donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Hafeez Jullundhary
Poet/Writer
--: Biography of Hafeez Jullundhary :--

 

Abu-Al-Asar  Hafeez Jalandhuri writer, poet and above all composer of the National Anthem of Pakistan. He was born in Jalandhar, Punjab, India on January 14, 1900. After independence of Pakistan in 1947, Hafeez Jullundhri moved to Lahore. Hafeez made up for the lack of formal education with self-study but he has the privilege to have some advise from the great Persian poet Maulana Ghulam Qadir Bilgrami. His dedication, hard work and advise from such a learned person carved his place in poetic pantheon.

Hafeez Jullandhuri actively participated in Pakistan Movement and used his writings to propagate for the cause of Pakistan. In early 1948, he joined the forces for the freedom of Kashmir and got wounded. Hafeez Jalandhari wrote the Kashmiri Anthem, "Watan Hamara Azad Kashmir". He wrote many patriotic songs during Pakistan, India war in 1965.
Hafeez Jullandhuri served as Director General of morals in Pakistan Armed Forces, and very prominent position as adviser to the President, Field Marshal Mohammad Ayub Khan and also Director of Writer's Guild.
Hafeez was born in Jalandhar, India. His father was Shams-ud-din who was Hafiz-e-Qur'an. He firstly studied in mosque and then got admission in some local school. He got education up to seventh class. He got no more formal education.
Long before Hafeez Jullundhri's lyrics were adopted as the national anthem in 1950s, Pakistan had an anthem written by Jagannath Azad, son of Lahore-based poet Tilok Chand Mahroom. Azad was commissioned by Jinnah to write the anthem three days before the creation of Pakistan in 1947.

Azad's lyrics - "Ae sarzameene paak/Zarray teray haen aaj sitaaron se taabnaak/ Roshan hai kehkashaan se kaheen aaj teri khaak/Ae sarzameene paak" (Oh land of Pakistan, the stars themselves illuminate each particle of yours/rainbows brighten your very dust) - were replaced six months after Jinnah's death in September 1948. The National Anthem Committee chose Hafeez Jullundhri's poem from among 723 submissions.
He first married in 1917, when he was seventeen years old. His first wife was his cousin "Zeenat Begum". They altogether had seven children, all of them girls and no boys. In 1939 he married for the second time with a young English woman and had one girl with her. This marriage ended in a divorce. His first wife died in 1954. In 1955 he married with Khurshid Begum. The third relation also gifted him one girl.
In 1922 - 1929 he remained the editor of a few monthly magazines namely, "Nonehal", "Hazar Dastaan", "Teehzeeb-e-Niswan", "Makhzin". His first collection of poems Nagma-e-Zar[3] was published in 1935. After the World War II, he worked as the director of the Song Publicity Department. During this same time he wrote songs that were much liked by the public.
He died on December 21, 1982 at the age of eighty two years. He was buried in Model Town, Lahore but later on his dead body was re-buried in the tomb near Minar-e-Pakistan.

For his literary and patriotic services he was awarded with the most prestigious awards of Hilal-e-Imtiaz and Pride of Performance.

A patriotic poetic song of Watan hamara Kashmir, is considered to be the official regional State anthem or State song for Azad Jammu and Kashmir, it was written in the mid-1960's, which was inspired by the conflict of Indo-Pak war II. The first few lines are official recognised by the Kashmiris in Muzaffarabad.

 

 حفیظ جالندھری 

خودنوشت
 
میراخاندان تقریباً ۲۰۰( دو سو) برس پیشتر چوہان راجپوت کہلاتا تھا، میرے بزرگ ہندو سے مسلمان ہو گئے اور پاداش میں اپنی املاک وغیرہ کھو بیٹھے۔ البتہ سورج بنسی ہونے کا غرور مسلمان ہونے کے باوجود ساتھ رہا ۔ میری ذات تک پہنچا اور ختم ہو گیا۔
 
