donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Kalimuddin Ahmad
Writer
--: Biography of Kalimuddin Ahmad :--

 

 کلیم الدین احمد 
 
 
کلیم الدین احمد ( اصلی نام) رحیم الدین احمد عر ف رحموؔ) ولد پروفیسر عظیم الدین احمد تعلیمی سند کے مطابق ۱۵؍ ستمبر۱۹۰۹ء کو اپنے آبائی مکان واقع خواجہ کلاں پٹنہ سیٹی میں پیدا ہوئے۔ سلطان آزاد نے تاریخ پیدائش۱۱؍ ستمبر لکھی ہے جو غلط ہے۔ ابتدائی تعلیم حافظ عبد الکریم کی نگرانی میں گھر ہی پہ ہوئی۔ ۱۹۲۴ء میں محمڈن اینگلو عربک ہائی اسکول پٹنہ سیٹی سے سکنڈ ڈویزن میں میٹرک اور ۱۹۲۸ء میں پٹنہ کالج سے بی اے ( انگریزی آنرز) کا امتحان پاس کیا۔ اور فرسٹ کلاس پوزیشن حاصل کی۔ ایم اے ( انگریزی) کے امتحانات قریب تھے کہ انہیں حکومت کی جانب سے میرٹ اسکالر شپ مل گئی اور ستمبر ۱۹۳۰ء میں وہ امتحان دینے کے فوراً بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلینڈ چلے گئے۔ جانے سے قبل عبد الحفیظ صاحب کی منجھلی لڑکی حنیفہ بیگم عرف حنی سے ان کی شادی ہو گئی تھی۔ مگر بقول کلیم الدین احمد ’’ ہم لوگ محبت کے ساحل ہی پر کیوں رہے بحر محبت میں کیوں نہیں اتر پڑے۔ وجہیں بہت سی تھیں۔ بہر حال وہ کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی اور فرانسیسی زبان و ادب میں ٹرائی پوس، کرنے کے بعد ۱۹۳۳ء میں پٹنہ واپس آئے اور پٹنہ یونیورسیٹی سے شعبہ انگریزی میں ان کا تقرر ہو گیا۔ ۱۹۳۷ء میں اپنی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی بڑی سالی زہرا بیگم سے جون ۱۹۴۰ء میں شادی کر لی جو خو د بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں اور بعد کے برسوں میں زہرہ احمد کے نام سے کانگریس کے ٹکٹ پر بہار اسمبلی کی ممبر بنیں۔ ان کی دو بیٹیاں پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں لکچرر ہوئیں۔ فی الحال زائرہ احمد ( چھوٹی لڑکی) اور عارف احمد چھوٹے بیٹے) پٹنہ میں مقیم ہیں۔ کلیم الدین احمد پہلے صدر شعبہ انگریزی ہوئے پھر ۱۹۵۲ء میں پٹنہ کالج کے پرنسپل اور ڈین فیکلٹی آف آرٹس بنائے گئے۔ ۱۹۵۸ء میں ڈی پی آئی حکومت بہار ہوئے۔ اس کے بعد ڈائریکٹر خدا بخش لائبریری ۱۹۷۰ء اور دوبار چیر مین بہار اسکول اکزامنیشن بورڈ کے عہدوں پر فائز ہوئے۔ ستمبر ۱۹۶۷ء میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد ترقی اردو بورڈ نئی دہلی کے زیر اہتمام چلنے والے انگریزی اردو ڈکشنری پروجیکٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ ۱۹۷۳ء میں ’’ غالب ایوارڈ‘‘ ملا۔ ۱۹۸۰ء میں بہار اردو اکادمی کے نائب صدر ہوئے اور ۱۹۸۱ء میں حکومت ہند نے ’’ پدم شری‘‘ کا خطاب دیا۔ ۲۱ دسمبر؍ ۱۹۸۳ء بمطابق ۱۴۰۴ھ ہارٹ اٹیک سے انتقال ہوا۔ دوسرے دن جنازہ ان کے رہائشی مکان واقع سری کرشنا پوری سے پٹنہ سیٹی کے آبائی مکان لے جایا گیا جہاں اپنے والد ڈاکٹر عظیم الدین احمد کے پہلو میں مدفون ہوئے۔
 
 مختلف شعرائے کرام نے قطعہ تاریخ کہا۔ طلحہ رضوی برق کی کاوش درج ذیل ہے:
 
کہا اے برق ہاتف نے کہ’’ ہے ہے ہے‘‘ 
کلیم الدین احمد کا ہے غم کہہ دو‘‘
۱۴۰۴ھ = ۴۵+۱۳۵۹
 
