donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Iftikhar Arif
Poet
--: Biography of Iftikhar Arif :--

 

Iftikhar Arif came to Pakistan in 1965 and soon thereafter won fame not just on account of his poetry, but also for his performance in the programme Kasauti, along with Obaidullah Baig on Pakistan Television. Coming to Pakistan and settling in Karachi, Iftikhar Arif started his career as a Radio Pakistan newscaster. It was through Altaf Gauhar, then federal information secretary, that he was selected and appointed head of scripts in the Karachi television centre. He teamed up withObaidullah Baig and won the Pakistan Television Corporation (PTV) quiz show of the 1970s, Kasouti. Later, he spent 13 years inEngland working for the Bank of Credit and Commerce International (BCCI) -sponsored Urdu Markaz. Coming back to Pakistan, he worked first as head of the National Language Authority (Muqtadara Qaumi Zaban), and then as chairman of the Pakistan Academy of Letters (PAL)and presently he is working again as a chairman of National Language Authority(Muqtadara Qaumi Zaban).
 
Iftikhar Arif is a poet of Urdu.  Three of his collections, Mehr-i-Doneem, Harf-i-Baryab and Jahan-e-Maloom have been published in many editions. In the introduction to the first book, Faiz Ahmed Faiz says that he has not only found traces of Meer and Ghalib in Iftikhar’s poetry but also of Firaq Gorakhpuri and Noon Meem Rashid. Tributes have also been paid to him by such persons as Annemarie Schimmel, Mumtaz Mufti, Meerza Adeeb,Ahmed Nadeem Qasmi, Mushtaq Ahmad Yusufi, Anna Suvorova and Upinder Nath Ashk   Prof Mujtaba Husain feels that “Iftikhar Arif’s poetry has the dash and pomp of Aatish and Yagana but he is without their aggression.” 
A number of theses have been written on his poetry by post-graduate students in various universities of Pakistan.
 
 Awards
Hilal-i-Imtiaz (2005), Sitara-e-Imtiaz(1999), Pride of Performance (literature 1990), Baba-e-Urdu Maulvi Abdul Haq Award, (poetry, 1995), Naqoosh Award (1994), Faiz International Award for Poetry by Aalami Urdu Conference and a number of other prestigious National and International literary awards.
 
 Books & Publications
Mehr-i-Doneem (1983)
Harf-i-Baryab (1994)
Jahan-e-Maloom
Shehr-e-Ilm ke derwazay per (2006)
Written in the Season of Fear (English translation)
The Twelfth Man (translation of Barhwan Khilari by Brenda Walker, 1989)
Kitab-e-Dil-o-Dunya (2009)
Modern Poetry of Pakistan (2011, editor)
 
 
 
 افتخار عارف 
 
 خود نوشت 
 
 افتخار حسین عارف ولادت۲۳؍ مارچ۔ وطن لکھنو۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ فرنگی محل میں ہوئی۔ پھر دو ایک برس شیعہ اسکول لکھنو میں پھر جبلی اسکول اور جبلی کالج میں یہ کالج اپنے زمانے میں اچھا سمجھا جاتا تھا۔ علامہ اختر علی تلہری، حامد اللہ افسر میرٹھی، علی عباس حسینی جیسے اساتذہ اس ادارہ سے وابستہ رہ چکے تھے۔ پھر لکھنویونیورسٹی ۔ وہیں سے ایم اے ا، اے ایس بھگتایا، بچپن کا لکھنو بڑے معرکے کا شہر تھا۔ مسعود حسن ادیب اور احتشام حسین کا لکھنو ، آرزو اور یگانہ اور مجاز کا لکھنو ابن حسن نو نہروی ، مولانا سید علی نقی ، مولانا عبد الماجد دریابادی، مولانا کلب حسین ، مولانا عبد الباری کا لکھنو، علامہ علماء اور محققین میں کس کس کو ذکر کیا جائے۔ شاید ہی کوئی شہر اس عہد میں ایسا ہے کہ جہاں بیک وقت اتنے مختلف شعبوں میں اتنی قد آور شخصیتیں موجود ہوں۔ ممکن ہے لاہور، دہلی، مستثنیٰ ہوں ۔ شعر کا چسکا مجلسو ں کے راستے سے لگا۔ مرثیے کی مجلسوں نے ذہنی تربیت گاہوں کا کام کیا۔ اس کا فیضان ابھی تک جاری ہے۔
۱۹۶۵ء میں پاکستان کو وطن کیا، ریڈیو پاکستان پھر ٹیلی ویژن سے وابستگی ہوئی۔ سنیئر پروڈیوسر پھر پاکستان کے اسکرپٹس ایڈیٹر کی حیثیت سے ۱۹۷۷ء میں مستعفی ہو ا۔ تب ہی بی سی سی آئی کے ادارے سے وابستہ ہوا اور اب بھی ان کے ایک ذیلی ادارے میں کام کرتا ہوں ۔ اردو مرکز لندن کا اعزازی سکریٹری ہوں اور یہاں برطانیہ میں بی بی سی ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے اردو کے پروگرام کبھی کبھار کرتا رہتا ہوں۔ EMI کی ریکارڈنگ کمپنی نے ۱۹۷۷ء میں میری ان غزلوں اور گیتوں کا لانگ پلے جاری کیا تھا جو پاکستان کے ممتاز موسیقاروں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے گائے تھے۔
 ’’ مہر و نیم ‘‘ کے نام سے پہلا شعری مجموعہ پہلے کراچی سے پھر لندن اور دہلی سے شائع ہوا۔ اب تک اس کے پانچ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ کتاب پر پاکستان میں پاکستان رائٹرز گلڈ کی جانب سے 1984 ء کی بہترین کتاب کا ایوارڈ ڈالا تھا۔ پھر 1988 میں ہندستان میں عالمی اردو کانفرنس کی جانب سے فیض احمد فیض ایوارڈ ملا اور لکھنو میں فیض عالمی سمینار کے موقع پر بھی اسی طرح کا اعزاز۔ کلام کا انگریزی ترجمہ THE TWELFTH MAN کے نام سے بر لینڈ ادا کرنے کیا ہے جو لندن سے شائع ہوا۔ بدیسی شاعری کے کچھ ترجموں کی کتاب بن رہی ہے۔
 
********************************
 
 
 
You are Visitor Number : 2605