donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Hasan Nayeem
Poet
--: Biography of Hasan Nayeem :--

 

  • Name : Hasan Nayeem
  • January 1927, born at Patna.
  • 1941: admitted in Mohammadan Anglo Arabic School, Patna City.
  • 1943: Passed matriculation exam.
  • 1946: Passed intermediate (Scince) exam.
  • 1946: Admitted in Aligarh Muslim University in B. Sc.
  • 1948: First Poetry '' Tashweesh'' published in Aligarh Muslim Univer sity annual Magzine.
  • 1949: Appointed as a teacher at Mohmmadan Anglo Arabic School, Patna City.
  • 26 March 1950: Married With Hashmat Ara, sister of Mr. Ahmad Yousuf.
  • 1952: Appointed Science Teacher at M.A.O. High School, Kolkata.
  • 1953: Appointed Personal Secretary of Dr. Syed Mahmood.
  • 1954: Appointed with Dr. Syed Mahmood in Foreigen Affairs Department.
  • 1968: Resigned from Foreign Affairs Service.
  • 1970: Appointed Director In Ghalib Ceneternary Committee( Later known as Aiaan-e- Ghalib).
  • 22 Feburary 1991: Died at Mumbai.
  • 1971: Published first Poetic Directory '' Ashaar'' From Hydrabad.
  • 1980: Published '' Ghazal Naama'' in Hindi.
  • 1992: Published Third Majmoo-e- Kalam '' Dabistaan'' from Mumbai.
  • 1994: Published Collection of Urdu Ghazl In Gujrati namely '' Urdu Sakhanwar Sherni'' Later its Hindi edition published from Delhi.
  • 2006: ''Kuliyat Hasan Nayeem'' published by national council for promotion of Urdu from New Delhi

 

خود نوشت

میرے دادا سید شاہ غلام قاسم راجگیر کی درگاہ پیر امام الدین کے سجادہ نشیں ہونے کے باوجود (یہ درگاہ مخدوم الملک شرف الدین یحییٰ منیری کے نسبی سلسلے کی تھی) اس دور کے سیاسی حالات کے پیش نظر مسلمانوں کی تہذیبی اور معاشی بقاء کے لئے مغربی تعلیم کو ضروری سمجھتے تھے، یہاں تک کہ خود بھی انگریزی میں تھوڑی بہت استعداد حاصل کر لی تھی اور بعد میںا پنی سجادگی اپنے چھوٹے بھائی سید شاہ محمد یوسف کے حوالے کر کے کسی شعبہ میں وہ سب رجسٹرار ہو گئے تھے۔
 
انہوں نے اپنے دوبیٹوں کو بغرض تعلیم لندن بھیجا، میرے والد سید محمد نعیم اور منجھلے چچا سید عبد السمیع یکے بعد دیگر بیرسٹر ہو کر لوٹے، میرے والد شہر بھاگلپور میں پریکٹس کرنے لگے اور سنجھلے ابا پٹنہ میں ہی شادی کرکے بس گئے اپنی کار گزاریوں کے باعث دونوں اپنے علاقہ کے عمائدین میں شمار ہونے لگے۔ دونوں ہی قومی اور ملی مسائل میں دلچسپی لیتے تھے۔ میرے والدغالباً ۲۵ء کے اواخر میں پٹنہ منتقل ہو گئے تھے جہاں میں ۶ جنوری ۲۷ء میں پیدا ہوا اور میرا نام سید حسن رکھا گیا۔
 
ایک طویل علالت کے بعد ستمبر ۲۸ء میں والد صاحب کا کم عمری میں ہی انتقال ہو گیا اور پھر پریشانیوں کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہوا ، میری والدہ شیخ پورہ ( ضلع مونگیر) چلی گئیں جہاں میری دادی کا آبائی مکان تھا۔ اس کے علاوہ کچھ وہاں اور کچھ گیا ضلع میں ان کی جائداد بھی تھی جس سے گزر بسر ہونے لگی۔ میں سات آٹھ سال کی عمر تک شیخ پورہ میں ہی رہا اور ابتدائی تعلیم وہیں پائی۔ مجھ سے تینوں بڑے بھائی پٹنہ میں زیر تعلیم تھے اور جسٹس سید نور الہدیٰ کے یہا ں رہتے تھے جو رشتے میں ہم لوگوں کے نانا ہوتے تھے۔ جج صاحب کے انتقال کے بعد والدہ خود پٹنہ آکر رہنے لگیں اور ہم سب ساتھ رہنے لگے۔
 
