donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Khwaja Abdul Razzaq
Writer
--: Biography of Khwaja Abdul Razzaq :--

Khwaja Abdul Razzaq

 

خواجہ عبدالرزاق
 
خواجہ عبدالرزاق ۲۴دسمبر ۱۹۲۲؍ء کو عالم وجود میں آئے میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ٹیلکو جمشید پور میں ملازمت کرنے لگے ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے ہوا جب تک شاعری سے شوق رہاتب تک سوز تخلص رہا۱۹۴۴ء سے افسانے لکھنے لگے اس لئے کہا جاتا ہے خواجہ صاحب پرا نے لکھنے والوں میں سے ایک ہیں لیکن شریک حیات کے انتقال کے بعد بہت دلوں لکھنے والوں میں سے ایک ہیں لیکن شریک حیات کے انتقال کے بعد بہت دنوں تک لکھنا بالکل بند رہا، ادھر ۱۹۷۵ء سے باضابطہ لکھ رہے ہیں ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد ان کے لکھنے میں تیزی آگئی ہے اب تک ایک سو سے زائد کہانیاں ملک کے بعد سے جرائد میں شائع ہوچکی ہیں۔ خواجہ عبدالرزاق کی ابتدائی کہانیوں میں رومان کی جھلک نمایاں ہے عام افسانہ نگاروں کی طرح انہوں نے بھی اپنی افسانہ نگاری کا آغاز رومانی کہانیوں سے کیا لیکن ان کی رومانی کہانیوں میں بھی ایک نیا پن ہے، نیا انداز ہے ایک ایسی دلکشی ہے جو قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے۔ جولی، اگر دنیا میں محبت نہ ہوتی تو دنیا کی تمام رنگنیاں بے رونق اور بے لطف ہو، تین محبت روح ہے، ایک غیر فانی شئے ہے محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے، اس کے پرستار فرشتوں سے بھی زیادہ معصوم اور بے گناہ ہوتے ہیں مذہب خدا کی دین ہے اور سب انسانوں کا خدا ایک ہے۔ ’’پرایادرد‘‘
وقت کے ساتھ ساتھ ان کا اندازاور ان کی کہانیوں کا رنگ بدلتا گیا، زندگی کی تلخ حقیقتوں سے جب ان کا سامنا ہوا تو یہی رنگ ان کے افسانوں میں نظر آنے لگا، گمراہ، دھرم شالہ چولہے کے تین پتھر، وغیرہ میں ان کا یہ عکس دیکھا جا سکتا ہے۔ رزاق صاحب نے اپنے کرداروں کو ایسے جیتے جاگتے لوگوں کی شکل میں پیش کیا ہے جو زندگی اور سماج سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔ چھوٹے چھوٹے واقعات جو آئے دن رونما ہوا کر تے ہیں انہوں نے ایسے اثر انگیز انداز سے پیش کیا ہے کہ لوگ چونکے بغیر نہیں رہ سکتے۔ خواجہ عبدالرزاق کی نظرعموماً چھوٹے چھوٹے واقعات پر پڑتی ہے اور وہ ان کے گرد افسانوں کا تانا بانا نفسیاتی ڈھنگ سے بڑے فنکارانہ انداز میںبنتا ہے اس کے کردار ایسے جیتے جاگتے لوگ ہیں جو عام زندگی اور انسانی سماج سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں ان کہانیوں میں درد وکرب کو آسانی سے محسوس کیا جا سکتا ہے وجہ یہ ہے کہ ان کے افسانوں میں ان کی اپنی زندگی کا بھی کچھ رنگ شامل ہے ان کے بہت سے افسانے سماجی مسائل کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں انہوں نے بعض ایسے حقائق کو پیش کیا ہے جن سے سماج کی جڑوں میں پوشیدہ کچھ باتیں سامنے آگئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے حیات وکائنات کا گہرا مطالعہ اور مشاہدہ کیا ہے۔ خواجہ عبدلرزاق نے انتہائی دلچسپ اسلوب پیش کیا ہے جو قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالیتے ہیں ان کی سادگی میں ایک پر کاری ہے شاید یہی چیز ہے جو انہیں ہم عصر افسانہ نگاروں میں انفرادیت بخشی ہے۔ اب تک ان کا ایک ہی افسانوی مجموعہ ستیل پانی، ۱۹۸۷ء میں منظر عام پر آیا ہے ، اس میں ۱۵ افسانے ہیں یہ ۱۹۴۸ء سے ۱۹۸۴ء کے درمیان لکھے گئے ، افسانے ہیں جو ہندوستان کے مختلف رسائل میں شائع ہوچکے ہیں اس مجموعہ کی کفر ٹوٹا، انجام، تیسرا باب ، ستیل پانی، اور گمراہ، وغیرہ اچھی کہانیاں ہیں۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
++++
 
 
You are Visitor Number : 1486