donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Ismaeel Rooh
Poet/Writer
--: Biography of Ismaeel Rooh :--

 اسماعیل روح 

 

 
 سیداسماعیل(تخلص روح) ولد شاہ محمد سعید یکم اگست ۱۹۲۰ء بروز اتوار اپنی نانیہال دانا پور میں پیدا ہوئے۔ ان کی دادیہال کاکو تھا اور تاریخی نام نصیر الدین رکھا گیا تھا ۔ ان کی بلند پایہ روحانی شخصیت اور علمی و ادبی خدمات کا تذکرہ مختلف مضامین میں ملتا ہے۔ مگر کسی ایک مضمون یا کتاب میں ان کے سوانحی حالات نہیں ملتے۔ ڈاکٹر قاسم خورشید نے ان کے وارثین، خدا بخش لائبریری میں محفوظ رسائل و جرائد اور حکیم سید شاہ علیم الدین بلخی کی ذاتی یا د داشتوں کی مدد سے ان کی شخصیت اور فن سے متعلق ایک عمدہ مضمون(مطبوعہ زبان و ادب پٹنہ جنوری فروری ۲۰۰۷ء ) لکھا ہے۔ جس کے متعلقہ حصے نقل کرتا ہوں۔
 
ابتدائی تعلیم مدرسہ حنفیہ دانا پور میں اپنے ماموں شاہ محسن علیہ رحمۃ سے حاصل کی۔ ساتھ ہی پٹنہ یونیورسٹی سے بی اے کیا اور محکمہ تعلیمات حکومت بہار سے آرٹ آف ٹیچنگ میں ڈپلوما بھی کیا۔ اس کے بعد ٹو پلس ہائی اسکول خسرو پور پٹنہ میں ہیڈ مولوی ہوئے۔ پھر روائل اسلامک سوسائٹی آف بنگال کی لائبریری میں، کیٹ لاگر ہوئے۔ یہاں عربی و فارسی مخطوطات ونودرات سے کافی استفادہ کیا۔ اس دوران ہندستان تقسیم ہندکے بحران میں مبتلا تھا۔ نمولانا کے کنبے کے بعض افراد پاکستان منتقل ہو گئے۔ لیکن مولانا اسی سرزمین سے وابستہ رہے۔ پھر 21 نومبر۔1948 ء کو مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں بحیثیت مدرس جوائن کیا ۔۳۱؍ اکتوبر ۱۹۷۸ء کو وائس پرنسپل بنائے گئے ۔ سبکدوش ہونے کے بعد ان کی (کذا) علمی فضیلت اور بے پناہ تحقیقی شعور کے پیش نظر خدا بخش لائبریری پٹنہ میں عربی مخطوطات کی توضیحی فہرست سازی کے ساتھ لائبریری کے سمینار میں طبی مخطوطات کے تفصیلی تعارف بھی پیش کیا کرتے تھے۔ جو بعد میں خدا بخش جرنل میں اشاعت پذیر بھی ہوئے۔ انہوں نے مخدوم شرف الدین یحی ٰ منیری کی مکتوب صدی کی جہاں تدوین کی وہیں تصوف، قرآنیات اور اردو مخطوطات کی جامع فہرستوں کی ترتیب کا بھی کام کیا۔
 
بہترین مقرر ، محقق، اور روح تخلص سے شاعری کی حیثیت سے بھی منفرد رہے۔ مولانا کی وفات ۲۳ اپریل ۱۹۹۸ء کو سفر حج کے دوران ہوئی اور خوش نصیبی سے جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ ان کی دس اولادیں تھیں۔ دو لڑکیاں فوت ہو گئیں۔ پانچ لڑکیاں اور تین لڑکے بقید حیات ہیں۔
 