 ۳۸ء میں میرا اور میرے سنجھلے بھائی سید علی کا نام رام موہن رائے ، سمینری ، پٹنہ میں لکھوا دیا گیا ۔ اسکول میں داخلے کے وقت ہم دونوں نے اپنے اپنے ناموں کے ساتھ نعیم جوڑ لیا۔ بہت دن بعد منجھلے بھائی سید محمد نے بھی یہی کیا (بڑے بھائی تا عمر سید احمد ہی رہے) لیکن اپنے بچوں کے نا م کے ساتھ نعیم کا اضافہ کر دیا)
مشکل سے تین برسوں تک ہم سب بھائی والدہ کے ساتھ قدرے سکون سے رہے ، پھر اگست 39 ء میں والدہ صاحبہ کا انتقال ہو گیا۔ اور ہم سب یوں بکھرے کہ کبھی اکٹھے رہنا نصیب نہ ہوسکا۔
 
میں ۴۰ء میں اپنی چھوٹی پھوپھی بیگم یوسف حسین کے ساتھ رہنے کے لئے محلہ ٹیڑھی گھاٹ پٹنہ سیٹی چلا گیا اور وہاں ۴۱ء میں میرا داخلہ محمڈن اینگلو عربک اسکول میں ہو گیا۔ وہیں سے ۴۳ء میں میٹرک پاس کرکے پہلے پٹنہ سائنس کالج پھر ایک سال بعد بی این کالج پٹنہ میں داخل ہوا جہاں سے ۱۹۴۶ء میں آئی ایس سی پاس کیا۔
 
 ٹیڑھی گھاٹ کے قیام کے دوران ہی مجھے اردو شاعری سے گہرا لگائو پیدا ہوا یہ محلہ دراصل صرف تین قلعہ نما مکانوں پر مشتمل گنگا کے کنارے آباد تھا جس میں ایک ہی خاندان کے افراد مقیم تھے۔ اس خاندان کے سربراہ اس وقت نواب ابراہیم حسین تھے جو میرے نئے اسکول کے سکریٹری ہونے کے علاوہ انجمن ترقی اردو لائبریری پٹنہ سیٹی کے بانی بھی تھے ان کی شادی بھی میرے والد کی پھوپھی زاد بہن سے ہوئی تھی۔ خود انہیں تو شاعری سے معمولی دلچسپی تھی لیکن ان کے صاحبزادے سید اکبر حسین کو (جو بعد میں جسٹس اکبر حسین بنے) شاعری کا نہ صرف شوق تھا بلکہ خود بھی صاف ستھری غزلیں لکھ لیا کرتے تھے۔ چھوٹی پھوپھی کے دونوں لڑکوں، سید اصغر حسین، اور سید احمد حسین کا مذاق سخن بھی اعلیٰ تھا اور اساتذہ کے بہت سارے اشعار یاد تھے۔
 
وہاں اکثر طرحی اور غیر طرحی نشستیں منعقد ہوتیں جن میں عظیم آباد کے برگزیدہ شعراء بھی شرکت کرتے۔ ڈاکٹر مبارک عظیم آبادی کی غزلوں کی اس زمانے تک دھوم باقی تھی۔ وہ اکثر وہاں قیام فرما ہوتے۔ بلکہ اپنا مجموعہ جلوہ داغ وہیں رہ کر ترتیب دیا ان کے علاوہ عظیم آباد کے نامی گرامی شعراء میں بسمل عظیم آبادی( سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے)بدرؔ عظیم آبادی، محمود علی خاں صباؔ( شاگرد  شادؔ) وغیرہ اکثر تشریف لایا کرتے ۔ ممتاز احمد بسملؔ جو دانا پور کے ایک خوش گو شاعر تھے اور زمانہ طالب علمی میں علی گڑھ میگزین کے مدیر رہ چکے تھے وہاں میرے جانے سے پہلے مستقلاً رہا کرتے تھے۔انہوں نے مولانا احسن مار ہروری سے تلمذ حاصل کیا۔ سید شاہ رضی احمد (مجموعہ کشت خیال) تو خیر سے گھر کے داماد تھے اور وہیں قیام پذیر تھے۔
 
