رکھتے ہیں عارفی صاحب فاضل فارسی، ڈپ ان ایڈ اور ایم اے ہیں، ۱۹۶۹ء سے افسانے لکھ رہے ہیں اب تک ان کی بہت سی کہانیاں ہندو پاک کے بہت سے رسائل میں شائع ہوچکی ہیں 1984۰ء میں ان کا ایک مجموعہ سلگتے خیموں کا شہر منظر عام پر آیا ہے اس میں تیرہ افسانے ہیں، فخر الدین عارفی صاحب کا تعلق گورنمنٹ انٹر کالج منیرپٹنہ سے ہے، وہ درس وتدریس کا کام انجام دیتے ہیں لیکن موقع نکال کر ادب کی خدمت کرتے رہتے ہیں وہ نہ صرف کہانیاں لکھتے ہیں بلکہ ماہنامہ مریخ ، پٹنہ کے معاون مدیر بھی ہیں، اس سے پہلے وہ کئی ہفتہ وار اخبارات کی ادارات کی ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں۔ ان کی کئی کہانیوں کے ترجمے ہندی میں بھی ہوچکے ہیں، دور حاضر کے افسانوں کے متعلق ان کا خیال ہے کہ افسانوں میں تو ازن کی ایک کیفیت پیدا ہو رہی ہے جو نام نہاد جدیدیت اور ترقی پسند ادب سے انحراف ہے دور حاضر کے افسانوں کاتعلق موجود ہ دور اور آج کے مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ آج کا افسانہ نگار جن خیالات میں جی رہا ہے ان کا سچا عکس وہ اپنے افسانوں میں پیش کرنے کی شعوری کوشش کر رہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ فخرالدین عارفی جدید دور سےتعلق رکھتے ہوئے بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں ہاں ان کے بعض افسانے علامتی بھول بھلیوں میں ضرور ڈال دیتے ہیں لیکن مفہوم ایسا مبہم بھی نہیں ہوتا کہ سرپکڑ کر بیٹھ جانا پڑے، وہ شاعرانہ اسلوب استعمال نہیں کرتے ہیں ان کی زبان صاف ستھری اور سیدھی سادی ہوتی ہے ڈاکٹر عبدالمغنی صاحب فرماتے ہیں۔فخرالدین عارفی ایک جدید افسانہ نگار ہیں اور بالعموم فلسفیانہ قسم کے ایسے افسانے لکھتے ہیں جن میں وہ ماجرا سازی اور کردار نگاری سے زیادہ زور انشاپردازی اور اظہار احساسات پر دیتے ہیں اس سلسلے میں ان کی ایک خوبی ان کے افسانوں میں پائی جاتی ہے وہ یہ کہ آج بہتر نوجوان افسانہ نگاروں کے برخلاف فخرالدین عارفی صحیح صاف اور خوبصورت زبان لکھتے ہیں اور اگر ان کے شعور کی روپڑھنے والے کی گرفت میں آجائے تو وہ واضح طور پر ان کی بات سمجھ جائے گا۔ فخر الدین عارفی صاحب کی کچھ کہانیاں ایسی بھی ہیں جن میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ قصہ گوئی اور کردار نگاری کے نمونے پیش کئے گئے ہیں ایک طوفان اور تاریک راہوں کے مسافر، ہم سفر، اور دیوار، وغیرہ ایسی ہی کہانیاں ہیں جن میں ماجراسازی ہے اور اسے عام قاری بھی سمجھ سکتے ہیں ان کی نمائندہ کہانیوں میں سلگتے خیموں کا شہر، سفر راستے اور بند آنکھوں کی کہانی وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ اس طرح فخر الدین عارفی نے افسانہ نگاری کے میدان میں جس تیزی سے قدم رکھا ہے اگر وہ ثابت قدم رہے تو جلد ہی افسانوی دنیا میں اپنا ایک الگ مقام بنالیں گے۔
 
++++
 
 
You are Visitor Number : 9331