donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Jauhar Siwani
Poet
--: Biography of Jauhar Siwani :--

 

جوہر سیوانی
 
 خود نوشت سوانح
 
میں شہر سیوان( بہار) کا رہنے والا ہوں، جہاں میری پیدائش ۱۱ ستمبر ۱۹۳۵ء کو ہوئی۔ میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد، میں نے مقامی کالج میں انٹر میڈیٹ تک دو سال تعلیم حاصل کی، اور پھر پٹنہ پولی ٹیکنیک میں ڈپلوما ان مِٹل ورکس (Diplom in mater works ) کی تربیت لی۔ اور فرسٹ کلاس میں اول پوزیشن اصل کی۔ آج کل حکومت بہار کے محکمۂ تعلیمات سے منسلک ایک ٹیکنیکل تدریسی ادارے میں گزیٹیڈ پوسٹ پر ہوں۔ اسی دوران میں نے جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب ماہر اور ادیب
کامل کے امتحانات بھی نمایاں اور امتیازی نمبروں سے پاس کئے۔
 
 میرے واحد مرحوم جناب یوسف سیوانی اپنے دور کے ایک مستند ظرافت نگار شاعر تھے۔ میرے بڑے
بھائی ڈاکٹر انور حسین (انور سیوانی)جن کا انتقال ۱۹۷۸ء میں ہارٹ فیلیور سے ہوا، ٹریپل ایم اے اور ڈی اے وی کالج سیوان میں صدر شعبہ اردو و فارسی تھے۔ ان ہی دو بزرگوں کی سایۂ عاطفت میں ، میرا بچپن گذرا اور میرے شعور نے آنکھیں کھولیں۔ان بزرگوں کی وجہ سے میرا گھر ہمیشہ علم و ادب کا مرکز رہا۔ اس لئے میں عہدِ طفولیت سے ہی شعرو سخن میں دلچسپی لیتا رہا ۔ انور سیانی صاحب مرحوم کی دلچسپی سنجیدہ شاعری کے ساتھ ساتھ تحقیق و تنقید سے تھی۔ جب کہ والد مرحوم جیسا کہ میں نے اوپر تحریر کیا، ظریفانہ شاعری سے شغف رکھتے تھے۔ میرے تخلیقی سفر کا آغاز والد محترم کے نقش قدم پر چل کر ، طنزیہ و مزاحیہ شاعری سے ہوا۔
 
ابتداء میں میں مشاعروں میں اپنے شوق سے جایا کرتا تھا، جہاں میری مزاحیہ شاعری پسند کی جاتی تھی۔
لیکن اب مشاعرے میرا پیچھا کرتے ہیں۔ ملک کے طول و عرض سے ہر ماہ دو چار مشاعروں کے دعوت نامے آتے رہتے ہیں۔ جن کی راہ میں اگر ملازمت کی ذمہ داریاں حائل نہیں ہوتیں، تو ان مشاعروں میں پابندی سے شرکت کرتا ہوں۔ میرا کلام ملک کے مختلف جرائد و رسائل میں بھی شائع ہوتا رہتا ہے۔
 
میرے بھائی انورؔ سیوانی مرحوم کی یاد گار کے طور پر سیوان میں بزم انورؔ کے نام سے ایک فعال ادارہ
قائم ہے جس کا میں صدر ہو، اس بزم کی ماہانہ نشستیں باقاعدگی سے منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ جن میں مستقل ممبروں کے علاوہ اطراف کی بستیوں کے شعراء بھی کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ اس طرح مجھے مشقِ سحن کے مواقع فراہم ہوتے رہتے ہیں۔ جوہرؔ ظرافت میں شامل زیاتہ تر کلام ان ہی طرحی مشاعروں کی پیداوار ہیں۔
 
نوٹ: جناب جوہر ؔ سیوانی کا انتقال ۲۱ نومبر ۱۹۸۴ء کو اپنے آبائی وطن سیوان میں ہی ہوا اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔
 
 
You are Visitor Number : 1632