غرض ٹیڑھی گھاٹ کا شعری ماحول ہی کچھ ایسا تھا کہ میرا شاعری سے بچ نکلنا محال تھا ویسے بڑے بھائی سید احمد بھی نوجوانی میں شعر کہا کرتے تھے۔ تپش ان کا تخلص ؔ تھا اور نہایت دلکش ترنم میں شعر پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے پروفیسر عبد المنان بیدلؔ اور ضمیر الدین عرش ؔ گیاوی( مصنف : حیات مومن) سے مشورۂ سخن بھی کیا تھا۔
 
غرض پانچ چھ برسوں کے قیام کے بعدجب ۴۶ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچا تو میرے پاس دس بارہ پابند اور آزاد نظموں کے علاوہ پانچ سات مکمل اور نا مکمل غزلیں بھی تھیں۔ لیکن ان کی موجودگی کا علم صرف چند احباب کو تھا۔
 
علی گڑھ شروع ہی سے اردو شعر و ادب کا مرکز رہا ہے۔ چنانچہ میرے زمانے میں بھی مستند اور مشہور لوگوں کے علاوہ تازہ فکر اور نو خیز ادیبوں ، شاعروں اور ناقدوں کا ایک قافلہ موجود تھا، یہی لوگ بعد میں عصری ادب کے ستونوں میں شمار ہوئے ان دنوں انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسے باقاعدگی سے ہوا کرتھے تھے جس میں اکثر میں بھی شریک ہوتا تھا، ہنگامی جلسوں کی بھی کمی نہ تھی، ایک ایسے جلسے میں میں اپنی ایک نظم’’ تشویش ‘‘ پڑھنے کی جسارت کی، جس میں جاں نثارؔ اختر اور معین احسن جذبیؔ بھی شریک تھے۔ خلاف توقع اس کی بہت معمولی نکتہ چینی ہوئی۔ بلکہ اس نظم کو ڈاکٹر مختار الدین احمد نے یونیورسٹی میگزین کے سالنامہ ۴۸ء میں شامل کر لیا۔ یہ میری پہلی تخلیق تھی جوشائع ہوئی۔
 
علی گڑھ کے دورانِ قیام میں نے تازہ کچھ نہیں لکھا، صرف قدیم و جدید ادب کا مطالعہ کرتا رہا اور ادبی بحثوں میں حصہ لیتا رہا۔ باقی وقت ٹیبل ٹینس کھیلنے اور اسٹوڈنٹ فیڈریشن کی سرگرمیوں میں صرف ہوا۔
ڈاکٹر خلیل الرحمن اعظمی اس وقت بی اے کے طالب علم تھے لیکن بطور شاعر اور نقاد ادب میں متعارف ہو چکے تھے، انہوں نے ایک بار رائے دی کہ میں غزلوں کی طرف خصوصی توجہ دوں اس لئے کہ ان کا اسلوب و مواد انہیں کچھ نیا نیا سا لگا، ان کی یہ بات میرے دل کو لگ گئی۔ باقر مہدی اور شہاب جعفری بھی ان ہی دنوں کی ملاقات ہے اور تب سے آج تک تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔ ۴۸ء میں علی گڑھ سے بی ایس سی کرنے کے بعد جب واپس پٹنہ لوٹا تو دوبارہ چند غزلیں کہیں جو وہاں کے علمی و ادبی حلقوں میں مقبول ہوئیں لیکن میرے ذہن میں کچھ تخلیقی مسائل بار بار سر اٹھاتے تھے اور مجھے اپنے کلام سے بد گمان کرتے تھے۔ بات یہ ہے کہ اچانک جو تبدیلیاںہمارے سماج مزاج اور اخلاقی اقدار میں ۴۷ء کے بعد آئی تھیں انہیں ہم محسوس تو کرتے تھے لیکن ان کا اظہار مروّجہ غزلوں کے اسالیب اور لہجوں میں بے جان اور غیر حقیقی سا لگتا تھا، عصری صداقتوں سے غزل کو ہم آہنگ کرنے کے لئے ایک ایسی تخلیقی زبان کی ضرورت تھی جس میں الفاظ ، استعارات ، پیکر اور علائم جیتے جاگتے نظر آئیں۔ یہ کوئی آسان مرحلہ نہ تھا، اس کے لئے غزل کی کل روایات کا تجزیاتی مطالعہ ناگزیر تھا کہ انحراف بھی اس عظیم روایت کا ہی حصہ نظر آئے۔
 