میں ننھا سا تھا جب مجھے محلے کی قدیم مسجد میں داخل کیا گیا۔ میں یقینا اس زمانے میں ذہین لڑکوں میں شمار ہوتا تھا کیوں کہ میں نے چھ برس ہی میں ناظرہ قرآن شریف پڑھ لیا تھا۔ بہت سے سورے زبانی یاد کر لئے تھے اور کریما و ماقیماں رٹ لیں۔
 
 اس سے آگے میں مسجد میں نہ چل سکا۔ جس کے وجوہ کثیر ہیں اخلاقی بھی ۔ مادی بھی۔ اب مجھے مشن اسکول میں داخل کیا گیا۔ وہاں سے میں دوسرے درجے سے بھاگ نکلا۔ سرکاری مدرسے میں داخل ہوا۔ چوتھی جماعت میں وہاں سے بھاگا۔ آریہ اسکول میں داخل ہوا۔ پھر مشن اسکول میں لے جایا گیا ۔ لیکن حساب سے میری جان جاتی تھی ۔ آخر پٹنے پر بھاگنا غالب آیا۔ اور میں ہمیشہ کے لئے بھاگ نکلا۔
 
 شعر گوئی یوں تو میری عمر کے ساتویں برس ہی میں شروع ہو گئی تھی۔ لیکن اس مرض کا باقاعدہ حملہ گیارہ سال کی عمر میں ہوا۔ جب میں چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا اور بیماری کا سبب عشق کی گرمی تھی۔ لڑکپن کا یہ عشق بھی عجب چیز تھا۔ اے کاش اس کو میں بیان کر سکتا۔
اس زمانے میں ناول ، افسانے، ڈرامے، شعراء کے دواوین ، تھیٹر ، مشاعرے سب سے دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ میرے گھرانے پر فرشتہ موت سایہ ڈال رہا تھا۔ پانچ بھائی یکے بعد دیگرے نذرِ اجل ہو گئے۔ ایک طرف تو یہ آفت تھی۔ دوسری طرف میں گھر کے لئے ایک مصیبت بن گیا تھا۔ کیوں کہ گھر سے بھاگت وقت جو کچھ ہاتھ لگتا اُڑا لے جاتا۔
 
لوگ کہتے ہیں کہ فن شاعری منحوس ہے اس قول میں صداقت ضرور ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ شعر گوئی ، آوگی ساتھ لاتی ہے تو نحوست کاسبب بھی سمجھ میں آجاتا ہے۔ کم از کم میرے ساتھ تو یہی گذری۔ آوارگی اور شعر گوئی۔ آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے تھے۔
 
 آنکھ اس وقت کھلی جب والدین نے میری شادی کردی۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ میرے گھرانے کی دولت پیدا کرنے والے افراد اجل کے ہاتھوں اور جمع جتھا میرے ہاتھوں سے غائب ہو چکی تھی اور یہ سب کچھ چند ہی برسوں میں ہو گیا تھا۔
 
 اب مجھے ذمہ داریوں کا احساس ہو گیا۔ میرے والد بوڑھے، والدہ علیل، ایک سو تیلا بھائی جس کا خاندان بہت وسیع، آمدنی بہت قلیل، باقی بیوہ بہنیں ، بیوہ بھائوجیں، یتیم بچے بچیاں ۔ یہ سب کچھ تھا لیکن مجھے کام کاج کوئی نہ آتا تھا۔ صرف فارسی کی چند کتابیں اردو شعراء کے چند دواوین ، میرا مبلغ علم اور مبتدیانہ غزل گوئی ، میرا مبلغ فن تھا۔ پنجاب میں اردو شاعری کا رواج تازہ تازہ ہوا تھا اور عوام کو اس سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی۔ البتہ میرے وطن جالندھر کو فارسی زبان کے مسلم الثوبت استاد مولانا گرامی کا جنم بھوم ہونے کی وجہ سے یہ شرف حاصل تھا کہ وہاں باقاعدہ مشاعرے ہوتے تھے اور ان مشاعروں میں شہر اور مضافات کی بستیوں کے شعراء حصہ لیتے تھے۔ اُن میں ایک دو اچھا خاصہ کہتے تھے۔ لیکن ایک بات بہت بڑی تعداد متشاعروں کی تھی۔ حضرت مولانا گرامی اگرچہ دربارِ دکن سے منسلک اور حیدر آباد ہی میں رہتے تھے لیکن وہ جالندھر ے مشاعروں کے لئے فارسی غزل بھیجوا دیا کرتے اور جب کبھی وطن میں تشریف لاتے تو ایک بڑا مشاعرہ ہوتا۔ جس میں وہ اپنا فارسی کلام سناتے تھے۔ ان دنوں جالندھر میں فارسی جاننے والے بہت سے بزرگ موجود تھے۔
 