کلیم الدین احمد کی مطبوعہ خود نوشت(اپنی تلاش میں ’’تین جلدیں‘‘ میں ان کے سوانحی حالات خاصی تفصیل سے ملتے ہیں۔ انکی زندگی میں ہی پروفیسر سید محمد حسنین نے ایک کتاب’’ حیات کلیم‘‘ کے نام سے شعبہ ارو مگدھ یونیورسٹی سے ( فروری ۱۹۷۷ئ) شائع کی تھی۔ جس میں ان کی شخصیت اور تنقید نگاری سے متعلق کم و بیش تین درجن مشاہیر ادب کی آراء شریکِ اشاعت ہیں۔ مزاجاً وہ بے حد خاموش طبع اور تنہائی پسند واقع ہوئے تھے۔ محفلوں میں ان کی کم گوئی کا تذکرہ ان کے کئی اساتذہ ، معاصرین اور شاگردوں نے کیا ہے۔ گرچہ یہ صورت بچپن سے نہ تھی اور بقول خود وہ مختلف Indoor اور Out door کھیلوں میں حصہ لیتے تھے مگر رفتہ رفتہ صرف مطالعے تک محدود ہو گئے اور کم آمیزی مزاج کا لازمی حصہ بن گئی۔ مجھے خود بھی کئی ادبی محفلوں یا سمیناروں میں ان کی اس کم گوئی کا تجربہ ہوا۔ میرا یہ بھی اندازہ ہے کہ اس سلسلے میں ان کی پسند و نا پسند بھی اہمیت رکھتی تھی۔ جب گفتگو ان کے مزاج یا معیار کے مطابق نہیں ہوتی تھی تو وہ خاموشی کو راہ دیتے اور اپنے پائوں یا جوتے کی نوک سے زمین کو کریدنے لگتے تھے۔ شاید یہ صورت حال سے بیزاری کا اظہار ہوتا تھا۔ لیکن میں نے بعض مواقع اور موضوعات پر انہیں دیر تک اظہار خیال کرتے بھی سنا ہے۔ عمر کے آخری ایام میں یہ صورت زیادہ نمایاں ہو گئی تھی۔ یہی دقت انٹر ویو دینے کے سلسلے میں بھی پیش آتی تھی۔ اگر ان کا دل چاہتا تو کچھ کہہ دیتے ورنہ خاموش رہ جاتے یا انٹر ویو لینے والے سے تحریری سوالنامے کا مطالبہ کرتے۔
علم و ادب سے قربت کلیم الدین احمد کو وراثت میں ملی تھی۔ والد عظیم الدین احمد نہ صرف ایک ممتاز نظم نگار تھے بلکہ مختلف عصری اور مذہبی موضوعات پر دانشورانہ فکر کے حامل تھے۔ ان کے بڑے بھائی اور کلیم صاحب کے چچا فہیم الدین احمد بھی شعر و شاعری کا بلند ذوق رکھتے تھے۔ پردادا سید عبد الحمید پریشاں اپنے عہد کے مشہور طبیب ، عالم اور فارسی کے قادر الکلام شاعر تھے۔ دادا شاہ احمد کی ذہنی تشکیل و تعمیر میں کسی نہ کسی سطح پر ان تمام بزرگوں کی علمی روایت کا حصہ رہا ہو یا نہیں مگر ان میں شعر و ادب کا ذوق پیدا کرنے میں یہ روایت یقینا معاون رہی ہے۔ شاید اس لئے انہوں نے اپنی تخلیقی سرگرمیوں کا آغاز بھی اپنے والد عظیم الدین احمد کے شعری مجموعے’’ گل نغمہ‘‘ کی اشاعت سے ۱۹۳۹ء میں کیا۔ اس کتاب کے حوالے سے ان پر سخت قسم کی تنقید بھی ہوئی اور اس عہد کے اہم ادبی رسالوں میں اعتراضات بھی ہوئے مگر کلیم الدین احمد نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور خاص نقطہ نظر کے ساتھ ادب کا جائزہ لیتے رہے۔ ان کی تصنیفات و تالیفات کی ایک مختصر سی فہرست پہلے ایڈیشن کے سن اشاعت کے ساتھ درج ذیل ہے۔ ویسے ان کی بیشتر کتابوں کے کئی ترمیم شدہ ایڈیشن ان کی زندگی میں اور ان کے وفات کے بعد بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔
 
(۱) اردو شاعری پر ایک نظر (۱۹۴۰)ء (۲) اردو تنقید پر ایک نظر (۱۹۴۲ئ) ،(۳) اردو زبان اور فن داستان گوئی(۱۹۴۴)ئ(۴) سخن ہائے گفتنی(۱۹۵۵ء (۵) عملی تنقید ( جلد اول) (۱۹۶۳ء )(۶) ۴۲؍ نظمیں ( شعری مجموعہ) ۱۹۶۵ء ، (۷) ۲۵؍ نظمیں ( شعری مجموعہ) ۱۹۶۶ئ(۸)اپنی تلاش میں ( جلد اول) ۱۹۷۵(۹) اپنی تلاش میں(جلد دوم)۱۹۷۷ئ( ۱۰) اپنی تلاش میں ( جلد سوم) (۱۱) ادبی تنقید کے اصول ( لکچر) ۱۹۷۶ء (۱۲) میری تنقید: ایک باز دید (۱۹۷۶ئ) (۱۳) اقبال: ایک مطالعہ) ۱۹۷۹(۱۴) میر انیس (۱۹۸۸) 
 