اس بار میرا قیام اپنے خالو رفیع الدین بلخی ایڈووکیٹ کے دولت کدے پر ہوا وہ نہایت ذی علم، خوش اخلاق اور شگفتہ مزاج انسان تھے۔ وہ بیدل و غالب کے پرستاروں میں تھے اور اکثر شام کے وقت شہر کے ممتاز دانشوروں ، شاعروں اور سیاسی شخصیتوںکا مجمع لگتا تھا اور گھنٹوں گرما گرم بحثیں ہوا کرتی تھیں، علامہ جمیل مظہری ان کے گہرے دوستوں میں تھے اور ان دنوں وہیں قیام فرما تھے، وہیں جناب فصیح الدین بلخی سے شرف نیاز حاصل ہوا وہ ایک درویش صفت مورخ اور محقق تھے۔ تاریخ مگدھ کے مصنف کی حیثیت سے تو وہ مشہور تھے لیکن ان کے تنقیدی کتابچے، انشائؔ و شادؔ  کی خبر صرف صاحبان نظر کو تھی۔ ان سے گفتگو کرنے پر مجھے محسوس ہوا کہ ان کی نگاہ اردو شاعری کے کلاسیکی سرمایہ  ، خاص کر غزلیہ شاعری اور اس کے رموز و نکات پر گہری اور معروضی ہے۔ چنانچہ ۴۹ء میں سات آٹھ مہینوں تک ان کے خزانہ علم سے فیضیاب ہوتا رہا، اس وقت تک کی بیشتر شاعری کو رد کرتے ہوئے گویا 1950 ء  سے میں نے نئے شعری سفر کا آغاز کیا تب سے مسلسل لکھ رہا ہوں۔۱۹۵۰ء میں میری شادی حشمت آرا بیگم سے ہوئی جنہوں نے ’شاہدہ یوسف ‘ کے نام سے کئی اچھے افسانے لکھے ہیں ، میری دونوں لڑکیوں میمونہ اور شہیرہ کی شادی ہو چکی ہے ۔ دو بیٹے ہیں ارشاد اور اشعر، ان میں سے ایک بر سر روز گار ہے اور دوسرا ایم اے کر چکا ہے۔
 
۱۹۵۰ء میں پرویز شاہدی جو میرے خلیرے بھائی بھی تھے مجھے اپنے ساتھ کلکتہ لے گئے جہاں لگ بھگ ایک سال تک سی ایم او اسکول میں سائنس ٹیچر رہا۔ پرویز شاہدی ہی اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ اور مظہر امام بھی ان دنوں اس اسکول میں اردوکے استاد تھے۔
 
جون ۵۳ء میں کلکتہ کو چھوڑ کر قسمت آزمائی کی خاطر دلی آگیا۔ اتفاق سے اس وقت ڈاکٹر سید محمود جو مجھ سے اچھی طرح واقف تھے ہسٹری آف فریڈیم موومنٹ بورڈ کے چیر مین تھے، وہ مجھ پر مہر بان ہو ئے اور مجھے اپنا سکریٹری منتخب کر لیا۔۵۴ء میں جب وہ وزارت خارجہ میں وزیر مملکت ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ بطور پرائیوٹ سکریٹری وہیں منتقل ہو گیا اور ۱۹۷۰ء تک اسی وزارت سے منسلک رہا۔
 دلی میں نہ صرف میری ادبی نشو و نما ہوئی بلکہ میری زندگی کے بہترین ایام وہیں بسر ہوئے۔ دلی ہی دراصل وہ شہر ہے جس کی تہذیبی روایت سے آج کی غزل بھی سب سے زیادہ متاثر ہے۔
 