میں نے سات آٹھ سال کی عمر میں گرامی کو ایک مشاعرے میں شعر پڑھتے سنا تھا۔ اس وقت تو مجھے یہ مجلس مضحکہ خیز سی نظر آئی۔ واہ دا، سبحان اللہ، مکرر ارشاد ہو، و اللہ اعجاز ہے ، واللہ سحر ہے، واللہ جادو ہے، یاداد دینے والوں کا اُچھلنا ، ہاتھوں کا ہلنا، سب کامل کر شور مچانا عجیب مسخرہ پن معلوم ہوتا تھا۔ کیا خبر تھی کہ آخر یہی مسخرہ پن مجھے بھی کرنا پڑے گا۔ اور عمر کا ایک حصہ اسی تماشا گاہ میں گزرے گا۔
 
جب میں نے باقاعدہ غزل گوئی شروع کی تو حسب دستور قدیمی استاد کی ضرورت لاحق ہوئی۔ قریبی بستی میں سرفراز خاں صاحب سرفراز مدرس تھے۔ جیسا کہ اس وقت کہتے تھے۔ ویسا ہی آج بڑھاپے میں بھی کہتے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ اگر ان کا کہا ہوا سب شائع ہو جائے تو اس کا حجم بیس تیس ہزار صفحات سے کم نہ ہوگا۔ خیر میں نے اُن کو آغاز کی دو تین غزلیں دکھائیں۔ انہوں نے کوئی خاص اصلاح نہ دی۔ لیکن میں اب تک ان کا شکر گذار ہوں۔ مجھے کسی نے مشورہ دیا کہ اپنا کلام حضراتِ گرامی کی خدمت میں دکن ارسال کروں اور اصلاح چاہوں میں نے ایسا ہی کیا اور چند غزلیں ان کی خدمت میں ارسال کیں۔ جواب ملا۔ گرامی فارسی کا شاعر ہے۔ اردو سے بہت دور ۔ حفیظ جوہر قابل معلوم ہوتا ہے۔ حفیظ کو چاہئے کہ اپنا کلام بار بار خود ہی ناقدانہ نظر سے دیکھا کرے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ میں نے اس مشورہ پر عمل شروع کر دیا۔ ایمان کی بات یہ ہے کہ میری غور و فکر کی کچھ عادت اسی مشورہ کی لبِ بام کے سامنے میں نے باقاعدہ زانو ئے تلمذ تہ کیا۔ اب فارسی کے مطالعہ کا شوق تو بڑھ گیا لیکن اپنے لئے میں نے اردو ہی میں شعر کہنے کو بہتر سمجھا۔ اور گرامی صاحب کا مشورہ بھی یہی تھا۔
 
 متاہل ہو جانے کے بعد میں نے کسبِ معاش کے لئے تھوڑے ہی عرصہ میں بیسیوں پاپڑ بیل ڈالے۔ ریلوے لائن پر مٹی ، عطر فروش، کلاہ سازی، خیاطی، فوج کی ٹھیکیداری، خطوط نویسی، ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوری ،آٹے کی مشین، شاعروں کو غزلیں لکھ لکھ کر دینا۔ سنگر سیونگ مشین کمپنی کی منیجری ، سب کچھ کر ڈالا۔ لیکن پوری نہ پڑی۔ فراغت نصیب نہ ہوئی۔ اتنے بڑے کنبے کا پیٹ پالنا میرے بس کی بات نہ تھی۔ مکانات کو بیچ بیچ کر کھاتا کھلاتا رہا۔ اور سچ یہ ہے کہ نوکری ہو یا کاروبار میں کسی کام کا نہ تھا۔ رات دن فکر شعر، طبیعت کمزور اور حساس خلاف اور کانگریس دونوں میں شامل لیکن لیڈروں سے متنفر ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ ادھر نہ اُدھر ۔
 
