donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Hasnain Azimabadi
Writer
--: Biography of Hasnain Azimabadi :--

 

 حسنین عظیم آبادی 
نام:سید محمد حسنین
قلمی نام: حسنین عظیم آبادی
والد کا نام: سید محمدرشید،مرحوم،
تاریخ ولادت: ۲؍اکتوبر۱۹۲۰ء
مستقل پتہ: الامن بھنور پوکھر،پٹنہ۴
تعلیم: ایم اے پی ایچ ڈی ،بہار کے پہلے ریسرچ اسکالرم ،
ملازمت: سابق صدر شعبہ اردو، مگدھ یونیورسٹی گیا۔
پہلا افسانہ: جب رات کے گیارہ بجے تھے، ماہنامہ ،ندیم ،گیا۱۹۴۴ء
افسانوی مجموعہ: ایک ،۱۔ نیل مرام ،۱۹۶۸ء
دیگر تصانیف: ،صریا کا خواب ،فکشن، بہار کے نوچراغ، خاکے، مرنا محمد علی فددی، تحقیقی مقالے دوحصے، برزخ کامشاعرہ، ڈرامہ ،صنف انشائیہ ، تنقید،نشاط خاطر انشاء ،حیات کلیم، نمود ہستی، خا کے وغیرہ، نفس مطلب، ادبی وتنقید ی مضامین، زندگانئی بے نظیر ،وغیرہ۔
اعزاز وانعام: مختلف اعزازات وانعامات مل چکے ہیں، بہت سے ادبی نیم ادبی اور سرکاری اداروں کے چیف ایڈیٹر اور ممبررہ چکے ہیں۔ 
حسنین عظیم آبادی بہار میں اردو انشائیہ نگاری کے سرتاج سمجھے جاتے ہیں انہوں نے صنف انشائیہ پر جو کام کیا ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے صنف انشائیہ ان کی ایک ایسی تحقیقی اور تنقیدی کتاب ہے جس کے پانچ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں پھر بھی اس کی اہمیت مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ وہاب اشرفی شہاب اعظیم آبادی، ڈاکٹر شکیل الرحمن اور ڈاکٹر محمد محسن کی طرح حسنین عظیم آبادی بھی اپنی افسانہ نگاری کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسری ادبی خدمات کی وجہ سے زیادہ مقبول ومحترم ہیں۔
جہاں تک افسانہ نگاری کا سوال ہے تو ان کا صرف ایک افسانوی مجموعہ نیل مرام، ۱۹۶۸ء میں شائع ہوا ہے اس کے بعد آج تک دوسرا کوئی مجموعہ منظر عام پر نہیں آیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنا رخ افسانہ نگاری کی بجائے دوسری طرف موڑ لیا ہے لیکن اتنا کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ حسنین صاحب اپنے صرف ایک مجموعہ کی وجہ سے افسانہ نگاری کی دنیا میں ہمیشہ جانے پہچانے جاتے رہیں گے ۔ انہوں نے اپنی افسانہ نگاری میں قصہ پن کا خاص خیا ل رکھا ہے انہوں نے اپنے افسانے میں عہد طفولیت کی نفسیات کو پیش کیا ہے۔اپنے منفرد انداز اور موضوع کی وجہ سے ان کے افسانے کی ہمیشہ مقبولیت حاصل رہے گی۔ ان کا کوئی افسانہ ایسا نہیں جسے ہم ابتدائی یا پہلا اسانہ سمجھ کر نظر انداز کردیں، ان کے یہاں فن کا بہت ہی اچھا توازن ہے کردار اور مکالمے ایسے ہوتے جوعام انسان کے قریب معلوم ہوتے ہیں در اصل وہ ایک پختہ اور منجھے ہوئے فنکار ہیں اس لئے جو کچھ لکھتے ہیں اس میں اعتدال اور توازن ہوتا ہے۔
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
 
 
You are Visitor Number : 1674