donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Imdad Imam Asar
Poet/Writer
--: Biography of Imdad Imam Asar :--

 

 

سیدامداد امام اثر 
 
سید امداد امام اثر (تخلص اثر) ابن شمس العلماء ، سید وحید الدین خاں بہادر ۱۷؍ اگست ۱۸۴۹ء کو موضع سالار پور ضلع پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ بقول سید علی محسن بلگرامی ( شاگرد صفیر بلگرامی) ان کا سلسلہ نسب حضرت زید شہید فرزند حضرت امام زین العابدین علی ابن الحسین ابن علی ابی طالبؑ سے ملتا ہے۔ ان کے جد اعلیٰ سید فیروز جو سید ابو نصر واسطی کی نسل سے تھے۔ ہندستان تشریف لائے۔
 
امداد امام اثرؔ نے باضابطہ کسی اسکول یا کالج میں تعلیم حاصل نہیں کی مگر ابتداء میں والد محترم اور بعد میں اس عہد کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ جن میں محمد محسن بنارسی کا نام سر فہرست ہے۔ حصول علم میں ان کے معاون ہوئے۔ انہیں انگریزی حکومت نے ۱۸۸۹ء میں شمس العلماء اور ۱۹۰۹ء میں نواب کا خطاب دیا۔ موصوف نے دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی جسٹس شرف الدین کی بڑی ہمشیرہ سے ہوئی جن کے بطن سے سر علی امام اور حسن امام جیسی معروف شخصیات پیدا ہوئیں۔ آج بھی ان بھائیوں کے احوال و آثار سے لوگ لا علم نہیں ہے۔ مگر ان کے مذہبی عقائد ہمیشہ نزاعی رہے ہیں۔ اثر کی دوسری شادی ۱۹۰۹ء میں ہوئی جس سے آٹھ اولادیں ہوئیں ان میں سے ایک فرزند سید عابد امام زیدی جو خود بھی ایک اچھے نثر نگار ہیں بقید حیات ہیں۔
 
اثر کا انتقال ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۳۴ء کو آبگلہ ( گیا) میں ہوا۔ ’’ سیر المصنفین‘‘ میں ان کی تاریخ وفات کا شعر درج ہے۔
 
 بے سر آہ بہر سال فوت
خاتم طرفہ تر لکھو مستور
۱۹۳۴ء
 
 امداد امام اثر شاعر بھی ہیں اور نثر نگار بھی۔قمر اعظم  ہاشمی کے مطابق ’’ دیوان اثر ‘‘ آرہ سے پہلی بار ۱۸۹۷ء میں شائع ہوا تھا۔ ۱۹۱۳ء میں سرسید محمد حامد علی خاں وائی ریاست رام پور نے اپنی نگرانی میں دو بار چھپوایا۔
 
 پروفیسر وہاب اشرفی نے ان کی نثری تصنیفات کی نوعیت پر اس طرح روشنی ڈالی ہے۔
 
(۱)’’ مراۃ الحکما‘‘ میں ۶۲ فلسفیوں کے افکار و نظریات درج ہیں۔
 
 (۲) ’’ فسانہ ہمت ‘‘یوں تو بنیادی طور پر ایک ناول ہے لیکن اس میں فلکیات و نجوم و فلسفہ وغیرہ ہے۔
(۳) کتاب الاثمار‘‘ پھولوں اور ان کی قسموں پر ایک مکمل کتاب ہے۔ اس میں اشجار و اثمار کے فوائد سے بحث کی گئی ہے۔ اور بعض پودوں کی تصویریں بھی دی گئی ہیں۔
(۴) کیمیائے زراعت ‘‘ ان مسائل پر ہے جو ہندستان کے کسانوں سے ضروری تعلق رکھتے ہیں۔
(۵) فوائد دارین ایک مذہبی کتاب ہے جو رد عیسائیت میں لکھی گئی ہے۔
(۶) مصباح الظلم‘‘ شیعی عقیدہ کے پس منظر میں مذہب امامیہ اور آل محمد سے متعلق مختلف امور پر مبنی ہے۔
 
(۷) کتاب الجواب۔ کا پس منظر بھی مذہب امامیہ ہے۔ جس میں بعض اہم سوالات کے جواب دئیے گئے ہیں۔
 یہ تمام تصنیفات  اپنی اپنی جگہ اہم ہیں مگر اداد امام اثر کا شاہکار ان کی تصنیف کا شف الحقائق ہے۔ بعض روایتوں کے مطابق ان کی یہ تنقیدی 
 
کتاب حالی سے پہلے لکھی گئی تھی۔ مگر اسے وہ شہرت نہ ملی جو مقدمہ شعر و شاعری کو حاصل ہوئی ہے۔ پروفیسر وہاب اشرفی نے کاشف الحقائق کی دونوں جلدیں ترقی اردو بیورو دہلی کے لئے مقدمہ کے ساتھ ترتیب دی ہیں۔ یہ مقدمہ الگ سے کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکا ہے جس میں اثر کے تنقیدی امتیازات پر سیر حاصل گفتگو ملتی ہے منظر عام پر آچکا ہے۔ یہاں کاشف الحقائق سے متعلق پروفیسر اشرفی کی رائے کے بعض اقتباسات نقل کرتا ہوں ۔ وہ کہتے ہیں :
 
