donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Gurbachan Singh
Writer
--: Biography of Gurbachan Singh :--

Gurbachan Singh                              گربچن سنگھ

 

 

نام: گربچن سنگھ
تاریخ ولادت: اسیر سنگھ ’’مرحوم‘‘
مستقل پتہ :  /A پنجابی لائن جمشیدپور9
تعلیم: بی اے۔
اعزازات وانعامات: اردوا ادبی خدمات کے سلسلے میں بہار اردو، اکادمی نے اعزازد یا۔ بنگالی اور بہار
اردو اکادمی نے کتابوں پر انعامات دیئے۔ ہندی میں چار مختلف اداروں سے انعامات اور سندیں ملی ہیں۔
پنجابی کی طرف سے بھی ایک انعام ملا ہے۔ 
ملازمت: نوکری سے ریٹائر، ٹاٹاکمپنی میں اڈیٹر
پہلا افسانہ:’’ساقی‘‘ دہلی افسانہ نمبر۱۹۴۵ء میں شائع ہوا۔
افسانوی مجموعوں کی تعداد:تقریباڈیڑھ سو افسانے شائع ہوچکے ہیں۔
رسائل کے نام جن میں افسانے چھپے: صبح نو، پٹنہ، شمع ، دہلی، بیسویں ،صدی ، دہلی، زبان وادب ، پٹنہ ، افکار، بھوپال ،ادب لطیف ، لاہور وغیرہ۔ 
افسانوی مجموعے: دو،۱۔ بھوکا سورج ۱۹۸۲ء،۲۔ببلو کے پاپا ۱۹۸۶ء۔
دیگر تصانیف اور مضامین وغیرہ: ہندی کے چار افسانوی مجموعے اور تین ناول شائع ہوچکے ہیں۔ پنجابی میں کچھ کہانیاں اور اردو میں کچھ رپورتاژ شائع ہوئے ہیں۔
گربچن سنگھ افسانہ نگاری کے دوسرے دور سے لکھ رہے ہیں اور آج تک ویسے ہی لکھتے جارہے ہیں، یعنی ان کے لکھنے کی رفتار ابھی تک گھٹی نہیں ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آج تک وہ کسی نئی رویا کسی تحریک میں بیشتر افسانہ نگاروں کی طرح بہے نہیں ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنی جگہ قائم رہے اور افسانہ کو افسانہ ہی سے باندھے رہے ۔
گربچن سنگھ کارچاہوا شعور ان کے افسانوں کو ارتقا کی طرف موڑ چکا ہے ان کا مشاہدہ سرسری نہیں ہے اور نہ ہی ان کے تجربے میں نقص ہے وہ دور رس اور اندر گہرائی میں اتر جانے والی نظر رکھتے ہیں۔ انہیں زندگی سے پیار ہے اور اسے سنوار نے کی تڑپ اپنے اچھوتے اندراز بیان کے ذریعہ قاری کے دل کی دھڑکنوں اتر جاتے ہیں ۔ گربچن سنگھ کے دونوں افسانوی مجموعے کافی مقبول ہوچکے ہیں پہلے مجموعہ میں معصوم جذبات کی ترجمانی ہے درد وکر ب کار چائو ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں کے بارے میں لکھاہے۔
میرے افسانوں کو مجموعی طور پر تین حصوں میں بانٹا جاسکتاہے،۱۔عام زندگی کی کہانی،۲۔ مزدور ماحول کی کہانی جہاں میں نے آنکھیں کھولیں،۳۔ آدیباسی ماحول کی کہانی جو میرے آس پاس ہیں۔ میں تعمیری نقطہ نگاہ رکھتے ہوئے حقیقت پسندی کا قائل ہوں، مجھے قدرتی خوبصورتی جیسے جنگل، پھول اور پتے جتنے پیارے ہیں اتنے ہی کارخانے کی چمنیاں اور ان کے منہ سے نکلنے والا دھواں بھی اپنی طرف راغب کرتاہے۔
دور حاضر کے افسانوں یعنی جدید افسانوں کے متعلق ان کا خیال ہے کہ علامتی اور استعاراتی افسانوں نے اردو افسانوں کو بہت پیچھے پھینک دیا ہے بنگلہ ہندی، پنجابی، اڑیہ وغیرہ اور کئی زبانوں میں ایسی کوئی تحریک نہیں چل رہی ہے نہ وہ اس کی ضرورت محسوس کررہے ہیں، ہوائی اڑان میں اردو افسانہ پیچھے چل رہا ہے، اردو کے بیشتر افسانہ نگار زندگی سے دور جارہے ہیں، افسانوں میں اپیل کی کمی ہے مواد کی کمی ہے، گربچن سنگھ کے کردار جیتے جاگتے اور ہمارے قریب تر ہوتے ہیں شاعرکے مدیر نے لکھا ہے: گر بچن سنگھ کی جذباتیت سستی اور ہلکی قسم کی نہیں بلکہ ایک دردمسند دل کے افکار پریشان ہیں ،اس لئے اس کے افسانوں کے کردار ہمارے دل ودماغ پر چھا جاتے ہیں، 
گر بچن سنگھ کی زبان عام فہم ہوتی ہے جسے ہر کوئی آسانی سے سمجھ سکتا ہے اسلوب اور انداز بیان دلکش اور جملے سجے سجائے معلوم ہوتے ہیں۔چند لمحے میں اس طرف دیکھتا رہا چادر سر کی ہوئی تھی اور بپا آنکھیں موندیں سورہے تھے، یوں لگا اچانک ہی ان کی نیند ٹوٹ جائے گی اور وہ کھلی ہوئی افسردہ نگاہوں سے میری طرف دیکھیں گے ان کے چہرے پر چھائی ہوئی مایوسی اور درد کے نشان اور گہرے ہوجائیں گے۔
’’چادر‘‘
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
 
 
You are Visitor Number : 1949