donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
M.Alam
Writer
--: Biography of M.Alam :--

M.Alam

 

ایم عالم
 
ایم عالم بتیا کے رہنے والے ہیں ان دنوں چمپارن کے ایک ویمنس کالج میں صدر شعبہ اردو ہیں،۱۹۵۳ء سے افسانے لکھ رہے ہیں لیکن دس بارہ افسانے کی اشاعت کے بعد انہوں نے تحقیق وتنقید کے میدان کو چن لیا اور ان دنوں تحقیقی اور تنقیدی مضامین لکھ رہے ہیں ان کے افسانوں میں سماجی شعور ذاتی احساسات وتجربات اور انفرادی مشاہدات ملتے ہیں، ان کے علاوہ عارف سنہاروی کے کئی افسانے ،مصور، ممبئی اور سہیل گیا میں شائع ہوئے بعد میں پاکستان چلے گئے نظر جمیلی مظفرپوری حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے افسانے کے ساتھ ساتھ شعر بھی کہتے تھے ان کے افسانے زیادہ تر نگار، میں چھپے کعبہ اور کاشی، ان کا مشہور افسانہ ہے خیال مہدولوی اور شاہد انور نے بھی آزادی سے پہلے چنداچھے افسانے لکھے آزادی کے بعد پاکستان چلے گئے حسن امام درد نے بھی کئی افسانے لکھے پہلا افسانہ ۱۹۴۴ء میں چھپا تھا اس کے بعد چھ سات سال تک لکھتے رہے چیخ ،تلک ، وغیرہ ان کے اچھے افسانے ہیں رشکیں جمالی کے افسانے بھی ایک وقت میں رسائل میں نظر آتے تھے شمس ندیم بھی ایک فعال افسانہ نگار ہیں انہوں نے بہت سی کہانیاں لکھیں لیکن اپنی الگ راہ نہیں بنا سکے جنید شرفی، اشرف صدیقی ، شمیم قاسمی اور نسیم مظفر پوری وغیرہ نے بھی کچھ کہانیاں لکھی ہیں۔
مندرجہ بالا افسانہ نگاروں میں سے کچھ نے افسانہ نگاری کے میدان میں اپنا مستحکم مقام بنالیا تھا لیکن زیادہ دنوں تک افسانہ نگاری کی ڈور سے بندھے نہ رہ سکے اس لئے افسانہ نگاری کی تاریخ میں ان کا نام سنہرے حرف میں نہیں لکھا جاسکا لیکن بہار کی افسانہ نگاری کی تاریخ نہیں کبھی فراموش نہیں کرسکے کی ایسے ہی افسانہ نگاروں میں دربھنگہ کے کچھ افسانہ نگاروں کا نام لیا جا سکتا ہے جنہوں نے ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بدل گئے اور افسانہ نگاری کی راہیں چھوڑ کر ادب کی دوسری راہیں اختیار کرلیں، ان میں محمد سالم صاحب سرفہرست ہیں انہوں نے ابتدائی دور میں کچھ اچھی کہانیاں لکھیں لیکن جلد ہی شاعری اور تحقیق وتنقید کی طرف مڑگئے ان کے تحقیقی اور تنقیدی مضامین کے مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں شوکت خلیل صاحب نے بھی اپنے ابتدائی دور میں کچھ اچھے افسانے لکھے ان کے افسانے فن اور مقصد سے بھرے ہوئے تھے لیکن انہوں نے بھی اس صنف کو خیر باد کہہ دیا اور صحافت کو اپنالیا فی الحال ، آگ کا دریا نکال رہے ہیں ڈاکٹر شمس صاحب نے بھی درجن بھرافسانے لکھے جو ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوئے لیکن وہ بھی ڈاکٹری کے پیشے میں الجھ کر رہ گئے ۔ منظر امام صاحب دھنباد کے ایک کالج میں لکچرر ہیں انہوں نے کچھ جیتی جاگتی کہانیاں لکھی ہیں سیدھا سادہ انداز ان کے افسانوں کی خوبی ہے، مبینہ امام صاحبہ بھی دربھنگہ کی ایسی ہی افسانہ نگار ہیں جنہوں نے چند اچھی کہانیاں لکھی ہیں عبیداللہ صدیقی صاحب بھی گاہے چھپتے رہے ہیں انہوں نے اپنے افسانوں میں موجودہ عہد کے بدکردار ی اور بدنیتی پر چوٹ کیا ہے ملازمت کی وجہ سے ادھر بہت کم کہانیاں لکھتے ہیںان لوگوں کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے کچھ کہانیاں لکھی ہیں لیکن ان کا شمار افسانہ نگاروں میں نہیں کیا جاسکتا ، مندرجہ بالا افسانہ نگاروں نے افسانہ نگاری کی تاریخ میں اپنا نام روشن حرف میں نہیں لکھا لیکن ان لوگوں کے افسانے ہمیشہ یاد کئے جاتے رہیں گے بہار کی افسانہ نگاری کی تاریخ ان لوگوں کے ذکر کے بغیرمکمل نہیں ہوسکے گی۔ ایسے ہی لوگوں میں علی اکبر کاظمی، لطف الرحمن ،نصرت اردی، خواجہ بدیع الزماں، رفعت بلخی وغیرہ ہیں۔
اسی طرح خاتون افسانہ نگاروں میں س ق صاحبہ ،بیگم عنایت الرحمٰن حسن جبیں شکیل، طلعت جہاں، ماہ طلعت، علویہ رحمان، طلعت، فاطمہ، شاہدہ یوسف ، اشرف جہاں، حسینہ نشاط، نشاط الفاطمہ، نجمہ اقبال سہسرامی فرزانہ اسلم، محمودہ اختر، نفیس فاطمہ ، ثریا جبیں، عفت فاطمہ، وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۰ء کے درمیان نازقادری ، عابد امام زیدی، انجم مولانگری ،اقبال اختر، نصر حمید خلش،نیازالدین نیازی ، محمود عالم ، سعود شمسی ، تمنا ملک ،حسن احمد علی حیدر ملک اور شمیم اختر وغیرہ نےبھی افسانہ نگاری شروع کی، ان میں سے بعض نے نئے رجحانات کو اپنا نے کے باوجود روایتی بنیادوں پر چلنے کی کوشش کی لیکن ان لوگوں میں سے زیادہ تر نے نہ تو اپنے آپ کو زیادہ دنوں تک افسانہ نگاری سے بندھے رکھا اور نہ ان کے افسانوں کے نقوش دیر پاثابت ہوئے۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
++++
 
 
You are Visitor Number : 1751