donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Khwaja Shabbiruz Zaman
Writer
--: Biography of Khwaja Shabbiruz Zaman :--

 

خواجہ شبیر الزماں

Name: Khwaja Shabbiruzzaman
Father's Name:- Syed Shah Khawaja Qamruz Zama,n
Date of Birth:- 11 April 1950
Place of Birth::- Abgila (Sahar, Bhojpur)
والد کا نام : سید شاہ خواجہ قمر الزماں 
والدہ کا نام : صالحہ خاتون
تاریخ پیدائش : ۱۱اپریل ۱۹۵۰
جائے پیدائش : آبگلہ (سہار، بھوجپور)
 خواجہ شبیر الزماں کی تعلیم و تربیت اعلیٰ تعلیم یافتہ گائوں بہ مقام پیر بیگھہ (گیا) آبائی وطن میں ہوئی۔ یہ گائوں گیا۔ پٹنہ گیا روڈ پر شمال مشرق سے 12کلومیٹر پر واقع ہے۔ چاکند ریلوے اسٹیشن سے دو فر لانگ شمال جا کر جانب مغرب ایک پختہ سڑک جاتی ہے جو گائوں کی سرحد کو چھوتی ہوئی دیگر گائوں کو منسلک کرتی ہے۔ والد سید شاہ خواجہ قمر الزماں ریلوے میںAگریڈ اسٹیشن ماسٹر تھے ہمیشہ لکھنئو ، فیض آباد، اجودھیا،اور دہلی میں ڈیوٹی انجام دیتے رہے۔ ان کا شاعری سے گہرا تعلق تھا۔ بر جستہ نظم اور اشعار کہنے میں کوئی ثانی نہ تھا۔
ریلوے مزدور یونین میں آل انڈیا اسٹیشن ماسٹر ایسوسی ایشن کے ڈویژنل جنرل سکریٹری اور اے۔ ایس۔ ایم۔ ایسوسی ایشن کے سکریٹری تھے۔ انگریزی کا ایک پرچہFriends کے نام سے لکھنئو سے شائع کرتے تھے۔ مشہور افسانہ نگار رام لال، پروانہ ردولوی، شارب ردولوی اور دیگر ادبیوں شاعروں صحافیوں سے بے تکلفی کی حد تک دوستانہ تعلقات تھے۔ ان کے افسانے رسالہ قلندر ’نگار۔ ’چندن ‘‘ ’’مستانہ‘‘ وغیرہ میں شائع ہوتے رہے۔
خواجہ شبیر الزماں کی تعلیم و تربیت ان کے دادا جان سید منظور حسن کے زیر نگرانی ہوئی۔ جو بیلا گنج اگر وال ہائی اسکول میں40سال بحیثیت ہیڈ مولوی اور انگریزی ٹیچر رہے۔ اسکول میں رہتے ہوئے چاکند ہائی اسکول اور پیر بیگھہ (گیا) اردو مڈل اسکول قائم کیا۔ انگریزی حکومت میں گیا عدالت میں جیوری کے ممبر رہے۔ ملکہ و کٹوریہ نے منظوم سپا سنامہ سے خوش ہو کر خان بہادر کے خطاب و انعامات سے نواز نا چاہا جسے آپ نے خوش دلی سے لینے سے انکار کر دیا۔ اردو گرامر اور مضمون نویسی کی کتاب ’’افتاب ہند‘‘ کے نام سے شائع کی۔ جو پٹنہ بورڈ کے نصاب میں شامل تھی۔ ‘‘ پھر ہندی میں منظوم ’’تاریخ ہند‘‘ لکھی ۔آخری ایام میں ’’سرور کائنات‘‘ کے نام سے نایاب ترین کتاب تصنیف کی۔
خواجہ شبیر الزماں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے نفسیات میں  امتیازی نمبروں سے ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی کے اسکا لرشب مقابلہ میں اول آکر میرٹ اسکالر شپ حاصل کیا۔ مولانا آزاد ڈگری کالج میں دوسال اور الحفیظ کالج آرہ میں دوسال بحیثیت لیکچرر خدمات انجام دیکر سینٹ زیوریرس اسکول رانچی میں وائس پرنسپل کے عہدہ پر چار سال کام کیا۔ انہیں مضمون نویسی اور ادب کا ذوق خاندانی و دیعت تھی۔ اس لئے مشہور ادارہ ’’انسان اسکول‘‘ میں رہتے ہوئے ’’سنگم‘‘ (ایڈیٹر۔ غلام سرور) کے لئے نو جوانوں کی تعلیم و تربیت کے متعلق مضامین لکھتے رہا۔ کچھ مضامین ’’صدائے عام‘‘ (اڈیٹر ۔سید رضی حیدر) کے اخبار میں شائع ہوا۔ ان کے علاوہ کچھ مضامین اردو روز نامہ ’’راہ رو‘‘ (اڈیٹر شمائل نبی) میں بھی اکثر وبیشتر شائع ہوتا رہا۔
۲۰۰۲سے اسکول  کے پرنسپل کی حیثیت عملی طور پر ختم کر کے ’’اخبار مشرق‘‘ دہلی کے ایڈیٹر و مالک وسیم الحق صاحب کے کہنے پر بطور سب ایڈیٹر کام شروع کیا۔ ایک سال بعد ’’انٹر نیشنل نیو ز ایجنسی یونائیڈیڈ نیوزنیٹ ورک ‘‘ میں اڈیٹر سے ترقی پاکر ایڈیٹر کے طور پر آج بھی اسی سے منسلک ہیں ادارہ کے روزنامہ اخبار ’’اردونیٹ‘‘ کا اڈیٹر ہیں۔ ملک کے مشہور صحافیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے اب تک ہزار سے زائد مضامین ، عالمی سیاست ، قومی سیاست، مسلم مسائل ، صوفی ازم، بزرگان دین کی حیات، و کرامات و تعلیم، نفسیاتی، تعلیمی، معاشرتی۔ سماجی موضوعات پر شائع ہو چکے ہیں۔ انہیں صلاحیتوں کی بنیاد پر انہیں متفقہ طور پر صحافیوں کی تنظیم آل انڈیا یونائیٹیڈ جرنلسٹ فیڈ ریشن کا جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔ کئی مرکزی و زیروں اور دیگر سیاسی افراد سے لیا گیا انٹرو بھی کافی پسند کیا گیا۔ عالمی سیاست میں امریکہ ، عراق، افغانستان اور ایران کے تعلق سے راشٹر یہ سہارا اور اردو میں شائع مضامین کی بھی خوب پذیرائی ہوئی۔
اردو صحافت میں خواجہ شبیر الزماں اپنی ایک الگ پہچان بنا نے میں کامیاب ہیں اور ان کا صحافتی کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔
(بشکریہ ڈاکٹر سید احمد قادری، گیا)
 
 
You are Visitor Number : 1521