 مولانا کی سادہ مگر پر تاثیر شخصیت کا اعتراف اکثر مذہبی اور ادبی شخصیتوں نے کیا ہے۔ اور وہ دل نشیں کہ جو بھی ان سے ملتا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ میں  بھی ان خوش نصیبوں میں ہوں جنہیں شاہ اسماعیل صاحب سے بار بار ملنے اور ان کی تقریریں سننے کا اتفاق ہوا ہے۔ میں تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کہیں اور سنا کرے، کوئی کی صورت درپیش ہوتی تھی مگر اس بیان پر یقین کرنا لازمی ہو جاتا تھا کہ بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ مزاج میں خلوص اور انکسار بھی بہت تھا۔ جس سے ملتے جھک کر ملتے اور مخاطب کو کبھی اس کی کم علمی کا احساس نہ ہونے دیتے تھے۔ مذہبی امور کے بے حد پابند تھے مگر دوسرے مذہب  یا عقیدے سے تعلق رکھنے والوں کی دل آزاری سے جہاں تک ہو سکے پرہیز کرتے تھے۔ جیسا کہ ذکر ہو ا وہ بہت دنوں تک مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے ہے۔ ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ ہوئے اور کچھ دنوں کے لئے وائس پرنسپل بھی بنائے گئے مگر انکساری کا یہ حال تھا کہ طلبہ کو نماز فجر کے لئے بیدار کرنے کا کام فضلو میاں دربان کے ساتھ مل کر خود انجام دیتے اور علمی استعداد کی صورت یہ تھی کہ مدرسہ کے نصاب کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جسے پڑھانے میں دشواری پیش آتی ہو۔ ضرورت پڑنے پر گھنٹوں عربی زبان میں گفتگو کرنے کی قدرت رکھتے تھے جس کی موجودہ ہندستان خصوصاً بہار میں نظیر ملنی محال ہے۔
 
شاہ اسمعیل کی علمی و ادبی خدمات سے بنیادی طور پر تحقیق و تدوین سے عبارت ہیں۔ ان کے زیادہ تر مضامین علمی اور اصلاحی نوعیت کے ہیں جو خدا بخش جنرل میں شائع ہوتے ہیں دیگر ادبی کاوشوں کے سلسلے میںڈاکٹر قاسم خورشید کا بیان قابل توجہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں
 
 ’’ انہوں نے عربی مخطوطات مفتاح الکنوز کی فہرست سازی کے دوران جس شدت اور انہماک کا ثبوت پیش کیا وہ تحقیق کے عمل میں اب کم ہی نظر آتا ہے۔ مفتا الکنوز خدا بخش لائبریری کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔ اور اس میں مولانا کی عرق ریزی کا اہل علم و فن کو آج بھی بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔ یہی حال نادر جنتری کی ترتیب و تزئین کا بھی ہے۔ مولانا کی عربی کی مشہور تصنیفات ’’ الدرسۃ الحمیدہ‘‘ اور القصص و الحکم کا عربی میں خاصا شہرہ رہا ہے۔ روح نے مرثیے بھی لکھے۔ وہ میر انیس سے خاصے متاثر تھے لیکن ان کا الگ رنگ رہا۔ خصوصی طور پر ایک مرثیہ جو سانحہ ارتحال سید شاہ تقی حسند بلخی تخلیق کیا تھا آج بھی اس کے مطالعے سے وہ سانحہ زندہ ہو جاتا ہے۔
 
 روح کی شاعری میں تصوف کے بہترین عناصر کے ساتھ ساتھ دنیا کا مشاہدہ بھی ہے۔ ان کے اشعار احساس کی شدت اور تجربے کی صداقت کا نمونہ ہیں۔ اور ان کا اسلوب بھی ان کی غزلوں اور نظموں کا ایک بڑا سرمایہ اپنی یاد گار چھوڑا ہے جو اشاعت کا منتظر ہے۔ چند اشعار بطور نمونہ درج ہیں۔
 
حیات موت سے پہلے حیات موت کے بعد
 عجیب ربط نہاں موت کا حیات سے ہے
 میں مشتِ خاک سہی میری کائنات ہی کیا
مقابلہ تو مگر ساری کائنات سے ہے
٭٭٭
 دل خون رو رہا مگر آنکھ تر نہ ہو
 اے ضبط! گھرکی بات ہے باہر خبر نہ ہو
 ٭٭٭
مرحلہ اور کوئی سخت ہے آنے والا
 پھول برسانے لگابرق گرانے والا
ہاتھ پھیلانے سے پہلے ہی یہ سوچا ہوتا
سر اٹھاتا نہیں احسان اٹھانے والا
 گھر تو جل بجھ کے بہر حال ہوا راکھ کا ڈھیر
چھوڑے کوئی بھی ہو آگ لگانے والا
٭٭٭
 زندگی ایسی کٹی ویسی کٹی ، جیسی کٹی
مختصر یہ ہے بہر صورت گزار ہو گیا
کتنی عظمت بڑھ گئی ان کی کہ اب ان کابھی نام
لفظ قاتل کے لئے ایک استعارہ ہو گیا
حرم تو اپنی جگہ حرم ہے مگر وہ شیخ حرم نہیں ہے
 جو کل زمانے میں محترم تھا وہ آج کیوں محترم نہیں ہے
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
٭٭٭
 

 

 
You are Visitor Number : 1707