۱۹۵۵ء میں ایفرو ایشیائی کانفرنس منعقدہ بنڈونگ( انڈو نیشیا) میں بطور ڈیلی یٹ شریک ہوا اور پھر ۵۶ء میں جب پنڈت جواہر لال نہرو سعودی عر ب تشریف لے گئے تو اوروں کے علاوہ میں بھی ساتھ گیا۔ میرا تبادلہ دو بار ہندستان سے باہر ہوا پہلے ساڑھے تین برسوں کے لئے (۵۸ء تا وسط۶۱ء )جدہ میں ہندستان کا نائب قونصل رہا اور پھر کوئی چار برسوں تک (۶۴ء سے۶۸ء تک) نیویارک میں انڈین مشن برائے اقوام متحدہ میں بطور اتاشی کام کیا۔ اس کے علاوہ ایشیا، افریقہ ، یوروپ اور امریکہ کے کوئی پندرہ و بیس ممالک کی سیر و سیاحت کے دوران وہاں کی طرز زندگی اور تہذیبی اقدار کو سمجھنے کا موقع ملا، اس خیال کے تحت کہ کسی ادبی ادار سے منسلک ہو کر باقی زندگی صرف علمی  اور ادبی کام کروں۔ وزارت خارجہ سے مستعفی ہو کر ۱۹۷۰ء میں غالب انسٹی نئی دہلی سے بطور ڈائریکٹر وابستہ ہو گیا، میں نے ہی اس ادارے کا باضابطہ دفتر قائم کیا، اس کے عمارات کی تکمیل کروائی اور اس کی ادبی سرگرمیاں شروع کروائیں لیکن مجلس عاملہ کے ایک ممبر کی مستقل رخنہ اندازی سے تنگ آکر جولائی ۷۳ء میں اس سے علاحدہ ہو گیا۔اس کے بعد مختلف ذرائع سے کسب معاش کرتا رہا ہوں اور اپنی شاعرانہ شخصیت کے تحفظ کی خاطر بڑی آزمائشوں سے گذرا ہوں۔
 
اس کے بعد ۸۰ء میں ہندی رسم الخط میں دوسرا مجموعہ’’ غزل نامہ ‘‘ شائع ہوا، تیسرا مجموعہ جس میں تقریباً ڈیڑھ سو منتخب غزلیں ہیں دبستان کے نام سے ترتیب پا چکا ہے۔ انشاء اللہ آئندہ تین مہینو ں میں شائع ہو جائے گا۔
 
پابند اور آزاد نظموں کے علاوہ میں نے آٹھ نو مختصر مثنویاں بھی بطور تجربہ لکھی ہیں۔ جو سب کی سب شائع ہو چکی ہیں انہیں ایک مجموعہ کی شکل میں ترتیب دینا باقی ہے۔ غزل ہی لیکن میری زندگی کا محور اور Motive force ہے۔ ادھر تین برسوں سے بمبئی میں مقیم ہوں اور نیشنل غزل سمینری کے نام سے ایک بڑا ادارہ قائم کرنے میں منہمک ہو۔ اس ادارے کے ذریعہ غزل کے سرمائے کو سلسلہ وار دوسری ہندستانی ز بانوں میں منتقل کرنے اور غزل گائیکی کو صحیح خطو ط پر رواج دینے کا کام کیا جائے گا۔ چھوٹے پیمانے پر یہ کام شروع ہو چکا ہے۔
 
(تذکرہ کاملانِ بہار، حصہ۔۱ مطبوعہ خدا بخش لائبریری، پٹنہ)
 
 
 
 
 

 

 
You are Visitor Number : 2981