’’ کاشف الحقائق‘‘ الطاف حسین حالی کی مقدمہ شعر و شاعری کے آس پاس لکھی گئی۔ یہ دو حصوں میں ہے۔ پہلی جلد ۱۸۹۷ء میں مطبع اسٹار آف انڈیا سے شائع ہوئی اور اس کا نام ’ بہار سخن‘ رکھا گیا۔ اس میں مختلف اقوام جہاں کی شاعری کا ذکر ہے۔ نیز اخلاق، مذہب و معاشرت سے بھی بحث کی گئی ہے۔ مصر و یونان و اٹلی اور عرب کی شاعری بھی زیر بحث آئی ہے۔ نیز مختلف نکات مثلاً شاعری کی تعریف، موسیقی سے اس کا تعلق، مصوری وغیرہ بھی زیر بحث آئے ہیں۔ پھر Subjective اور Objective شاعری کے نکات واضح کئے گئے ہیں۔ یہ بحث اثر کے اولیات میں سے ہے۔ شعریت کے کئی پیچیدہ نکات زیر بحث لایا ہے۔ اور ان کے اہم شعراء پر خصوصی توجہ کی ہے۔ کاشف الحقائق جلد دوم میں فارسی شاعری کے بہت سے پہلوئوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پھر فارسی اور اردو کی اصناف شاعری کا بڑی تفصیل سے جائزہ لیا گیاہے۔ کاشف الحقائق میں ایک طرف تو شعریات سے بحث ہے تو دوسری طرف اس میں ادبیات کا عالمی منظر نامہ بھی ہے۔ تقابلی تنقید کی صورت یہاں پہلی بار وضاحت سے ملتی ہے۔ لہذا اپنے کیف و کم کے اعتبار سے اس کی آج بھی اہمیت ہے۔ حیرت ہے کہ حالی پر تو ان کے مقدمے کے ذیل میں مسلسل اور متواتر گفتگو ہوتی رہی ہے۔ لیکن ’’ کاشف الحقائق‘‘ اور امداد امام اثر ضمنی طور پر بھی زیر بحث نہیں آتے۔ یہ اردو تنقید کا کوبڑ بھی ہے اور المیہ بھی۔‘‘
 
اس تفصیلی رائے کے بعد میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ادبی تجربات کی قدر و قیمت کے تعین میں تاریخی اور سوانحی معلومات اور شہادتیں زیادہ کار آمد نہیں ہو سکتیں۔ ادب و فن کے اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔ جن سے کسی فن پارے یا صنف ادب کی ادبی حیثیت یا اہمیت کا تعین کیا جاتا ہے اس لئے اثر نے مختلف اقوام عالم یا ادبیات عالم سے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس کو اردو شعر و ادب کے اس براہ راست اور تقابلی جائزے کے سبب ہے۔ جس کے نمونے ’’ کاشف الحقائق کے دوسرے حصے میں کثرت سے موجود ہیں۔ اس لئے کاشف الحقائق کا نئے سرے سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ ادبی منظر نامے میں اس کی معنویت واضح ہو سکے۔ اس پورے مطالعے کے دوران اثر کا اخلاقی نقطہ نظر بھی پیش نظر رہے تو بہتر ہے۔
 
آخر میں ’’ کاشف الحقائق‘‘ کے دوسرے حصے سے ایک مختصر سا اقتباس نقل کرتاہوں جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امداد امام اثر کے یہاں تقابلی مطالعوں کی کیا صورت رہی ہے۔ مثنوی سحر البیان اور گلزار نسیم کی خوبیوں اور خامیوں کا موازنہ کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں :
 
’’ میر حسن ایک نیچرل شاعر تھے۔ ان کے امور ذہنیہ اور امور خارجہ کے بیانات تناسب سے کبھی بھی جدا نہیں دیکھے جاتے ۔ یہ خوبی اس مثنوی ( مثنوی گلزار نسیم) میں کم تر نظر آتی ہے۔ میں مثلاً یہ عرض کرتا چلوں کہ تاج الملوک کے چاروں بیٹوں کا ذکر حضرت نسیم یوں فرماتے ہیں:
 
خالق نے دئیے تھے چار فرزند
 عاقل و دانا ذکی و خرد مند
 
لاریب زبان کیا خوب اور نظم کیا چست ہے۔ مگر کلام میں تناسب حسب مراد نہیں دکھائی دیتا ہے۔ حضرت نسیم کی ساری مثنوی پڑھ جانے کے بعد بھی کہیں سے ان چاروں صاحبزادوں کی عقلمندی ، دانائی ، ذکاوت اور خرد مندی کا کوئی پتہ نہیں لگتا۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری                       پٹنہ)
 
**************************************************************************************

 

 
You are Visitor Number : 2377