donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Hosh Azimabadi
Poet
--: Biography of Hosh Azimabadi :--

 

 ہوش عظیم آبادی 
 
 
 سید ارتضیٰ حسین (تخلص : ہوش) ولد نواب سید وارث حسین اپنی نانیہال واقع میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی میں تعلیمی سند کے مطابق ۵؍ جنوری ۱۹۲۱ء کو پیدا ہوئے۔ بیس برس کی عمر تک نانیہال میں ہی رہے جو خاندنی رائیسوں کا گھرانہ تھا۔ اس کے بعد اپنی دادیہال واقع دولی گھاٹ( صرف نصف کیلو میٹر کے فاصلے پر ) منتقل ہو گئے اور آخر تک وہیں قیام رہا۔ ان کے والد بھی ایک خوشحال اور فیاض رئیس تھے۔ گرچہ ان کی سادگی اور دنیا داری سے ناواقفیت کے سبب آبائی جائداد کا بیشتر حصہ برباد ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود ہوش نے فارغ البالی وضع داری اور مہمان نوازی کے ساتھ شب و روز گذارے۔ حکومت بہار کے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں ۸؍ مئی ۱۹۴۷ء سے اردو مترجم بحال ہوئے۔ ترقی کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچ کر ۱۹۷۹ء میں ریٹائر کیا۔ اس دوران محکمے کے اردو ترجمان’’ بہار کی خبریں‘‘ کے ایڈیٹر بھی رہے۔ اور ولایت علی اصلاحی کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے اس سرکاری رسالے میں معیاری ادبی تخلیقات شائع کرتے رہے۔ 
 
ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بھی شام ڈھلے ان کے گھر پہ اسی طرح ادب نوازوں کی نشست ہوتی رہی۔ زندگی کے آخری ایام میں گردوں کی لاعلاج بیماری کے سبب بے حد کمزور ہو گئے تو دیوان خانے میں بیٹھنا موقوف کر دیا۔ پھر بھی اس قدر قوی تھے کہ اپنا درد چھپا کر ملاقاتیوں سے بہت زندہ دلی کے ساتھ بات چیت کرتے مجھے حیرت ہوئی جب وفات سے صرف دس دن قبل رکشہ سے میری والدہ محترمہ کے انتقال  پر اظہار تعزیت کرنے چلے آئے۔ ۲۰ اگست ۱۹۸۴ء (مطابق۱۴۰۴ھ) اپنے آبائی مکان میں ہی انتقال ہوا اور مقبرہ نو ڈھال ،مغل پورہ پٹنہ میں مدفون ہوئے۔ ناوک حمزہ پوری نے تاریخ وفات اس طرح نکالی ع
 
 چل با آہ ہو ش خوش آہنگ
۱۴۰۴ھ
 
ہوش کی شعر گوئی کا آغاز طالب علمی کے دور میں ہوا۔ ابتدا میں وہ شاد عظیم آبادی کے رنگ سخن سے خاصے متاثر رہے اور زیادہ تر کلا سیکی انداز کی غزلیں کہیں۔ ۱۹۵۵ء میں انہوں نے پہلی بار ایک مرثیہ کہا اور ۱۹؍ صفر کو اسماعیل منزل کے عزا خانے میں پڑھا۔ اس کے بعد انہوں نے تقریباً دو درجن مرثیے کہے اور زار عظیم آبادی سے مشورہ سخن کرتے رہے۔ سید حسن عباس نے اپنے مقالے مطبوعہ’’ زبان و ادب‘‘ پٹنہ جون تا ستمبر۔۲۰۰۷ء میں ان کے بیس مراثی کی فہرست دی ہے۔
 
 ان کی وفات کے بعد خود اساتذہ میں شمار ہونے لگے۔ غزل گوئی تقریباً ترک کردی اور عقیدت مندانہ کلام سے رشتہ جوڑ لیا۔ میں نے اپنے ایک مضمون (مطبوعہ ’’ آواز‘‘ دہلی یکم نومبر ۱۹۸۵ئ)میں لکھا ہے کہ سلام، قصیدے اور نوحے وغیرہ وہ اکثر تقسیم بھی کیا کرتے تھے اور اس میں استادی شاگردی کے رشتے کی بھی قید نہ تھی۔ لوگوں کی درخواست پہ پانچ دس اشعار کا سلام کہہ کر ان کے حوالے کر دینا ہوش کا معمول بن گیا تھا۔ ویسے میں ان کے کلام کی صحیح تعداد متعین کرنا مشکل ہے۔وہ اپنے کلام کی اشاعت سے خاصے بے نیاز بھی رہے اور مختلف اصناف شاعری پہ طبع آزمائی کے باوجود کبھی کسی مجموعہ کلام کی اشاعت پر راضی نہ ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق ان پر ایک صاحب (غالباًایوب حسین جعفری) نے تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی لکھا تھا اور ان کے کلام کا ایک مجموعہ پروفیسر جابر حسین کے پاس بغرض اشاعت جمع کیا تھا مگر تا حال کوئی چیز منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ ایسے میں گذرتے ہوئے وقت کے ساتھ بیشتر کلام ضائع ہو جانے کا امکان رہتا ہے۔ اس لئے مختلف ذرائع سے ان کا جو کچھ بقیہ کلام مجھے دستیاب ہو سکا اسے یہاں درج کر دیتا ہوں۔
 