۱۹۲۱ء میں سنگر کمپنی کی ملازمت چھوڑ دی۔ وطن میں آگیا۔ اور وہاں سے اردو زبان میں ایک ماہانہ رسالہ اعجاز جاری کیا جس کے سرپرست مولانا گرامی تھے۔ یہ رسالہ پانچ ماہ بعد آخری مالی چرکا دے کر مر گیا۔ اس وقت مایوسی سے میری حالت دیوانگی تک پہنچ گئی تھی۔ کیوں کہ میں نے ایک بہت بڑا مکان فروخت کر دیا تھا۔ والد صاحب کو اطلاع بھی نہیں کی تھی۔ ان کو معلوم ہوا تو انہوں نے مجھ کو چپتیایا اور گھر سے نکال دیا۔ اس وقت میں ایک بچی کا باپ تھا۔
 
اب میں نے کشمیر کا پیدل سفر کیا ۔ ارادہ تو کچھ اور تھا لیکن غمدیدہ والدہ کا خیال ۔ ننھی بچی کا تصور او رزوجہ سے متعلق ذمہ داریوں کا احساس سد راہ تھا۔ پلٹ آیا۔ رسالہ شباب اردو لاہور میں ملازمت کر لی اس کے بعد نو نہال اور ہزار داستان کی ادارت میرے سپرد ہوئی۔ پھر پھول اور تہذیب نسواں میں کام کیا۔ یہاں سے خیر سے ریاست خیر پور سند کا شاعر دوبار مقرر ہوا۔ لیکن یہ زندگی میرے مزاج کے خلاف تھی۔ پلٹ آیا نظم رقاصہ اسی دوارن میںلکھی گئی۔ میں جو کچھ میں نے اپنی آنکھو ں سے دیکھا۔ آپ بیتی اور جگ بیتی ، دونوں اس قدر تلخ ہیں کہ اگر بیان کردوں تو ایک آفت برپا ہو جائے۔ 
 
۱۹۲۲ء میں لاہور آیا تھا ۔ اس وقت سے اب تک برابر ادب و شعر میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ مشاعرے کی واہ دا۔ اسلامی انجمنوں کی سبحان اللہ، داد کی وصولی اور چندوں کی فراہمی یہ میرے مشاغل رہے ہیں۔ بڑے بڑے مشاعرے دیکھ ڈالے ہیں ۔ دھڑا دھڑ داد وصول کی ہے۔ ہزار ہا انسانوں کو ہمہ تن گوش اور ہمہ جان پر جوش کر دیا ہے۔
 
لاکھوں روپے چندہ دوسرے کی جیبوں سے نکلواکر انجمنوں کے خزانے میں داخل کر دیا ہے۔ بڑی بڑی ریاستوں کے رئوسا شرف ملازمت حاصل کیا ہے۔ بڑے بڑے لیڈروں ۔ نامی گرامی ادیبوں اورشاعروں سے ملاقات رہی ہے۔ درباروں میں حاضری کی عزت اور درگاہوں میں زمین بوسی کی سعادت مل چکی ہے۔
 
 بزعم خود اردو نظم میں نئی نسل اختراعیں کی ہیں۔ گیت لکھے ہیں۔ مناظرِ قدرت کی مصوری کی ہے۔ بحور اوزان میں تصرفات کئے ہیں۔ بچوں کے لئے شاعری کی ہے۔
 
 میں پنجابی ہوں لیکن اردو زبان سے مجھے ایک خاص لگائو ہے۔ غلط کہتا ہوں یا صحیح، ارد وہی کہنا پسند کرتا ہوں۔ ابھی زندہ ہوں اور معلوم نہیں کب تک زندہ رہوں۔
 
حفیظ جالندھری
 
*******************

 

 

 
You are Visitor Number : 2245