 ترتیب و تدوین :(۱) گل نغمہ۔ ڈاکٹر عظیم الدین کی نظموں کا مجموعہ(۲) ولولے۔ حکیم فہیم الدین احمد کی غزلوں کا مجموعہ (۳) چار مقالے ( پروفیسر فضل الرحمن کے مقالوں کا مجموعہ (۴) دیوان جہاں۔ تذکرہ بینی نرائن جہاں(۵) دو تذکرے۔ تذکرے شورش و تذکرہ عشقی ( دو جلدیں) (۶) گلزار ابراہیم۔ علی ابراہیم خاں خلیل کا تذکرہ ( دو جلدیں) (۷) تاریخ نور ( واجد علی شاہ کے خطوط بہ نام نورالزماں بیگم(۸) دیوان جوشش (۹) کلیات شاد( تین جلدیں ) مع مقدمہ(۱۰) رقص شرر ۔ محمد مسلم عظیم آبادی کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ (۱۱) معاصر۔ قاضی عبد الدود نمبر(۱۲) مقالات قاضی عبد الودود ( جلد اول) (۱۳) ادبی اصطلاحات کی فرہنگ
 
 انگریزی میں ان کی درج ذیل کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔
(1) LUCRETIUS (2) Psycho Analysis and literary Criticism (1948)
(3) The meaning of Criticsim (4) IDOLS
 
کلیم الدین احمد کی ادبی خدمات کا ایک اور پہلو’’ دائرہ ادب ‘‘ اور اس کے ترجمان رسالہ ’’ معاصر ‘‘ سے ان کی فعال وابستگی ہے۔ ’’ دائرہ ادب کا قیام اور رسالہ’’ معاصر‘‘ کا اجرا ۱۹۴۰۱ء میں ہوا۔ اس ادارے کی نشستوں نے کئی اہم ادبی مباحث کے دروازے کھولے اور معاصر نے ادبی صحافت کا جو معیار قائم کیا وہ بے مثال تھا۔ اس رسالے میں شائع شدہ کلیم الدین احمد کی بعض اہم تحریریں مثلاً ’ناول کا فن‘شاعروں کی نوک جھونک اور شاعر لوگ اب تک کتابی شکل میں منظر عام پر نہیں آسکی ہیں۔ اختر اورینوی کے افسانوی مجموعے ’’ منظر و پس منظر‘‘ کے دیباچے میں افسانے کے حوالے سے انہوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ بھی عام طور سے لوگوں کی نظر میں نہیں ہے۔ رسالہ’’ اورنگ ‘‘ پٹنہ (مدیر انیس الرحمن) میں مسلمانوں کے تعلیمی مسائل اردو زبان کی تہذیبی و مذہبی اہمیت اور تعلیمی نظام سے متعلق ان کے تین چار مقالے شائع ہوئے تھے وہ بھی نگاہوں سے اوجھل ہو چکے ہیں۔
 
کلیم الدین احمد مقبول عام کبھی نہیں رہے۔ مگر ان کی تنقید نگاری پر بیشتر معاصرین نے اظہار خیال کیا ہے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ان کے حوالے و آثار سے متعلق متعدد تحقیقی مقالے لکھے گئے ہیں۔ اور ڈاکٹر آفتاب احمد ، ڈاکٹر محمود وارث الرحمن، پروفیسر ممتاز احمد، ڈاکٹر سید محمد صدر الدین وغیرہ کی قابل ذکر کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ کئی کتابوں میں ان سے متعلق تفصیلی ابواب ملتے ہیں۔ ڈاکٹر ابرار رحمانی نے ان کی تنقید نگاری سے متعلق پیش کی گئی مختلف آراء کا بھی تنقیدی مطالعہ کیا ہے۔ اس کے باوجود ان کے ہمہ جہتی مطالعے کی گنجائش باقی ہے۔ چوں کہ ان کے تنقیدی آراء کے اخْتلاف کرنے والوں کو بھی یہ اعتراف رہا ہے کہ انہوں نے اردو تنقید کا دامن وسیع کیا۔ اسے اصول کی بنیاد پر فیصلہ کرنا سکھایا وسعت نظری عطا کی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ عمر بھی اپنے مطالعے کو Update کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ’’ اردو تنقید پر ایک نظر‘‘ کے آخری ایڈیشن کی ضخامت پہلے ایڈیشن کے مقابلے میں کم و بیش دوگنی ہو گئی۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
************************
 
You are Visitor Number : 2677