کرکے کچھ پرورش جذبہ عصیاں میں نے 
تیز کی روشنی عالم امکان میں نے
 کل جو دیکھا طرف خانہ ویراں میں نے
پھاڑ پھینک دی تصویر بیابباں میں نے
 اس کے بجھنے کا جگر سوز نظارہ بھی کیا
 ہوئے جس شمع کو دیکھا تھا فروزاں میں نے
اب بھی اے ہوش وہی وحشتِ دل ہے کہ جوتھی
 سی کے بھی دیکھ لیا چاک گریباں میں نے
٭٭٭
اب ہم سے نہ کچھ پوچھو کس درد کے مارے ہیں
جس آنکھوں میں آنسو ہو سمجھو کہ ہمارے ہیں
خود روئے بھی خود ہم نے تسکین بھی دی دل کو
 ایسے بھی محبت میں لمحات گذارے ہیں
٭٭٭
کر دیا کس تپش دل نے سہارا تم کو
 کس نگاہ غلط انداز نے مارا تم کو
 اب بھی کچھ رات گئے رات ٹھہر جاتی ہے
 اب بھی آہیں مری کرتی ہیں اشارہ تم کو
اب نہ وہ رنگِ سخن ہے نہ وہ آہنگ سخن
 ہوش کس تلخی احساس نے مارا تم کو
 طفنہ اہل خرد تہنیت اہل جنوں
 ایک میرے لئے سب کچھ ہے گوارا تم کو
٭٭٭
 آپ کی چشم کرم کب نگراں ہوتی ہے
آرز و ٹھوکریں کھاکھا کے جواں ہوتی ہے
ہے محبت بھی عجیب چیز کہ چاہیں تو نہ ہو
اور جو ہوتی ہے تو بے وہم و گماں ہوتی ہے
ہمدم شوق اگر وہ گل تر ہو جائے
 کتنی شاداب ادب محبت کی نظر ہو جائے
چھن نہ جائے مرے ہونٹوں سے تبسم اے دوست
کہیں اس کی نہ زمانے کو خبر ہو جائے
 ہو جو وحشت تو بیاباں سے بھی بد تر گھر ہے
 دل کی بہل جائے بیاباں میں تو گھر ہو جائے
 نارسائی میں ملے لذت فریاد تو پھر
 کون چاہے گا کہ نالوں میں اثر ہو جائے
٭٭٭
 ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں
 کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لئے بھی 
٭٭٭
تیری مغمور نگاہی سے مری بے خواری
 میری توبہ تری ٹوٹی ہوئی انگڑائی میں
 
میں ہوش کے عقیدت مندانہ کلام کے حوالے سے لکھا تھا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ان کی سخنوری ماتم اہلبیت کا ایک بہانہ ہے میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ ورثہ آبا سخنوری نہ ہونے کے باوجود انہوں نے عقیدت مندانہ کلام کے ایسے نمونے پیش کئے ہیں جن کی ہنر مندی بے مثال ہے۔ اس حوالے سے چار اشعار نقل کرتا ہوں۔ پہلا حضرت امام حسینؑ کی شان میں دوسرا تیسرا ہم شکل پیمبر حضرت علی اکبر کے بیان میں
 
اور چوتھا’’ کربلا‘‘ کے حوالے سے۔
مراد کن فیکوں ہیں حسین ابن علیؑ 
 یہ کائنات تو ہے زیب داستاں کے لئے
٭٭
 جب چلے شیوۂ رفتار نبی دکھلا کر
 جاگ اٹھیں شہر کی گلیاں وہی آہٹ پاکر
اگر نہ بند نبوت کا باب ہو جاتا 
 تو یہ جواں بھی رسالت مآب ہو جاتا
 ٭٭٭
یہیں سے ارض و سما فیضیاب ہوتے ہیں
 حیات دیتی ہے پہرہ حسینؑ سوتے ہیں
 
سید عاشور کاظمی نے ہوش کی مرثیہ نگاری کے امتیازات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے مراثی میں ایم انگیز فضا پیدا کرنے سے زیادہ مقاصد کی تعمیر اور عظمت خانوادہ رسالت کا اظہار ہے ۔ انہوں نے مراثی میں کرداروں کی منظر کشی اور ان کا لب و لہجہ حفظ مراتب کے لحاظ سے رکھا ہے۔ میں اس خیال سے اتفاق کرتے ہوئے یہ واضح کرنا چاہتا ہوں ہوش ؔ کے مراثی میں عام طور پہ چہرے فلسفیانہ ہوتا ہے۔ جس کا مقصد دنیا کے حیرت کدے پہ ایک شاعرانہ نگاہ ڈالنا بھی ہے اور اس تناظر میں واقعات کربلا اور شہادت حسین کا مطالعہ بھی۔ اس لئے عاشورہ صاحب کا یہ خیال بھی درست ہے کہ ہوش فنی اعتبار سے اپنے استاد زار عظیم آبادی سے اور فکری و سطح پر علامہ جمیل مظہری سے استفادہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ میں تفصیل میں نہ جاتے ہوئے ان کے مراثی سے کچھ بند پیش کرتا ہوں۔
 
ہم پہ روشن ہے کہ قانون مشیت کیا ہے
 منزل دہر میں انساں کی ضرورت کیا ہے
 عشق کیا چیز ہے اخلاص کی قیمت کیا ہے
 جس کو کہتے ہیں محبت وہ محبت کیا ہے
کس طرح شوق سے طے راہ رضا کرتے ہیں
 کیوں کر ارباب وفا عہد وفا کرتے ہیں
 کون بتلائے کہ جذبوں کا یہ انداز ہے کیا
 ہر نفس ذوق نظر کی یہ تگ و تاز ہے کیا
 جب عیاں اصل حقیقت ہے تو پھر راز ہے کیا
 اب ہر اک موج تفکر پہ یہ آواز ہے کیا
تشنگی میرے تحیر کی بجھا دے کوئی
 کاش جو کچھ پس منظر ہے دکھا دے کوئی
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
*********************
 
You are Visitor Number : 2880